16/04/2025
بین الاقوامی فوڈ چینز پر حملے کر کے اُن کے آپریشن بند کروائے گئے، اور پھر یہی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ پاکستان میں روزگار نہیں، کاروبار نہیں، ترقی نہیں ہو رہی۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک ایسی قوم بنتے جا رہے ہیں جو نہ خود کچھ بناتی ہے، نہ دوسروں کو کچھ کرنے دیتی ہے۔
خود فلسطین میں KFC کھلا ہے، لیکن یہاں جذبۂ ایمانی کے نام پر اپنے ہی ملک کی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ نہ اپنے ہاتھ میں کچھ ہے، نہ سر پر سایہ، لیکن دوسروں کے گھروں پر تبصرے کرنے سے فرصت نہیں۔ ہر مسلمان کا ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں لیکن اپنا حال دگرگوں ہے۔ سعودی عرب تک نے ایسے شدت پسند رویے رکھنے والوں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔
جس پاکستانی مزدور کو قتل کیا گیا، کیا وہ مسلمان نہیں تھا؟ کیا اس کا خون سفید تھا؟ اس کے بچوں کا کیا؟ اس کے والدین کا کیا؟ جنہوں نے اپنے بیٹے کو روزی کے لیے بھیجا تھا۔
ہم وہ قوم بنتے جا رہے ہیں جسے دنیا سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ ہر فرد خود کو عقلِ کُل سمجھتا ہے، اور وہ بھی ایسی عقل جو دوسروں کو صرف بربادی کا راستہ دکھاتی ہے۔
ہماری کرنسی دن بدن گرتی جا رہی ہے، بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان کا رخ چھوڑ رہی ہیں، نہ ہم نے اپنا کوئی برانڈ بنایا، نہ کوئی انڈسٹری کھڑی کی، لیکن جو بچا ہے اسے بھی ملیا میٹ کر رہے ہیں۔
ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اسرائیل، فلسطین، امریکہ، کشمیر، ایران، سعودی عرب—سب پر تبصرہ کرتے ہیں، لیکن اپنے گلی، محلے، شہر، اور ملک کو بہتر بنانے کے لیے ایک قدم نہیں اٹھاتے۔ ہم ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں، سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں، اور دنیا میں تماشا بن چکے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ جذباتی نعروں سے نکل کر عقل، علم، اور عمل کا راستہ اپنایا جائے—ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
⸻