Gareeb Nawaz welfare society

Gareeb Nawaz welfare society Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gareeb Nawaz welfare society, Tapper pattan baramulla, Pattan.

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN BARAMULLA


Call freely or what's app on
7780904881-9906801351

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE
All types of vehicle insurance available bike🚲 car 🚘bus 🚍truck🚛 sumo

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN BARAMULLA Call freely or what's app on 7780904881-9906801351ATZ ONLINE INSURAN...
25/01/2026

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN BARAMULLA

Call freely or what's app on
7780904881-9906801351

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE
All types of vehicle insurance available bike🚲 car 🚘bus 🚍truck🚛 sumo tipper taxi 🚕tractor🚜
Full insurance and third party insurance available from all companies
24x7 online service available
Complete online facilities available
Online inspection
Online insurance policy
Online claims

Online payment
Need not to disturb your schedule get zero dip bumper to bumper insurance comprehensive insurance and third party insurance easily

Travel✈️️ insurance
Health insurance
Life insurance available
House🏠 shop building🏢 insurance available
Transportation insurance of goods
Cattle cow🐄 sheep 🐑poultry insurance available
Please call freely on 7780904881-9906801351-6006049571
Just click link to connect on what's app

https://whatsapp.com/dl/
https://advisor.turtlemint.com/profile/217310/ATZ_INSURANCE_ONLINE_OFFICE

https://www.pbpartners.com/v2/partner/IP132572

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE Call freely or what's app on 7780904881-9906801351ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE PATTANATZ ONLI...
20/01/2026

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE

Call freely or what's app on
7780904881-9906801351

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE PATTAN

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE
All types of vehicle insurance available bike🚲 car 🚘bus 🚍truck🚛 sumo tipper taxi 🚕tractor🚜
Full insurance and third party insurance available from all companies
24x7 online service available
Complete online facilities available
Online inspection
Online insurance policy
Online claims

Online payment
Need not to disturb your schedule get zero dip bumper to bumper insurance comprehensive insurance and third party insurance easily

Travel✈️️ insurance
Health insurance
Life insurance available
House🏠 shop building🏢 insurance available
Transportation insurance of goods
Cattle cow🐄 sheep 🐑poultry insurance available
Please call freely on 7780904881-9906801351-6006049571
Just click link to connect on what's app

https://whatsapp.com/dl/
https://advisor.turtlemint.com/profile/217310/ATZ_INSURANCE_ONLINE_OFFICE

https://www.pbpartners.com/v2/partner/IP132572

31/10/2025

‏ماں نے بارہ سال کے بیٹے کو سکول کے لیے تیار کیا ناشتے کرنے کے بعد اسکا لنچ اسکے بیگ میں ڈالا جو ایک جوس پراٹھا اور آملیٹ پہ مشتمل تھا۔ بچے نے بیگ اٹھایا اور ماں نے زمین پہ بیٹھ کر اسکو سینے سے لگا کر پیار کیا

اس نے ماں کے کان میں ہلکے سے کہا

" مما آج میں لیٹ آونگا "

" وہ کیوں میرے چندا"
ماں نے واری جاتے اسکے چہرے پہ بوسہ دیتے ہویے مسکرا کر پوچھا

" مما میں نے آج خدا کو ڈھونڈنا ھے اسلیے میں دیر سے آونگا "

" میرے جگر کے ٹوٹے خدا کو تم کیسے ڈھونڈوں گے وہ تو نظر نہیں آتا ناں "

ماں نے شفقت سے اپنے معصوم بچے کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہویے کہا لیکن بچے نے کوئی جواب نہیں دیا اور دوڑ کر باہر گیٹ کی طرف چلا گیا۔ اور اسے بھاگتے ہوئے دیکھتی ماں مسکرا دی۔

سکول سے واپس کے بعد بچے نے ایک بینچ پہ ایک غریب بوڑھی اماں جی کو دیکھا جو پریشان بیٹھی ہوئی تھی۔ بھوک اور غربت اسکے چہرے پر عیاں تھی۔ بارہ سال کا بچہ اسکے پاس بینچ پہ بیٹھ گیا اور اپنا ناشتہ نکال لیا۔
اس بوڑھی مسکین اماں جی نے ترستی ہوئ نگاہوں سے روٹی کی طرف دیکھا اور اپنا منہ دوسری طرف کر کے بھوک چھپانے لگی۔

بارہ سال کے معصوم نونہال نے پراٹھے کو ہاتھ میں پکڑا اور کچھ سوچا پھر اس نے پراٹھا اور آملیٹ بڑھا کر بوڑھی مسکین لاچار اور غریب اماں جی کی طرف بڑھا دی۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ ، بوڑھی اماں جی نے مسکرا کر وہ قبول کرلیا۔ اسکے بعد بارہ سال کے معصوم فرشتہ نما بچے نے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ہنستے مسکراتے ہویے جوس کی بوتل بیگ سے برآمد کرلی جیسے آلہ دین کے چراغ سے جن برآمد ہوتا تھا۔اس نے ننھے ہاتھوں سے پورا زور لگا کر جوس کا ڈھکن کھولا اور بڑھا کر اس مسکین عورت کو مسکراتے ہویے دیکھا۔

بوڑھی عورت بھوکی بھی تھی اور پیاس کی ستائی ہوئی بھی اس نے ایک ہی سانس میں سارا جوس پی لیا۔ کھانا کھاتے بوڑھی اماں بچے کو دیکھتی اور بچہ بوڑھی کو۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ۔

کھانا ختم کرنے کے بعد بچے نے اپنا بیگ اٹھایا اور گھر کی طرف چلتا بنا

گھر پہنچ کر دروازے پہ گھنٹی بجایی تو ماں نے مسکرا کر اسکو بانہوں میں بھر لیا ماں نے اسکے گال پہ پیار کیا اور پوچھا

" میرے لال کو اج خدا ملا کہ نہیں "

" ہاں مما خدا ایک عورت ہے وہ بہت اچھی ہے اور جب وہ مسکراتی ہے تو اپ کی طرح لگتی ہے بلکہ خدا کی مسکراہٹ تو آپ سے بھی زیادہ پیاری ہے"

______________

دوسرا سین

بوڑھی اماں جی پراٹھا انڈہ کھا کر بینچ سے اٹھی اور اپنی راہ لی چلتے چلتے بوڑھی اماں کافی تھک گئ تھی تو وہ ایک جگہ بینچ پر بیٹھ گئیں جہاں مزید ایک عورت بیٹھی ہوئ تھی۔

بوڑھی اماں کافی خوش تھی اور مسکرا رہی تھیں

" آپ کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہی " پہلے سے موجود عورت نے بوڑھی اماں سے پوچھا

" ہاں میں آج کافی خوش ہوں پتہ ہے آج میں نے خدا کے ساتھ ملکر بہت اچھا لنچ کیا ہے۔ تمہیں پتہ ہے خدا دراصل ایک معصوم بچہ ہے بہت ہی پیارا اور چھوٹا سا۔ میری توقعات سے بھی چھوٹا بچہ اتنا مہربان "
__________________

تیسرا سین

قیامت کا منظر ہے

آقائے دو جہاں رحمت اللعامین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہیں اپنی امت کی شفاعت کے لیے۔

اسی دوران اللہ جل و شان ایک انسان کو بلایے گا اور اس سے شکوہ کرے گا

" میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا "
" میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی "
" میں حاجت مند تھا تم نےمیری حاجت پوری نہیں"

وہ انسان کہے گا

"یا اللہ آپ کی عیادت یا بھوک یا حاجت میں کیسے پوری کرسکتا تھا آپ کو کہاں ڈھونڈتا آپ تو خود حاجت پوری کرنے والی ذات ہیں"

اللہ فرمایے گا

" میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو اسکی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ بھوکا تھا تو اسکو کھانا کھلاتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ حاجت مند تھا تم نے اسکی حاجت پوری کی ہوتی تو تم مجھے اسکے پاس پاتے

تم نے مجھے کھبی ڈھونڈنے کی کوشیش ہی نہیں کی میں تم سے بڑا ناراض ہوں ۔

اس بارے میں ضرور سوچیں کہ آپ کا رویہ کیسا ہے دوسروں کے ساتھ ان کی ضرورت کے وقت ؟؟

مزہ تب ہے جب آپ خود مجبور ہو کر بھی کسی کی مدد کریں..!!

# # #@ like share and follow our page

28/10/2025

Qoute of the day

ایک سبق آموز دلچسپ واقعہ:
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقلمندی، سمجھداری اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ جو اپنے مالکوں اور مظلوموں کے حق میں ہونے والے ظلم کو دور کرنے میں کام آتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک مقدمہ حل کیا جو بہت ہی کھٹن مقدمہ تھا۔۔۔۔
کہ دو آدمی ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے۔ ان میں سے ایک نیک دل تھا اور دوسرا چلاک تھا۔ لیکن نیک دل پڑوسی اس بات سے بے خبر تھا۔ کہ اسکا پڑوسی مکار اور دھوکے باز ہے۔ ایک دن چلاک پڑوسی ایک مصیبت میں پڑ گیا اسکے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ تو وہ اپنے پڑوسی کے گھر قرض مانگنے گیا۔ لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا۔ حالانکہ کے اسکے پڑوسی کی بیوی نے اسے بتایا کہ اسکا شوہر صبح سے کام پر گیا ہے۔ اور ابھی تک لوٹا نہیں۔ تو وہ پڑوسی سیدھے اپنے پڑوسی کی طرف سیدھے اس کے کام پر چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے اپنا پڑوسی کام سے لوٹتے وقت دیکھائی دیا۔۔۔۔۔۔
اس نے اسے روکا اور کہا۔ کہ میں بہت سخت مصیبت میں ہوں۔ مجھے دو ہزار درہم قرض دے دو۔ تو نیک دل پڑوسی نے بنا کسی ڈر کے اسے ایک اچھا قرض دینے کا ارادہ کیا۔ پاس ہی ایک کجھور کا درخت تھا۔ نیک دل پڑوسی نے اسے کہا کہ کل انشاءاللّٰہ میں دو ہزار درہم کا انتظام کر دوں گا۔ تم سے یہی اس کجھور کے درخت کے پاس ملاقات ہو گی۔ اگلے دن نیک پڑوسی وعدے کے مطابق وہاں پہنچا اس نے دو ہزار درہم اکٹھا کر کے اپنے پڑوسی کو دے دئیے۔ بدقسمت پڑوسی نے کہا میں یہ رقم تین مہنوں میں لوٹا دوں گا۔ نیک دل پڑوسی نے کسی قسم کی شرط یا ثبوت نہیں لیا۔۔۔۔
تین مہنے بعد نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی سے دو ہزار درہم لینے گیا۔ مگر وہ پڑوسی صاف مُکر گیا۔ نیک دل پڑوسی حیران رہ گیا۔ نیک دل پڑوسی نے اپنے دل میں سوچا کہ ہم ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ جہاں بھلائی کو برائی سے لوٹا جاتا ہے اور برائی کو بھلائی سے لوٹا جاتا ہے۔ مگر نیک دل پڑوسی کو نور الدین قاضی کی انصاف پسندی اور مضبوط ضمیر کا علم تھا۔ اس نے سوچا اس معاملے کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔
نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر عدالت پہنچ گیا۔ جب اس نے قاضی نورالدین کے سامنے اپنا سارہ حال بیان کیا۔ تو قاضی نے اپنے سپاہی کو حکم دیا کہ اس پڑوسی کو بلایا جائے۔۔۔۔
جب وہ پڑوسی آیا تو قاضی نورالدین نے اس سے پوچھا کہ تمہارا پڑوسی دعوا کرتا ہے کہ اس نے تمہیں دو ہزار درہم قرض دیا ہے۔
کیا یہ دعوا سچ ہے؟ اس بدتمیز پڑوسی نے صاف انکار کر دیا اس نے کہا کہ جناب میں نے اپنے پڑوسی سے کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اسکا دعوا جھوٹا ہے۔ تو نورالدین نے نیک پڑوسی کی طرف رخ کر کے کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہ یا ثبوت ہے۔ نیک پڑوسی نے کہا نہیں حضور۔
جب میں نے اسے قرض دیا تھا تو میں نے اس پر بھروسہ کیا۔ اسوقت میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا پڑوسی میرے حق سے مجھے اسطرح محروم کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔
قاضی نورالدین کچھ دیر سوچ میں پڑ گئے کہ اگر تمہاری بات سچ ہے۔ تو جاؤ جہاں تم نے اسے قرض دیا تھا۔ اسی جگہ سے مُٹھی بھر مٹی لے کر آؤ۔ نیک پڑوسی حیران ہوا اور ادب سے چُپ چاپ چلا گیا۔ جب دیر ہو گئی تو وہ واپس نا آیا۔ تو قاضی نورالدین نے اس بد چلن پڑوسی کی طرف دیکھا اور اچانک پوچھا۔ کہ تمہارا پڑوسی اتنی دیر کیوں کر رہا ہے۔ کیا تم جانتے ہو؟ بِنا سوچے سمجھے اس بدتمیز پڑوسی نے جواب دیا۔
جناب وہ جگہ یہاں سے کافی دور ہے۔ قاضی مُسکرائے اور بولے کہ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم وہ جگہ جانتے ہو۔ اگر تم نے وہاں کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اب صاف ہو گیا کہ تمہارے پڑوسی کا دعوا سچ ہے۔ اسطرح قاضی نورالدین نے حق دار کا حق ثابت کیا۔ اور حکم دیا کہ اس قرض دار کو قید کیا جائے۔ جب تک وہ دو ہزار درہم واپس نا لوٹا دے۔

Like share and follow our page

Address

Tapper Pattan Baramulla
Pattan
193121

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gareeb Nawaz welfare society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Gareeb Nawaz welfare society:

Shortcuts

Share