30/12/2022
السلام علیکم
محترمہ فاطمہ قمر صاحبہ! میرا ایک سادہ سا سوال ہے آپ سے جواب کا منتظر ہوں
میں چاہتا ہوں میرا بچہ سائنس کے کسی مضمون میں بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرے. کیونکہ تعلیم و تحقیق میں فرنگی ہم سے بہت آگے ہیں. اب اگر میرے بچے نے 16 جماعتیں اردو ذریعہ تعلیم کے ساتھ حاصل کی ہیں تو میرا بچہ بیرون ملک کتنا کامیاب ہو گا.
اور اسی طرح جو ہمارے بچے روس, بیلا روس اور چین وغیرہ میں طبیب بننے جاتے ہیں وہ وہاں اردو کے ذریعے تعلیم کیسے حاصل کریں گے.
جو وکلاء بارایٹ لاء کی تعلیم حاصل کرنے انگلستان جاتے ہیں وہ کیا کریں گے اور جو بچے انجینیئر بننے امریکہ, فرانس اور کینیڈا وغیرہ جاتے ہیں ان کا کیا بنے گا.
اور مزید یہ کہ پاکستان میں 100 فیصد صحافت اردو میں نہیں کئی انگریزی اخباروں کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی صحافت ہوتی ہے
محترمہ میں آپ کے مدلل جواب کا منتظر رہوں گا.
فلائیٹ لیفٹیننٹ ریٹائرڈ
عبدالرحمن ملک
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
____________________________ ہمارا جواب!
بہت شکریہ! اپ نے ہمارے پیغام کو غور سے پڑھا اس قابل سمجھا کہ پوری دنیا میں امریکہ ' برطانیہ' فرانس' جرمنی ' چین ترکی کوریا تمام ممالک میں تمام تعلیم اپنی قومی زبان میں دی جارہی ہے' اور یہ تمام ممالک ترقی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اسرئیل میں 1949 تک صرف بارہ یہودی عبرانی زبان جانتے تھے اج عبرانی اسرائیل کی تعلیمی عدالتی سرکاری زبان ہے۔۔۔۔
جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن اج سے سو سال پہلے تمام تعلیم بشمول میڈیکل و انجینرنگ کے اردو میں دے چکی ہے یہاں کے فارغ التحصیل نے دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا سکہ جمایا ہے۔ جب جامعہ عثمانیہ کے طلباء ایف ار سی ایس کرنے برطانیہ جاتے تھے تو وہاں کے ممتحن نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ جو بچے جامعہ عثمانیہ سے اتے ہیں وہ ہندوستان کی دیگر جامعات سے زیادہ قابل اور زہین ہے۔۔۔اس وجہ سے برطانیہ نے جامعہ عثمانیہ سے انے والے طلبا کا انٹری ٹیسٹ لینا بند کردیا تھا۔۔
سوال یہ ہے کہ کتنے فی صد پاکستانی امریکہ ' برطانیہ تعلیم کے لئے جاتے ہیں؟ اور کیا صرف پاکستان ہی کے طلباء وہاں پر حصوں علم کے لئے جاتے ہیں یا دیگر ممالک طلباء بھی وہاں پر تعلیم کے حصول کے لئے اتے ہیں؟ جو دیگر ممالک کے طلباء وہاں پر اتے ہیں کیا وہاں پر بھی انگریزی اسی طرح سے چمٹی ہوئی ہے جیسے پاکستان میں دن رات مسلط ہے؟ جو بچہ سولہ سال یہاں انگریزی سیکھتا ہے یہ انگریزی اس کی جاپان' جرمنی' فرانس ' ترکی' ایران ' جرمنی اور دیگر ممالک جا کر کس کام کی۔۔۔ جب ہمارے بچے جو نصف فیصد سے بھی کم ہیں وہ ان ممالک میں
جا کر ان ممالک کا سال کا کورس کرتے ہیں پھر وہاں کی جامعات داخلہ لیتے ہیں ہمارے شاگرد نے جرمنی ' فرانس' چین جا کر وہاں کی زبان کی سیکھی اور آگے داخلہ لیا!! جو طلباء ان ممالک کی زبان سیکھ سکھ کر تعلیمی عمل جاری رکھ سکتے ہیں تو وہ امریکہ و برطانیہ جا کر بھی انگریزی کے کورس کرسکتے ہیں۔۔پوری دنیا میں غیر ملکی زبان کے کورس کروائے جاتے ہیں اسے مسلط نہیں کیا جاتا اگر انگریزی ایک لاکھ پاکستانیوں کی ضرورت ہے تو وہ انگریزی ضرور سیکھے۔ لیکن اسے بائس کروڑ پاکستانیوں پر مسلط کرنا سراسر توہین عدالت' توہین عوام ' بنیادی انسانی حقوق کی نفی' قرانی تعلیمات اور نفسیات کے اصولوں سے بغاوت ہے۔۔
جو پاکستانی یہاں سے او لیول کر کے برطانیہ و امریکہ جاتے ہیں وہ کونسے وہاں جا کر اعلی افسر لگ جاتے ہیں ان کو تو درجہ چہارم سے بھی کم کی ملازمت ملتی ہے تو کیا پاکستان کے تعلیمی ادارے ان ممالک کے لئے پڑھے لکھے سستے مزدور تیار کرنے کی فیکٹریاں ہیں؟ لمز جو پاکستان کا انتہائی مہنگا ترین تعلیمی ادارہ ہے وہاں کا گریجویٹ امریکہ میں انگریزی کے ٹیسٹ میں فیل ہوگیا اور پاکستان ا کر ایک بڑے ادارے کا سربراہ لگ گیا تو پاکستان میں غلط سلط انگریزی
نا اہلیت' بدعنوانی کو چھپانے کا ذریعہ ہے۔ انگریزی مسلط کا تعلق قطعا علم اور سائنس کے فروغ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی انگریزی مسلط کرنے کے جد امجد نے اسے اس مقصد کے لئے برصغیر پر مسلط کیا۔ اس نے انگریزی مسلط کرتے ہوئے کہا تھا کہ انگریزی کے تسلط سے ہمیں بے چون چراں غلاموں کی ایک کھیپ ملے گی جو برطانیہ کے کی حکومت کے لئے معاون ثابت ہونگے !
فا طمہ قمر مرکزی صدر'شعبہ خواتین پاکستان قومی زبان تحریک