دختر میڈیا/Dukhtar Media

دختر میڈیا/Dukhtar Media Journalist||Blogger||Vlogger||Writer||Social Worker||Social Activist||Chairperson RMDF||Chairperson DCSW SWTD||
www.rmdfpk.org
(3)

کیڈٹ کالج سپنکئی کا شاندار اعزاز، ڈی آئی خان بورڈ کے ایچ ایس ایس سی امتحانات میں 8 ٹاپ پوزیشنز حاصلڈیرہ اسماعیل خان: کیڈ...
21/09/2026

کیڈٹ کالج سپنکئی کا شاندار اعزاز، ڈی آئی خان بورڈ کے ایچ ایس ایس سی امتحانات میں 8 ٹاپ پوزیشنز حاصل

ڈیرہ اسماعیل خان: کیڈٹ کالج سپنکئی نے ڈی آئی خان بورڈ کے ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (HSSC) امتحانات میں 8 نمایاں پوزیشنز حاصل کرکے اہم کامیابی اپنے نام کرلی۔
پری انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس گروپس میں تینوں ٹاپ پوزیشنز کیڈٹ کالج سپنکئی کے طلبہ نے حاصل کیں، جبکہ میڈیکل گروپ میں تیسری پوزیشن بھی کالج کے حصے میں آئی۔
کالج انتظامیہ نے اس شاندار کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے ادارے، اساتذہ، طلبہ اور والدین کی مشترکہ محنت کا نتیجہ قرار دیا۔

18/09/2026

دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج۔ذرائع

18/09/2026
ایک جان چلی گئی، سوال باقی ہے!**عمر خیل، تحصیل مکین، ساؤتھ وزیرستان اپر** میں ایک **45 سالہ خاتون** مبینہ طور پر **قے او...
18/09/2026

ایک جان چلی گئی، سوال باقی ہے!

**عمر خیل، تحصیل مکین، ساؤتھ وزیرستان اپر** میں ایک **45 سالہ خاتون** مبینہ طور پر **قے اور دست** کی حالت میں بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئیں۔

یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، بلکہ ان تمام محروم آبادیوں کے لیے ایک بڑا سوال ہے جہاں:

🏥 **فعال صحت کی سہولت موجود نہیں**
🛣️ **ایمرجنسی میں مریض کو ہسپتال پہنچانے کے لیے مناسب سڑک نہیں**
🚨 **امن و امان کی صورتحال بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے**
🩺 **ابتدائی طبی امداد (First Aid) کے بارے میں آگاہی انتہائی کم ہے**
👩 **سخت ثقافتی رکاوٹوں کے باعث خواتین تک صحت کی آگاہی مزید محدود ہے**

اطلاعات کے مطابق علاقے کی سڑک **منظور ہو چکی ہے اور بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے**، تاہم اس کی تکمیل میں تاخیر عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ اگر سیاسی یا انتظامی مداخلت اس تاخیر کا سبب ہے تو اس کی **شفاف تحقیقات اور عوام کے سامنے جوابدہی** ضروری ہے۔

❗ **ایک سڑک صرف سڑک نہیں ہوتی؛ یہ کسی کی زندگی اور موت کے درمیان آخری راستہ بھی ہو سکتی ہے۔**

حکومت، منتخب نمائندگان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ **مکین اور ساؤتھ وزیرستان اپر کے دور دراز علاقوں میں صحت، سڑک، ایمرجنسی رسپانس اور خواتین کی صحت سے متعلق آگاہی** کو فوری ترجیح دی جائے۔

**ترقیاتی منصوبے عوام کے لیے ہوتے ہیں—ان کی بروقت تکمیل عوام کا حق ہے۔**

#مکین

17/09/2026

RMDF Plants & Distributes 3,000+ Plants 🌱 | Green Dera Plantation Drive | Forest Department D.I. Khan

🌱 GREEN DERA PLANTATION DRIVE | RMDF
Razia Mahsood Development Foundation (RMDF) planted and distributed 3,000+ plants in collaboration with the District Forest Department, D.I. Khan, as part of our commitment to a greener, healthier and more sustainable future.
This initiative promotes:
🌳 More trees and green spaces
🌱 Environmental protection
🌍 Climate change action
💚 Cleaner and healthier communities
🤝 Community participation
🤝 Special Thanks
Our sincere thanks to Mr. Amin Ullah Khattak the District Forest Department, D.I. Khan, for their cooperation and support in this plantation initiative.
💚 Support RMDF
RMDF is working to support communities and create sustainable social and environmental impact. Your contribution can help RMDF continue plantation drives and other community initiatives.
Every contribution can make a difference. 🌱

🏦 RMDF Donation Bank Accounts
Habib Metropolitan Bank
Account Title: Razia Mahsood Development Foundation-RMDF
Account Number: 06-98-19-29319-714-0106430
IBAN: PK94MPBL9819 7371 4010 6430
Branch Code: 9819
________________________________________
Bank AL Habib
Account Title: Razia Mahsood Development Found-RMDF
Account Number: 0081-006374-01-8
IBAN: PK85BAHL5520008100637401
Branch Code: 5520
________________________________________
Meezan Bank — Dera Ismail Khan
Account Title: Razia Mahsood Development Foundation (RMDF)
Account Number: 2601 0113893352
IBAN: PK76MEZN0026010113893352
Branch Code: 2601

📱 EasyPaisa
EasyPaisa: 0346 7850690

🌐 Donate Online
You can also support RMDF through our website:

www.rmdfpk.org

Support RMDF. Plant a tree. Build a greener future. 🌳💚

 #اہمکل ممبر صوبائی اسمبلی جنوبی وزیرستان اپر محمد آصف مسعود نے صوبائی اسمبلی کے فلور پر پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعے سابق وز...
13/09/2026

#اہم
کل ممبر صوبائی اسمبلی جنوبی وزیرستان اپر محمد آصف مسعود نے صوبائی اسمبلی کے فلور پر پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے جنوبی وزیرستان اپر کے لیے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جانے کے معاملے پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
یہ معاملہ دراصل اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا تھا جب سینیٹر دوست محمد کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر جنوبی وزیرستان اپر کے ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے مختلف الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات کے جواب میں علی امین گنڈاپور نے سوشل میڈیا کے ذریعے جنوبی وزیرستان اپر کے لیے فراہم کیے گئے مبینہ ایک ارب 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات سامنے لائی تھیں، جن میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز، اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات اور دیگر متعلقہ دستاویزات بھی شامل تھیں۔
اس کے بعد آج محمد آصف مسعود نے صوبائی اسمبلی کے فلور پر اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ مذکورہ فنڈز کہاں جاری ہوئے، کن منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے اور کہاں خرچ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے کے عوام ان ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ان سے سوالات کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال بلاشبہ ایک غیر معمولی صورت حال پیدا کرتی ہے۔ ایک جانب سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے ایک ارب 30 کروڑ روپے فراہم کیے جانے کا دعویٰ اور اس کے حق میں ٹینڈرز و دیگر دستاویزات سوشل میڈیا پر موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب موجودہ رکن صوبائی اسمبلی خود اسمبلی کے فلور پر ان فنڈز کی مکمل تفصیلات اور زمینی صورتحال جاننے کے لیے خصوصی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اب صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے باقاعدہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائے۔ سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر یہ معلوم کیا جائے کہ کتنی رقم جاری ہوئی، کن منصوبوں کے لیے مختص ہوئی، کس محکمے کے ذریعے خرچ ہوئی، منصوبے مکمل ہوئے یا نہیں اور ان کی موجودہ زمینی صورتحال کیا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر مالی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو اس کے ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جائے۔
جنوبی وزیرستان اپر کے عوام کا یہ حق ہے کہ ان کے نام پر مختص کیے گئے ترقیاتی فنڈز کے بارے میں انہیں واضح اور مستند معلومات فراہم کی جائیں۔ اگر واقعی ایک ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز جاری ہوئے ہیں تو ان کا مکمل حساب عوام کے سامنے آنا چاہیے، اور اگر دعوے کے برعکس حقیقت کچھ اور ہے تو وہ بھی واضح ہونی چاہیے۔ اصل ضرورت کسی شخصیت کو پہلے سے قصوروار قرار دینے کے بجائے حقائق سامنے لانے کی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ جنوبی وزیرستان اپر کے ترقیاتی فنڈز کہاں خرچ ہوئے اور ان کے نتیجے میں زمین پر عوام کو کیا ملا۔
سینئر صحافی اوردین محسود

بیٹیاں انسان ہیں، قرض نہیںوزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی ویڈیو کسی نے میرے ساتھ شیئر کی۔ ویڈیو میں وہ خاتون اپ...
11/09/2026

بیٹیاں انسان ہیں، قرض نہیں
وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی ویڈیو کسی نے میرے ساتھ شیئر کی۔ ویڈیو میں وہ خاتون اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ کسی مقامی بچے کے پاس امداد کی غرض سے گئی ہوئی تھی اور اپنی روداد بیان کر رہی تھی۔ باقی معاشی مشکلات اپنی جگہ، مگر مجھے جس بات نے سب سے زیادہ چونکا دیا وہ یہ تھی کہ اس عورت کے بقول وہ بیوہ ہے اور اس کے مرحوم شوہر نے اپنی بیٹیوں کو قرض کے عوض گروی رکھا ہوا ہے۔ اس کے پاس صرف اس کا چھوٹا بیٹا ہے اور معاشی مشکلات کی وجہ سے اس کی بیٹیاں کسی کے پاس گروی ہیں، جبکہ وہ خود راشن اور اپنی بنیادی ضروریات کے لیے فریاد کر رہی ہے۔
اب حیرت تو ہوتی ہی ہے کہ ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ ایک طرف ہم عورت کو بنیادی حقوق دینا تو دور کی بات، بعض اوقات اسے انسان تک کا درجہ نہیں دیتے۔ بیٹی پیدا ہوتی ہے تو بعض جگہ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی قیمت لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ستر ہزار کما لیے، یعنی جب جوان ہوگی تو ستر ہزار میں بیاہ دی جائے گی جو کسی وقت بیٹی کے بیاہنے کی قیمت ہوا کرتی تھی ۔ گویا بیٹی انسان نہیں بلکہ ایک مقررہ ریٹ ہے۔
اور اگر گھر میں معاشی مشکلات آجائیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کو کسی کے پاس قرض کے عوض گروی رکھ دیا جاتا ہے، جیسے وہ انسان نہیں بلکہ ہمارے پیٹ پالنے اور ہمارے حالات بہتر کرنے والی کوئی مشینیں ہوں۔ ان کا کوئی درد نہیں، کوئی احساس نہیں، کوئی خواب نہیں، کوئی خوشی غم نہیں، ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کی کوئی اہمیت نہیں، بس ہماری مجبوری آئی اور ہم نے اپنی بیٹی کو اس مجبوری کا حل بنا دیا۔
والد کی بے بسی اپنی جگہ، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک باپ اپنی چھوٹی بچی کو کسی کے پاس گروی رکھتے ہوئے اس کے مستقبل کے بارے میں کیسے نہیں سوچتا؟ اور جو لوگ کسی مجبور خاندان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر چھوٹی بچیوں کو اپنے پاس گروی رکھنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، وہ کیسے انسان ہیں؟
ویسے بھی ہمارے معاشرے میں لڑکیوں اور خواتین کو وہ مقام حاصل نہیں جو انہیں ملنا چاہیے۔ اب اگر کوئی بچی قرض کے عوض کسی گھر میں آتی ہے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا؟ گھر کا سارا کام اس کے ذمہ، بچوں کی دیکھ بھال اس کے ذمہ، چشمے سے پانی بھر کر لانا اس کے ذمہ، مال مویشی چرانا اس کے ذمہ اور گھر کے باقی کام بھی اس کے ذمہ۔ کیونکہ جب ہم اپنی ہی بیٹیوں کو انسانوں والا مقام نہیں دیتے، اپنی بیٹی کو صرف یہ کہہ کر پرایا سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے ایک دن دوسرے گھر چلے جانا ہے، تو پھر قرض کے عوض کسی گھر میں آنے والی بچی کو ہم کیسے انسانوں والا مقام دے سکتے ہیں؟
اسی وزیرستان سے ایک مجبور باپ کی ایک ویڈیو بھی میری نظر سے گزری تھی جس میں وہ اپنی بیمار ماں کے علاج کے لیے اپنی چھوٹی بیٹی کو دینے کی بات کر رہا تھا۔ وہ مجبوری میں کہہ رہا تھا کہ سات آٹھ لاکھ روپے دے دو اور میری بیٹی لے لو، لیکن لوگوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ بچی چھوٹی ہے اور اس کی قیمت پچاس ہزار سے زیادہ نہیں۔ ذرا سوچیں، ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ایک معصوم بچی کی قیمت بھی لگائی جاتی ہے؟
مختصر یہ کہ ہم نے بیٹی کو انسان سے قیمت بنا دیا ہے۔ اپنی بے بسی اور اپنی وقتی ضرورت کا حل ہم نے بیٹی کو گروی رکھ کر نکال لیا، لیکن اس بچی کی پوری زندگی تباہ کردی۔ نہ اس کی ماں کا سوچا، نہ اس بچی کی جسمانی اور ذہنی حالت کا، نہ اس کے مستقبل کا۔
افسوس، صد افسوس۔
ہمارے مشران آج کل عورتوں کی شادی بیاہ پر جرگے کرتے ہیں، لیکن عورت کے بنیادی حقوق پر کہاں جرگے ہوتے ہیں؟ بچیوں کی تعلیم، وراثت میں ان کے حصے، ظلم و زیادتی، جبری شادی، عورت کی صحت اور عزت کے مسائل پر ہماری آواز کہاں ہوتی ہے؟ لینڈ مائنز میں خواتین متاثر ہوں، خاموشی۔ عورت کے ساتھ ظلم ہو، خاموشی۔ بچیوں کے حقوق چھینے جائیں، خاموشی۔ لیکن عورت کی شادی کا معاملہ ہو تو فوراً جرگے شروع ہوجاتے ہیں۔
ایک سوال جو میں اپنے مشران کے سامنے ضرور رکھوں گی کہ کیا آپ لوگوں کی آواز اور جرگے صرف عورت کے شادی بیاہ کا ریٹ فکس کرنے تک محدود ہیں؟ کیا عورت کو اپنے مفاد کے لیے کلاس فور کی نوکریاں دلوانا، پھر اسے اپنی تنخواہ رکھنے سے روک دینا ہی عورت کے حقوق ہیں؟ کیا عورت کے نام پر سکول اور ترقیاتی منصوبے منظور کروانا مگر عملی طور پر عورت کو اس کا فائدہ نہ دینا ہی ہماری خدمت ہے؟ کیا عورت کے نام پر سلائی مشینیں حاصل کرنا اور پھر انہیں مارکیٹ میں فروخت کرکے رقم اپنی جیب میں رکھ لینا ہی عورتوں کی ترقی ہے؟
آخر مشران صرف اس لیے مشران ہوتے ہیں کہ ان کی سفید داڑھی ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ عمر میں بڑے ہیں؟ یا کسی سرکاری عہدے پر ہیں؟یا کسی سرکاری لسٹ میں مشران ہیں میرے خیال میں اصل مشر وہ ہے جو بڑے پن کا مظاہرہ کرے، احساس ذمہ داری رکھے، کمزور کے لیے کھڑا ہو، ظلم کے سامنے خاموش نہ رہے، آسانیاں بانٹے اور انسانیت کے ساتھ معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
مشر وہ نہیں جو کمزور کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے، مشر وہ ہے جو کمزور کی مجبوری ختم کرے۔
اگر واقعی میں خود کو اپنے معاشرے کے مشران سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی بیٹیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، ان کی عزت اور تحفظ کے لیے کھڑے ہوں اور یہ بات سب کو سمجھائیں کہ بیٹی کوئی قرض نہیں، کوئی قیمت نہیں، کوئی سودا نہیں، بیٹی ایک انسان ہے۔رضیہ محسود

09/09/2026

افسوس صد افسوس

یہ مشران اور نوجوانان جو لشکر کی صورت میں نکلے ہوئے ہیں، یہ کسی امن و امان یا حقوق کی جنگ لڑنے نہیں نکلے، بلکہ یہ خواتین کی شادی کا ریٹ فکس کرنے اور اسے نافذ کرنے نکلے ہیں۔
وہ قبائلی خواتین جنہیں آج بھی بنیادی حقوق حاصل نہیں، جن خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے، جو خواتین بارودی سرنگوں کے باعث خود اور اپنے بچوں کو شہید اور معذور ہوتے دیکھ کر، سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث شدید مایوسی اور ذہنی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔
وہ خواتین جنہیں نام نہاد غیرت کے نام پر ظلم کرکے قتل کر دیا جاتا ہے، جن کے ساتھ ہونے والے ظلم پر سب خاموشی کا روزہ رکھے بیٹھے ہوتے ہیں۔
اور یہی وہ ٹولہ ہے جو گھر گھر جا کر خواتین کی شادی کا ریٹ فکس کرنے اور جرمانے وصول کرنے نکل پڑا ہے۔
افسوس، صد افسوس!
اگر انہیں کوئی مسئلہ نظر آ رہا ہے تو صرف خواتین کی شادی یا نکاح کا۔ اور وہ بھی خواتین کے اختیارات محدود کرکے!
مہر وہ حق ہے جو اسلام نے لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہ ایک شرعی حق ہے، جس پر کسی قسم کا دباؤ یا زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔
لیکن افسوس کہ آج اسی حق کو چھیننے کے لیے لشکر بنائے جا رہے ہیں، جرگے منعقد کیے جا رہے ہیں اور پھر بڑے فخر کے ساتھ ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جا رہی ہیں۔
خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت، تحفظ، وراثت، عزت اور زندگی کے مسائل پر یہ خاموشی کیوں؟
کیا عورت کے نکاح اور مہر کی رقم ہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ رہ گیا ہے؟
خواتین کے حقوق محدود کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ایک اور ناانصافی کو جنم دینا ہے۔
افسوس صد افسوس!
رضیہ محسود

Address

Dubai Indestrial City
Dubai
00000

Telephone

+923467850690

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دختر میڈیا/Dukhtar Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to دختر میڈیا/Dukhtar Media:

Shortcuts

Share

Category