02/09/2026
ملی شہید مولانا خانزیب کی سوانح عمري/حالات زندگی 1980تا 10جولائی2025
مولانا خانزیب ولد شیخ خانہ گل
قوم پشتون ، ترکھانی، سلارزے، شومہ خیل، شیخان
تاریخ پیدائش: 1980
میٹرک: گورنمنٹ ہائی سکول نواگئی
دینی تعلیم:
- 1992/ سے 1998
تک باڑہ گیٹ پشاور میں مولانا عبید اللہ چترالی شہید کی مدرسہ کے طالب علم رہے۔
( 1999)
میں مولانا حسن جان شہید کی مدرسہ "امداد العلوم" و مسجد درویش، صدر پشاور سے دینی علوم سے فراغت حاصل کی۔ وہاں وہ بدستور مولانا حسن جان اور دیگر اساتذہ کے شاگرد رہے۔ بعد میں ماسٹر کے برابر دینی علوم کی وفاق المدارس سند بھی حاصل کی۔
ذاتی زندگی:
- شادی 2000 میں ہوئی۔
- کل چھ بھائی اور تین بہنیں ہیں ، مولانا صاحب سب سے چھوٹے تھے۔
- مولانا صاحب کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
دینی خدمات:
- فراغت کے بعد دو سال تک مسلسل مشہور شیخ القرآن مولانا عبدالسلام رستمی کے مدرسہ (بڑھ بیرہ) میں قرآن پاک کے ترجمہ کے درس میں شامل رہے۔
- اپنے آبائی علاقہ ناوگی، باجوڑ کی دارالعلوم رحمانیہ میں چھ سال تک مسلسل بغیر تنخواہ کے مدرس رہے۔
- ضلع مہمند، صافی علاقہ زیارت بابا کی جامع مسجد میں تین سال تک بغیر تنخواہ کے نماز جمعہ اور نماز عید کی امامت کرتے رہے۔
- ناوگی میں اپنے محلہ کی مسجد میں ستائیس سال تک بغیر معاوضہ کے خطیب رہے۔
- روزانہ نماز عشاء کے بعد ستائیس سال تک قرآن پاک کا ترجمہ پڑھاتے رہے۔
- ہفتہ میں ایک بار ثواب و برکات کی حصول کے لیے جمعہ کی رات، نماز عشاء کے بعد قرآن پاک کی ختم کا سلسلہ جاری رکھا۔
علاقہ غلجو، کمانگرہ، سرو گٹو میاگان میں رمضان کے مہینے میں دو سال تک قرآن کے ترجمہ کا درس دیا۔
مولانا خانزيب(رح) جيد عالم دین تھے وہ کہا کرتے تھے کے قرآن پاک کی ہر تفسیر کی اپنی جگہ اہمیت ہے ساتھ ہی وہ عزم اور ارادہ رکھتے تھے کہ قرآن کریم کے ہر رکوع پر میں کتاب وتفسیر لکھوں گا یعنی وہ قرآن پاک کی 540 رکوعات پر علیحدہ علیحدہ تصنیف وتفسیر کی خواہشمند تھے خدا ان کو ان کی ارادے اور نیت پر درجات بلند فرمائے ـ
فریضہ حج کے ادایگی کے لیے وہ پرعظم تھے
یاد رہے کہ 10جولایی 2025 کے دن صبح کے وقت اپنے بھتیجے سلمان کو حج کاغذات پر کرنے کا بتایا تھا کہ امن کمپین سے واپسی پر میں کاغذات پر دستخط کرکے حج کے لیے داخلہ کرلونگا ،لیکن واپس ہونے سے پہلے ان کو راستہ میں شہید کردیا گیا اور یوں وہ UBL ناواگی برانچ کو حج داخلہ کے لیے نہ پہنچ سکے
انما الاعمال بالنیات
ترجمہ (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہیں ـ)
انشاللہ ملی شھید کے لیے حج بدل کریں گے ـ
معاشی و سماجی خدمات:
مگس بانی کے پیشہ سے وابستہ رہے ـ
دس سال تک کاروباری مرکز ناوگی بازار میں شہد کا کاروبار کرتے رہے۔
- چھ سال تک ناوگی بازار کے صدر رہے۔
- اپنی زمین میں کھیتی باڑی بھی کرتے رہے۔
موسمیاتی تبدیلی(climate change)پر مولانا صاحب کے تحاریر وتقاریر اور محنت ریکارڈ پر موجود ہے
سیاسی سرگرمیاں:
- سماجی وسیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ساتھ وہ 2002، 2008 میں قومی اسمبلی اور 2019 کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ان کے بڑے بھائی شیخ جہانزادہ امیدوار تھے، جن کی انتخابی مہم میں مولانا صاحب نے بھرپور حصہ لیا تھا۔
- 2024 کو مولانا صاحب باجوڑ سے ANP کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوار تھے، لیکن باجوڑ کے عوام نے انہیں قومی اسمبلی میں بھیجنے کا موقع نہیں دیا جو کہ مقامی لوگوں کیلئے سوالیہ نشان رہے گا؟
- 2024 کے انتخابات میں نثار باز اور دیگر ساتھیوں کی الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
- عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی الیکشن کمیشن کے ممبر رہ چکے ہیں۔
- عوامی نیشنل پارٹی کی موجودہ مرکزی کابینہ میں سیکرٹری برائے علماء تھے۔
- ای این پی کے مشاورتی اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ،تنظیمی امور میں فعال رہے، اصلاح کے لیے جرگوں میں حصہ لیتے رہے۔
تعلیمی و ثقافتی خدمات:
مولانا خانزیب باقاعدگی سے دینی و عصری علوم کا تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرتے چلے آرہے تھیں
- قومی و سیاسی معاملات میں جاندار کردار ادا کرتے رہے۔
- سٹڈی سرکلز اور علم و شعور کے لیے حجرہ ،مسجد و گاؤں اور یونیورسٹیوں میں باقاعدگی سے سلسلہ چلاتے رہے۔
- قیام امن، اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے برسر پیکار رہے۔
- سماجی و معاشی اور ثقافتی ترقی کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے مابین ناواپاس اور دیگر بند تجارتی راستوں کے کھولنے کے لیے جرگوں اور احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرتے تھے۔
میڈیا ، تحریری وعلمی خدمات:
- دینی و عصری علوم کے ساتھ مقامی، قومی، سیاسی ،عالمی مسائل اور موضوعات پر سوشل، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر ملکی وبین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ پوڈکاسٹ ،مکالمے اور انٹرویوز میں حصہ لیتے رہیں ۔
- تسلسل کے ساتھ "پختون رسالہ" اور "شہباز اخبار" وغیرہ میں ان کے مضامین شائع ہوتے تھے۔
-تصانیف:
- باجوڑ تاریخ کی روشنی میں
- شتمنہ پختونخواہ (یعنی مالدار پختونخوا) اردو اور پشتو ایڈیشن کے مصنف ہیں۔
- مختلف ناچاپ مسودے تیار کر چکے تھے جو کہ عنقریب شایع ہو جائے گے۔
- مزید یہ کہ مولانا خانزیب کی امیر یوسفزئی کیساتھ اسلام اور قوم پرستی کے موضوع پر ایک تفصیلی مکالمہ ہوا تھا جس کو اب باچا خان ریسرچ سنٹر کے طرف سے (اسلام اور قوم پرستی)کے نام سے کتابی شکل دیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ مولانا صاحب کے تحریروں کو باچا خان ریسرچ سنٹر کے جانب سے ترتیب دے کر کتابی شکل میں (پختانہ او نیشنلزم )بھی شایع ہوچکا ہے
- جبکہ مولانا صاحب کے تحریروں کو اجمل اٹک نے ترتیب دے کر (د شتمنۍ پختونخوا خوار ملنګ اور د شهيد مولانا د فکر پلوشې) کے نام سے کتابی شکل دے کر شایع کیا ہے
- متبادل بیانیہ نامی کتاب بھی چاپ ہوگیا ہے
- ڈیورنڈ لائن اور عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ پر کتابیں لکھنے کا ارادہ کرچکے تھے لیکن زندگی نے وفا نہیں کیا ـ
- ہمارے خطہ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری بدامنی کی وجہ سے مالی و جانی ، سماجی ، اقتصادی ، سیاسی ولاپتہ افراد ، ثقافتی نقصانات اور تباہ کاریوں پر بھی مفصل کتاب لکھنے کا پختہ عزم کرچکے تھے تاکہ وطن میں قیام امن اور تعمیر وترقی کا سفر آگے بڑھ سکے ـ
- سینکڑوں مقالات و مضامین بھی تحریر کر چکے ہیں۔
- سوشل میڈیا پر مختلف موضوعات پر آن لائن سٹڈی سرکلز اور دینی مدارس و دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ کے سوالات و جوابات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔
کھیل کود:
مولانا صاحب کھیل کود کی حق میں تھے، پسندیدہ کھیل والی بال اور فٹبال تھا، والی بال کے ایک بھترین پلئیر تھے مختلف علاقوں میں ہونے والے کھیلوں کی سرگرمیوں میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوتے تھے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتی تھے ۔
امن کیلئے کوششیں:
- خطے میں کئی دہائیوں سے جاری بدامنی و دیگر مشکلات کے خاتمے کے لیے میدان عمل میں ڈٹ کر کھڑے رہے۔
- پختونخوا، ملکی و بین الاقوامی مسائل پر جرأت کے ساتھ علمی و تاریخی انداز میں اپنا موقف پیش کرتے تھے۔
- افغانستان و دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے حق میں تھے۔
- افغانستان میں بذریعہ جرگہ ملی مفاہمت اور عدم مداخلت کے حق میں تھے۔
- باجوڑ اور دیگر قبائلی علاقوں میں بدامنی کی سنگین حالات میں وہ اور ان کا خاندان نے اپنے گاؤں کو نہیں چھوڑا تھا۔
- حالانکہ ان کے گھر پر دو بار میزائل و راکٹ کی گولہ باری ہوئی، جس میں ان کے خاندان کے کئی افراد زخمی ہوئے۔
شہادت:
- 10 جولائی کو باجوڑ کے مختلف بازاروں میں قومی امن پاسون (امن ریلی) کو کامیاب بنانے کیلئے مہم چلاتے رہے۔
- باجوڑ ضلعی ہیڈکوارٹر خار (شنڈی موڑ) میں امن مخالف مسلح افراد نے امن مہم کے چلانے کے دوران مولانا خانزیب پر حملہ کردیا گیا جس میں مولانا خانزیب اور پولیس سپاہی شیرزادہ موقع پہ ہی شھید کئے گئے جبکہ ڈاکٹر طارق، عثمان خان، شیخ شہسوار شدید زخمی ہوئے جبکہ ساجد سالار محفوظ رہے۔
- شیخ شہسوار اور عثمان خان ویل چیئر پر ہے اور چلنے کے قابل نہیں ہے
- ملی شہید مولانا خانزیب ذاتی معاملات اور معاشرتی امور میں پاک دامن تھے۔
- عصر حاضر کے ولی اللہ تھے۔
- قوم و ملک کے سامنے اور اللہ کی بارگاہ میں ان کی زندگی اور مخلصانہ جدوجہد کھلی کتاب کی مانند ہے۔
- ملی شہید مولانا خانزیب کے شہادت کے بعد حکومت وقت کی جانب سے ان کے خاندان کیلے دس ملین(ایک کروڑ) گرانٹ کا اعلان کیا گیا تھا مگر ان کے خاندان نے اس کو قبول کرنے سے معزرت کرکے واپس کرلی ۔
- شھید مولانا خانزیب کے شھادت کے اس بڑے سانحے کے بعد حکومت پاکستان کے جانب سے شہید مولانا کے واقعے کی تحقیقات کیلے اعلی تحقیقاتی (جوڈیشل کمیشن) بنانے کا اعلان کیا گیا ہے مگر تاحال اس جوڈیشل کمیشن کو حتمی اور عملی شکل نہیں دیا گیا ہے ــ
- ملی شھید مولانا خانزیب دور جدید کے عظیم مفکر اور جید عالم دین ہیں
- ملی شھید مولانا خانزیب کے شہادت کے بعد ملکی وبین الاقوامی سطح پر مختلف تعزیتی اجتماعات سمیت ان کی زندگی اور جدوجھد پر سیمینارز ،کانفرنسز ،ریفرنسز، سٹڈی سرکلز ،سپورٹس ٹورنامنٹس سمیت کاروباری برانڈز وغیرہ وغیرہ کا لامتناہی سلسلہ جاری وساری ہیں ـ
- مختلف سماجی و فلاحی اداروں کے جانب سے ملی شہید کیلئے مختلف ایوارڈز دینے کا سلسلہ جاری ہے ،ہمیں یقین کہ ملی شھید مولانا خانزیب کے زندگی اور جدوجھد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر ایوارڈز دینے کا شاندار سلسلہ جاری رہے گا تاکہ ان کے کردار جدوجھد سے ہر سطح پر استفادہ ہوسکے ـ
- مولانا صاحب علم وشعور کے مینار اور امن کے حقیقی علمبردار ہیں ـ
- قومی ،اسلامی اور انسانی تاریخ میں وہ ایک مصلح ، وھیرو اور رھبر ہمیشہ ہی کیلئے یاد رہیں گے
- تاریخ میں مولانا خانزیب (رحمۃ اللہ
علیہ) زندہ رہیں گے۔
شیخ جھانزاده ناواگی باجوڑ