Islamic research

Islamic research Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic research, Shahpur.

24/02/2026
04/02/2026

Yes or no

Sultan Saleem
19/12/2025

Sultan Saleem

رات کی آخری ساعتیں تھیں، آسمان کے نیچے خاموشی پھیلی ہوئی تھی، اور ایڈرنہ کے محل کی راہداریوں میں ایک نوجوان شہزادہ کھڑا دور کہیں آسمان کی تاریک وسعتوں میں دیکھ رہا تھا۔ سرد ہوا اُس کے لباس کے دامن کو ہلاتی تھی مگر اُس کی نظریں بے حرکت تھیں۔ اس کی آنکھوں میں عجیب طرح کی چمک تھی — ایک ایسی چمک جو اندر چھپے طوفان کی خبر دے رہی تھی، وہ طوفان جس نے آنے والے برسوں میں تین عظیم سلطنتوں کے تخت ہلا دینے تھے۔ یہ شہزادہ سلیم تھا… ایک ایسا جوان جس کے بارے میں اُس وقت بہت کم لوگ جانتے تھے کہ وہ تاریخ کے دھارے کا رُخ بدلنے والا ہے۔

بچپن سے ہی سلیم خاموش مزاج تھا۔ دوسرے شہزادوں کی طرح شوق، موج مستی، بے فکری یہ سب چیزیں اس کی ذات میں کم ہی نظر آتی تھیں۔ وہ زیادہ وقت محل کی بالکونیوں میں کھڑا دور کی زمینوں کو تکتا رہتا یا سپاہیوں کی مشقیں دیکھتا۔ کبھی کبھی وہ محل کی پرانی لائبریری میں بیٹھ کر جنگی حکمتِ عملی کی کتابیں کھول کر گھنٹوں پڑھتا رہتا۔ اس کے استاد کہتے تھے کہ سلیم بہت کم بولتا ہے مگر جب سنتا ہے تو پورا سنتا ہے، جب سوچتا ہے تو پورا سوچتا ہے، اور جب فیصلہ کرتا ہے تو پھر اس کے راستے میں کوئی نہیں آ سکتا۔

ان دنوں عثمانی سلطنت ایک دو راہے پر کھڑی تھی۔ بایزید دوم — سلیم کا باپ — نرم مزاج آدمی تھا۔ وہ جنگوں سے بچ کر چلنے والا، صلح کو ترجیح دینے والا، اور مزاج میں نرمی رکھنے والا حکمراں تھا۔ مگر دنیا تیزی سے بدل رہی تھی۔ صفوی ایران مشرق میں طاقتور ہو رہا تھا، اسماعیل شاہ اپنی دینوی طاقت اور کرشماتی شخصیت سے بے شمار قبائل کو ملا رہا تھا۔ جنوب میں مملوکوں کی حکومت بظاہر مضبوط تھی مگر اندر سے کمزور ہو چکی تھی۔ یورپ میں بھی تحریکیں اٹھ رہی تھیں اور سلطنت کے اندر امراء کے درمیان اختلافات بڑھ رہے تھے۔ یہ سب کچھ سلیم دن بہ دن دیکھتا رہا، خاموشی سے، بغیر کسی اظہار کے… لیکن اس کا دل جانتا تھا کہ آنے والا وقت نرم حکمرانوں کا نہیں، لوہے کے لوگوں کا ہے۔

سلیم نے پہلی بار تخت کی طرف قدم اُس وقت بڑھایا جب اسے یقین ہو گیا کہ اگر وہ نہ اٹھا تو عثمانی سلطنت گرتی تسلطی طاقتوں کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ اُس نے نہ اپنے بھائیوں کی پروا کی، نہ باپ کی نرمی کی۔ اس کے دل میں ایک ہی جذبہ تھا — ریاست کا تحفظ۔ جب اُس نے اعلان کیا کہ وہ شاہزادہ نہیں بلکہ سلطان بننا چاہتا ہے تو پورے دربار میں سناٹا چھا گیا۔ بہت سے لوگ اس کے خلاف اٹھے، کچھ نے اسے روکا، کچھ نے اس پر طنز کیے، کچھ نے اسے کم عمر اور کم تجربہ سمجھ کر نظر انداز کیا، مگر سلیم ان سب کے پیچھے چھپی حقیقت دیکھ چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ ایک قدم نہ بڑھاتا تو آنے والا وقت عثمانیوں کے لیے اندھیرا لاتا۔

تخت کے لیے ہونے والی جنگ بہت خاموش مگر بہت سخت تھی۔ باپ کے خلاف کھڑا ہونا آسان نہیں تھا مگر سلیم نے یہ فیصلہ لیا اور آخر کار سلطنت کے امیروں، جرنیلوں اور فوج نے اُس کی قیادت کو مان لیا۔ یہاں تک کہ خود بایزید نے بھی تخت اُس کے حوالے کر دیا۔ تاریخ کی سب سے اداس سطور میں سے ایک یہ ہے کہ سلطان بایزید، جو کبھی اپنی نرم طبیعت کی وجہ سے پسند کیا جاتا تھا، تخت چھوڑنے کے 32 دن بعد ہی سفر کے دوران وفات پا گیا۔ کہتے ہیں اُس کے دل نے شکست کو برداشت نہ کیا۔

جیسے ہی سلیم تخت پر بیٹھا، اس نے وقت ضائع کیے بغیر پہلا قدم مشرق کی طرف بڑھایا۔ اس کی نگاہیں ایران پر تھیں۔ شاہ اسماعیل ایک عظیم جنگجو تھا، اس کے ماننے والے اسے آسمانی نمائندہ سمجھتے تھے۔ وہ بے پناہ مقبول تھا، تیز رفتار سواریاں، بہادر سپاہی، اور دنیا کی بہترین گھڑ سوار فوج اس کے ساتھ تھی۔ مگر سلیم نے اپنی سلطنت کو اس خطرے سے پاک کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

چالدران کے میدان میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے تو فضا میں عجیب کیفیت تھی۔ صفوی سپاہی تلواروں اور تیروں کے ساتھ تھے، عثمانی فوج جدید توپوں اور بندوق برداروں کے ساتھ۔ شاہ اسماعیل کو یقین تھا کہ عثمانی فوج اس کی رفتار کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے گی، مگر وہ توپوں کے قہر کا اندازہ نہیں لگا پایا۔ جیسے ہی عثمانی توپیں پوری طاقت کے ساتھ چلیں، میدان جنگ لرز گیا۔ صفوی صفیں ٹوٹتی گئیں، ان کے گھڑ سوار زمین پر گرنے لگے، اور شاہ اسماعیل زخمی ہو کر پسپا ہوا۔ چالدران کی فتح نے صرف ایک جنگ کا فیصلہ نہیں کیا… اس نے پورے مشرق کا مستقبل طے کر دیا۔ تبریز فتح ہوا، شاہی محلات، خزانے اور ریاستی اثاثے عثمانیوں کے ہاتھ آئے، اور سب سے اہم بات — صفوی سلطنت کی پہلی بڑی شکست نے ان کے غرور کو چُور کر دیا۔

مگر سلیم ابھی رکا نہیں تھا۔

مشرق کے بعد اس نے جنوب کا رخ کیا۔ مملوک سلطنت ایک وقت میں عظیم سمجھی جاتی تھی مگر اب اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ ان کی فوج پرانی، جنگی حکمت عملی فرسودہ اور قیادت کمزور ہو چکی تھی۔ سلیم نے شام کی طرف پیش قدمی کی اور مرج دابق کے میدان میں مملوکوں کا سامنا کیا۔ صرف ایک دن کی لڑائی میں مملوک صفیں بکھر گئیں اور شام عثمانیوں کے ہاتھ آگیا۔ اس فتوحات نے مصر کا راستہ کھول دیا۔

قاہرہ کی طرف بڑھنا آسان نہ تھا۔ نیل کے کنارے کی وادیاں، سخت راستے، صحرا کی گرمی — سب کچھ اس سفر کو بھاری بناتا تھا۔ مگر سلیم کا عزم لوہے سے زیادہ سخت تھا۔ جب عثمانی فوجیں قاہرہ کے باہر پہنچیں تو مملوکوں نے آخری دفاعی کوشش کی، مگر عثمانی توپیں اور منظم فوج اس طاقت کو بھی روند گئیں۔ ریڈانیہ کے قریب جو آخری جنگ ہوئی، وہ مملوک سلطنت کے ہزار سالہ سفر کا آخری باب تھی۔ اس جنگ کے بعد قاہرہ کے دروازے عثمانیوں پر کھل گئے۔

قاہرہ میں داخل ہونے کے بعد وہ لمحہ آیا جس نے تاریخ کا تازہ ترین ورق بدل دیا۔ عباسی خلیفہ المتوکل سلیم کے سامنے لایا گیا۔ وہ خاندان جس کے پاس صدیوں سے خلافت کی علامتیں تھیں — پرچم، چادرِ رسول ﷺ، تلوارِ مبارک — اب وہ سب سلطان سلیم کے سپرد کیا جا رہا تھا۔ خلیفہ نے یہ نشانیاں اسے سونپ کر اعلان کیا کہ اسلامی دنیا کی قیادت اب عثمانیوں کے پاس ہوگی، اور سلیم کو لقب دیا گیا: “خادم الحرمین الشریفین”۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عثمانیوں کی سیاسی طاقت مذہبی اختیار میں بدل گئی، اور سلیم صرف سلطان نہیں رہا — وہ پوری امت کا رہنما بن گیا۔

مگر اس طاقت کے باوجود اس کی شخصیت میں غرور نہیں تھا۔ وہ سخت تھا، بے حد سخت — اسی لیے اسے “یَوُز” کہا جاتا ہے۔ مگر اس کی سختی دشمنوں کے لیے تھی، رعایا کے لیے نہیں۔ وہ انصاف کا پکا تھا، سزا میں تاخیر کا قائل نہیں تھا، اور بدعنوانی کے خلاف حد سے زیادہ حساس تھا۔ اس کا ایک جملہ مشہور ہے: “ریاست تلوار سے نہیں، انصاف سے قائم ہوتی ہے”۔ اور واقعی، اس نے اپنے چھوٹے سے دورِ حکومت میں انتظامی اصلاحات کیں، فوج کو مضبوط کیا، اور سلطنت کے وسیع حصوں کو ایک لائن میں جوڑا۔

لیکن دنیا کی طرح طاقت بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ سلیم کی صحت آہستہ آہستہ خراب ہونے لگی۔ وہ فطری طور پر مضبوط تھا مگر مسلسل مہمات، سفر، جنگیں اور ذہنی دباؤ نے اس کے جسم کو کمزور کر دیا۔ 1520 میں، صرف 49 سال کی عمر میں، وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسے استنبول میں دفن کیا گیا، اور اس کی قبر آج بھی اس عظیم حکمران کی خاموشی سے گواہی دیتی ہے۔

اس کی حکومت صرف آٹھ سال کی تھی، مگر ان آٹھ سالوں نے تین براعظم بدل دیے۔ مشرق کو نئی طاقت دی، جنوب کو نئی قیادت، اور اسلامی دنیا کو نئی وحدت۔ سلطان سلیم اوّل وہ نام ہے جس کے بغیر عثمانیوں کی عظمت کا تصور مکمل نہیں ہوتا۔

゚ #سلجوق #سلطنت #عثمانیہ

Jung e Alees
19/12/2025

Jung e Alees

جنگَ الیس

اس شکست نے جو قبیلہ بکر بن وائل کو اپنے ہم قوم اور ہم وطن لوگوں کے ہاتھوں کے اٹھانی پڑی تھی عراق کے عربی النسل عیسائیوں کو آتش زیر پا کر دیا۔ انہوں نے طیش میں آ کر مسلمانوں سے ایک بار پھر جنگ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اپنا سردار بنو عجلان کے ایک شخص عبد السود عجلی کو بنایا اورحیرہ و ابلہ کے درمیان مقام الیس پر فوجیں اکٹھی کرنے لگے۔ ساتھ ہی دربار ایران سے مدد کی درخواست بھی کی۔ وہاں سے بہن جازویہ کو حکم ملا کہ وہ بھاری جمعیت لے کر عیسائیوں کی مدد کو پہنچے۔ یہ احکا م ملنے پر بہمن جاذویہ نے مناسب خیال کیا کہ وہ مسلمانوں سے فیصلہ کن مقابلہ کرنے کے لیے شہنشاہ اردشیر سے بالمشافہ گفتگو کرے۔ اس نے فوج کی کمان ایک سردار جابان کے سپرد کر کے اسے ہدایت کی کہ وہ فوج لے کر الیس جائے لیکن جہاں تک ممکن ہو دربا ر ایران سے اس کی واپسی تک جنگ کا آغاز نہ کیا جائے۔ خود وہ شہنشاہ سے مشورہ کرنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ شہنشاہ اردشیر بیمار ہے۔ وہ وہیں ٹھہر گیا لیکن جابان کو کوئی ہدایت نہ بھیجی۔ ادھر جابان نے الیس پہنچ کر عیسائی فوجوں کے متصل پڑائو ڈال لیا اور انہیں مسلمانوں پر حملہ کرنے کے متعلق مشورے دینے لگا۔
خالدؓ کو معلو م تھا کہ عیسائیوں کی مدد کے لیے ایرانیو ں کا لشکر بھی جابان کے زیر سرکردگی میدان جنگ میں موجود ہے۔ انہیں صرف عربی النسل عیسائیوں سے مقام الیس میں اجتماع کی خبر ملی تھی۔ وہ اپنا لشکر لے کر پہلے حفیر پہنچے اور یہ اطمینان کر نے کے بعد کہ ان کے مقرر کر دہ اعمال وہاں کا نظم ونسق کامیابی سے چلارہے ہیں اور پشت کی جانب سے کسی حملے کااندیشہ نہیں دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے۔ الیس پہنچتے ہی انہوں نے عیسائیوں کو موقع تیاری کا دیے بغیر ان سے لڑائی چھیڑ دی۔ یہ حملہ اس قدر اچانک ہوا کہ عیسائی بالکل نہ سنبھل سکے اور پہلے ہی ہلے میں ان کا سالار قیس بن مالک مارا گیا۔ جب جابان نے محسوس کیا کہ عیسائیوں کی صفوں میں اضطراب پیدا ہونے لگا ہے تو وہ ایرانی فوج کاایک دستہ لے کر آگے بڑھا اور جوش انگیز جملوں سے عیسائیوں کی ہمت بندھانے لگا اورانہیں جم کر مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرنے لگا۔ اس کے مقرر کیے ہوئے آدمی عیسائیوں کی صفوں میں اعلا ن کرتے پھرتے تھے کہ بہمن جازویہ ان کی مدد کے لیے عنقریب ایک لشکر جرار لے کر پہنچنے والا ہے۔ اس کے آنے تک پامردی سے مسلمانوں کامقابلہ جاری رکھیں اورتمام خطرات کو نظر انداز کر کے بہادروں کی طرح میدان جنگ میں ڈٹے رہیں۔ چنانچہ عیسائی سنبھل گئے اورانہوں نے بڑی جرات اور دلیری سے مسلمانوں کے پیہم حملوں کو روکنااور ان کا مقابلہ کرنا شروع کیا۔ یہ عزم و ثبات اور صبر و استقلال دیکھ کر خالدؓ حیران رہ گئے اور انہوں نے مسلمانوںکو جوش دلایا کہ وہ ایک بارپھر بھرپور طاقت سے دشمن پر حملہ شروع کر دیں۔
عیسائیوں کو لڑتے ہوئے بہت دیر ہو چکی تھی۔ ان کی امیدوں کا واحد سہارا بہمن جاذویہ تھا۔ کیونکہ اس کے آنے تک ایرانی فوج ان سے مل کر جنگ میں حصہ نہیں لے سکتی تھی۔ لیکن بہمن کا کہیں پتا نہ چتھا۔ جابان بھی حیران تھاکہ کیا کرے کیانہ کرے۔ ادھر مسلمانوں کا دباو برابر بڑھتا چلا جا رہا تھا اور ان کے مقابلے میں عیسائیوں کی کوئی پیش نہ جا رہی تھی۔ آخر دشمن کی طاقتوں مے جواب دے دیا۔ ایک ایک کر کے ان کی صفیں ٹوٹنے لگیںَ اور وہ میدان جنگ سے فرار ہونے لگے۔ خالدؓ نے یہ دیکھ کر فوج میں اعلان کر دیا کہ بھاگنے والوں کا تعاقب کیا جائے اور انہیں زندہ پکڑ کر ان کے سامنے حاضر کیاجائے۔ صرف اسی شخص کو قتل کیا جائے جو کسی طرح قابو میں نہ آیئ اور مزاحمت پر آمادہ ہو جائے۔ چنانچہ مسلمانو ں اور ان کے مددگار عراقی عربوں نے جو اسلامی فوج میں شامل تھے ایسا ہی کیا اور عیسائی گروہ در گروہ میدان جنگ میں لائے جانے لگے۔
جابان کی ایرانی فوجوں نے جنگ شروع ہونے سے پہلے کھانا تیار کیا تھا اور وہ اطمینان سے بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ مسلمان بلائے ناگہانی کی طرح ان پر آٓپڑے اور وہ کھانا اسی طرح چھوڑ کر فرار ہو گئے خالد ؓ نے اپنی فوج سے کہا:
’’یہ کھانا اللہ نے تمہارے لیے تیار کرایا تھا اب تم مزے سے اسے کھائو‘‘۔
مسلمان دستر ؒوانوں کے اردگرد بیٹھ کر اور کھانا شروع کر دیا۔ عجیب عجیب کھانے تھے جنہیں مسلمانوںنے کبھی دیکھ تھا نہ چکھا تھا۔ وہ کھاتے جاتے تھے اوراللہ کا شکر ادا کرتے جاتے تھے۔ جس نے انہیں بے مانگے ان نعمتوں سے نوازا تھا۔
الیس کے قریب دریائے فرات اور دریائے باوقلی کے سنگم پر ایک شہر امغیشیایا منیشیا آباد تھا جو آباد ی کی کثرت اور مال و دولت کی فراوانی میں حیرہ کا ہم پلہ تھا۔ اس کے باشندو ں نے بھی الیس کی جنگ میں عیسائیوں اور ایرانیوں کی مدد کی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد خالدؓ نے اس قصبے کا رخ کر کے اسے فتح کر لیا۔ یہاں سے بھی مسلمانوں کو کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا اورجس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ مال غنیمت میں ہر سوار کے حصے میں علاوہ ا پنے حصے کے جو اسے ملا تھا پندرہ سو درہم آئے۔
اس کے بعد خالدؓ نے مال غنیمت کا پانچواں حصہ اور ان جنگوں میں گرفتار ہونے والے قیدی حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں روانہ کر دیے۔ انہیں کے ہمراہ ہی بنی عجل کے ایک شخص جندل کو بھی بھیجاگیا جس نے الیس کی فتح مال غنیمت اور قیدیوں کی کثرت اور خالدؓ کے کارناموں کا حال بالتفصیل حضرت ابوبکرؓ سے بیان کیا۔ یہ واقعات سن کر انہوں نے فرمایا :
عورتیں اب خالدؓ جیسا شخص پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔

واللہ اعلم باالصواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
تاریخُ الطبری

فتوحُ البلدان

البدایہ والنہایہ

تاریخ ابنِ خلدون

فتوحُ العراق و الشام

الکامل فی التاریخ (ابنِ اثیر








Address

Shahpur

Telephone

+919760580260

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic research posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Islamic research:

Share