Abdul Wahab

Call Website Contact the organisation

Abdul Wahab Official Page of Mufti Abdul Wahab
Islamic Scholar | Exploring Islamic history through travels & bayans | Motivational Speaker | Philanthropist

Mufti Abdul Wahab is a leading global Islamic scholar and a motivational speaker.

بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر دل بھر آتا ہے۔ نگاہیں کعبہ پر ہوں تو دنیا کی بہت سی فکریں خود بخود چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔ یا ...
28/09/2026

بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر دل بھر آتا ہے۔ نگاہیں کعبہ پر ہوں تو دنیا کی بہت سی فکریں خود بخود چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔ یا اللہ، اس حاضری کو قبول فرما اور بار بار اپنے گھر کی زیارت نصیب فرما۔

Standing before the Ka'bah fills the heart with peace and gratitude. Looking at Baitullah, so many worries suddenly feel small. May Allah accept this visit and invite us back again and again.

اگر دوست دولت ہیں تو میں ملٹی ملینئر ہوںزندگی بڑی عجیب چیز ہے۔ انسان ساری عمر کام کاج میں لگا رہتا ہے، کاروبار بناتا ہے،...
27/09/2026

اگر دوست دولت ہیں تو میں ملٹی ملینئر ہوں

زندگی بڑی عجیب چیز ہے۔ انسان ساری عمر کام کاج میں لگا رہتا ہے، کاروبار بناتا ہے، پیسہ کماتا ہے، گھر بناتا ہے، بچوں کے مستقبل کی فکر کرتا ہے اور اپنی مصروفیات میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ کبھی کبھی اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ زندگی میں اچھے دوست بنانا بھی ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔

دولت، کاروبار اور کامیابی اپنی جگہ، لیکن زندگی میں چند ایسے لوگ ضرور ہونے چاہئیں جن کے ساتھ آپ دل کی بات کر سکیں، خوشی بانٹ سکیں، مشکل میں مشورہ لے سکیں اور جن کے سامنے آپ کو بناوٹ کی ضرورت نہ پڑے۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ

یعنی اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔

اور ایک دوسرے مقام پر انسان کی حسرت بیان ہوئی:

يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ۝ لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي

’’ہائے میری بربادی! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے مجھے نصیحت آنے کے بعد اس سے بھٹکا دیا۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے بھی دوستی کے بارے میں ایک بہت واضح اصول دیا:

الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ

’’آدمی اپنے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔‘‘

اسی لیے میں اکثر کہتا ہوں:

’’تم مجھے اپنے دوست دکھاؤ، میں تمہیں تمہارا مستقبل دکھا دوں گا۔‘‘

یہ بات صرف نوجوانوں کے لیے نہیں، ہم سب کے لیے ہے۔ انسان جس صحبت میں زیادہ وقت گزارتا ہے، اس کے اثرات ضرور لیتا ہے۔ اچھے دوست آپ کو نیکی، محنت، علم، خدمت اور بہتر زندگی کی طرف لے جاتے ہیں، جبکہ بری صحبت انسان کو آہستہ آہستہ ان کاموں کی طرف لے جا سکتی ہے جن سے وہ خود بھی بچنا چاہتا تھا۔

لیکن اچھے دوست صرف مل نہیں جاتے، اچھے دوست بنانے پڑتے ہیں، اور پھر ان کے ساتھ وقت بھی گزارنا پڑتا ہے۔

ہماری ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کاروبار اور کام کے لیے تو گھنٹوں نکالتے ہیں، لیکن دوستی کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ دوستی صرف فون پر ’’کیا حال ہے؟‘‘ پوچھنے کا نام نہیں۔ کبھی ساتھ بیٹھیں، ساتھ کھانا کھائیں، سفر کریں، ایک دوسرے کے حالات سنیں، مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوں۔ تب جا کر انسان ایک دوسرے کو سمجھتا ہے۔

ایک معروف بات ہے:

الإنسان يُعرف في السفر

یعنی انسان سفر میں پہچانا جاتا ہے۔

میرا خیال ہے کسی شخص کو سمجھنے کے لیے اس کے ساتھ ایک دو سفر ضرور کرنے چاہئیں۔ سفر میں انسان کی اصل طبیعت سامنے آتی ہے۔ تھکن میں اس کا رویہ کیا ہے؟ معمولی تکلیف میں اس کا مزاج کیسا ہوتا ہے؟ دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے؟ کھانے پر اس کا برتاؤ کیسا ہے؟ کسی مشکل میں وہ صرف اپنی فکر کرتا ہے یا اپنے ساتھی کی بھی؟

اور صرف سفر ہی نہیں، کبھی کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیجیے۔ کھانے کی میز پر بھی انسان کی بہت سی عادتیں اور صفات سامنے آ جاتی ہیں۔

دوست بناتے ہوئے بہت سی صفات دیکھنی چاہئیں، لیکن میرے نزدیک سب سے اہم دینداری اور کردار ہے۔ ایسا دوست جو اللہ سے تعلق رکھتا ہو، حلال و حرام کی تمیز رکھتا ہو، سچ بولتا ہو، امانت دار ہو، دوسروں کی عزت کرتا ہو اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو۔

اس کے ساتھ سخاوت بھی بڑی خوبصورت صفت ہے۔ کنجوسی اور خود غرضی انسان کے تعلقات کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اچھا دوست صرف اپنے لیے نہیں سوچتا، دوسروں کے لیے بھی دل رکھتا ہے۔

اور ایک بات جس سے خاص طور پر بچنا چاہیے، وہ ہے مفاد پرستی۔

کچھ لوگ دوستی نہیں کرتے، تعلق بناتے ہیں تاکہ اس سے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں۔ جب تک ان کا مطلب نکلتا رہے، وہ بہت قریب رہتے ہیں، اور جب مفاد ختم ہو جائے تو تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔

ایسے لوگوں سے محتاط رہنا چاہیے جو ہر وقت آپ کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں۔

خاص طور پر میرے خیال میں انتہائی قریبی دوستوں کے ساتھ کاروباری معاملات میں بھی بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ ہمارے ہاں پنجابی میں ایک بات کہی جاتی ہے:

’’جتھے ہوئے پیار، اتھے نہ ہوئے بیوپار۔‘‘

یعنی جہاں محبت اور گہرا تعلق ہو، وہاں کاروباری لین دین شامل ہو جائے تو کبھی کبھی وہ محبت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔

کاروبار اپنی جگہ، دوستی اپنی جگہ۔ اگر بہت قریبی دوست کے ساتھ کاروبار کرنا ہی ہو تو معاملات انتہائی واضح، تحریری اور شفاف ہونے چاہئیں، تاکہ پیسے کی وجہ سے برسوں کی محبت خراب نہ ہو۔

زندگی میں لوگ بہت ملتے ہیں۔ ہر جاننے والا دوست نہیں ہوتا اور ہر دوست بھی قریبی دوست نہیں ہوتا۔ کسی سے رسمی تعلق ہوتا ہے، کسی سے اچھا تعلق، اور کسی کو انسان اپنے دل کے بہت قریب رکھتا ہے۔

اس لیے دوست ضرور بنائیں، لیکن انتخاب کے ساتھ۔

اور سب سے بڑھ کر خود بھی ایسا دوست بنیں جس پر دوسرا شخص بھروسہ کر سکے۔

اللہ کے فضل سے میری زندگی میں بہت سے دوست ہیں۔ مختلف شہروں اور مختلف ملکوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے ساتھ برسوں کا تعلق ہے۔ میں اسے اپنی زندگی کی بہت بڑی نعمت سمجھتا ہوں۔

لوگ اپنی دولت گنتے ہیں، جائیدادیں گنتے ہیں، بینک بیلنس گنتے ہیں۔

میں کبھی کبھی اپنے دوستوں کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں:

اگر دوست بھی دولت ہیں تو اللہ کے فضل سے میں ملٹی ملینئر ہوں۔

اور شاید یہ وہ دولت ہے جس کا جتنا شکر کیا جائے، کم ہے۔

کیونکہ پیسہ آپ کو بہت سی چیزیں خرید کر دے سکتا ہے، لیکن ایک مخلص دوست نہیں خرید سکتا۔

مخلص دوست وقت کے ساتھ بنتا ہے، اعتماد سے بنتا ہے، ساتھ بیٹھنے سے بنتا ہے، سفر کرنے سے بنتا ہے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے سے بنتا ہے اور پھر پوری زندگی
کی ایک ایسی دولت بن جاتا ہے جس کی قیمت کسی بینک بیلنس میں نہیں لگائی جا سکتی۔

کعبہ کو سامنے دیکھنا ایک ایسی کیفیت ہے جسے لفظ مکمل بیان نہیں کر سکتے۔ دل میں شکر بھی ہے، عاجزی بھی اور ایک عجیب سا سکون...
27/09/2026

کعبہ کو سامنے دیکھنا ایک ایسی کیفیت ہے جسے لفظ مکمل بیان نہیں کر سکتے۔ دل میں شکر بھی ہے، عاجزی بھی اور ایک عجیب سا سکون بھی۔ یا اللہ، اپنے گھر کی یہ محبت ہمیشہ دل میں زندہ رکھ۔ آمین

Seeing the Ka'bah before your eyes is a feeling beyond words. The heart fills with gratitude, humility and peace. May Allah keep the love of His House alive in our hearts.

27/09/2026

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت اور انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ میری زندگی کا مقصد یہی ہے کہ عبادت کے ساتھ بندوں کے لیے آسانی اور بھلائی کا ذریعہ بنوں

True purpose is found in worship, compassion, and helping others ❤️

عمرے کی سعی میں ایک دوست کے سوال نے مجھے روک لیاصلاح الدین صاحب ہمارے بہت اچھے دوست ہیں۔ کئی برسوں سے ان کے ساتھ محبت او...
27/09/2026

عمرے کی سعی میں ایک دوست کے سوال نے مجھے روک لیا

صلاح الدین صاحب ہمارے بہت اچھے دوست ہیں۔ کئی برسوں سے ان کے ساتھ محبت اور رفاقت کا تعلق ہے۔ اکثر میرے ساتھ سفر کرتے ہیں اور عمرے کے سفر میں بھی کئی مرتبہ ساتھ رہے ہیں۔ ہماری یہ دوستی ایسی ہے کہ کبھی میں کہہ دیتا ہوں، ’’صلاح الدین صاحب! عمرے پر چلیں؟‘‘ تو جواب آتا ہے، ’’چلیں۔‘‘ اور کبھی ان کا فون آتا ہے، ’’بہت دن ہوگئے عمرے پر نہیں گئے، چلیں عمرہ کرتے ہیں۔‘‘

اس بار سعی کے دوران انہوں نے ایک ایسا سوال پوچھا جس نے مجھے بھی چند لمحوں کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کر دیا۔

کہنے لگے:

’’سعی تو حضرت ہاجرہؑ کی یادگار ہے، اور حضرت ہاجرہؑ ایک خاتون تھیں۔ پھر سعی کے دوران مخصوص جگہ پر مرد کیوں دوڑتے ہیں اور عورتیں کیوں نہیں دوڑتیں؟‘‘

سوال بڑا معقول تھا۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

یعنی بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو شخص حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور جو اپنی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو بے شک اللہ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

حضرت ہاجرہؑ اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیلؑ کے لیے پانی تلاش کر رہی تھیں۔ مکہ اس وقت ایک سنسان وادی تھی۔ پانی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ وہ صفا پر چڑھیں، دور تک دیکھا، کوئی مدد نظر نہ آئی تو مروہ کی طرف گئیں۔ پھر واپس صفا آئیں۔ اسی طرح سات مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان گئیں۔

روایت میں آتا ہے کہ وادی کے نشیبی حصے میں پہنچ کر وہ تیزی سے گزرتی تھیں، تاکہ دوسری طرف پہنچ کر دیکھ سکیں کہ کہیں کوئی انسان یا مدد کا نشان نظر آ جائے۔

ذرا اس منظر کو ذہن میں لائیے۔

ایک ماں ہے، گود میں شیر خوار بچہ ہے، پانی کا ایک قطرہ نہیں، اردگرد کوئی آبادی نہیں، کوئی مددگار نہیں، اور ماں اپنے بچے کے لیے پانی کی تلاش میں ایک طرف سے دوسری طرف جا رہی ہے۔

یہ صرف چلنا نہیں تھا، یہ ایک ماں کی بے قراری اور جدوجہد تھی۔

اور اللہ تعالیٰ نے اس جدوجہد کو اتنی قبولیت عطا فرمائی کہ اسے قیامت تک کے لیے عبادت بنا دیا۔

آج ہم سعی کرتے ہیں تو صفا اور مروہ کے درمیان چلنا مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہے۔ البتہ مخصوص حصے میں مردوں کے لیے تیز چلنا یا دوڑنا سنت ہے، جبکہ خواتین وہاں دوڑتی نہیں ہیں۔ اہلِ علم نے اس کی حکمت میں عورت کے پردے، حیا اور وقار کے تقاضوں کو بھی بیان کیا ہے۔

یہاں ایک عقلی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔

حضرت ہاجرہؑ جس ماحول میں دوڑ رہی تھیں، وہاں آج کی طرح ہزاروں مرد اور عورتیں ساتھ موجود نہیں تھے۔ وہ ایک سنسان وادی تھی۔ ان کی دوڑ کسی مجمع کے درمیان نہیں تھی؛ وہ اپنے بچے کے لیے پانی تلاش کرنے والی ایک پریشان ماں کی فطری جدوجہد تھی۔

آج کا ماحول مختلف ہے۔ مرد اور عورتیں ایک ساتھ سعی کرتے ہیں، اس لیے شریعت نے خواتین کو سعی سے محروم نہیں کیا، بلکہ انہیں سعی کا پورا ثواب اور عبادت عطا کی، مگر دوڑنے کو مردوں کے لیے مخصوص رکھا۔

اور یہاں حضرت ہاجرہؑ کی پوری داستان کا اصل سبق سامنے آتا ہے۔

انہوں نے پانی نہیں دیکھا تھا، لیکن پانی کی تلاش نہیں چھوڑی تھی۔

انہیں معلوم نہیں تھا کہ مدد کہاں سے آئے گی، مگر انہوں نے کوشش جاری رکھی۔ سات مرتبہ دوڑیں، چلیں، تلاش کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے وہ پانی عطا کیا جس کا آج تک دنیا زمزم کے نام سے ذکر کرتی ہے۔

شاید سعی ہمیں یہی سمجھاتی ہے کہ انسان کا کام کوشش کرنا ہے، نتیجہ نکالنا اللہ کا کام ہے۔

ہم صفا سے مروہ تک چلتے ہیں، مروہ سے صفا تک واپس آتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم صرف دو پہاڑیوں کے درمیان نہیں چل رہے ہوتے؛ ہم حضرت ہاجرہؑ کے توکل، ایک ماں کی جدوجہد اور اللہ پر یقین کی ایک پوری داستان کے درمیان سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

اور شاید اسی لیے صفا ءومروہ
صرف دو مقام نہیں رہے، اللہ کی شعائر بن گئے۔

سراجیوو: قدرت، تاریخ اور تہذیب کا حسین امتزاجمفتی عبدالوہاب بوسنیا کے سفر کا آج ہمارا چوتھا دن تھا۔ہماری روزانہ کی طرح آ...
27/09/2026

سراجیوو: قدرت، تاریخ اور تہذیب کا حسین امتزاج
مفتی عبدالوہاب

بوسنیا کے سفر کا آج ہمارا چوتھا دن تھا۔

ہماری روزانہ کی طرح آج بھی صبح کی ترتیب وہی تھی۔ کوشش یہی تھی کہ صبح نو بجے ہوٹل سے روانہ ہو جائیں، کیونکہ گروپ ٹریول میں وقت کی پابندی اور نظم و ضبط بہت ضروری ہے۔

آج کا دن خاص طور پر بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو (Sarajevo) کے نام تھا؛ ایک ایسا شہر جہاں قدرت، تاریخ، مذہب اور مختلف تہذیبیں صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

صبح نو بجے ہم ہوٹل سے روانہ ہوئے اور سب سے پہلے وریلو بوسنے (Vrelo Bosne) پہنچے۔ یہ مقام سراجیوو کے علاقے الیجا میں، ماؤنٹ ایگمان کے دامن میں واقع ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں دریائے بوسنا کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ یہ تقریباً چھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا محفوظ قدرتی علاقہ ہے۔

ہمارے ہوٹل سے یہ جگہ بھی بہت قریب تھی، اس لیے صبح کے وقت یہاں آنا بہت آسان تھا۔ اور سچ پوچھیں تو یہ پارک دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔

میں نے دنیا کے بے شمار پارکس دیکھے ہیں، لیکن وریلو بوسنے میرے پسندیدہ پارکس میں شامل ہو گیا۔ یہاں بہتے ہوئے چشمے، چھوٹی چھوٹی نہریں، صاف پانی، جھیلیں، درخت اور ہر طرف سبزہ ہے۔ جھیلوں میں تیرتے ہوئے ہنس اس منظر کو مزید خوبصورت بنا دیتے ہیں۔

ایک چیز جو میں نے خاص طور پر محسوس کی وہ یہاں کی صفائی تھی۔ چشموں سے لے کر چھوٹی نہروں اور تالابوں تک، پورا ماحول انتہائی صاف ستھرا اور منظم نظر آتا ہے۔ یہاں آ کر مجھے ایک مرتبہ پھر احساس ہوا کہ خوبصورت جگہ کو خوبصورت رکھنے کے لیے صرف قدرت کافی نہیں ہوتی، بلکہ لوگوں کا شعور اور صفائی کا احساس بھی ضروری ہوتا ہے۔

ہم نے یہاں خوب سیر کی، تازہ ہوا سے لطف اٹھایا اور کچھ وقت اس خوبصورت قدرتی ماحول میں گزارا۔

وریلو بوسنے سے نکلنے کے بعد ہم سراجیوو کے سٹی سینٹر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمارا پہلا اہم پڑاؤ تھا سراجیوو سٹی ہال، یعنی Vijećnica۔

یہ عمارت آسٹرو ہنگیرین دور کی ایک شاندار عمارت ہے اور اپنے مخصوص طرزِ تعمیر کی وجہ سے سراجیوو کی سب سے نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ 1896 میں مکمل ہوئی۔

لیکن اس عمارت کی تاریخ صرف خوبصورتی تک محدود نہیں۔ 1992 میں سراجیوو کے محاصرے کے دوران 25 اور 26 اگست کی درمیانی رات شدید گولہ باری سے یہ عمارت جل کر تباہ ہو گئی۔ اس وقت اس کے اندر موجود قومی و یونیورسٹی لائبریری کے تقریباً دو ملین کتابیں اور دستاویزات بھی آگ میں ضائع ہوئیں۔ بعد میں عمارت کی بحالی کی گئی اور 2014 میں اسے دوبارہ عوام کے لیے کھولا گیا۔

یعنی یہ عمارت صرف ایک خوبصورت تاریخی عمارت نہیں، بلکہ سراجیوو کے دکھ، جنگ اور دوبارہ کھڑے ہونے کی بھی ایک علامت ہے۔

سٹی ہال سے نکل کر ہم سراجیوو کے اولڈ سٹی، باشچارشیہ (Baščaršija) میں داخل ہوئے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں آج بھی عثمانی دور کا سراجیوو اپنی گلیوں، بازاروں، مساجد اور تاریخی عمارتوں کے ذریعے زندہ نظر آتا ہے۔

اور یہاں ہمارا ایک انتہائی اہم پڑاؤ تھا، غازی خسرو بیگ مسجد۔ ہم نے یہاں جمعہ کی نماز ادا کی۔

یہ مسجد سراجیوو کی سب سے اہم تاریخی مساجد میں سے ایک ہے اور 1530ء میں غازی خسرو بیگ نے تعمیر کروائی تھی۔ غازی خسرو بیگ سولہویں صدی میں بوسنیا کے عثمانی گورنر رہے اور سراجیوو کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار غیر معمولی تھا۔

غازی خسرو بیگ صرف مسجد بنانے والے حکمران نہیں تھے۔ انہوں نے ایک پورا وقفی نظام قائم کیا۔ مسجد کے ساتھ مدرسہ، مکتب، خانقاہ، حمام، بازار، سرائے اور دیگر عمارتیں قائم کی گئیں۔ ان کے وقف نے ان اداروں کے اخراجات اور شہر کی معاشرتی زندگی کو سہارا دیا۔

اسی لیے آج بھی سراجیوو کے اولڈ ٹاؤن میں قدم قدم پر غازی خسرو بیگ کی یاد نظر آتی ہے۔

مسجد کے قریب ان کا مقبرہ، مدرسہ اور مشہور کلاک ٹاور، بھی موجود ہے۔ یہ مسجد اپنے فنِ تعمیر کے اعتبار سے بھی بہت اہم ہے اور آج بوسنیا کی عثمانی اسلامی تعمیرات کی نمایاں مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔

سراجیوو کی سب سے حیران کن خصوصیات میں سے ایک اس کا مذہبی اور تہذیبی تنوع ہے۔ یہاں مسجد بھی ہے، کیتھیڈرل بھی، آرتھوڈوکس چرچ بھی اور یہودی عبادت گاہ بھی۔ اسی وجہ سے سراجیوو کو بعض اوقات “یورپ کا یروشلم” بھی کہا جاتا ہے۔

یہاں مختلف مذہبی برادریوں کے آثار ایک دوسرے کے بہت قریب نظر آتے ہیں، جو شہر کی صدیوں پر محیط کثیرالثقافتی تاریخ کی یاد دلاتے ہیں۔ سراجیوو کی پرانی آرتھوڈوکس چرچ بھی اس تاریخی مذہبی تنوع کی ایک اہم مثال ہے۔

یہودی تاریخ بھی سراجیوو کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسپین سے یہودیوں کی بے دخلی کے بعد عثمانی سلطنت نے سیفاردی یہودیوں کو اپنی سرزمینوں میں پناہ دی، اور ان میں سے بہت سے لوگ سراجیوو آئے۔ وقت کے ساتھ یہاں سیفاردی یہودی برادری اور اس کی ثقافت نے مضبوط جڑیں بنائیں۔

اس شہر کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس کی تاریخ صرف ایک قوم یا ایک مذہب کی تاریخ نہیں، بلکہ مختلف لوگوں کے ایک ساتھ رہنے کی تاریخ بھی ہے۔

اولڈ سٹی کے وزٹ کے دوران ہم اس مقام پر بھی گئے جہاں 28 جون 1914 کو تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ پیش آیا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں آسٹریا-ہنگری کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ سوفی کو گاوریلو پرنسپ نے گولی مار کر قتل کیا۔

اس واقعے کے بعد یورپ میں حالات تیزی سے بگڑے اور چند ہفتوں کے اندر پہلی جنگِ عظیم شروع ہو گئی۔

ایک چھوٹے سے شہر کی ایک سڑک پر پیش آنے والا یہ واقعہ پوری دنیا کی تاریخ کا رخ بدلنے والا ثابت ہوا۔

اس کے بعد ہم نے باشچارشیہ کی گلیوں میں وقت گزارا۔

یہاں کا مشہور Sebilj بھی دیکھا، جو سراجیوو کی سب سے پہچانی جانے والی علامتوں میں سے ایک ہے۔ موجودہ سیبِل کی شکل 1913 میں دوبارہ بنائی گئی تھی اور آج یہ باشچارشیہ کے مرکزی حصے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

پھر گروپ کو کچھ فری ٹائم دیا گیا تاکہ لوگ بازار دیکھ سکیں اور خریداری کر سکیں۔

اور ظاہر ہے، سراجیوو آئیں اور یہاں کا روایتی کھانا نہ کھائیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ہم نے Ćevapi (چواپی) کھائے، جو بوسنیا کے مشہور روایتی کھانوں میں سے ایک ہے، اور ساتھ ہی بوسنین کافی سے بھی لطف اٹھایا۔

اس کے بعد ہم سراجیوو کی مشہور کیبل کار کی طرف روانہ ہوئے۔ کیبل کار کے ذریعے ہم شہر سے اوپر Trebević کی طرف گئے۔ سراجیوو کیبل کار شہر اور پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت رابطہ فراہم کرتی ہے اور آج بھی شہر کی مشہور تفریحی سرگرمیوں میں شامل ہے۔

اوپر پہنچ کر ہم نے صرف کیبل کار کی سواری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پہاڑ کے اندر سے واکنگ سفاری جیسا ایک خوبصورت تجربہ بھی کیا۔

قدرت، پہاڑ، درخت اور سراجیوو کا اوپر سے نظر آنے والا منظر، گویا پورا ماحول ہی بدل گیا ہو۔

اس کے بعد ہم اس علاقے میں پہنچے جہاں تفریحی سرگرمیاں موجود تھیں۔ گروپ کے لوگوں نے وہاں خوب انجوائے کیا، مختلف رائیڈز سے لطف اٹھایا اور کچھ وقت تفریح میں گزارا۔

پھر دن بھر کی مصروفیات کے بعد ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا اور تقریباً عصر کی نماز کے وقت اپنے ہوٹل واپس پہنچ گئے۔

آج کا دن بوسنیا کے سفر کے اہم ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ ہم نے ایک ہی دن میں قدرت بھی دیکھی، تاریخ بھی دیکھی، مسجد بھی دیکھی، اولڈ سٹی بھی دیکھا، بازار بھی دیکھے، مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں بھی دیکھیں، پہلی جنگِ عظیم کی تاریخ کو محسوس کیا، بوسنیائی کھانا کھایا اور پہاڑوں کی سیر بھی کی۔

اور شاید سراجیوو کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں مشرق اور مغرب، اسلام اور یورپ، پرانی تاریخ اور جدید زندگی، بازار اور عبادت گاہیں، سب ایک ہی شہر میں ایک دوسرے کے قریب نظر آتے ہیں۔

مکہ مکرمہ کی یہ بابرکت سرزمین، بیت اللہ کا دیدار، اور ہر طرف اللہ کی محبت کا احساس۔ یہاں آکر دل دنیا سے ہٹ کر اپنے رب سے...
26/09/2026

مکہ مکرمہ کی یہ بابرکت سرزمین، بیت اللہ کا دیدار، اور ہر طرف اللہ کی محبت کا احساس۔ یہاں آکر دل دنیا سے ہٹ کر اپنے رب سے جڑ جاتا ہے۔ دعا ہے اللہ ہمیں بار بار اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائے۔ 🤲🕋

Makkah is a land filled with blessings. Standing before the Kaaba, the heart feels a love and closeness to Allah that words cannot fully describe. May Allah call us back to His House again and again. Ameen.

26/09/2026

اللہ کے گھروں کی تعمیر و آبادکاری میں حصہ لینا میرے لیے ہمیشہ سے سب سے محبوب کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ صدقۂ جاریہ اور آنے والی نسلوں کے لیے خیر کا ذریعہ بننا ہے۔ ❤️

Helping build the Houses of Allah is one of the works closest to my heart

26/09/2026

مفتی عبد الوہاب صاحب کے ساتھ ترکی ٹور پر جانا چاہتے ہیں؟ معلومات اس پوسٹ میں دیکھیں

قبا میں بیٹھا ہوں… جہاں ہجرت نے سجدہ کیامفتی عبدالوہاب  آج میں مسجدِ قبا کے اندر بیٹھا ہوں۔سامنے وہ مسجد ہے جس کی بنیاد ...
26/09/2026

قبا میں بیٹھا ہوں… جہاں ہجرت نے سجدہ کیا
مفتی عبدالوہاب

آج میں مسجدِ قبا کے اندر بیٹھا ہوں۔
سامنے وہ مسجد ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد رکھی۔
وہی قبا… جہاں مدینے کی طرف ہجرت کرنے والا قافلہ رکا، جہاں تھکے ہوئے مسافروں کو سکون ملا، جہاں انصار نے اپنے محبوب نبی ﷺ کا استقبال کیا، اور جہاں اسلامی تاریخ کی ایک عظیم داستان نے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
میں آج یہاں بیٹھا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ قبا صرف ایک مسجد نہیں، ایک احساس ہے۔

یہاں اینٹیں بھی تاریخ سناتی ہیں، راستے بھی تاریخ سناتے ہیں، اور یہ مٹی بھی جیسے کہہ رہی ہو:
یہ وہ جگہ ہے جہاں ہجرت نے سجدہ کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ مکہ سے نکلے تھے۔
پیچھے اپنا شہر تھا، گھر تھا، یادیں تھیں، اور آگے ایک نیا سفر تھا۔
مگر جس سفر کا مقصد اللہ ہو، اس کے راستے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، وہ تاریخ بن جاتے ہیں۔
قبا میں قیام ہوا تو سب سے پہلے مسجد بنی۔
گویا مدینہ کی نئی زندگی کا آغاز محلوں سے نہیں، بازاروں سے نہیں، دنیاوی آسائشوں سے نہیں…
سجدے سے ہوا۔

قرآن مجید نے اسی مسجد کو ایک عظیم نسبت عطا فرمائی:
﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾
وہ مسجد جو پہلے ہی دن تقویٰ پر قائم کی گئی، اس میں کھڑا ہونا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

“وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ”
اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
قبا آکر مجھے لگتا ہے کہ طہارت صرف وضو کا نام نہیں۔
وضو تو پانی سے ہو جاتا ہے…
لیکن دل کا وضو؟
وہ کیسے ہوگا؟
حسد دھو کر۔
کینہ دھو کر۔
بغض دھو کر۔
تکبر دھو کر۔
اور اپنے دل سے ان لوگوں کو معاف کرکے جنہوں نے کبھی ہمیں دکھ دیا تھا۔

شاید قبا کا اصل پیغام یہی ہے کہ اللہ کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے جسم پاک کرو، اور اللہ کے قریب ہونے کے لیے دل بھی پاک کرو۔
رسول اللہ ﷺ نے مسجدِ قبا کی حاضری کی خاص فضیلت بیان فرمائی۔ حضرت سہل بن حنیفؓ سے روایت ہے کہ جو شخص اپنے گھر سے وضو کرکے مسجدِ قبا آئے اور یہاں نماز پڑھے، اسے عمرہ کے برابر اجر ملتا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ خود بھی مسجدِ قبا تشریف لاتے تھے۔

سو آج جب یہاں دو رکعت کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو دل کہتا ہے:
یہ صرف دو رکعت نہیں…
یہ چودہ سو سال پرانی ایک سنت سے جڑنے کی کوشش ہے۔

پھر قبا کی تاریخ ہمیں ایک اور مسجد کا واقعہ سناتی ہے۔
مسجدِ ضرار۔
ظاہری شکل مسجد کی تھی، مگر مقصد مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور نقصان پیدا کرنا تھا۔
قرآن نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾
یہاں تاریخ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے:
صرف عمارت مقدس نہیں ہوتی، نیت بھی مقدس ہونی چاہیے۔
قبا ہمیں تقویٰ یاد دلاتا ہے۔
ضرار ہمیں نیت کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔
ایک مسجد تقویٰ پر قائم ہوئی اور دوسری کے پیچھے تفرقے کا مقصد تھا۔
فرق اینٹوں کا نہیں تھا…
فرق نیت کا تھا۔

اور شاید یہی سوال آج ہمیں اپنے گھروں، اپنے رشتوں اور اپنی زندگیوں سے بھی پوچھنا چاہیے:
ہم جو کچھ کر رہے ہیں، کیوں کر رہے ہیں؟
ہم کسی سے محبت کیوں کرتے ہیں؟
کسی سے ناراض کیوں ہیں؟
کسی رشتے کو توڑنے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے؟
کسی کی کامیابی ہمیں خوش کرنے کے بجائے پریشان کیوں کرتی ہے؟
کبھی کبھی مسجدِ قبا سے واپس آنے کے لیے آدمی کو صرف راستہ نہیں، اپنی نیت بھی درست کرنی پڑتی ہے۔

قبا کے قریب ہی بئرِ خاتم، یعنی بئرِ اریس کا مقام بھی ہے۔
ایک کنواں…
مگر اس کے ساتھ تاریخ کی کتنی گہری یادیں وابستہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ مقام معروف تھا۔ اسی مقام سے وہ واقعہ وابستہ ہے جس میں آپ ﷺ کی انگوٹھی بعد میں حضرت عثمانؓ کے ہاتھ سے کنویں میں گر گئی اور بہت تلاش کے باوجود نہ مل سکی۔
وہ انگوٹھی صرف ایک انگوٹھی نہیں تھی۔
وہ رسول اللہ ﷺ کی یاد تھی۔
اور جب وہ کنویں میں گم ہوئی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ نے اس یاد کو اپنے اندر محفوظ کرلیا ہو۔
⸻
پھر بستانِ مستظل اور بئرِ عذق کی طرف نگاہ جاتی ہے تو ہجرت کا وہ منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے جب اہلِ مدینہ اپنے محبوب رسول ﷺ کے استقبال کے لیے بے قرار تھے۔
سوچیے…
مدینہ والے روزانہ شہر سے باہر نکلتے تھے۔
دھوپ چڑھتی، انتظار کرتے اور واپس لوٹ آتے۔
پھر ایک دن وہ لمحہ آیا جس کا مدینہ کو انتظار تھا۔
محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔
لوگ خوشی سے بے قرار ہوگئے۔
اور اس تاریخی سفر میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفا بھی نظر آتی ہے، رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی، اور اہلِ مدینہ کی عقیدت بھی۔
یہ جگہیں ہمیں صرف ماضی نہیں سناتیں…
یہ ہمیں محبت کا مطلب سمجھاتی ہیں۔

آج مسجدِ قبا میں بیٹھ کر ایک بات بہت شدت سے محسوس ہو رہی ہے:
ہم تاریخ پڑھتے ہیں، مگر کبھی تاریخ ہمیں پڑھنے لگتی ہے۔
ہم مسجد دیکھنے آتے ہیں، مگر مسجد ہمیں اپنا دل دکھا دیتی ہے۔
ہم دو رکعت پڑھنے آتے ہیں، مگر دو رکعت ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
قبا سے واپس جاتے ہوئے میرے دل میں بس ایک دعا ہے:
یا اللہ!
جس مسجد کو تو نے تقویٰ سے نسبت دی، ہمارے دلوں کو بھی تقویٰ عطا فرما۔
ہمیں ظاہری پاکیزگی کے ساتھ باطنی پاکیزگی بھی عطا فرما۔
ہماری نیتوں کو درست فرما۔
ہمارے دلوں سے حسد، کینہ اور بغض نکال دے۔
ہمارے ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑ دے۔
ہمیں ایک دوسرے کے لیے رحمت بنا دے۔
اور اے اللہ!
جس طرح تو نے مجھے آج قبا میں بیٹھنے کی سعادت دی ہے، مجھے بار بار اپنے محبوب ﷺ کے شہر مدینہ منورہ کی حاضری نصیب فرما۔
اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ۔

آمین یا رب العالمین۔

Address

16 Village Way East
Harrow
HA27LU

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Wahab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Abdul Wahab:

Shortcuts

Share