25/08/2026
سرحد یونیورسٹی واقعے سے جڑے چند کڑوے سچ
سرحد یونیورسٹی (راوت کیمپس) میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہمارے سیاسی و سماجی رویوں کا وہ المیہ ہے جہاں ’میرے پاس کون ہے‘ کا زعم، قانون اور اخلاقیات پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
یونیورسٹی کا ماحول اس وقت کشیدہ ہوا جب شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون خان ایڈووکیٹ اور یونیورسٹی کی ایچ آر مینیجر کے درمیان ایک معمولی انتظامی معاملے پر تکرار ہوئی۔ شاہدین کے مطابق ایچ آر مینیجر کا رویہ غیر مناسب تھا اور انہوں نے اپنے عہدے کا لحاظ رکھے بغیر گالیاں اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس نے معاملہ انتظامی حد میں سلجھانے کے بجائے مزید بڑھا دیا۔
ایچ آر مینیجر نے معاملات کو حل کرنے کے لیے ادارے کے طریقہ کار کو بائی پاس کیا اور پولیس کے ساتھ اپنے شوہر کو بلا لی جو کہ مسلح افواج کے ایک افسر ہیں۔ مذکورہ فوجی افسر اپنے نجی مسئلے کے لیے سرکاری وردی میں کیمپس پہنچے جہاں انہوں نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے رعب جمانا شروع کیا اور ہاتھ میں موجود لاٹھی سے ایک بے گناہ طالب علم پر تشدد کیا۔
ساتھی طالب علم پر تشدد دیکھ کر دیگر طلبہ ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے، فوجی افسر پر تشدد شروع کیا، انہوں نے جان چھڑانے کے لیے پسٹل نکال کر پہلے سیدھی اور پھر ہوائی فائرنگ کر دی۔
افائرنگ کے اس سنگین واقعے اور طلبہ کے احتجاج کے بعد ملٹری حکام نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوجی افسر کو تحویل میں لے لیا ہے اور قانونی کاروائی شروع کی ہے۔ اس پورے واقعے میں سب سے بڑا سبق ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے گھر، محلے یا دفتر کی ذاتی لڑائیوں میں اپنے افسر رشتہ داروں کو گھسیٹتے ہیں۔ جب آپ اپنے کسی شوہر، بھائی، یا بیٹے کی وردی اور رتبہ اپنی ذاتی انا اور ضد کی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں تو آپ ان کی عزت کا تماشہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ ایک معمولی سے انتظامی جھگڑے میں فوج یا پولیس کے افسر کو بلوا کر رعب ڈالنے کی کوشش نے نہ صرف اس خاتون کو رسوا کیا بلکہ ان کے شوہر کی ملازمت، عزت اور وقار کو بھی داؤ پر لگا دیا۔
یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جب اداروں میں انتظامی کمیٹیاں، ڈسپلنری بورڈز اور پولیس جیسے قانونی ادارے موجود ہیں تو پھر نجی مسائل میں اپنے بااثر عزیزوں کا تماشہ بنانے کی کیا تک بنتی ہے؟
سرکاری اور ملٹری افسران کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ سرکاری وردی صرف ایک لباس نہیں، بلکہ ریاست کا وقار اور ذمہ داری ہے۔
اگر آپ کو اپنے بچوں، بیوی یا رشتہ داروں کے ذاتی جھگڑوں میں پڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو سول کپڑے پہنیں اور اپنی وردی اتار کر جائیں۔
ایک باپ یا شوہر کی حیثیت سے جا کر بات چیت کرنا انسان کا حق ہو سکتا ہے، لیکن سرکاری وردی پہن کر، لاٹھی لہرانا اور پستول سے رعب جمانا شایان شان نہیں ہوتا۔ جب ایک افسر وردی میں ذاتی کاموں کے لیے سڑکوں یا کیمپسز میں غنڈہ گردی کرتا ہے تو اس سے پورے ادارے کا ایمج اور وقار مجروح ہوتا ہے۔