03/09/2026
🚨 صحافت پر لاٹھی؟ ساکیت تھانے میں دو خاتون صحافیوں سے مبینہ تشدد کے سنگین الزامات، مذہبی شناخت کے بعد مارپیٹ بڑھنے کا دعویٰ
نئی دہلی | 3 ستمبر 2026
دہلی کے ساکیت علاقے سے آج ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ 4PM نیوز نیٹ ورک سے وابستہ خاتون صحافی شاہین خان اور ان کی ساتھی نفیسا خان نے الزام لگایا ہے کہ انہیں رپورٹنگ کے دوران پولیس نے حراست میں لیا اور بعد ازاں ساکیت پولیس اسٹیشن میں مبینہ طور پر مارپیٹ کی گئی۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں صحافی جنوبی دہلی کے ساکیت میں میکس ہسپتال کے ایک پروگرام کی کوریج کر رہی تھیں، جہاں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا موجود تھیں۔ صحافی شاہین خان کا الزام ہے کہ وہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں پکڑا اور تھانے لے گئی۔
مذہبی شناخت کے حوالے سے الزام مزید سنگین
شاہین خان نے ویڈیو بیان میں الزام لگایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو جب ان کے نام سے ان کی مسلم شناخت کا علم ہوا تو مبینہ تشدد مزید بڑھ گیا۔
دوسری صحافی نفیسا خان کے جسم پر مبینہ چوٹوں اور نشانات کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ متعدد میڈیا رپورٹس نے ان ویڈیوز کا حوالہ دیا ہے، تاہم ان چوٹوں کے اصل سبب، ذمہ دار اہلکاروں اور واقعے کی مکمل ترتیب کی آزادانہ سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔
یہ الزام اگر تحقیقات میں درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ محض ایک صحافی کو حراست میں لینے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قانون کے یکساں نفاذ، صحافتی آزادی اور مذہبی بنیاد پر مبینہ امتیاز کے حوالے سے انتہائی سنگین سوالات پیدا کرے گا۔
دہلی پولیس کا کیا کہنا ہے؟
دوسری طرف دہلی پولیس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں خواتین کو وزیراعلیٰ سے سوال کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مبینہ طور پر وی آئی پی روٹ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے معاملے میں حراست میں لیا گیا تھا۔
یعنی اس وقت معاملے کے دو متضاد پہلو سامنے ہیں: صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں رپورٹنگ اور سوال کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پولیس کا مؤقف ہے کہ کارروائی وی آئی پی روٹ میں مبینہ رکاوٹ کے باعث ہوئی۔ پولیس کی جانب سے مبینہ مارپیٹ کے الزامات پر مکمل تفصیلی جواب سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
سوال یہ ہے: اگر صحافی نے ضابطہ توڑا بھی تھا تو کیا تشدد جائز ہو جاتا ہے؟
اگر کسی صحافی نے واقعی کسی مقررہ حفاظتی حدود یا وی آئی پی روٹ کی خلاف ورزی کی تھی تو قانون کے مطابق پولیس کے پاس اسے روکنے، شناختی کارڈ دیکھنے، وہاں سے ہٹانے یا ضرورت پڑنے پر قانونی کارروائی کرنے کے اختیارات موجود ہیں۔
لیکن کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کو پولیس حراست میں تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
خاص طور پر اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کے ساتھ اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر اضافی یا زیادہ سخت تشدد کیا گیا، تو یہ الزام انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر جائے گا اور اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ناگزیر ہوں گی۔
صحافتی تنظیمیں بھی میدان میں
پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
صحافتی تنظیموں نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دستیاب ویڈیو شواہد محفوظ رکھنے اور پولیس کمشنر سے منصفانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہماری واضح اپیل
ہم کسی غیر مصدقہ دعوے کو حتمی حقیقت قرار نہیں دے رہے۔ ZESG MEDIA کو اس وقت یہ اطلاعات مختلف میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے موصول ہوئی ہیں، جن کی مکمل آزادانہ تصدیق ہمارے پاس ابھی نہیں ہے۔
اسی لیے یہ رپورٹ موجودہ دستیاب اطلاعات، صحافیوں کے الزامات، سامنے آنے والی ویڈیوز، صحافتی تنظیموں کے ردعمل اور دہلی پولیس کے ابتدائی مؤقف کی بنیاد پر شائع کی جا رہی ہے۔
لیکن اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے واقعی خاتون صحافیوں کو تھانے کے اندر لاٹھی، ڈنڈے یا کسی اور طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا، یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر مبینہ طور پر زیادہ تشدد کیا، تو ایسے اہلکاروں کے خلاف فوری، شفاف اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
ہم مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے بھی واضح طور پر اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائیں، ساکیت تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرائیں اور اگر کوئی پولیس اہلکار قصوروار پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف بلا تاخیر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
قانون کی وردی پہننے والا شخص قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا، اور صحافت کرنے والا شہری بھی قانون سے باہر نہیں—لیکن دونوں کے لیے قانون ایک ہی ہونا چاہیے۔
یہ معاملہ اب صرف دو صحافیوں کا نہیں؛ یہ سوال ہے کہ پولیس حراست میں شہری کے وقار، صحافتی آزادی اور قانون کی بالادستی کی حفاظت کون کرے گا؟
نوٹ: مکمل سرکاری تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد سامنے آنے کے بعد ZESG MEDIA اس معاملے پر مزید تصدیقی رپورٹ اور دستیاب شواہد کے ساتھ اگلی تحریر شائع کرے گا۔
واصلی امیٹھوی
ZESG MEDIA