Abdul Wahab

Abdul Wahab Official Page of Mufti Abdul Wahab
Islamic Scholar | Exploring Islamic history through travels & bayans | Motivational Speaker | Philanthropist
(1)

Mufti Abdul Wahab is a leading global Islamic scholar and a motivational speaker.

18/06/2026
18/06/2026

تنجیر کی یہ گلی واقعی دل کو بھا جانے والی ہے! رنگین دیواریں، خوبصورت راستے، اور ہر قدم پر چھوٹی چھوٹی خوشیاں

This street in Tangier is pure magic! Colorful walls, charming alleys, and little surprises at every step.

***iAbdulWahab

محرم الحرام ہمیں ایثار، ہمدردی اور خدمتِ انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔ آج رات ہماری لائیو اپیل ملاحظہ فرمائیں اور ضرورت مند ...
18/06/2026

محرم الحرام ہمیں ایثار، ہمدردی اور خدمتِ انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔ آج رات ہماری لائیو اپیل ملاحظہ فرمائیں اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے امید کا سہارا بننے میں اپنا حصہ شامل کریں۔

Muharram is a reminder of sacrifice, compassion, and serving humanity. Watch our live appeal tonight and play your part in bringing hope and support to families in need.

18/06/2026

فلسفہ شہادت امام حسینؓ کیا ہے؟
مفتی عبد الوہاب صاحب کی خصوصی ویڈیو دیکھیں اور جانیں کہ یہ قربانی ہمیں آج کے دور میں کیا سبق دیتی ہے۔

What is the philosophy of Imam Hussain’s (RA) martyrdom?
Watch the special video by M***i Abdul Wahab to understand the lessons of this sacrifice for today.

***iAbdulWahab

رحمت، ہمدردی اور ضرورت مندوں کی مدد کا جذبہ ہی خدمتِ انسانیت کی اصل روح ہے۔ کل ہماری لائیو اپیل ملاحظہ فرمائیں اور اس نی...
17/06/2026

رحمت، ہمدردی اور ضرورت مندوں کی مدد کا جذبہ ہی خدمتِ انسانیت کی اصل روح ہے۔ کل ہماری لائیو اپیل ملاحظہ فرمائیں اور اس نیک مقصد میں اپنا حصہ شامل کریں۔

Compassion, kindness, and supporting those in need are at the heart of serving humanity. Watch our live appeal tomorrow and be part of this noble cause.

17/06/2026

مفتی عبد الوہاب صاحب کے ساتھ مراکش کی خوبصورتی کا تجربہ کریں۔ زندگی سے بھرپور گلیاں اور شاندار مناظر

Explore the beauty of Morocco with M***i Abdul Wahab!

***iAbdulWahab

17/06/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

یہ خبر انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ موصول ہوئی کہ ختمِ نبوت اکیڈمی لندن کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ، حضرت مولانا عبدالرحمن باوا صاحب رحمہ اللہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے ہیں۔

وہ ہمارے عزیز دوست اور معروف شخصیت مولانا سہیل باوا کے والد محترم تھے۔

مولانا مرحوم نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، دینی تعلیمات کے فروغ اور امت کی رہنمائی کے لیے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقف کر رکھا تھا۔ ان کی علمی، دینی اور دعوتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ان کے وصال سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دینِ اسلام اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی خدمت کے لیے قبول فرمایا، اور ان کی یہ خدمات ان شاء اللہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ ثابت ہوں گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور مولانا سہیل باوا صاحب سمیت تمام اہلِ خانہ، متعلقین اور شاگردوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

الحمدللہ، آج رینرز لین میں طارق حلال میٹ کی نئی برانچ کے افتتاح کے لئے مجھے مدعو کیا گیا طارق حلال عرصۂ دراز سے برطانیہ ...
17/06/2026

الحمدللہ، آج رینرز لین میں طارق حلال میٹ کی نئی برانچ کے افتتاح کے لئے مجھے مدعو کیا گیا
طارق حلال عرصۂ دراز سے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی حلال اور معیاری غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھرپور محنت کر رہا ہے۔

اس کامیابی کے پیچھے انتھک محنت، خلوص اور ایک خوش اخلاق ٹیم کی کاوشیں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے کاروبار میں برکت عطا فرمائے اور انہیں مزید کامیابیوں سے نوازے

Alhamdulillah, I had the honour of attending the opening of Tariq Halal Meat’s new branch in Rayners Lane
For many years, Tariq Halal has been serving the British Muslim community by providing quality halal food with dedication and care.

This achievement reflects their hard work, commitment, and the efforts of a friendly and dedicated team. May Allah bless their business and grant them continued success 🤲

17/06/2026

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مفتی عبد الوہاب صاحب کی خصوصی ویڈیو دیکھیں اور اس واقعہ کے بارے میں جانیں

What is the historical background of Hazrat Umar (RA)’s martyrdom?
Watch the special video by M***i Abdul Wahab to learn the lessons this event holds for the Ummah.

***iAbdulWahab

16/06/2026

اسمِ اعظم: حقیقت کیا ہے؟
ایک قرآنی و نبوی نقطۂ نظر

دینی مجالس، سوشل میڈیا اور مختلف مذہبی حلقوں میں آج کل “اسمِ اعظم” کا موضوع بہت زیادہ زیرِ بحث رہتا ہے۔ بعض لوگ اس کی تلاش میں مختلف وظائف، چلے، نقش اور مخصوص اذکار اختیار کرتے ہیں، جبکہ بعض حضرات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس اسمِ اعظم کا خاص علم یا راز موجود ہے۔ عوام الناس بھی اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر اسمِ اعظم کیا ہے؟ کیا یہ کوئی ایک مخصوص نام ہے؟ اور کیا اس کے ذریعے ہر دعا لازماً قبول ہو جاتی ہے؟

قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں اعتدال اور احتیاط کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ شریعت نے اس بارے میں کوئی ایسی قطعی تعیین نہیں کی جسے ہر مسلمان کے لیے لازم مانا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا:
وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا
“اور اللہ ہی کے لیے بہترین نام ہیں، لہٰذا تم اسے انہی ناموں کے ساتھ پکارو۔”
(سورۃ الأعراف: 180)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ
“اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے تمام اچھے نام ہیں۔”
(سورۃ طٰہٰ: 8)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسمائے حسنیٰ عظمت اور برکت والے ہیں اور بندے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں انہی مبارک ناموں کا وسیلہ اختیار کرے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی کسی ایک نام کو صراحت کے ساتھ “اسمِ اعظم” قرار نہیں دیا گیا۔

البتہ احادیثِ نبویہ میں اسمِ اعظم کا ذکر موجود ہے۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:
اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد

تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“لقد سأل الله باسمه الأعظم الذي إذا سئل به أعطى وإذا دعي به أجاب”

“اس شخص نے اللہ تعالیٰ سے اس کے اسمِ اعظم کے ذریعے سوال کیا ہے، جس کے ذریعے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول فرماتا ہے۔”
(سنن ابی داود: 1493، جامع ترمذی: 3475، سنن ابن ماجہ: 3857)

اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دعا کی:
اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت المنان، بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“لقد دعا الله باسمه الأعظم”
“اس نے اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا ہے۔”
(سنن ابی داود: 1495، جامع ترمذی: 3544، سنن ابن ماجہ: 3858)

ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اسم الله الأعظم في هاتين الآيتين”
“اللہ کا اسمِ اعظم ان دو آیتوں میں ہے۔”
وَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ
(البقرۃ: 163)

اور

اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(آل عمران: 2)
(سنن ابن ماجہ: 3856)

ان احادیث کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسمِ اعظم کا تعلق اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی کبریائی اور اس کی کامل صفات کے اعتراف سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض کے نزدیک “اللّٰه” اسمِ اعظم ہے، بعض کے نزدیک “الحي القيوم”، بعض کے نزدیک “ذو الجلال والإكرام”، جبکہ بعض علماء نے کہا ہے کہ ان تمام الفاظ کا مجموعہ اسمِ اعظم کے مفہوم کے قریب تر ہے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے کہیں یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے اسمِ اعظم کو کسی خفیہ راز، مخصوص نقش، عددی عملیات یا پراسرار وظیفوں کی صورت میں پیش کیا ہو۔ اگر اسمِ اعظم ایسا کوئی پوشیدہ راز ہوتا جو صرف چند مخصوص افراد کو معلوم ہوتا، تو نبی اکرم ﷺ اسے امت سے مخفی نہ رکھتے، کیونکہ آپ ﷺ نے دین کی ہر ضروری بات پوری امانت کے ساتھ امت تک پہنچا دی۔

بدقسمتی سے آج بعض لوگ اسمِ اعظم کے نام پر عوام کو ایسے وظائف بتاتے ہیں جن کی کوئی معتبر شرعی اصل نہیں ہوتی۔ کبھی مخصوص اعداد کو لازم قرار دیا جاتا ہے، کبھی مخصوص دنوں اور اوقات کے ایسے فضائل بیان کیے جاتے ہیں جن کی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہوتی۔ حالانکہ شریعت نے قبولیتِ دعا کا اصل معیار اخلاص، تقویٰ، یقین اور اطاعتِ الٰہی کو قرار دیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو سفر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے، لیکن اس کا کھانا، پینا اور لباس حرام ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“فأنّى يستجاب لذلك”
“پھر اس کی دعا کیسے قبول کی جائے؟”
(صحیح مسلم: 1015)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دعا کی قبولیت محض الفاظ یا وظائف پر موقوف نہیں بلکہ بندے کے کردار، عقیدے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے تعلق پر بھی منحصر ہے۔

لہٰذا ایک مسلمان کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ اسمِ اعظم کے نام پر غیر ثابت دعووں اور پراسرار عملیات کے پیچھے دوڑنے کے بجائے قرآن و سنت سے ثابت دعاؤں کا اہتمام کرے، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعے عاجزی اور اخلاص کے ساتھ دعا مانگے، اور اس یقین کے ساتھ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے کہ وہ ہر پکار سننے والا اور ہر دعا قبول کرنے پر قادر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت کا پیغام کسی پوشیدہ لفظ کی تلاش نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی توحید اور اس کے سامنے کامل عاجزی اختیار کرنا ہے۔ جب بندے کا دل اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہر مبارک نام کے ساتھ کی جانے والی دعا خیر، برکت اور قبولیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

مفتی عبدالوھاب لندن

Address

16 Village Way East
Harrow
HA27LU

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Wahab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Abdul Wahab:

Share