30/01/2019
کبھی آپ مشکل کو ایسے دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے مشکل نہیں بلکہ ایک پورا کا پورا پہاڑ آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ محسوس ہوتا ہے جیسے اوپر بھی سیاہ بادل گھنے جنگل کی مانند امید کی ہر کرن چُھپائے ہوئے ہیں۔۔ زمین نے بھی گویا اپنی ساری کی ساری پناہیں چُھپا لی ہیں، اور آپ کو کہیں ہوا میں اُچھال دیا گیا ہے اور آپ وہیں کہیں معلق ہیں، ایسے کہ پیروں کو بھی ٹِکانے کو نہ کوئی سہارا ہے نہ ہی سر پر کوئی سائباں جو اِن دل کاٹ دینے والے گُھپ اندھیروں میں رحمت کا استعارہ بن پاتا۔۔
پھر کیا ہوتا ہے۔۔
آپ کو یاد آتا ہے کہ یہ تو وہ سب ہے جو مجھے میری آنکھیں دِکھا رہی ہیں۔۔ ویسے ہی جسے اللہ کے پیارے نبی حضرت موسیٰؑ کو انکی آنکھوں نے سامنے سمندر اور پیچھے فرعون - ہر سِمت راستے بند دِکھائے تھے۔۔ ڈیڈ اینڈ۔۔
لیکن انھوں نے مجھے کیا سکھایا تھا؟
* "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا" *
[سورۃ الشعراء، آیت 62]
جبکہ انکی قوم نے کیا کیا تھا۔۔
* جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے" *
[سورۃ الشعراء، آیت 61]
پھر میرے اللہ نے کیا کیا تھا۔۔
* ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا *
[سورۃ الشعراء، آیت 63]
حضرت موسیٰؑ نے جسمانی آنکھ کی بجائے اپنے دل کی آنکھ پر اعتبار کیا تھا، اپنے ایمان پر اعتبار کیا تھا۔۔ اپنے اللہ پر اندھا توکل دِکھایا تھا۔۔
نتیجہ کیا ہوا تھا۔۔
سمندر میں رستے بن گئے تھے۔۔ توکل ہو تو ایسا ہی کہ آگ بھی گلزار ہو جائے۔۔ کنوئیں تک نہ جان لے پائیں۔۔ مچھلی کے پیٹ میں سے بھی زندہ نکل آئیں۔۔
جب آپ کے دل کی آنکھ اندھیروں میں بھی یہ روشنی دیکھنا سیکھ لیتی ہے تو آپ کی دعا عام لوگوں کی دعا جیسی نہیں رہتی۔ آپ ہاتھ اٹھاتے ہیں اور آنسو یوں دل سے الفاظ ادا کرواتے ہیں کہ زمین و آسمان مانو ہل جاتے ہیں۔۔
پھر کیا ہوتا ہے۔۔
کرامات ہوتی ہیں۔۔
پر کرامات صرف صبر والوں کے لیے ہوتی ہیں۔۔ بات بات پر شکایات کا واویلا مچانے والوں کہ لیے نہیں۔۔
یہ بھی ہے کہ صبر آسان نہیں ہوتا۔۔ لیکن توکل والوں کے لیے بہت آسان ہوتا ہے۔۔ انتظار بھی کرتے ہیں تو دل بڑے مزے میں رہتا ہے کہ میرا اللہ ہے نا۔۔ میرا سرپرست۔۔
"ہاں" کرے گا نا۔۔ ایک دن تو کرے گا۔۔
پھر پتا ہے کیا ہوتا ہے۔۔
وہ "ایک دن" آ جاتا ہے۔۔
کیونکہ آپ نے اس رب کے در سے آخری لمحے تک امید نہیں اٹھائی ہوتی۔۔ آندھی ہو یا طوفان، آپ نے دِکھایا ہوتا ہے کہ آپ کو وفا کا مطلب معلوم ہے۔۔
پھر وہ سب سے بڑھ کر وفاؤں والا آپکے لیے بھی دنیاوی قوانین بدل دیتا ہے۔۔ آپ کے سمندر میں بھی رستے بن جاتے ہیں۔۔
اس کو کہتے ہیں ایمان۔۔ مزہ تو تب ہے جب خود اسکی مٹھاس چکھی ہو۔۔