Maktaba Al-Badr

Maktaba Al-Badr Da'wah Centre. This is an official page...

and...

Its all about Islam...

and...

Da'wah...!!!

Ek Nazar Idhar bhi...
22/10/2017

Ek Nazar Idhar bhi...

26/06/2016

فرصت ملے تو اس پوسٹ کو ضرور پڑھئے

قندِ مکرر ،، :)

کمزور دل حضرات اس پوسٹ کو بے شک نہ پڑھیں !!

مفتی لا ابالی سے انٹرویو !

سوال !

جناب مختصر الفاظ میں بیان کر دیجئے کہ دیوبندی اور بریلوی مکاتبِ فکر میں کیا اختلاف ھے اور کس بات پر وہ متفق ھیں ؟
جی بریلوی کھانے سے پہلے دعا کرتے ھیں اور دیوبندی کھانے کے بعد !

کھانے پر دونوں کا اتفاق ھے !

میں نے اتنا مختصر جواب بھی نہیں مانگا تھا ،، کچھ مزید روشنی ڈالیئے !
جی دیوبندی دفنانے سے پہلے دعا کرتے ھیں اور بریلوی دفنانے کے بعد !

دفنانے پر دونوں کا اتفاق ھے !

حضرت ھم بڑی دور سے انٹرویو کرنے آئے ھیں مگر آپ ھمیں آپا زبیدہ کے ٹوٹکوں کا طرح جھٹ پٹ فارغ کرتے چلے جا رھے ھیں ،،

آپ کس اخبار کی طرف سے آئے ھیں ؟

جی ھم اخبار کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی اسلامی ویب سائٹ " ٹھنڈا ٹھار ڈاٹ کوم ،، کی طرف سے آئے ھیں !

یہ کیا نام ھے جی ؟
یہ اسلامی نام ھے جناب !

پھر تو ڈاؤلینس بھی اسلامی نام ھی ھو گا ؟

پتہ نہیں ،، ھم نے چونکہ یہ نام انڈین ویب سائٹ ،، تہلکہ ڈاٹ کوم کی مخالفت میں رکھا تھا ،،اس لئے اس کو اسلامی نام کہتے ھیں،،دیکھیں ناں جب ھم نے انڈیا کے مقابلے میں ایک ملک لیا تو وہ اسلامی ملک ھو گیا ،، اگرچہ اس میں ھر کام اسلام کے خلاف ھو رھا ھے،،گھر سے لے کر پارلیمنٹ تک !

سوال - مساجد کی تقسیم میں دونوں کا کتنا ھاتھ ھے ؟

جواب- جتنا ملک کی بربادی میں آمریت کا ھاتھ ھے !

سوال- میرا مطلب تھا وہ اختلافات جو مساجد تک تقسیم کرا دیں اور ایک دوسرے کا داخلہ اللہ کے گھر میں حرام کردیا جائے ،، کوئی اتنے معمولی بھی نہیں ھو سکتے جتنے آپ ظاھر کر رھے ھیں ؟

جواب - دیکھیں بندہ ھیضے سے بھی مر سکتا ھے ،، اب بندہ مرنے کی وجہ سے ھیضے کو کینسر یا ایڈز جیسا ناقابلِ علاج مرض تو نہیں کہا جا سکتا !

چلیں ھم سیدھا سیدھا سوال کر لیتے ھیں ، کیا دیوبندی ، بریلوی اختلاف قابلِ علاج ھے ؟ یعنی دونوں میں اتحاد کی کوئی صورت موجود ھے ؟؟

جی ھے بھی اور نہیں بھی !

یہ آپ مولوی لوگوں نے قسم کھا رکھی ھے کہ سیدھی بات نہیں کرنی ؟ ھم سمجھتے تھے کہ صحافی لوگ بات کی جلیبی بناتے ھیں مگر آپ تو کمال کرتے ھیں ،، ھے بھی اور نہیں بھی ؟؟
جی ھے اس صورت میں کہ " بریلوی دیوبند کے اکابر کو غوث اور قطب مان لیں ،، یا دیوبندی اپنے اکابر پر کی گئ تنقید کو تسلیم کر لیں اور انہیں معصوم عن الخطا سمجھنا چھوڑ دیں ،،،
اور نہیں اس صورت میں کہ " یہ دونوں باتیں ھونی والی نہیں ھیں،، بریلوی دیوبند کے چار اکابر کو مسلمان تک سمجھنا ،، اپنا نکاح ٹوٹنے کی رسم سمجھتے ھیں،، اور اپنا گھر کس کو پیارا نہیں ھوتا ؟
جبکہ دیوبندی صحابہ سے تو غلطی کا صدور تسلیم کرتے ھیں ،،مگر اپنے اکابر کے بارے میں ایسا گمان بھی نکاح ٹوٹنے کی رسم سمجھتے ھیں ،،یوں دونوں اپنے اپنے نکاح بچا رھے ھیں !!

دیکھیں ھمارا نام ٹھنڈا ٹھار ڈاٹ کام تھا ،،مگر آپکی صحبت میں تھوڑا ھی وقت گزرا ھے اور آپ ھمیں " تتا توا ڈاٹ کام "بنا رھے ھیں ! آپ کے نزدیک سارا مسئلہ ھی چند اکابر پر الزام اور ان الزامات پر رد عمل کا ھے ؟ جب کہ ھم تو یہ موڈ بنا کر آئے تھے کہ شرک پر بات ھو گی،، سارا جھگڑا دیوبندیوں کی توحید اور بریلویوں کے شرک کا ھے ؟

دیکھیں جی جو کچھ بریلوی نبئ کریم ﷺ کے بارے میں مان کر مشرک مشہور ھیں ،، اس سے زیادہ دیوبندی اپنے بزرگوں کے بارے میں مان کر بھی مؤحد ھیں ،، ھے ناں تعجب کی بات ؟ نبی پاک ﷺ کے معجزات سے زیادہ کرامات اکابر دیوبند کی ھیں ،، اور مرنے کے بعد تو دیوبندی اکابر انت ھی مچا دیتے ھیں بقول دیوبندی پیروں کے ،، ولی اللہ جب بدن میں ھوتا ھے تو تلوار میان میں ھوتی ھے ،، جبکہ مرنے کے بعد تلوار میان سے نکل آتی ھے !

شرک ورک کا کوئی جھگڑا نہیں ،، دونوں مردے کو قابلِ سماع زندہ مانتے ھیں اور صاحبِ قبر سے فیض کے حصول کو تسلیم کرتے ھیں ،، ایک دیوبندی قطب کے اختیارات بھی بریلوی قطب جتنے ھی ھوتے ھیں،، بلکہ ان سب کے قطب و غوث بھی ایک ھیں،، سلاسل اور شجرہائے طیبہ بھی ایک ھیں،، دیوبندی پیر کا شجرہ طیبہ دیکھ لیں تو وھی شیخ مجدد الف ثانی والے پل کے اوپر سے دونوں فریق ھاتھوں میں ھاتھ ڈالے گزر کر جاتے ھیں ، وھاں کوئی فساد و عناد نہیں ،،سارا فساد اللہ کے گھر میں مچا رکھا ھے دونوں نے ،

تصوف پر دونوں کا اتفاق ھے !

یہ مرشد تو شیئر کر لیتے ھیں ،، اللہ کا گھر شیئر کرتے ھوئے ان کو موت پڑتی ھے !

سنا ھے آپ بھی صوفی ھیں اور نقشبندیہ سلسلے سے تعلق رکھتے ھیں ؟ ھم چاھئیں گے کہ آپ وحدۃ الوجود پر روشنی ڈالیں !

جی میں نے چاروں سلاسل میں درک حاصل کیا ھے ،، اور میں اس کو ایک فن یا علم سمجھتا ھوں ، میرا ذاتی خیال یہ ھے کہ اصلی تصوف اخلاصِ نیت تھا ،، یعنی وہ لوگ جو اپنی خواھشات کو اللہ کی رضا کی خاطر اللہ کے قدموں میں قربان کر دیتے ھیں،، وہ اللہ پاک کا تقرب پا لیتے ھیں ،، ان کا احوال اللہ پاک نے سورہ واقعہ میں بیان کیا ھے ،، آگے نکل جانے والے ،، السابقون کے ضمن میں جن کو مقربون کہا گیا ،، اور اس کا اجر و مقام انہیں آخرت میں ملے گا ،، جبکہ ھندوستانی تصوف یوگا ھے ،،جس میں مختلف مشقوں کی بنیاد پر نفسانی شکتیاں حاصل کی جاتی ھیں اور پھر ان شکتیوں کی بنیاد پر لوگوں کو مقامات و اختیارات گرانٹ کیئے جاتے ھیں،، ھندوؤں کے یہاں وہ مختلف دیوتا بن جاتے ھیں ،، جبکہ ھمارے یہاں وہ عربی اصطلاحات کے تحت ،، غوث ،، قطب ، ابدال کہلاتے ھیں اور شکتیوں میں ھندو دیوتاؤں سے کم نہیں ھیں !

قرآن میں سب کچھ اللہ کے ھاتھ میں ھے ،،سارے تالے چابیوں سمیت اس کے ھاتھ میں ھیں درختوں کے پتوں کا گرنا بھی اس کے اذن و علم کے ساتھ ھوتا ھے اور اولاد دینا بھی ،، اللہ نے پوری سورۃ الانبیاء میں تمام مشہور نبیوں اور رسولوں کا ذکر کیا ھے اور ان کی مصیبتوں کا ذکر کیا ھے ،، اور فرمایا ھے کہ کانو یدعوننا ،، وہ بھی ھمی کو پکارا کرتے تھے،، self Sufficient نہیں تھے ،، اللہ کے بندے تھے ،، غوث و قطب نہیں تھے !

حضرت اگر بات اتنی ھی واضح ھے تو پھر یہ اصحاب تکوین جو کائنات کے امور چلاتے ھیں،، تقدیریں بدل دیتے ھیں ،، مصائب کو ھٹاتے اور اولاد و ارزاق کا بندوبست کرتے ھیں ،، اسلام میں کیسے در آئے ؟
بات یہ ھے میرے بھائی کہ ڈاکٹر دو جگہ کام کرتا ھے ! ایک ھے سرکاری ڈیوٹی ،، جو کسی سرکاری اسپتال میں کرتا ھے ! وھاں اسپتال میں جن مریضوں سے راہ رسم بناتا ھے ،ان کو اپنے پرائیویٹ کلینک کا پتہ بھی بتا دیتا ھے ،، یوں وہ اسپتال کو شکار گاہ کے طور پہ استعمال کرتا ھے ،جہاں سے اسے تازہ بتازہ شکار ملتا ھے ! اسی طرح یہ علماء منبر پر جو توحید بیان کرتے ھیں وہ ان کی گڈ ول بنا دیتی ھے ۔۔ پھر حجرے کی طلسمی دنیا کا سفر ھوتا ھے ،،یہ منابر سرکاری شکار گاہ ھے،، وہ اللہ جو منبر پر بیج کے اندر کی خشکی اور تری تک سے آگاہ ھوتا ھے،،وہ اللہ حجرے کی تاریکی میں ھاتھ سے نکل جاتا ھے ، اور جس طرح ماں سوتے بچے کے منہ سے دودھ نکال لیتی ھے اور اسے پتہ بھی نہیں چلتا ، وہ میٹھے میٹھے خواب دیکھتا رھتا ھے ،،اسی طرح حجروں کے یہ مراقبے ،اور بین الیقظۃِ والنوم کی حالت میں ایمان باللہ اور ایمان بالتوحید اتنی مہارت سے نکالا جاتا ھے کہ بندے کو احساس بھی نہیں ھوتا ! اور وہ مراقبوں میں گم میٹھے خواب دیکھتا رھتا ھے !

حبس دم اور پاس انفاس نیز قلت نوم وغیرہ کے ذریعے بلاتفریقِ مذھب کچھ نفسانی قوتیں حاصل کی جا سکتی ھیں،، یہ حبس دم یوگی گرو رام دیو پر بھی وھی اثر کرتا ھے جو مولانا مفتی پر کرتا ھے ،، جو بھی پھیپھڑوں کی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو متعلقہ لطیفے یا پاور پؤائنٹ پر پہہنچا لیتا ھے ،، وہ اس سے کام لے کر کچھ عارضی طاقت حاصل کر لیتا ھے ،، مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ھیں کہ ھمارے اکابر غیر مسلموں کو بھی مرید بنا لیتے تھے ،مگر میں غیر مسلم کو مرید نہیں کرتا کیونکہ اسے جب ان مجاھدوں یا تپسیا سے مختلف قوتیں حاصل ھوتی ھیں اور وہ مابعد الطبیعاتی کیفیات سے گزرتا ھے تو مذھب کو غیر ضروری سمجھتا ھے ،، نیز فرماتے ھیں کہ تصوف علم نفسانی ھے اور ارتکاز کا کھیل ھے ،، اور ارتکاز میں ھندو ھم سے زیادہ تیز ھے کیونکہ اس کا خدا اس کے سامنے ھوتا ھے جس پر اسے ارتکاز کرنا آسان ھوتا ھے ،،جبکہ ھمارے لئے خدا ایک خیال کی حیثیت رکھتا ھے اور ھمیں صرف اس کے نام پر ارتکاز کرنا ھوتا ھے،، اکابر نے اس کا توڑ تصورِ شیخ سے کیا ھے ،،مگر میں تصورِ شیخ سے منع کرتا ھوں کیوں کہ اس کے نتیجے میں شیخ دل میں خدا کی جگہ حاصل کر لیتا ھے اور چاھے نہ چاھے دھیان اس کی طرف لگا رھتا ھے

18/06/2016

फिक्रे आखिरत...

रोज़े की हालत में मुसलमान एकांत में भी रोज़ा तोड़ता नहीं ...

क्योंकि ...

उसे यक़ीन है अल्लाह देख रहा है ...

तो फिर गुनाह करते हुवे क्यों नहीं सोचता कि अल्लाह देख रहा है...???

14/06/2016

تیئیسواں پارہ

اس پارے میں چار حصے ہیں:
۱۔ سورۂ یٰس (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ صافات (مکمل)
۳۔ سورۂ ص (مکمل)
۴۔ سورۂ زمر (ابتدائی حصہ)

(۱) سورۂ یٰس کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ حبیب نجار کا قصہ (ایک بستی والوں نے اپنے تین انبیاء کو جھٹلایا ، ان کی قوم کا ایک شخص جس کا نام حبیب نجار تھا نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی تو انھوں نے اسے شہید کردیا ، جنت میں جاکر بھی اس نے تمنا کی کاش! میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ مجھے کیسی نعمتیں ملی ہیں۔)
۲۔ اللہ کی قدرت کے دلائل (1۔مردہ زمین جسے بارش سے زندہ کردیا جاتا ہے۔ 2۔لیل و نہار اور شمس و قمر کا نظام۔ 3۔کشتیاں اور جہاز جو سمندر میں چلتے ہیں۔)
۳۔ قیامت (محشر کی ہولناکیاں ، صور پھونکے جانے کا تذکرہ ، اس دن مجرموں کے مونہوں پر مہر لگادی جائے گی اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔)

(۲) سورۂ صافات میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ جہنمیوں کا باہم لعن طعن اور جنتیوں کا خوشگوار مکالمہ
۲۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے (حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوتِ توحید ، انھیں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم اور اس کی تعمیل ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا قصہ ، حضرت الیاس علیہ السلام کا قصہ جنھیں شام میں ایک ایسی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تھا جو "بعل" نامی بت کی عبادت کرتی تھی، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی شہوت پرستی کا قصہ ، حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں ہونے کا قصہ۔)

(۳) سورۂ ص میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ توحید (تمام انسانوں اور موت و حیات کے پورے نظام کے لیے ایک اللہ ہی کافی ہے۔)
۲۔ رسالت (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ، قریش کی مذمت ، تسلی کے طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کے شکر کا قصہ اور حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا قصہ اور دیگر انبیائے کرام کے قصے)

(۴) سورۂ زمر کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ قرآن کی عظمت
۲۔ توحید (اللہ تعالیٰ انسان کو ماں کے پیٹ میں تین تاریکیوں میں پیدا فرماتے ہیں۔ مشرک کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کے کئی آقا ہوں اور موحد کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کا ایک ہی آقا ہو۔ )

14/06/2016

بائیسواں پارہ

اس پارے میں چار حصے ہیں:
۱۔ سورۂ احزاب (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ سبا (مکمل)
۳۔ سورۂ فاطر (مکمل)
۴۔ سورۂ یٰس (ابتدائی حصہ)

(۱) سورۂ احزاب کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ ازواج مطہرات کے لیے سات احکام :
۔۔۔۔ 1۔نزاکت کے ساتھ بات نہ کریں۔
۔۔۔۔ 2۔ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں۔
۔۔۔۔ 3۔ زمانۂ جاہلیت کی خواتین کی طرح اپنی زینت اور ستر کا اظہار کرتے ہوئے باہر نہ نکلیں۔
۔۔۔۔ 4۔ نماز کی پابندی کریں۔
۔۔۔۔ 5۔ زکوٰۃ دیا کریں۔
۔۔۔۔ 6۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔
۔۔۔۔ 7۔ قرآنی آیات کی تلاوت اور احادیث کا مذاکرہ کیا کریں۔
۲۔ مسلمانوں کی دس صفات
۳۔ نکاحِ رسول: جب حضرت زید بن حارثہ اور آپ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے درمیان نباہ نہ ہوسکا اور ان کے درمیان جدائی واقع ہوگئی تو اللہ کے حکم سے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کرلیا۔
۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا حکم

(۲) سورۂ سبا میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا قصہ
۲۔ اہل سبا کے غرور و تکبر کا واقعہ

(۳) سورۂ فاطر میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ توحید کے دلائل
۲۔ مسلمانوں کے تین گروہ (1۔وہ مسلمان جن کے گناہ زیادہ ہوں 2۔ نیکیاں اور گناہ برابر 3۔ نیکیاں زیادہ ہوں)

(۴) سورۂ یٰس کے ابتدائی حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ رسالت
۲۔ قریش کی مذمت

14/06/2016

اکیسواں پارہ

اس پارے میں پانچ حصے ہیں:
۱۔ سورۂ عنکبوت (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ روم (مکمل)
۳۔ سورۂ لقمان (مکمل)
۴۔ سورۂ سجدہ (مکمل)
۵۔ سورۂ احزاب (ابتدائی حصہ)

(۱) سورۂ عنکبوت کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ تلاوت اور نماز کا حکم
۲۔ نماز کی فضیلت (کہ یہ برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے)
۳۔ معاندین اور ان کی ہٹ دھرمیوں کا ذکر
۴۔ دنیا کی بے ثباتی

(۲) سورۂ روم میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ دو پیش گوئیاں:
۔۔۔۔ 1۔ نو سال کے اندر اندر روم کے اہل کتاب (عیسائی) ایران کے بت پرستوں کو شکست دے دیں گے۔
۔۔۔۔ 2۔ اسی عرصے میں مسلمان مشرکینِ قریش پر فتح کی خوش منارہے ہوں گے۔ (یہ بدر کی صورت میں ظاہر ہوئی)

۲۔ توحید کے ضمن میں اللہ کی عظمت کی سات نشانیاں:
۔۔۔۔ 1۔اشیاء کو اضداد سے پیدا کرنا (زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے)
۔۔۔۔ 2۔ انسان کی پیدائش مٹی سے
۔۔۔۔ 3۔ زوجین کی محبت
۔۔۔۔ 4۔ زمین و آسمان کی پیدائش
۔۔۔۔ 5۔ رات اور دن کی نیند اور روزگار کی تلاش
۔۔۔۔ 6۔ بجلی کی چمک ، بارش اور اس سے غلے کی پیداوار
۔۔۔۔ 7۔ زمین اور آسمان کا مستحکم نظام

(۳) سورۂ لقمان میں تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ توحید (اللہ کی قدرت کے چار دلائل)
۔۔۔۔ 1۔ بغیر ستون کا آسمان
۔۔۔۔ 2۔ مضبوط و محکم پہاڑ
۔۔۔۔ 3۔ رینگنے والے مویشی اور حشرات
۔۔۔۔ 4۔ برسنے والی بارش

۲۔ حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو پانچ وصیتیں:
۔۔۔۔ 1۔ شرک نہ کرو۔
۔۔۔۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چھوٹی بڑی چیز اور عمل کو آخرت میں سامنے لے آئیں گے۔
۔۔۔۔ 3۔ نماز ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ، آزمائش میں صبر۔
۔۔۔۔ 4۔ عاجزی اختیار کرو ، تکبر سے بچو۔
۔۔۔۔ 5۔ معتدل چلو ، مناسب آواز میں بات کرو۔

۳۔ توحید کے ضمن میں یہ بتایا گیا کہ پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے:
۔۔۔۔ 1۔ بارش کہاں اور کتنی برسے گی؟
۔۔۔۔ 2۔ قیامت کب آئے گی؟
۔۔۔۔ 3۔ پیٹ میں بچہ کن اوصاف کا حامل ہے؟
۔۔۔۔ 4۔ موت کب اور کہاں آئے گی؟
۔۔۔۔ 5۔ انسان کل کیا کرے گا؟

(۴) سورۂ سجدہ میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ قرآن کی عظمت
۲۔ توحید (آسمان و زمین کا خالق وہی ہے ، ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے، پانی کے ایک حقیر قطرے سے مختلف مراحل طے کرانے کے بعد انسان کو وجود بخشا پھر اسے انتہائی پر کشش صورت اور متناسب قدوقامت والا بنایا۔)
۳۔ قیامت (مجرم اس دن سرجھکائے کھڑے ہوں گے، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی ، وہ دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے، مومنین جو دنیا میں اللہ کے لیے اپنی راحتوں کو قربان کرتے ہیں ، اللہ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنھیں کوئی نہیں جانتا۔)
۴۔ رسالت (حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دیے جانے کا ذکر ہے۔)

(۵) سورۂ احزاب کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ زمانۂ جاہلیت کے تین غلط خیالات کی تردید کی گئی ہے:
۔۔۔۔ 1۔ ان کا خیال تھا کہ بعض لوگوں کے سینے میں دو دل ہوتے ہیں ، بتایا کہ دل تو بس ایک ہی ہوتا ہے ، یا اس میں ایمان ہوگا ، یا کفر ہوگا۔
۔۔۔۔ 2۔ کلماتِ ظہار کہنے سے بیوی ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہوتی بلکہ کفارہ دینے سے حلال ہوجائے گی۔
۔۔۔۔ 3۔ منہ بولا بیٹا شرعی احکام میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔

۲۔ دو غزووں (غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ) کا ذکر ہے۔

14/06/2016

بیسواں پارہ

اس پارے میں تین حصے ہیں:
۱۔ سورۂ نمل (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ قصص (مکمل)
۳۔ سورۂ عنکبوت (ابتدائی حصہ)

(۱) سورۂ نمل کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ توحید کے پانچ دلائل
(1) آسمان ، زمین ، بارش اور کھیتیوں کا خالق وہی ہے۔
(2) زمین ، نہریں ، پہاڑ اور سمندروں کا نظام وہی چلاتا ہے۔
(3) مجبور ، بے بس اور بیمار کی پکار اس کے علاوہ کوئی نہیں سنتا۔
(4) بحری اور بری تاریکیوں میں راستہ وہی دکھاتا ہے ، اسی نے ہواؤں کا نظام چلایا۔
(5) پہلی بار بھی اسی نے پیدا کیا ، دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا ، رازق بھی وہی ہے۔

۲۔ قیامت (صور پھونکا جانا ، پہاڑوں کا کا بادلوں کی طرح ہواؤں میں اڑنا ، روز قیامت سب کا جمع ہونا ، نیک لوگوں کو ان کی اچھائیوں کا انعام اور برے لوگوں کو ان کے کیے کی سزا کا ملنا)

(۲) سورۂ قصص میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا تفصیلی قصہ
۲۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون کا قصہ

(۳) سورۂ عنکبوت کے ابتدائی حصے میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ توحید (مشرکین کے بت مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہیں۔)
۲۔ رسالت (آزمائش من جانب اللہ ضرور آتی ہے ، اس ضمن میں چند انبیائے کرام کے قصے مذکور ہیں۔)
۳۔ قیامت کا تذکرہ

14/06/2016

انیسواں پارہ

اس پارے میں تین حصے ہیں:
۱۔ سورۂ فرقان (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ شعراء (مکمل)
۳۔ سورۂ نمل (ابتدائی حصہ)

(۱) سورۂ فرقان کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
1۔ قیامت
2۔ توحید (آسمان ، زمین اور رات دن کا خالق اللہ ہی ہے۔)
3۔ رسالت (نبی کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔)
4۔ عباد الرحمٰن کی صفات (عاجزی سے چلنا ، جاہلوں سے اعراض ، راتوں کو عبادت ، جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا ، خرچ کرنے میں اعتدال ، نہ فضول خرچی نہ بخل ، شرک سے اجتناب ، قتل ناحق سے بچنا ، زنا اور بدکاری سے پرہیز ، جھوٹی گواہی سے احتراز ، بری مجالس سے پہلوتہی ، کتاب اللہ سے متاثر ہونا ، نیک بیوی بچوں کی دعا اور یہ دعا کہ ہمیں ہادی اور مہتدی بنا)

(۲) سورۂ شعراء میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ سات انبیائے کرام کے قصے (حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت صالح علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت شعیب علیہ السلام)
۲۔ قرآن کی حقانیت: (اسے رب العالمین نے اتارا ہے ، روح امین حضرت جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر ، لوگوں کو ڈرانے اور متنبہ کرنے کے لیے ، واضح عربی زبان میں۔)
۳۔ شعراء کی مذمت کہ ان کے پیچھے تو بے راہ لوگ چلتے ہیں ، یہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ،ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں ، البتہ وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے اور نیک اعمال اختیار کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا۔

(۳) سورۂ نمل کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
(۱) قرآن کی عظمت
(۲) پانچ انبیائے کرام کا ذکر: (حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام ، حضرت صالح علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام۔ بالخصوص واقعۂ نمل ، واقعۂ ہدہد اور واقعۂ ملکہ سبا)

14/06/2016

اٹھارھواں پارہ

اس پارے میں تین حصے ہیں:
۱۔ سورۂ مؤمنون (مکمل)
۲۔ سورۂ نور (مکمل)
۳۔ سورۂ فرقان (ابتدائی حصہ)

(۱) سورۂ مؤمنون میں سات باتیں یہ ہیں:
۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات
۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل
۳۔ توحید
۴۔ انبیاء کے قصے
۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات
۶۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ
۷۔ قیامت

۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات:
(۱)ایمان ، (۲)نماز میں خشوع ، (۳)اعراض عن اللغو ، (۴)زکوۃ ، (۵)پاکدامنی ، (۶)امانت داری ، (۷)نمازوں کی حفاظت۔

۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل:
(۱)مٹی (۲)منی (۳)جما ہوا خون (۴)لوتھڑا (۵)ہڈی (۶)گوشت کا لباس (۷)انسان (۸)موت (۹)دوبارہ زندگی

۳۔ توحید:
آغازِ سورت میں توحید کے تین دلائل ہیں: (۱)آسمانوں کی تخلیق ، (۲)بارش اور غلہ جات ، (۳)چوپائے اور ان کے منافع۔

۴۔ انبیائے کرام کے قصے:
(۱) حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کا ذکر۔
(۲) حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر۔
(۳) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم کا تذکرہ۔

۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات:
(۱) اللہ سے ڈرتے ہیں ، (۲)اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، (۳)شرک اور ریا نہیں کرتے ، (۴)نیکیوں کے باوصف دل ہی دل میں ڈرتے ہیں کہ انھیں اللہ کے پاس جانا ہے۔

۶۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ:
ان کے انکار کرنے اور جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں ، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں ، اور نہ یہ سچ مچ آپ کو (معاذاللہ) مجنون سمجھتے ہیں اور نہ ان کے انکار کی یہ وجہ ہے آپ ان سے معاوضہ مانگ رہے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے ، اس لیے اسے جھٹلانے کے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔

۷۔ قیامت:
روزِ قیامت جس کے اعمال کا ترازو وزنی ہوگا وہ کامیاب ہے اور جس کے اعمال کا ترازو ہلکا ہوگا وہ ناکام ہے۔

(۲) سورۂ نور میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ سولہ احکام و آداب
۲۔ اہل حق اور اہل باطل کی تین مثالیں

۱۔ سولہ احکام و آداب:
زانی اور زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں۔ (احادیث سے ثابت ہے کہ یہ حکم غیرشادی شدہ کے لیے ہے)
بدکار مرد یا عورت کو نکاح کے لیے پسند کرنا مسلمانوں پر حرام ہے۔
عاقل ، بالغ ، پاکدامن مرد یا عورت پر بغیر گواہوں کے زنا کی تہمت لگانے والے کی سزا اسی کوڑے ہیں۔
میاں بیوی کے لیے بجائے گواہوں کے لعان کا حکم ہے۔
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بعض منافقین نے بہتان لگایا جو کہ بہت بڑا بہتان تھا ، مسلمانوں کی روحانی ماں پر لگایا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے دس آیات میں اس واقعے کا ذکر فرمایا ہے ، ان آیات میں منافقین کی مذمت ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ آئندہ کبھی اس قسم کی بہتان تراشی میں حصے دار نہ بنیں اور حرمِ نبوت کی عفت و عصمت کا اعلان فرمایا گیا۔
کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کریں ، اجازت سے پہلے سلام بھی کرلینا چاہیے۔
آنکھوں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
نکاح کی ترغیب۔
جو غلام یا باندی کچھ روپیہ پیسہ ادا کرکے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہوں ان کے ساتھ یہ معاہدہ کرلیا کریں۔
باندیوں کو اجرت کے بدلے زنا پر مجبور نہ کریں۔
چھوٹے بچوں اور گھر میں رہنے والے غلاموں اور باندیوں کو حکم ہے کہ اگر وہ نماز فجر سے پہلے ، دوپہر کے قیلولے کے وقت اور نماز عشاء کے بعد تمھارے خلوت والے کمرے میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں ، کیونکہ ان تین اوقات میں عام طور پر عمومی استعمال کا لباس اتار کر نیند کا لباس پہن لیا جاتا ہے۔
بچے جب بالغ ہوجائیں تو دوسرے بالغ افراد کی طرح ان پر بھی لازم ہے کہ وہ جب بھی گھر میں آئیں تو اجازت لے کر یا کسی بھی طریقے سے اپنی آمد کی اطلاع دے کر آئیں۔
وہ عورتیں جو بہت بوڑھی ہوجائیں اور نکاح کی عمر سے گزر جائیں اگر وہ پردے کے ظاہری کپڑے اتار دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
گھر میں داخل ہوکر گھر والوں کو سلام کریں۔
اجازت کے بغیر اجتماعی مجلس سے نہ اٹھیں۔
اللہ کے رسول کو ایسے نہ پکاریں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔
۲۔ اہل حق اور اہل باطل کی تین مثالیں:

پہلی مثال میں مومن کے دل کے نور کو اس چراغ کے نور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو صاف شفاف شیشے سے بنی ہوئی کسی قندیل میں ہو اور اس قندیل کو کسی طاقچے میں رکھ دیا جائے تاکہ اس کا نور معین جہت ہی میں رہے جہاں اس کی ضرورت ہے، اس چراغ میں جو تیل استعمال ہوا ہے وہ تیل زیتون کے مخصوص درخت سے حاصل شدہ ہے ، اس تیل میں ایسی چمک ہے کہ بغیر آگ دکھائے ہی چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی حال مومن کے دل کا ہے کہ وہ حصولِ علم سے قبل ہی ہدایت پر عمل پیرا ہوتا ہے پھر جب علم آجائے تو نور علی نور کی صورت ہوجاتی ہے۔

دوسری مثال اہل باطل کے اعمال کی ہے جنھیں وہ اچھا سمجھتے تھے، فرمایا کہ ان کی مثال سراب جیسی ہے، جیسے پیاسا شخص دور سے سراب کو پانی سمجھ بیٹھتا ہے، لیکن جب قریب آتا ہے تو وہاں پانی کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ، یہی حال کافر کا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو نافع سمجھتا ہے، لیکن جب موت کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہوگا تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا، اس کے اعمال غبار بن کر اڑچکے ہوں گے۔

تیسری مثال میں ان کے عقائد کو سمندر کی تہ بہ تہ تاریکیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ، جہاں انسان کو اور تو اور اپنا ہاتھ تک دکھائی نہیں دیتا، یہی حال کافر کا ہے جو کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں سرگرداں رہتا ہے۔

(۳) سورۂ فرقان کے ابتدائی حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
(۱) توحید
(۲) قرآن کی حقانیت
(۳) رسالت
(۴) قیامت

(۱) توحید:
اللہ وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے ، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے ، نہ کوئی شریک ہے ، اس نے ہر چیز کو پیدا کرکے اسے ایک نپا تلا انداز عطا کیا ہے۔

(۲) قرآن کی حقانیت:
کافروں کی قرآن کے بارے میں دو قسم کی غلط بیانیاں ذکر کی ہیں:
1۔ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا افتراء اور اپنی تخلیق ہے جس میں کچھ دوسرے لوگوں نے تعاون کیا ہے۔
2۔ یہ گزشتہ قوموں کے قصے اور کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوالی ہیں۔

(۳) رسالت:
کفار کا خیال تھا کہ رسول بشر نہیں بلکہ فرشتہ ہوتا ہے اور اگر بالفرض انسانوں میں سے کسی کو نبوت و رسالت ملے بھی تو وہ دنیاوی اعتبار سے خوشحال لوگوں کو ملتی ہے ، کسی غریب اور یتیم کو ہرگز نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل خیال کی تردید واضح دلائل سے کی ہے۔

(۴) قیامت:
روزِ قیامت کافروں کے معبودانِ باطلہ سے اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا یا یہ راستے سے خود بھٹکے تھے؟ تو وہ اپنے عبادت گزاروں کو جھٹلادیں گے اور ان کی غفلت کا اقرار کریں گے ، پھر ان کافروں کو بڑے بھاری عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔

14/06/2016

سترھواں پارہ

اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ انبیاء
۲۔ سورۂ حج

(۱) سورۂ انبیاء میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ قیامت
۲۔ رسالت
۳۔ توحید

۱۔ قیامت:
بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت بہت قریب آگیا ہے، لیکن اس ہولناک دن سے انسان غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔(۱)
نیز قربِ قیامت میں یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ رہ بلندی سے اتر رہے ہوں گے۔(۹۶)
نیز مشرکین اور ان کے اصنام قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔(۹۸)

۲۔ رسالت:
رسالت کے ضمن میں سترہ انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر ہے: (۱)حضرت موسیٰ علیہ السلام ، (۲)حضرت ہارون علیہ السلام (۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۴)حضرت لوط علیہ السلام، (۵)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۶)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۷)حضرت نوح علیہ السلام ، (۸)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۹)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۱۱)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۲)حضرت ادریس علیہ السلام ، (۱۳)حضرت ذی الکفل علیہ السلام ، (۱۴) حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یحیٰ علیہ السلام اور (۱۷)حضرت عیسیٰ علیہ السلام
ان سترہ میں سے کچھ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے قدرے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں اور باقیوں کا اجمالی ذکر ہے۔
انبیائے سابقہ کے قصے بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین اور دنیا میں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں، آپ نے اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچا دیا، مگر جب ہر قسم کے دلائل پیش کرنے کے بعد بھی لوگ نہ سمجھے تو آپ نے اللہ سے دعا کی ، اسی دعا پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، دعا یہ ہے:
”رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْمَ۔ٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ“
”اے میرے پروردگار! حق کا فیصلہ کردیجیے اور ہمارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے ، اور جو باتیں تم بناتے ہو ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔“

۳۔ توحید:
توحید پر چھ دلائل ذکر کیے گئے ہیں:
آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے، ہم نے دونوں کو جدا جدا کردیا۔
ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا ہے۔
ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے، تاکہ لوگوں کے بوجھ سے زمین ہلنے نہ لگے۔
ہم نے زمین میں کشادہ راستے بنائے، تاکہ لوگ ان پر چلیں۔
ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔
رات دن ، سورج اور چاند کا نظام بنایا، ہر ایک اپنے اپنے مدار میں انتہائی تیز رفتاری سے گھوم رہا ہے، نہ ان میں ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ خلط ملط ہوتے ہیں۔
(۲) سورۂ حج میں چھ باتیں یہ ہیں:
۱۔ قیامت: (قیامت کی ہولناکیوں کے دل دہلانے والی منظر کشی کی گئی ہے۔)
۲۔ تخلیق انسان کے سات مراحل: (۱)مٹی (۲)منی (۳)خون کا لوتھڑا (۴)بوٹی (۵)بچہ (۶)جوان (۷)بوڑھا
۳۔ ملل اور مذاہب کے لحاظ سے چھ گروہ: مسلمان ، یہودی ، صابی(ستارہ پرست) ، عیسائی ، مجوسی (سورج ، چاند اور آگ کا پجاری) ، مشرک(بت پرست)
۴۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان حج: (حضرت ابرہیم علیہ السلام نے جبل ابی قیس پر کھڑے ہوکر حج کا اعلان کیا تھا ، یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین و آسمان میں رہنے والوں تک پہنچادیا تھا۔)
۵۔ مؤمنوں کی چار علامات: (۱)اللہ کا خوف ، (۲)مصائب پر صبر ، (۳)نماز کی پابندی ، (۴)نیک مصارف میں خرچ کرنا
۶۔ دیگر احکامات: مثلا مناسک حج ، اقامتِ صلوۃ ، ادائیگیٔ زکوۃ ، جانوروں کی قربانی اور جہاد وغیرہ۔

14/06/2016

سولھواں پارہ
اس پارے میں تین حصے ہیں:
۱۔ سورۂ کہف کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ مریم مکمل
۳۔ سورۂ طٰہٰ مکمل

(۱) سورۂ کہف کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ (جو پندرھویں پارے کے آخر میں شروع ہوکر سولھویں پارے کے شروع میں ختم ہورہا ہے)
۲۔ ذوالقرنین کا قصہ

۱۔ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ:
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ کی طرف سے یہ اطلاع ہوئی کہ سمندر کے کنارے ایک ایسے صاحب رہتے ہیں جن کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں تو آپ ان کی تلاش میں چل پڑے، چلتے چلتے آپ سمندر کے کنارے پہنچ گئے، یہاں آپ کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی اور آپ نے ان سے ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، انھوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپ کوئی سوال نہیں کریں گے، پھر تین عجیب واقعات پیش آئے، پہلے واقعے میں حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کے تختے کو توڑ ڈالا جس کے مالکان نے انھیں کرایہ لیے بغیر بٹھالیا تھا، دوسرے واقعے میں ایک معصوم بچے کو قتل کردیا، تیسرے واقعے میں ایک ایسے گاؤں میں گرتی ہوئی بوسیدہ دیوار کی تعمیر شروع کردی جس گاؤں والوں نے انھیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تینوں مواقع پر خاموش نہ رہ سکے اور پوچھ بیٹھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تیسرے سوال کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے جدائی کا اعلان کردیا کہ اب آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتے، البتہ تینوں واقعات کی اصل حقیقت انھوں نے آپ کے سامنے بیان کردی، فرمایا کشتی کا تختہ اس لیے توڑا تھا کیونکہ آگے ایک ظالم بادشاہ کے کارندے کھڑے تھے جو ہر سالم اور نئی کشتی زبردستی چھین رہے تھے، جب میں نے اسے عیب دار کردیا تو یہ اس ظالم کے قبضے میں جانے سے بچ گئی، یوں ان غریبوں کا ذریعۂ معاش محفوظ رہا۔ بچے کو اس لیے قتل کیا کیونکہ یہ بڑا ہوکر والدین کے لیے بہت بڑا فتنہ بن سکتا تھا ، جس کی وجہ سے ممکن تھا وہ انھیں کفر کی نجاست میں مبتلا کردیتا، اس لیے اللہ نے اسے مارنے کا اور اس کے بدلے انھیں باکردار اور محبت و اطاعت کرنے والی اولاد دینے کا فیصلہ فرمایا۔ گرتی ہوئی دیوار اس لیے تعمیر کی کیونکہ وہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی، ان کے والد اللہ کے نیک بندے تھے، دیوار کے نیچے خزانہ پوشیدہ تھا، اگر وہ دیوار گر جاتی تو لوگ خزانہ لوٹ لیتے اور نیک باپ کے یہ دو یتیم بچے اس سے محروم ہوجاتے، ہم نے اس دیوار کو تعمیر کردیا تاکہ جوان ہونے کے بعد وہ اس خزانے کو نکال کر اپنے کام میں لاسکیں۔

۲۔ ذوالقرنین کا قصہ:
یہ بڑا زبردست وسائل والا بادشاہ تھا، اس کا گزر ایک قوم پر ہو جو ایک دوسری وحشی قوم کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی تھی، جسے قرآن نے ”یاجوج“ اور ”ماجوج“ کا نام دیا ہے۔ ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج پر دیوار چن دی، اب وہ قربِ قیامت میں ہی ظاہر ہوں گے۔

(۲) سورۂ مریم میں تقریبا گیارہ انبیائے کرام علیہم السلام کا تذکرہ ہے:
تین انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر قدرے تفصیلی ہے:
۱۔ حضرت یحی علیہ السلام کی ولادت (اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا جسے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا)
۲۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت (اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انھیں بچپن میں ہی گویائی عطا فرمادی)
۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کو دعوت (شرک نہ کریں، اللہ نے مجھے علم دیا ہے میری بات مان لیں، شیطان کی بات نہ مانیں، وہ اللہ کا نافرمان ہے ، اس کے مانیں گے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔)

باقی آٹھ انبیائے کرام علیہم السلام کا یا تو بہت مختصر ذکر ہے یا صرف نام آیا ہے:
۴۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ۵۔حضرت ہارون علیہ السلام ۶۔حضرت اسماعیل علیہ السلام ۷۔حضرت اسحاق علیہ السلام ۸۔حضرت یعقوب علیہ السلام ۹۔حضرت ادریس علیہ السلام ۱۰۔حضرت آدم علیہ السلام ۱۱۔حضرت نوح علیہ السلام

(۳) سورۂ طٰہٰ میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ تسلی رسول
۲۔ حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ
۳۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ

۱۔ تسلی رسول:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت اور دعوت دونوں میں بے پناہ مشقت اٹھاتے تھے، راتوں کو نماز میں اتنی طویل قراءت فرماتے کہ پاؤں مبارک میں ورم آجاتا اور پھر انسانوں تک قرآن کے ابلاغ اور دعوت میں بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے تھے اور جب کوئی اس دعوت پر کان نہ دھرتا تو آپ کو بے پناہ غم ہوتا ، اسی لیے رب کریم نے کئی مقامات پر آپ کو تسلی دی ہے، یہاں بھی یہی سمجھایا گیا کہ آپ اپنے آپ کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں، اس قرآن سے ہر کسی کا دل متاثر نہیں ہوسکتا ، یہ تو صرف اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہو۔

۲۔ حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ:
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو حالات اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں ان کو ذہن نشین کرنے کے لیے چند عنوانات قائم کیے جاسکتے ہیں، یعنی باری تعالیٰ کے ساتھ شرفِ ہم کلامی ، دریا میں ڈالا جانا، تابوت کا فرعون کو ملنا، پوری عزت اور احترام کے ساتھ رضاعت کے لیے لیے حقیقی والدہ کی طرف آپ کو لوٹا دینا، آپ سے ایک قبطی کا قتل ہونا لیکن اللہ کا آپ کو قصاص سے نجات دلانا، آپ کا کئی سال مدین میں رہنا، اللہ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم، فرعون کے ساتھ موعظہ حسنہ کے اصول کے تحت مباحثہ، اس کا مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کرنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح، ساحروں کا قبولِ ایمان، راتوں رات بنی اسرائیل کا اللہ کے نبی کی قیادت میں مصر سے خروج، فرعون کا مع لاؤ لشکر تعاقب اور ہلاکت ، اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کا ناشکراپن ، سامری کا بچھڑا بنانا اور اسرائیلیوں کی ضلالت، تورات لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طور سے واپسی اور اپنے بھائی پر غصے کا اظہار ، حضرت ہارون علیہ السلام کا وضاحت کرنا وغیرہ۔

۳۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ:
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر مسجودِ ملائک بنایا ، سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا اب یہ تمھارا اور تمھاری بیوی کا دشمن ہے ، جنت میں رہو یہاں آرام ہی آرام ہے نہ تم بھوکے ہوتے ہو نہ ننگے ، نہ پیاسے ہوتے ہو نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتے ہو بس فلاں درخت کے قریب نہ جانا، مگر شیطان نے وسوسہ پیدا کیا ، حضرت آدم و حواء علیہما السلام نے شجرِ ممنوع میں سے کچھ کھالیا ، اللہ نے انھیں جنت میں سے نکال دیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اللہ نے انھیں معاف فرمایا دیا۔

14/06/2016

پندرھواں پارہ
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ بنی اسرائیل مکمل
۲۔ سورۂ کہف کا زیادہ تر حصہ

(۱) سورۂ بنی اسرائیل میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ واقعہ معراج
۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ وفساد
۳۔ اسلامی آداب و اخلاق
۴۔ دیگر مضامین

۱۔ واقعہ معراج:
معراج جسمانی ہوئی اور جاگنے کی حالت میں۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔
۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ و فساد:
بنی اسرائیل کو پہلے سے بتادیا گیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تو بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا گیا، دوسری بار حضرت زکریا اور یحیٰ علیہما السلام کو شہید کردیا تو بابل کا بادشاہ ان پر مسلط ہوگیا۔
۳۔ اسلامی آداب و اخلاق: (آیات: ۲۳ تا ۳۹)
اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو، مال کو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ، نہ بخل کرو، نہ ہاتھ اتنا کشادہ رکھو کہ کل کو پچھتانا پڑے، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو، یتیم کے مال میں ناجائز تصرف نہ کرو، وعدہ کرو تو اسے پورا کرو، ناپ تول پورا پورا کیا کرو، جس چیز کے بارے میں تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
۴۔ دیگر مضامین:
قرآن کریم کی عظمت ، اس کے نزول کے مقاصد، اس کا معجزہ ہونا، اللہ کی طرف سے انسان کو تکریم دیا جانا ، اسے روح اور زندگی جیسی نعمت کا عطا ہونا، نبی علیہ السلام کو نمازِ تہجد کا حکم، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ ، قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی حکمت، اللہ تعالیٰ کا شریک اور اولاد سے پاک ہونا اور اسمائے حسنی کے ساتھ متصف ہونا۔

(۲) سورۂ کہف کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ دو قصے
۲۔ دو مثالیں

۱۔ دو قصے:
پہلا قصہ اصحاب کہف کا: یہ وہ چند صاحب ایمان نوجوان تھے جنھیں دقیانوس نامی بادشاہ بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، وہ ہر ایسے شخص کو قتل کردیتا تھا جو اس کی شرکیہ دعوت کو قبول نہیں کرتا تھا، ان نوجوانوں کو ایک طرف مال و دولت کے انبار ، اونچے عہدوں پر تقرر اور معیارِ زندگی کی بلندی جیسی ترغیبات دی گئیں اور دوسری طرف ڈرایا دھمکایا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں، ان نوجوانوں نے ایمان کی حفاظت کو ہر چیز پر مقدم جانا اور اسے بچانے کی خاطر نکل کھڑے ہوئے، چلتے چلتے شہر سے بہت دور ایک پہاڑ کے غار تک پہنچ گئے، راستے میں ایک کتا بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا، انھوں نے اس غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا، وہ جب غار میں داخل ہوگئے تو اللہ نے انھیں گہری نیند سلادیا، یہاں وہ تین سو نو سال تک سوتے ہرے، جب نیند سے بیدار ہوئے تو کھانے کی فکر ہوئی، انمیں سے ایک کھانا خریدنے کے لیے شہر آیا، وہاں اسے پہچان لیا گیا، تین صدیوں میں حالات بدل چکے تھے، اہلِ شرک کی حکومت کب کی ختم ہوچکی تھی اور اب موحد برسر اقتدار تھے، ایمان کی خاطر گھربار چھوڑنے والے یہ نوجوان ان کی نظر میں قومی ہیروز کی حیثیت اختیار کرگئے۔
دوسرا قصہ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا: اس کا ذکر اگلے پارے کے شروع میں ہوگا۔

۲۔ دو مثالیں:
پہلی مثال: دو شخص تھے، ایک کے باغات تھے اور دوسرا غریب تھا، باغات والا اکڑتا تھا، غریب نے کہا اکڑ نہیں ماشاء اللہ کہا کر، وہ نہ مانا اللہ کا عذاب آیا اور اس کے باغات جل گئے وہ شرمندہ ہوگیا۔
دوسری مثال: دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی برسا، زمین سرسبز ہوگئی، کچھ عرصے بعد سب کچھ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا۔

Address

Amilo
Mubarakpur

Telephone

+919044109013

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maktaba Al-Badr posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category