ZESG MEDIA

ZESG MEDIA انسانیت اور کے لیے۔ لنک: fb.com/stars

🚨 صحافت پر لاٹھی؟ ساکیت تھانے میں دو خاتون صحافیوں سے مبینہ تشدد کے سنگین الزامات، مذہبی شناخت کے بعد مارپیٹ بڑھنے کا دع...
03/09/2026

🚨 صحافت پر لاٹھی؟ ساکیت تھانے میں دو خاتون صحافیوں سے مبینہ تشدد کے سنگین الزامات، مذہبی شناخت کے بعد مارپیٹ بڑھنے کا دعویٰ

نئی دہلی | 3 ستمبر 2026

دہلی کے ساکیت علاقے سے آج ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ 4PM نیوز نیٹ ورک سے وابستہ خاتون صحافی شاہین خان اور ان کی ساتھی نفیسا خان نے الزام لگایا ہے کہ انہیں رپورٹنگ کے دوران پولیس نے حراست میں لیا اور بعد ازاں ساکیت پولیس اسٹیشن میں مبینہ طور پر مارپیٹ کی گئی۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں صحافی جنوبی دہلی کے ساکیت میں میکس ہسپتال کے ایک پروگرام کی کوریج کر رہی تھیں، جہاں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا موجود تھیں۔ صحافی شاہین خان کا الزام ہے کہ وہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں پکڑا اور تھانے لے گئی۔

مذہبی شناخت کے حوالے سے الزام مزید سنگین

شاہین خان نے ویڈیو بیان میں الزام لگایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو جب ان کے نام سے ان کی مسلم شناخت کا علم ہوا تو مبینہ تشدد مزید بڑھ گیا۔

دوسری صحافی نفیسا خان کے جسم پر مبینہ چوٹوں اور نشانات کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ متعدد میڈیا رپورٹس نے ان ویڈیوز کا حوالہ دیا ہے، تاہم ان چوٹوں کے اصل سبب، ذمہ دار اہلکاروں اور واقعے کی مکمل ترتیب کی آزادانہ سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔

یہ الزام اگر تحقیقات میں درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ محض ایک صحافی کو حراست میں لینے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قانون کے یکساں نفاذ، صحافتی آزادی اور مذہبی بنیاد پر مبینہ امتیاز کے حوالے سے انتہائی سنگین سوالات پیدا کرے گا۔

دہلی پولیس کا کیا کہنا ہے؟

دوسری طرف دہلی پولیس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں خواتین کو وزیراعلیٰ سے سوال کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مبینہ طور پر وی آئی پی روٹ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے معاملے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

یعنی اس وقت معاملے کے دو متضاد پہلو سامنے ہیں: صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں رپورٹنگ اور سوال کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پولیس کا مؤقف ہے کہ کارروائی وی آئی پی روٹ میں مبینہ رکاوٹ کے باعث ہوئی۔ پولیس کی جانب سے مبینہ مارپیٹ کے الزامات پر مکمل تفصیلی جواب سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

سوال یہ ہے: اگر صحافی نے ضابطہ توڑا بھی تھا تو کیا تشدد جائز ہو جاتا ہے؟

اگر کسی صحافی نے واقعی کسی مقررہ حفاظتی حدود یا وی آئی پی روٹ کی خلاف ورزی کی تھی تو قانون کے مطابق پولیس کے پاس اسے روکنے، شناختی کارڈ دیکھنے، وہاں سے ہٹانے یا ضرورت پڑنے پر قانونی کارروائی کرنے کے اختیارات موجود ہیں۔

لیکن کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کو پولیس حراست میں تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

خاص طور پر اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کے ساتھ اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر اضافی یا زیادہ سخت تشدد کیا گیا، تو یہ الزام انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر جائے گا اور اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ناگزیر ہوں گی۔

صحافتی تنظیمیں بھی میدان میں

پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

صحافتی تنظیموں نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دستیاب ویڈیو شواہد محفوظ رکھنے اور پولیس کمشنر سے منصفانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہماری واضح اپیل

ہم کسی غیر مصدقہ دعوے کو حتمی حقیقت قرار نہیں دے رہے۔ ZESG MEDIA کو اس وقت یہ اطلاعات مختلف میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے موصول ہوئی ہیں، جن کی مکمل آزادانہ تصدیق ہمارے پاس ابھی نہیں ہے۔

اسی لیے یہ رپورٹ موجودہ دستیاب اطلاعات، صحافیوں کے الزامات، سامنے آنے والی ویڈیوز، صحافتی تنظیموں کے ردعمل اور دہلی پولیس کے ابتدائی مؤقف کی بنیاد پر شائع کی جا رہی ہے۔

لیکن اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے واقعی خاتون صحافیوں کو تھانے کے اندر لاٹھی، ڈنڈے یا کسی اور طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا، یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر مبینہ طور پر زیادہ تشدد کیا، تو ایسے اہلکاروں کے خلاف فوری، شفاف اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

ہم مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے بھی واضح طور پر اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائیں، ساکیت تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرائیں اور اگر کوئی پولیس اہلکار قصوروار پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف بلا تاخیر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

قانون کی وردی پہننے والا شخص قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا، اور صحافت کرنے والا شہری بھی قانون سے باہر نہیں—لیکن دونوں کے لیے قانون ایک ہی ہونا چاہیے۔

یہ معاملہ اب صرف دو صحافیوں کا نہیں؛ یہ سوال ہے کہ پولیس حراست میں شہری کے وقار، صحافتی آزادی اور قانون کی بالادستی کی حفاظت کون کرے گا؟

نوٹ: مکمل سرکاری تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد سامنے آنے کے بعد ZESG MEDIA اس معاملے پر مزید تصدیقی رپورٹ اور دستیاب شواہد کے ساتھ اگلی تحریر شائع کرے گا۔

واصلی امیٹھوی
ZESG MEDIA

02/09/2026
خاموشی کی قیمت: سوال اب صرف حالات کا نہیں، ہماری ذمہ داری کا ہےملک میں ہونے والے ہر واقعے کو الگ الگ دیکھیں گے تو شاید س...
02/09/2026

خاموشی کی قیمت: سوال اب صرف حالات کا نہیں، ہماری ذمہ داری کا ہے

ملک میں ہونے والے ہر واقعے کو الگ الگ دیکھیں گے تو شاید سب کچھ معمولی لگے؛
لیکن مختلف ریاستوں کے مستند اعداد و شواہد کو ایک ساتھ رکھیں تو تصویر تشویش ناک ضرور دکھائی دیتی ہے۔
اتر پردیش:
مارچ 2017 سے 2026 تک سرکاری اعداد کے مطابق پولیس نے 17,043 انکاؤنٹر آپریشنز کیے؛ 289 افراد ہلاک، 11,834 زخمی اور 34,253 گرفتار ہوئے۔ سب سے زیادہ کارروائیاں میرٹھ زون میں ہوئیں۔ �
India Today +1
آسام:
ریاستی حکومت کے اعداد کے مطابق 2016 سے 2024 تک سرکاری زمین سے 10,620 خاندان بے دخل کیے گئے۔ 2025 میں گولگھاٹ کے Rengma Reserve Forest میں تقریباً 1,500 خاندانوں کو نوٹس دیے گئے اور 3,600 ایکڑ سے زائد زمین خالی کرانے کی کارروائی شروع ہوئی۔ �
The Indian Express +1
گجرات:
احمدآباد کے Chandola Lake علاقے میں مئی 2025 تک 12,500 رہائشی، تجارتی اور مذہبی ڈھانچے منہدم کیے گئے۔ �
The Indian Express +1
مغربی بنگال:
SIR کے دوران adjudication کے بعد 27,16,393 ووٹروں کے نام حذف ہوئے؛ ان میں 14,28,771 افراد پہلے مرحلے میں ووٹ نہیں دے سکے۔ �
The Indian Express
یہ اعداد کسی ایک جماعت یا ایک ریاست کا سیاسی منشور نہیں۔
یہ ریاستی ریکارڈ، عدالتی کارروائیوں اور دستاویزی رپورٹس سے سامنے آنے والے سوالات ہیں۔
اور ایک بنیادی اصول بھی یاد رکھنا چاہیے:
سپریم کورٹ نے 2024 میں واضح کیا کہ کسی شخص کے ملزم ہونے کو بنیاد بنا کر اس کے گھر کو سزا کے طور پر منہدم نہیں کیا جا سکتا، اور انہدام سے پہلے قانونی نوٹس اور مقررہ طریقۂ کار ضروری ہے۔ �
Sci API +1
اب ایک نئی کوشش سامنے آئی ہے
1 ستمبر 2026 کو دہلی میں 51 رکنی National Monitoring Committee کے قیام کا اعلان ہوا ہے۔
اس کا مقصد مسلمانوں سے متعلق آئینی، قانونی، شہری اور سیاسی مسائل کی نگرانی اور ضرورت پڑنے پر آئینی، قانونی اور جمہوری طریقوں سے مداخلت کرنا بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ 10 رکنی سیکریٹریٹ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ �
The Indian Awaaz +1
کمیٹی میں سلمان خورشید، محمد ادیب، سید سعادت اللہ حسینی، جسٹس اقبال انصاری، واجہت حبیب اللہ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سجاد نعمانی، ندیم خان اور دیگر شخصیات شامل ہیں۔ �
Radiance News
تمام اراکین کو اس ذمہ داری پر مبارکباد۔
لیکن مبارکباد کے ساتھ ایک تلخ سوال بھی ضروری ہے:
کیا یہ کمیٹی صرف ایک اور نام بن کر رہ جائے گی؟
ہمارے ملک میں کمیٹیوں اور انجمنوں کی کمی نہیں۔
مسئلہ کمیٹیوں کی تعداد نہیں،
مسئلہ ان کی کارکردگی ہے۔
قوم کو اب صرف پریس کانفرنس، بینر، تصویر اور مبارکباد نہیں چاہیے۔
عوام جاننا چاہتے ہیں:
دفتر کہاں ہے؟
ماہانہ اجلاس کب ہوتا ہے؟
متاثرین کی فہرست کہاں ہے؟
قانونی کارروائی کتنے معاملات میں ہوئی؟
گزشتہ 30 دن میں کیا کام کیا گیا؟
جو تنظیم قوم کے نام پر قائم ہے، اسے اپنے کام کا حساب بھی قوم کے سامنے رکھنا چاہیے۔
قوم کو مزید کمیٹیاں نہیں،
مسلسل نگرانی، دستاویز، قانونی جدوجہد اور زمین پر نتیجہ چاہیے۔
یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں۔
اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لینے کا۔
یہ وقت آئین، قانون، دستاویز اور ذمہ داری کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔
#واصلی امیٹھوی بھارتی

02/09/2026
🇮🇳 نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کا سرکاری خرچ26 مئی 2014 تا 2 ستمبر 2026🔴 کل دستیاب سرکاری خرچ₹902.69 کروڑنو سو دو کروڑ...
02/09/2026

🇮🇳 نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کا سرکاری خرچ

26 مئی 2014 تا 2 ستمبر 2026

🔴 کل دستیاب سرکاری خرچ

₹902.69 کروڑ

نو سو دو کروڑ انہتر لاکھ روپے

یہ 2 ستمبر 2026 تک دستیاب اور قابلِ حساب سرکاری اعداد کا مجموعہ ہے۔

یہ رقم وزیر اعظم کے ذاتی خرچ کی رقم نہیں، بلکہ سرکاری غیر ملکی دوروں سے متعلق دستیاب حکومتی اخراجات کا مجموعہ ہے۔ ذاتی لباس، ذاتی خریداری اور ذاتی استعمال کے اخراجات کو اس رقم میں شامل نہیں کیا گیا۔

---

2014 — ₹28.67 کروڑ

15–16 جون: بھوٹان
13–17 جولائی: برازیل
3–5 اگست: نیپال
30 اگست–3 ستمبر: جاپان
25 ستمبر–1 اکتوبر: امریکہ
11–20 نومبر: میانمار، آسٹریلیا، فجی
25–27 نومبر: نیپال

کل: ₹28.67 کروڑ

---

2015 — ₹91.53 کروڑ

سیشلز، ماریشس، سری لنکا، سنگاپور، فرانس، جرمنی، کینیڈا، چین، منگولیا، جنوبی کوریا، بنگلہ دیش، ازبکستان، قازقستان، روس، ترکمانستان، کرغزستان، تاجکستان، متحدہ عرب امارات، آئرلینڈ، امریکہ، برطانیہ، ترکی، ملائیشیا اور افغانستان۔

کل: ₹91.53 کروڑ

---

2016 — ₹33.22 کروڑ

بیلجیم، امریکہ، سعودی عرب، ایران، افغانستان، قطر، سوئٹزرلینڈ، میکسیکو، ازبکستان، موزمبیق، جنوبی افریقہ، تنزانیہ، کینیا، ویتنام، چین، لاؤس اور جاپان۔

کل: ₹33.22 کروڑ

---

2017 — ₹68.52 کروڑ

سری لنکا، جرمنی، اسپین، روس، فرانس، قازقستان، پرتگال، امریکہ، نیدرلینڈز، اسرائیل، چین، میانمار اور فلپائن۔

کل: ₹68.52 کروڑ

---

2018 — ₹51.46 کروڑ

سوئٹزرلینڈ، فلسطین، متحدہ عرب امارات، عمان، سویڈن، برطانیہ، جرمنی، چین، نیپال، روس، انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور، روانڈا، یوگنڈا، جنوبی افریقہ، جاپان، مالدیپ اور ارجنٹینا۔

کل: ₹51.46 کروڑ

---

2019 — ₹71.77 کروڑ

جنوبی کوریا، مالدیپ، سری لنکا، کرغزستان، جاپان، بھوٹان، فرانس، بحرین، متحدہ عرب امارات، روس، امریکہ، سعودی عرب، تھائی لینڈ اور برازیل۔

کل: ₹71.77 کروڑ

---

2020 — ₹0

سرکاری ریکارڈ میں اس سال کوئی غیر ملکی دورہ درج نہیں۔

کل: ₹0

---

2021 تا 2026

2021 — ₹36.12 کروڑ

بنگلہ دیش، امریکہ، اٹلی اور برطانیہ۔

2022 — ₹55.83 کروڑ

جرمنی، ڈنمارک، فرانس، نیپال، جاپان، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور انڈونیشیا۔

2023 — ₹93.63 کروڑ

جاپان، آسٹریلیا، پاپوا نیو گنی، امریکہ، مصر، فرانس، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ، یونان اور انڈونیشیا۔

2024 — ₹109.51 کروڑ

متحدہ عرب امارات، قطر، بھوٹان، اٹلی، روس، آسٹریا، پولینڈ، یوکرین، برونائی، سنگاپور، امریکہ، لاؤس، نائجیریا، برازیل، گیانا اور کویت۔

2025 — ₹187.83 کروڑ

فرانس، امریکہ، ماریشس، تھائی لینڈ، سری لنکا، سعودی عرب، قبرص، کینیڈا، کروشیا، گھانا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، ارجنٹینا، برازیل، نامیبیا، برطانیہ، مالدیپ، چین، جاپان، بھوٹان، جنوبی افریقہ، اردن، عمان اور ایتھوپیا۔

2026، جنوری تا جولائی — ₹74.59 کروڑ

ملائیشیا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے، اٹلی، فرانس، سلوواک جمہوریہ، سیشلز، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ۔

---

2026 کے نمایاں اخراجات

ملائیشیا: ₹5.57 کروڑ
اسرائیل: ₹11.92 کروڑ
متحدہ عرب امارات: ₹1.97 کروڑ
نیدرلینڈز: ₹3.60 کروڑ
سویڈن: ₹6.32 کروڑ
ناروے: ₹17.46 کروڑ
اٹلی: ₹4.23 کروڑ
سلوواک جمہوریہ: ₹4.77 کروڑ
سیشلز: ₹8.22 کروڑ
انڈونیشیا: ₹3.87 کروڑ
آسٹریلیا: ₹1.18 کروڑ
نیوزی لینڈ: ₹5.43 کروڑ

---

29 اگست تا 1 ستمبر 2026

ازبکستان اور کرغزستان

وزیر اعظم کا یہ تازہ دورہ سرکاری ویب سائٹ پر درج ہے، لیکن 2 ستمبر 2026 تک اس دورے کا حتمی خرچ دستیاب سرکاری اخراجاتی جدول میں شامل نہیں۔ اس لیے اسے ₹902.69 کروڑ کے مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا۔

اسی طرح جن دوروں کے بل ابھی زیرِ تصفیہ یا غیر حتمی ہیں، انہیں حتمی خرچ سمجھ کر مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا۔

---

اہم وضاحت

₹902.69 کروڑ وزیر اعظم کا ذاتی خرچ نہیں ہے۔

یہ دستیاب سرکاری ریکارڈ میں درج غیر ملکی سرکاری دوروں کے اخراجات کا مجموعہ ہے، جس میں سرکاری وفود، متعلقہ سفری انتظامات، سکیورٹی، میڈیا اور دیگر سرکاری اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعظم کے ذاتی لباس، ذاتی خریداری اور ذاتی استعمال کے اخراجات کو اس مجموعے میں شامل کرنے کا کوئی مستند سرکاری ثبوت دستیاب نہیں ہے۔

---

تحقیق کا نوٹ

یہ رپورٹ وزارتِ خارجہ، پارلیمانی جوابات، لوک سبھا/راجیہ سبھا کے دستیاب ریکارڈ، وزیر اعظم کی سرکاری ویب سائٹ اور معتبر میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

یہ ایک آزادانہ تحقیقی compilation ہے۔ ZESG Media اور واصلی امیٹھوی بھارتی انٹرنیٹ، سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی ہر اطلاع کی آزادانہ طور پر تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتے۔ جہاں سرکاری اعداد زیرِ تصفیہ یا غیر حتمی ہیں، انہیں واضح طور پر الگ رکھا گیا ہے۔

اگر کسی صاحب کے پاس سرکاری دستاویز کی بنیاد پر کوئی درست تر عدد، تاریخ یا خرچ کی تفصیل موجود ہو تو براہِ کرم حوالہ کے ساتھ اصلاح یا اختلاف پیش کریں۔

اہم ذرائع

وزیر اعظم کی سرکاری ویب سائٹ، وزارتِ خارجہ کے پارلیمانی جوابات، ڈیجیٹل سنسد، لوک سبھا/راجیہ سبھا ریکارڈ، اور متعلقہ معتبر میڈیا رپورٹس۔

#واصلی امیٹھوی بھارتی

ہندوستان کی جیلوں میں مسلمان قیدیسرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تحقیقی رپورٹمدتِ جائزہ: 2014 تا 2 ستمبر 2026اہم ترین عد...
02/09/2026

ہندوستان کی جیلوں میں مسلمان قیدی
سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تحقیقی رپورٹ
مدتِ جائزہ: 2014 تا 2 ستمبر 2026
اہم ترین عدد:
2024 کے دستیاب مذہب وار ریکارڈ میں کم از کم 93,074 مسلمان قیدی
یہ تعداد 31 دسمبر 2024 کی ہے۔ اس کے بعد 2 ستمبر 2026 تک مسلمان قیدیوں کی کوئی نئی مکمل، قومی اور مذہب وار تعداد NCRB کے عوامی سالانہ ریکارڈ میں دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے 2025 یا 2026 کا عدد دینا درست نہیں ہوگا۔
2024 میں مسلمانوں کی جیلوں میں موجودگی
قیدی کی حیثیت
مسلمان
سزایافتہ
21,640
زیرِ سماعت
69,864
Detenues
1,109
Other Prisoners
461
دستیاب مجموعی مسلم تعداد
93,074
2024 میں ہندوستان کی جیلوں میں کل 5,11,542 قیدی تھے۔ ان میں 1,36,138 سزایافتہ اور 3,71,440 زیرِ سماعت تھے۔ مسلم سزایافتہ قیدی 21,640 یعنی 15.9% اور مسلم زیرِ سماعت قیدی 69,864 یعنی 18.81% تھے۔ �
Indian Express +1
اصل تشویش کہاں ہے؟
69,864 مسلمان زیرِ سماعت تھے، جبکہ 21,640 مسلمان سزایافتہ۔
یعنی دستیاب اعداد میں مسلم زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد مسلم سزایافتہ قیدیوں سے تقریباً 3.2 گنا زیادہ تھی۔
زیرِ سماعت قیدی وہ شخص ہے جس کے مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس لیے جیل میں موجودگی کو جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
2024 میں ہندوستان کے تمام زیرِ سماعت قیدیوں کا 72.6% جیل کی آبادی تھا۔ �
The Wire +1
سب سے زیادہ مسلم قیدی کہاں؟
سزایافتہ مسلمانوں میں:
اتر پردیش — 5,818
مدھیہ پردیش — 2,378
مغربی بنگال — 1,836
زیرِ سماعت مسلمانوں میں:
اتر پردیش — 16,471
مغربی بنگال — 8,423
بہار — 6,685
یہ 2024 کے NCRB اعداد کے مطابق سب سے نمایاں ریاستی تعدادیں ہیں۔ �
Indian Express
چند ریاستوں میں تناسب
2024 میں مسلم سزایافتہ قیدیوں کا تناسب جموں و کشمیر میں 59.41% تھا۔
مسلم زیرِ سماعت قیدیوں کا تناسب:
جموں و کشمیر — 68.65%
آسام — 50% سے زیادہ
مغربی بنگال — 41.5%
یہ ریاستی تناسب ہیں؛ انہیں قومی تعداد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ �
Indian Express
2014 کے بعد کیا بدلا؟
دستیاب NCRB اور وزارتِ داخلہ کے ریکارڈ سے ایک اہم رجحان سامنے آتا ہے: مسلمانوں کی مطلق تعداد کئی برسوں میں برقرار یا بڑھی، لیکن مجموعی جیل آبادی میں ان کا تناسب وقت کے ساتھ کم ہوا۔
2013 میں مسلمان زیرِ سماعت قیدی 57,936 تھے، جو کل زیرِ سماعت قیدیوں کا 20.8% تھے۔
2024 میں یہ تعداد 69,864 ہوئی، مگر مجموعی زیرِ سماعت آبادی بڑھنے کے باعث تناسب 18.81% رہ گیا۔
اسی طرح 2013 میں مسلم سزایافتہ قیدی 22,145 تھے؛ 2024 میں یہ تعداد 21,640 رہی اور تناسب 15.9% ہوگیا۔ �
Indian Express
ایک اہم سرکاری خلا: مہاراشٹر
یہاں تحقیق میں احتیاط ضروری ہے۔
مہاراشٹر کے 2024 کے 31,523 زیرِ سماعت قیدیوں کا مذہب وار breakup دستیاب نہیں ہے۔
2022، 2023 اور 2024 میں بھی مہاراشٹر کے زیرِ سماعت قیدیوں کی مذہب وار مکمل تفصیل قومی جدول میں موجود نہیں رہی۔
اس لیے 93,074 کو پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی حتمی اور مکمل تعداد کہنا درست نہیں۔
صحیح عبارت یہ ہے:
31 دسمبر 2024 کو NCRB کے دستیاب مذہب وار ریکارڈ میں کم از کم 93,074 مسلمان قیدی درج تھے؛ مہاراشٹر کے 31,523 زیرِ سماعت قیدیوں کا مذہب وار ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کے باعث اصل مجموعی تعداد اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔ �
Indian Express
2013 میں مہاراشٹر نے 6,182 مسلم زیرِ سماعت قیدی رپورٹ کیے تھے، جو اس وقت ملک میں نمایاں ترین تعدادوں میں شامل تھی۔ �
The Times of India
کیا 2 ستمبر 2026 کو ہندوستانی جیلوں میں کتنے مسلمان ہیں؟
سرکاری قومی مذہب وار موجودہ عدد دستیاب نہیں
یہ سب سے اہم تحقیقی نتیجہ ہے۔
11 مارچ 2026 کو وزارتِ داخلہ نے پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ NCRB ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے جیل کے اعداد حاصل کرکے Prison Statistics India میں شائع کرتا ہے اور اس وقت تازہ ترین شائع شدہ رپورٹ 2023 کی تھی۔ بعد ازاں Prison Statistics India 2024 کا ڈیٹا 2026 میں سامنے آیا۔ �
Press Information Bureau +1
وزارتِ داخلہ نے 1 اپریل 2026 کو یہ بھی بتایا کہ جیل کے اعداد کو مزید ICJS، e-Prisons، e-Courts اور e-Prosecution جیسے نظاموں کے ساتھ زیادہ تفصیلی اور حقیقی وقت کے قریب بنانے کا عمل جاری ہے۔ �
Press Information Bureau
لہٰذا 2 ستمبر 2026 کی مسلمان قیدیوں کی قطعی قومی تعداد بتانا دستیاب سرکاری شواہد سے ممکن نہیں۔
جیل بہ جیل مکمل فہرست کیوں نہیں؟
ہندوستان میں جیلیں ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے انتظامی اختیار میں ہیں۔ آئین کی ساتویں Schedule کی State List میں Prisons/Persons detained therein شامل ہیں۔ �
Press Information Bureau +1
NCRB ریاستوں اور UTs سے اعداد جمع کرتا ہے۔ قومی سطح پر دستیاب مذہب وار جدول بنیادی طور پر ریاست/UT سطح پر اعداد فراہم کرتی ہے؛ ہر ایک جیل کے نام کے ساتھ مسلمان قیدیوں کی سال بہ سال مکمل فہرست عوامی NCRB رپورٹ میں موجود نہیں۔
اس لیے کسی مخصوص جیل کے بارے میں عدد صرف اسی وقت لکھا جانا چاہیے جب متعلقہ ریاستی جیل محکمہ، RTI، عدالتی ریکارڈ یا سرکاری دستاویز وہ عدد فراہم کرے۔
آخری مجموعی نتیجہ
31 دسمبر 2024
دستیاب مذہب وار سرکاری ریکارڈ میں کم از کم 93,074 مسلمان قیدی درج تھے۔
ان میں:
21,640 — سزایافتہ
69,864 — زیرِ سماعت
1,109 — Detenues
461 — Other Prisoners
لیکن مہاراشٹر کے 31,523 زیرِ سماعت قیدیوں کا مذہب وار ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے 93,074 کو حتمی مکمل قومی تعداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔
2 ستمبر 2026
مسلمان قیدیوں کی موجودہ، مکمل اور مذہب وار قومی تعداد کا مستند سرکاری عدد دستیاب نہیں۔
یہی وہ حد ہے جہاں تحقیق کو عدد گھڑنے کے بجائے دستاویز کے سامنے رک جانا چاہیے۔
ماخذ: قومی جرائم ریکارڈ بیورو (NCRB)، وزارتِ داخلہ حکومتِ ہند (MHA)، پریس انفارمیشن بیورو (PIB)، Prison Statistics India 2024، اور متعلقہ پارلیمانی/ریاستی ریکارڈ۔ �
Indian Express +2
نوٹ: یہ تحریر دستیاب سرکاری و معتبر عوامی ریکارڈ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تمام اعداد کی آزادانہ فیلڈ تصدیق کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔
واصلی امیٹھوی بھارتی

Address

Amethi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZESG MEDIA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ZESG MEDIA:

Shortcuts

Share