Apna Bannu

Apna Bannu Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Apna Bannu, Social service, Dubai.

اپنابنوں ایک سوشل میڈیا نیوز اور فلاحی پلیٹ فارم ہے جو معاشرتی بھلائی، صفائی، اخلاقیات، سماجی شعور اور عوامی مسائل پر کام کرتا ہے۔ ہماری ٹیم بلا معاوضہ خدمتِ انسانیت کے جذبے کے ساتھ ضرورت مند افراد کو مفت خون کی فراہمی اور سماجی آگاہی کے لیے سرگرمِ عمل ہے

15/09/2026

پاکستان مسلم لیگ ن کے درینہ کارکن اسماعیل خان ورکرز کنوینشن سے خطاب کر رہے ہیں

15/09/2026

بنوں میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بہرمند خان تنگی نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کا پہلا زینہ صحت کارڈ ہے، جس کے ذریعے آنے والی رقم من پسند ہسپتالوں، ادویات اور ٹھیکیداروں کے ذریعے وزیراعلیٰ اور بانی پی ٹی آئی کے گھر تک پہنچ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب غریب عوام کو غیر معیاری ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ جیسے اہم منصب کی وقار اور حرمت کو بھی مجروح کیا ہے۔ ان کے بقول لاہور میں گزشتہ رات وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جو کچھ کیا گیا، اس سے پورے صوبے کی بدنامی ہوئی ہے۔سینیٹر بہرمند تانگی نے کہا کہ صوبے کے وسائل ایک مجرم کی رہائی کی تحریک کے نام پر پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں اور صوبے کے وسائل کو بانی پی ٹی آئی کی منتقلی اور سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا مالی مشکلات کا شکار ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کہ 14 سالہ دورِ حکومت میں کرپشن اور ملازمتوں کی بندربانٹ کے علاوہ صوبے کے لیے کون سی بڑی خدمت انجام دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس صحت کارڈ کو پی ٹی آئی اپنی حکومت کا بڑا کارنامہ قرار دیتی ہے، مسلم لیگ (ن) اسے کرپشن کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی کوشش ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی، منظم اور طاقتور سیاسی جماعت کے طور پر سامنے لایا جائے۔ تمام اضلاع میں تنظیم سازی اسی مقصد کے تحت کی گئی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ مستقبل میں وفاق کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں بھی اس کی حکومت قائم ہو اور صوبے کو پنجاب کی طرز پر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔سینیٹر بہرمند خان تنگی نے اعلان کیا کہ ضلع اور تحصیل کی کابینہ کی تشکیل کے لیے چار کلیدی عہدوں کے لیے تین، تین نام تجویز کرکے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کو بھجوائے جائیں، تاکہ جلد از جلد ضلعی اور تحصیل کابینہ کا اعلان کیا جا سکے اور تنظیمی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تنظیم سازی کا سلسلہ یونین کونسل، ویلج کونسل اور وارڈ کی سطح تک لے جایا جائے تاکہ مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی جڑیں عوام تک مضبوطی سے پہنچ سکیں۔

15/09/2026

چیف ارگنائزر ملک مصطفی خان پاکستان مسلم لیگ ن کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کر رہے ہیں

15/09/2026

پاکستان مسلم لیگ خواتین ونگ کے صوبائی صدر رکن صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہدکا بنوں میں ورکرز کنوینشن سے خطاب

15/09/2026

پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق ضلعی صدر ملک رضا خان بنوں میں ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔

15/09/2026

بنوں .موجودہ صوبائی حکومت کرپشن اور بدانتظامی کی انتہا ہے، وسائل مجرم کی رہائی کی تحریک پر خرچ کیے جا رہے ہیں، سینیٹر بہرمند تنگی۔صحت کارڈ کرپشن کا ذریعہ بن چکا، غریب کو غیر معیاری ادویات فراہم کی جا رہی ہیں؛ مسلم لیگ ن کو خیبر پختونخوا کی سب سے منظم اور طاقتور جماعت بنائیں گے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر بہرمند خان تنگی نے موجودہ صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت کرپشن اور بدانتظامی کی انتہا کرچکی ہے اور 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبے کو حاصل ہونے والے وسائل اور اختیارات کو ایک مجرم کی رہائی کی تحریک پر خرچ کیا جا رہا ہے۔بنوں میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بہرمند خان تنگی نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کا پہلا زینہ صحت کارڈ ہے، جس کے ذریعے آنے والی رقم من پسند ہسپتالوں، ادویات اور ٹھیکیداروں کے ذریعے وزیراعلیٰ اور بانی پی ٹی آئی کے گھر تک پہنچ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب غریب عوام کو غیر معیاری ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ جیسے اہم منصب کی وقار اور حرمت کو بھی مجروح کیا ہے۔ ان کے بقول لاہور میں گزشتہ رات وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جو کچھ کیا گیا، اس سے پورے صوبے کی بدنامی ہوئی ہے۔سینیٹر بہرمند تانگی نے کہا کہ صوبے کے وسائل ایک مجرم کی رہائی کی تحریک کے نام پر پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں اور صوبے کے وسائل کو بانی پی ٹی آئی کی منتقلی اور سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا مالی مشکلات کا شکار ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کہ 14 سالہ دورِ حکومت میں کرپشن اور ملازمتوں کی بندربانٹ کے علاوہ صوبے کے لیے کون سی بڑی خدمت انجام دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس صحت کارڈ کو پی ٹی آئی اپنی حکومت کا بڑا کارنامہ قرار دیتی ہے، مسلم لیگ (ن) اسے کرپشن کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی کوشش ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی، منظم اور طاقتور سیاسی جماعت کے طور پر سامنے لایا جائے۔ تمام اضلاع میں تنظیم سازی اسی مقصد کے تحت کی گئی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ مستقبل میں وفاق کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں بھی اس کی حکومت قائم ہو اور صوبے کو پنجاب کی طرز پر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔سینیٹر بہرمند خان تنگی نے اعلان کیا کہ ضلع اور تحصیل کی کابینہ کی تشکیل کے لیے چار کلیدی عہدوں کے لیے تین، تین نام تجویز کرکے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کو بھجوائے جائیں، تاکہ جلد از جلد ضلعی اور تحصیل کابینہ کا اعلان کیا جا سکے اور تنظیمی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تنظیم سازی کا سلسلہ یونین کونسل، ویلج کونسل اور وارڈ کی سطح تک لے جایا جائے تاکہ مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی جڑیں عوام تک مضبوطی سے پہنچ سکیں۔اس موقع پر صوبائی انفارمیشن سیکرٹری رحمت سلام خٹک، خاتون رکن صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد، سابق ضلعی صدر ملک رضا خان، ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ملک احمد مصطفیٰ، ملک عصمت اللہ خان، ریٹائرڈ کمانڈنٹ ایف سی غنی الرحمن، سابق ناظم اسماعیل خان اور ملک اکبر علی خان وزیر نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران ملک صفی اللہ ایڈووکیٹ، میاں سمیع اللہ شاہ ، وحیدہ ظفر ، ملک عمر نواز وزیرکے علاوہ درینہ کارکن طارق محمد اختر زمان عمر حیات پرویز خان اور نوید بھی موجود تھے۔سینیٹر بہرمند خان تنگی نے ضلع میں موجود وفاقی اداروں کے افسران کو بھی متنبہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے کسی رہنما یا کارکن کی حوصلہ شکنی یا انہیں دفاتر میں مناسب احترام نہ دینے کی صورت میں متعلقہ افسر کو عہدے پر رہنے نہیں دیا جائے گا۔

 # # # ملک شیر اکبر خان وزیر — لیویز خاصہ دار فورس کا ایک یادگار بابملک شیر اکبر خان وزیر ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن...
11/09/2026

# # # ملک شیر اکبر خان وزیر — لیویز خاصہ دار فورس کا ایک یادگار باب

ملک شیر اکبر خان وزیر ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے لیویز خاصہ دار فورس میں اپنی خدمات کے دوران نہ صرف ایک افسر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے بلکہ اپنے کردار، جرات، اصول پسندی اور فورس کے اہلکاروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے باعث ایک منفرد مقام بنایا۔ ان کا دور لیویز خاصہ دار فورس کے لیے ایک ایسا دور سمجھا جاتا ہے جسے آج بھی کئی اہلکار عزت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔

ملک شیر اکبر خان وزیر کا تعلق احمد زئی وزیر قبیلے سے ہے اور وہ احمد زئی کے لیے بھی باعثِ فخر رہے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک طرف روایتی قبائلی جرأت، خودداری اور فیصلہ سازی نظر آتی تھی تو دوسری طرف ایک ذمہ دار پولیس افسر کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور نظم و ضبط بھی نمایاں تھا۔ یہی امتزاج انہیں اپنے ہم عصر افسران سے ممتاز کرتا تھا۔

لیویز خاصہ دار فورس کے ڈی ایس پی کی حیثیت سے ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ضم یا زیرِ انتظام آنے والی لیویز خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کی نمائندگی پوری قوت کے ساتھ کی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ فورس کے اہلکاروں کو ان کا جائز مقام، عزت اور حقوق ملنے چاہئیں۔ ان کے دور میں لیویز خاصہ دار فورس کے مسائل کو محض فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے متعلقہ حکام کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھایا جاتا تھا۔

ملک شیر اکبر خان وزیر کا اندازِ قیادت بھی منفرد تھا۔ اگر کسی مسئلے کے حل کے لیے افسران کے دفاتر کے دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوتی تو وہ اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ بعض مواقع پر فورس کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر احتجاج اور دھرنے تک کی نوبت آئی، مگر وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کے نزدیک فورس کے اہلکاروں کے جائز مطالبات کی آواز بلند کرنا کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری فورس کے اجتماعی حق کا معاملہ تھا۔

ان کے دور کا ایک مشکل مرحلہ وہ بھی تھا جب سب ڈویژن وزیر کا علاقہ انتہائی حساس حالات سے گزر رہا تھا۔ ایک ایسا وقت بھی آیا جب سکیورٹی کی صورتحال کے باعث کئی افسران کے لیے علاقے میں قدم رکھنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں جہاں عام سرکاری اہلکار بھی علاقے میں جانے سے گریز کرتے تھے، وہاں ملک شیر اکبر خان وزیر کو مشکل سے مشکل ٹاسک سونپے جاتے رہے۔

یہ ذمہ داریاں محض کاغذی احکامات نہیں ہوتیں تھیں بلکہ ان کے ساتھ زمینی خطرات بھی وابستہ ہوتے تھے۔ حساس علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنا، ریاستی رٹ قائم رکھنا، فورس کی نگرانی کرنا اور مقامی سطح پر لوگوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا ایک غیر معمولی حوصلے اور تجربے کا تقاضا کرتا تھا۔ ملک شیر اکبر خان وزیر نے ایسے حالات میں بھی اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کے بجائے انہیں قبول کیا اور اپنے فرائض انجام دیے۔

ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اپنے ماتحت اہلکاروں کے مسائل اور مشکلات سے باخبر رہتے تھے۔ وہ فورس کو صرف احکامات بجا لانے والے اہلکاروں کا مجموعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے ساتھ ایک ٹیم اور ادارے کے طور پر کھڑے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مشکل وقت میں اہلکار بھی ان پر اعتماد کرتے تھے۔

لیویز خاصہ دار فورس کے حوالے سے ان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے پولیس کے ادارے کے اندر لیویز خاصہ دار کی شناخت، عزت اور مقام کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک فورس کی عزت صرف وردی یا عہدے سے نہیں بلکہ اہلکاروں کے حقوق، قربانیوں اور خدمات کے اعتراف سے وابستہ تھی۔

ملک شیر اکبر خان وزیر کا دور اس لحاظ سے بھی اہم رہا کہ اس زمانے میں فورس کے اہلکاروں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط آواز محسوس کی۔ وہ افسران کے سامنے فورس کے مؤقف کو واضح انداز میں رکھتے اور جہاں انہیں محسوس ہوتا کہ اہلکاروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، وہاں خاموش رہنے کے بجائے اپنا مؤقف پیش کرتے۔

آج جب لیویز خاصہ دار فورس کے ماضی اور اس سے وابستہ شخصیات کا ذکر ہوتا ہے تو ملک شیر اکبر خان وزیر کا نام ایک ایسے افسر کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے مشکل حالات میں ذمہ داریاں نبھائیں، فورس کی نمائندگی کی اور اپنے علاقے میں ریاستی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے خطرات مول لیے۔

ان کا دور یقیناً لیویز خاصہ دار فورس کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار باب ہے۔ ایک ایسا باب جس میں جرأت بھی ہے، مزاحمت بھی، فورس کے حقوق کی جدوجہد بھی اور مشکل ترین حالات میں فرائض کی ادائیگی بھی۔

ملک شیر اکبر خان وزیر کے لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے صرف ایک عہدہ نہیں سنبھالا بلکہ اپنے کردار سے اس عہدے کی عزت میں اضافہ کیا۔ احمد زئی کے لیے ان کی خدمات قابلِ فخر ہیں جبکہ لیویز خاصہ دار فورس کے لیے ان کا دور ایک ایسی یاد ہے جسے پرانے اہلکار آج بھی احترام سے یاد کرتے ہیں۔

وقت گزر جاتا ہے، عہدے بدل جاتے ہیں اور اداروں کے ڈھانچے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن وہ لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں جو مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ملک شیر اکبر خان وزیر بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں جن کا نام لیویز خاصہ دار فورس کی جدوجہد، وقار اور مشکل حالات میں خدمات کے حوالے سے ایک یادگار حیثیت رکھتا ہے۔

ممبر قومی اسمبلی کے بھائی بصیر علی شاہ الہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر اشتیاق احمد ، سی اینڈ ڈبلیو اسٹاف، کنسلٹنٹ ٹیم اور پاکستان ...
10/09/2026

ممبر قومی اسمبلی کے بھائی بصیر علی شاہ الہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر اشتیاق احمد ، سی اینڈ ڈبلیو اسٹاف، کنسلٹنٹ ٹیم اور پاکستان تحریک انصاف ضلع بنوں کے رہنماؤں نے بنوں گل سٹی پراجیکٹ کا دورہ کیا.

انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سنٹر کی تعمیر ممبر قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ الہاشمی کی کاوشوں اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی خصوصی دلچسپی سے عمل میں لائی جا رہی ہے.اس خصوصی دورے کے دوران فزیبیلیٹی کا جائزہ لیا گیا اور بہت جلد تعمیراتی کام کے آغاز کے لیے سروے مکمل کی گئی.

إن شاء اللہ اس ہسپتال کے قیام سے ساؤتھ ریجن بالخصوص بنوں ڈویژن کے دل کے مریضوں کو بہترین اور جدید علاج کی سہولت میسر آئے گی.

بنوں کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں.
تحریر۔شاہ زیب خان کوٹکہ سخی جان فاطمہ خیل بنوں۔
Baseer Ali Shah

10/09/2026

میٹرک اور ایف ایس سی پاس طلبہ کے لیے خوشخبری ,
تاج کالج اف نرسنگ اینڈ الائٹڈ ہیلتھ سائنسز طغل خیل بنوں میں محدود نشستوں پر داخلے جاری ہے ۔

10/09/2026

سب دوستوں کو بہت بہت مبارک ہو۔
اے ڈی سی صاحب نے کھلی کچہری میں عوام الناس کو یقین دہانی کرائی کہ ٹریننگ سے 16 بندے واپس اتے ہی ہر حلقے میں پٹواری کو کمپیوٹر دیا جائے گا
اور اس کے بعد مزید پٹواریوں کو ٹریننگ پر بھیجا جائے گا۔

اللہ اے ڈی سی صاحب کو ہمیشہ اباد رکھیں

Address

Dubai
28100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apna Bannu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Apna Bannu:

Shortcuts

Share

Category