26/08/2026
صحت کارڈ غریب عوام کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے، لیکن اگر کسی غریب مریض کو ایمرجنسی میں یہ کہا جائے کہ صحت کارڈ پر آپریشن تین یا چار ماہ بعد ہوگا، جبکہ نقد پیسے دینے پر چند گھنٹوں میں آپریشن ہو سکتا ہے، تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔
ہم کسی ایک ڈاکٹر یا ہسپتال پر الزام نہیں لگا رہے، لیکن اگر ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور ہمارے پاس ان کے ثبوت بھی موجود ہیں تو متعلقہ حکام کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ آخر صحت کارڈ پر علاج کرنے والے ڈاکٹر کو پیسے ملتے ہیں، پھر صرف صحت کارڈ والے مریض کو انتظار کیوں؟
صحت کارڈ کا مقصد ہی یہ تھا کہ غریب آدمی بھی عزت کے ساتھ بروقت علاج کروا سکے۔ میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صاحب، وزیرِ صحت اور محکمہ صحت سے گزارش ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور اگر کہیں صحت کارڈ کے مریضوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
یہ کسی سیاست کا مسئلہ نہیں، یہ ایک غریب مریض کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ صحت کارڈ کی سہولت واقعی حقدار تک بروقت پہنچنی چاہیے تو اس ویڈیو کو ضرور شیئر کریں، تاکہ یہ آواز متعلقہ حکام تک پہنچے۔