Abdul Wahab

Abdul Wahab Official Page of Mufti Abdul Wahab
Islamic Scholar | Exploring Islamic history through travels & bayans | Motivational Speaker | Philanthropist
(1)

Mufti Abdul Wahab is a leading global Islamic scholar and a motivational speaker.

نماز عید کا خوبصورت لمحہ  اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو خوشیوں، سکون اور برکتوں سے بھر دے۔ عید محبت، اتحاد اور اپنائیت بانٹ...
29/05/2026

نماز عید کا خوبصورت لمحہ
اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو خوشیوں، سکون اور برکتوں سے بھر دے۔ عید محبت، اتحاد اور اپنائیت بانٹنے کا خوبصورت پیغام ہے۔ 🌙

Eid is a beautiful reminder to spread love, unity, and kindness. 🌙

جزاکم اللہ خیراً ❤️الوہاب فاؤنڈیشن پر اعتماد کرنے اور اپنی قربانی عطیہ کرنے کا شکریہ۔اللہ تعالیٰ آپ کی قربانی قبول فرمائ...
29/05/2026

جزاکم اللہ خیراً ❤️

الوہاب فاؤنڈیشن پر اعتماد کرنے اور اپنی قربانی عطیہ کرنے کا شکریہ۔
اللہ تعالیٰ آپ کی قربانی قبول فرمائے اور آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے 🤲🌙

Thank you for your Qurbani donation to Al Wahab Foundation 🐄✨
Your trust and support mean a lot to us. May Allah accept your sacrifice and bless you and your family abundantly this Eid.

***iAbdulWahab

28/05/2026

مفتی عبدالوہاب صاحب کے ساتھ نماز عید کے خوبصورت مناظر
عید قربانی، محبت، ایثار اور اتحاد کا خوبصورت پیغام ہے۔

Eid Mubarak✨
Eid is a beautiful message of sacrifice, unity, and compassion.

الحمدللہ نمازِ عید کی امامت کروانے کی سعادت حاصل ہوئی۔عید صرف خوشیوں کا نام نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے، محبتیں بانٹنے اور ...
28/05/2026

الحمدللہ نمازِ عید کی امامت کروانے کی سعادت حاصل ہوئی۔
عید صرف خوشیوں کا نام نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے، محبتیں بانٹنے اور امت کو ایک کرنے کا پیغام بھی ہے۔

Eid is not just a celebration, it is a beautiful reminder of unity, brotherhood, and bringing communities together.

***iAbdulWahab

عید کے موقع پر ضرورت مند لوگوں کو ضرور یاد رکھیں اپنی قربانی کا گوشت اُن تک پہنچائیں اور اُن کی خوشیوں کا سبب بنیں اصل خ...
28/05/2026

عید کے موقع پر ضرورت مند لوگوں کو ضرور یاد رکھیں
اپنی قربانی کا گوشت اُن تک پہنچائیں اور اُن کی خوشیوں کا سبب بنیں

اصل خوشی وہی ہے جو دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لے آئے

On this joyful occasion of Eid, remember those in need around you

28/05/2026

مشہور شخصیات کو حج کے تقدس کا احساس کرنا ہوگا

حج اسلام کی عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے۔ یہ صرف چند اعمال کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ مکمل عاجزی، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے نفس کو جھکا دینے کا عملی مظاہرہ ہے۔ حج کا ہر رکن اپنے اندر ایک روح، حکمت اور پیغام رکھتا ہے۔ انہی ارکان میں سے ایک اہم رکن “رمیِ جمرات” بھی ہے، جسے سنتِ ابراہیمی کی یادگار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔

رمیِ جمرات دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اُس تاریخی واقعے کی یاد ہے جب شیطان نے اللہ کے حکم سے روکنے کی کوشش کی تو آپؑ نے کنکریاں مار کر اسے رد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس عبادت کا مقصد شیطان، نفس اور گناہوں سے نفرت کا اظہار ہے، نہ کہ غصے، شور یا نمائشی انداز کا مظاہرہ۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل بعض لوگ اس مقدس عبادت کو سنجیدگی کے بجائے ایک جذباتی یا تفریحی عمل بنا دیتے ہیں۔ کوئی جوتے مارتا ہے، کوئی چیختا چلاتا ہے، اور کوئی مختلف ایکشنز کے ذریعے اس عبادت کی اصل روح کو متاثر کرتا ہے۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت وقار، سکون اور سادگی کے ساتھ رمی ادا فرمائی۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمی چھوٹی کنکریوں کے ساتھ، اعتدال اور خشوع کے ساتھ کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے دین میں غلو اور غیرضروری شدت سے منع فرمایا۔ اس لیے فقہائے کرام نے بھی لکھا ہے کہ رمی کے دوران غیرسنجیدہ حرکات، شور شرابا یا ایسے انداز اختیار کرنا جو عبادت کے وقار کے خلاف ہوں، مکروہ اور خلافِ ادب ہیں۔ اگر کسی عمل میں عبادت کی تحقیر، تمسخر یا بے ادبی شامل ہو جائے تو وہ گناہ کے زمرے میں آ سکتا ہے، اگرچہ ہر غیرمناسب حرکت کو فوراً “گستاخی” قرار دینا بھی درست نہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں پاکستانی کرکٹ لیجنڈ Wasim Akram رمیِ جمرات کے دوران اپنے کرکٹ بولنگ ایکشن جیسا انداز اپناتے دکھائی دیے۔ وسیم اکرم ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت ہیں، اور سماجی شعور کے حوالے سے ان کی بہت سی خدمات قابلِ تعریف ہیں۔ وہ صفائی، ماحولیات اور سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات پر مثبت پیغام دیتے رہتے ہیں، جو یقیناً قابلِ تحسین ہے۔

تاہم حج جیسی مقدس عبادت میں اس قسم کا انداز اختیار کرنا مناسب نہیں کہا جا سکتا۔ ممکن ہے یہ عمل مذاق یا غیرسنجیدگی کے ارادے سے نہ کیا گیا ہو، لیکن چونکہ مشہور شخصیات کو لاکھوں لوگ دیکھتے اور فالو کرتے ہیں، اس لیے ان پر ذمہ داری بھی زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ عبادات کے دوران ایسا طرزِ عمل اپنائیں جو ادب، وقار اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عبادات کو سوشل میڈیا کلپ یا وائرل لمحہ بنانے کے بجائے ان کی روح کو سمجھیں۔ حج عاجزی سکھاتا ہے، نمائش نہیں۔ عبادت اخلاص مانگتی ہے، اداکاری نہیں۔ اور رمیِ جمرات شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے اپنے نفس، تکبر اور دکھاوے کو مارنے کا پیغام دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حج اور تمام عبادات کو سنت کے مطابق، ادب اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

27/05/2026

اختلافِ مطالع، قربانی اور فقہِ حنفی کا موقف

ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر مختلف ممالک میں چاند کے اختلاف کی وجہ سے عید کے دنوں میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات سعودی عرب، برطانیہ اور دیگر ممالک میں عید ایک دن پہلے ہوتی ہے جبکہ پاکستان، ہندوستان یا دوسرے علاقوں میں بعد میں۔ اس اختلاف کے نتیجے میں ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ اگر کسی شخص کی قربانی کسی دوسرے ملک میں ہو رہی ہو تو قربانی کے درست ہونے میں اعتبار کس چیز کا ہوگا؟ قربانی کروانے والے شخص کے ملک کا یا اُس جگہ کا جہاں جانور ذبح ہو رہا ہے؟

یہ مسئلہ دراصل نیا نہیں بلکہ فقہِ حنفی کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ فقہاءِ احناف نے واضح طور پر لکھا ہے کہ قربانی میں اصل اعتبار اُس مقام کا ہوتا ہے جہاں جانور موجود ہو اور جہاں ذبح کیا جا رہا ہو، نہ کہ اُس شخص کے مقام کا جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے۔

فقہِ حنفی کی معروف کتاب “الدر المختار” میں ہے:

“المعتبر مکان الأضحیۃ لا مکان من علیہ الأضحیۃ”

یعنی قربانی میں اعتبار اُس جگہ کا ہے جہاں قربانی ہو رہی ہے، نہ اُس شخص کی جگہ کا جس پر قربانی واجب ہے۔

اسی کی شرح میں “رد المحتار” میں یہ مثال ذکر کی گئی ہے کہ اگر قربانی کا جانور دیہات میں ہو اور قربانی کروانے والا شہر میں موجود ہو تو دیہات کے حکم کا اعتبار ہوگا۔ اس سے فقہاء نے یہ اصول بیان کیا کہ شرعی حکم قربانی کی جگہ کے تابع ہوتا ہے۔

اسی اصول کو سامنے رکھ کر اہلِ علم نے ہمیشہ یہ فتویٰ دیا کہ اگر کوئی شخص بیرونِ ملک رہتا ہو اور اُس کی قربانی پاکستان میں ہو رہی ہو تو پاکستان کے ایامِ قربانی اور اوقات کا اعتبار ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص پاکستان میں موجود ہو مگر اُس کی قربانی سعودی عرب یا کسی اور ملک میں کی جا رہی ہو تو وہاں کے وقت اور تاریخ کے مطابق قربانی درست ہوگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عمل آج سے نہیں بلکہ برسوں سے جاری ہے۔ ماضی میں اکثر ایسا ہوتا رہا کہ سعودی عرب اور برطانیہ وغیرہ میں عید پاکستان سے ایک دن پہلے ہو جاتی تھی۔ چنانچہ جب پاکستان میں قربانی کا تیسرا دن ہوتا تھا تو بیرونِ ملک مقیم افراد کی قربانیاں پاکستان میں کی جا رہی ہوتیں، حالانکہ اُن ممالک میں چوتھا دن شروع ہو چکا ہوتا تھا۔ اُس وقت یہی مسئلہ بیان کیا جاتا تھا کہ قربانی میں اعتبار مقامِ قربانی کا ہے۔ اگر اُس اصول کو درست تسلیم کیا جاتا رہا ہے تو پھر آج اسی مسئلہ میں تشویش پیدا کرنا محلِ نظر ہے۔

اس مسئلہ کی ایک مضبوط دلیل خود سنتِ نبوی ﷺ سے بھی ملتی ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سو اونٹ قربان کیے۔ ان میں سے تریسٹھ اونٹ آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے نحر فرمائے جبکہ باقی اونٹ حضرت علیؓ کے سپرد فرمائے اور انہوں نے باقی قربانی مکمل کی۔ صحیح مسلم میں یہ الفاظ منقول ہیں:

“ثم أعطى عليًا فنحر ما غبر”

یعنی پھر باقی اونٹ حضرت علیؓ کو دیے تو انہوں نے باقی قربانی مکمل کی۔

اس واقعہ سے فقہاء نے یہ اصول اخذ کیا کہ قربانی میں وکالت جائز ہے۔ اگر قربانی کا ہر جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا ضروری ہوتا تو رسول اللہ ﷺ تمام اونٹ خود نحر فرماتے، لیکن آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنا وکیل بنایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی میں نیابت اور وکالت شرعاً معتبر ہے۔

جب وکالت معتبر ہوئی تو پھر شرعی اعتبار بھی اُس مقام اور اُس فعل کا ہوگا جہاں وکیل قربانی انجام دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاءِ احناف نے قربانی میں “مکانِ قربانی” کو اصل قرار دیا ہے۔

اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے “حجِ بدل” کی مثال بھی نہایت واضح ہے۔ اگر ایک شخص پاکستان میں موجود ہو اور اُس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص سعودی عرب میں حجِ بدل ادا کر رہا ہو تو وقوفِ عرفہ، رمی، قربانی اور دیگر تمام اعمال سعودی عرب کے وقت کے مطابق ادا ہوں گے، نہ کہ پاکستان کے وقت کے مطابق۔ حالانکہ اُس وقت پاکستان میں تاریخ اور دن مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود تمام فقہاء اس حج کو درست قرار دیتے ہیں کیونکہ عبادت کا اعتبار اُس مقام سے ہوتا ہے جہاں عمل ادا کیا جا رہا ہے۔

بالکل یہی اصول قربانی میں بھی جاری ہوتا ہے۔ جب کسی شخص نے دوسرے کو قربانی کے لیے وکیل بنایا تو ذبح کا عمل وکیل کی جگہ پر واقع ہوگا، لہٰذا شرعی اعتبار بھی اُسی مقام کا ہوگا جہاں جانور موجود ہے اور جہاں قربانی ہو رہی ہے۔

اس پورے مسئلے کا خلاصہ یہ ہے کہ فقہِ حنفی کے مطابق قربانی میں اصل اعتبار مقامِ قربانی کا ہے۔ جس جگہ جانور ہو اور جہاں ذبح کیا جا رہا ہو، اُسی مقام کے ایامِ نحر اور اوقات معتبر ہوں گے۔ اس لیے مختلف ممالک میں عید کے اختلاف کی بنیاد پر ایسی قربانیوں کو ناجائز یا باطل قرار دینا فقہِ حنفی کے معروف اور متداول اصول کے مطابق نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب۔مفتی عبدالوھاب لندن

آپ سب کو میری اور میرے خاندان کی جانب سے عید الاضحیٰ مبارک۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک دن کے صدقے آپ کو صحت، سکون، کامیابی اور...
27/05/2026

آپ سب کو میری اور میرے خاندان کی جانب سے عید الاضحیٰ مبارک۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک دن کے صدقے آپ کو صحت، سکون، کامیابی اور اپنی خاص رحمتوں سے نوازے۔ آمین

Eid Mubarak from me and my family to you and your family. May this Eid bring peace, joy, and endless blessings to you. ✨

27/05/2026
27/05/2026

عید الاضحیٰ کا اصل پیغام اللہ کے لیے قربانی دینا ہے
صرف جانور کی نہیں، بلکہ اپنی خواہشات، انا اور نفس کی قربانی بھی اصل روح ہے

The true message of Eid al-Adha is sacrifice for the sake of Allah

عید مبارک الحمدللہ، عید کی نماز کی امامت کا موقع ملا اور بہت خوبصورت لوگوں سے ملاقات ہوئی ایسے خاص مواقع ہمیں محبت، اتحا...
27/05/2026

عید مبارک
الحمدللہ، عید کی نماز کی امامت کا موقع ملا اور بہت خوبصورت لوگوں سے ملاقات ہوئی
ایسے خاص مواقع ہمیں محبت، اتحاد اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی قدر کرنا سکھاتے ہیں
اس خوشی کے دن اپنے خاندان، دوستوں اور خاص طور پر ضرورت مند لوگوں کو ضرور یاد رکھیں

Eid Mubarak 🌙
Alhamdulillah, I had the honour of leading the Eid prayer and meeting so many wonderful people 🤍
Remember your family, friends, and especially those in need on this blessed day 🤲

Address

16 Village Way East
Harrow
HA27LU

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Wahab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Abdul Wahab:

Share