Maulana KhanZeb Offical

Maulana KhanZeb Offical Member centeral cabinat ANP. writer, a renowned Scholar, historian, politician,& prominent figure in nationalist politics.

امن کور ناواګۍ
01/06/2026

امن کور ناواګۍ

نن ورځ ناواګۍ کوزه اډه کښې د لعل زاده ځويي عدنان خان د ویلډنګ دکان په افتتاحي پروګرام کې ګډون او وینا
01/06/2026

نن ورځ ناواګۍ کوزه اډه کښې د لعل زاده ځويي عدنان خان د ویلډنګ دکان په افتتاحي پروګرام کې ګډون او وینا

29/05/2026

د ملي شهيد دپاره د قربانۍ څاروې..
الله پاک دې د هر چا قرباني قبوله کړي.
آمين..

28/05/2026

نن ورځ امن کور ته د اختر مبارکې له د راغلو میلمنو مننه

27/05/2026

لوي اختر او د هغي شاته ده اسلام د قرباني فلسفه

ملی شہید مولانا خانزیب کی زندگی اور جدوجہد پر ایک نظر!!!(1980  10 جولائی تا 2025ء)بعض انسانوں کو اللہ تعالیٰ خاص صلاحیتی...
25/05/2026

ملی شہید مولانا خانزیب کی زندگی اور جدوجہد پر ایک نظر!!!
(1980 10 جولائی تا 2025ء)
بعض انسانوں کو اللہ تعالیٰ خاص صلاحیتیں اور منفرد اوصاف عطا فرماتا ہے۔ ہر انسان محنت اور جدوجہد کے ذریعے ایک حد تک بلند مقام حاصل کرسکتا ہے، چاہے وہ علم کی راہ ہو یا زندگی کے دوسرے میدان۔ ملی شہید مولانا خانزیب بھی اُن عظیم شخصیات اور علماء میں شامل تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند مرتبہ عطا فرمایا تھا۔ وہ اللہ کے فضل اور اپنی انتھک محنت کے ذریعے علم و عمل کی بلند چوٹیوں تک پہنچے تھے۔
ہماری استعمار زدہ اور مصیبتوں میں گھری ہوئی سوسائٹی میں بہت سے اچھے اور قابل علماء موجود ہیں، لیکن مولانا خانزیب ایک سچے، بہادر پشتون اور کامل ایمان والے مسلمان کی حیثیت سے ظالم اور جابر قوتوں کے سامنے حق بات کہتے تھے۔ وہ جو کہتے تھے، آخر دم تک اس پر قائم رہتے تھے۔ کسی کے زر و زور نے اُن کی سچی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کی۔
دین اور وطن کے دشمنوں نے ہمیشہ اُن علماء کو نشانہ بنایا ہے جو دینی فکر کے ساتھ قومی شعور، ملی جذبہ اور عوامی حمایت بھی رکھتے تھے۔ ہمارے مقدس دین اور قرآن مجید میں ہر نبی کی قوم اور قبیلے کا ذکر موجود ہے۔ مولانا خانزیب بھی اپنے عوام اور معاشرے میں پروان چڑھے تھے۔ انہیں اپنے وطن کی محرومیوں اور مسائل کا گہرا ادراک تھا۔ وہ ایک ماہر طبیب کی طرح قوم کے زخموں کی تشخیص کرتے تھے اور معاشرے کی اصلاح و تعمیر کے لیے دن رات کوشاں رہتے تھے۔
وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر پشتون آپسی اختلافات اور خود غرضی سے باہر نکل آئیں تو ان میں قومی شعور پیدا ہوگا، اور یہی شعور انہیں اندھیروں اور محرومیوں سے نکال سکتا ہے۔ ان کے نزدیک ترقی اور خوشحالی کا راستہ قومی بیداری سے ہوکر گزرتا تھا۔
مولانا خانزیب صرف دینی عالم ہی نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جدید علوم کا بھی فہم اور بصیرت عطا کی تھی۔ وہ موجودہ دور کے تقاضوں سے باخبر، ہمہ جہت اور بیدار فکر شخصیت تھے۔ ان کی زندگی اور جدوجہد کا ہر پہلو قابلِ تقلید اور عظمت سے بھرپور تھا۔ یقین ہے کہ آنے والے زمانوں میں محققین اور دانشور ان کی مذہبی، سماجی، معاشی، علمی، ادبی، سیاسی اور ثقافتی خدمات پر مزید تحقیق کرتے رہیں گے۔
10
جولائی 2025ء کو قومی رہنما مولانا خانزیب کو ضلع باجوڑ کے شنڈئی موڑ، خار بازار بائی پاس چوک میں ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید کردیا گیا۔ اس سانحے کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اسی روز امن مارچ اور امن کے جائز مطالبے کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ اس حملے میں ان کے ساتھی شیرزادہ بھی شہید ہوئے، جبکہ ڈاکٹر طارق، عثمان اور شیخ شہسوار شدید زخمی ہوئے۔ ساجد سالار اس حملے میں محفوظ رہے، مگر عثمان اور شیخ شہسوار آج تک زیر علاج ہیں۔
مولانا خانزیب کی شہادت کے بعد ان کے خاندان نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ایک کروڑ روپے کی مالی امداد لینے سے انکار کردیا تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ ان کی جدوجہد ذاتی مفادات یا مالی فوائد کے لیے نہیں تھی۔ ان کے خاندان نے چاہا کہ ان کی پاکیزہ جدوجہد پر کسی قسم کا داغ نہ لگے۔
قوم کی آواز اور ایمل ولی خان کے مطالبے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا، لیکن افسوس کہ ابھی تک اس کمیشن کو عملی شکل نہیں دی جاسکی۔
یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ مولانا خانزیب کے قاتل اور اس سانحے میں ملوث عناصر خالق و مخلوق کو کیا جواب دیں گے؟ وہ اور ان کے ساتھی بے گناہ تھے، جنہیں صرف امن کی بات کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے امن کی خاطر اپنی جان قربان کردی مگر اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹے۔
مولانا خانزیب کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں اور دنیا کے کئی ممالک میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور تعزیتی اجتماعات کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں مختلف تنظیموں اور اداروں نے انہیں “امن ایوارڈ”، “فخرِ پختونخوا ایوارڈ” اور “عدم تشدد ایوارڈ” جیسے اعزازات سے نوازا۔ مختلف غیر سرکاری ادارے اور شخصیات بھی ان کے نام سے ایوارڈز جاری کر رہے ہیں۔
مولانا خانزیب متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے، جن میں نمایاں یہ ہیں:
1۔ باجوڑ تاریخ کی روشنی میں
2۔ شتمنہ پختونخوا (پشتو و اردو ایڈیشن)
3۔ د شتمنې پښتونخوا خوار ملنګ
4۔ د مولانا خانزیب د فکر پلوشے
5۔ اسلام اور قوم پرستی
6۔ پشتون اور نیشنلزم
7۔ متبادل بیانیہ
8۔ ټولنيز شعور
9۔ علم و ادب
اس کے علاوہ ان کے کئی غیر مطبوعہ مسودات، مضامین اور مقالات بھی موجود ہیں جو مستقبل میں شائع کیے جائیں گے۔
مولانا خانزیب امن، قومی حقوق اور عوامی شعور کے لیے مسلسل سیاسی و سماجی جدوجہد کرتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ اس خطے کا سب سے بڑا مسئلہ بدامنی ہے۔ ان کے مطابق غلط پالیسیوں کی وجہ سے پورا خطہ بدامنی، خونریزی اور معاشی تباہی کا شکار ہے۔ وہ ہمیشہ مذاکرات، جرگوں اور پرامن حل کے حامی رہے۔
وہ عدم تشدد کے داعی، عوام کے خادم اور انسانیت کی بھلائی کے لیے جدوجہد کرنے والی عظیم شخصیت تھے۔ خطرناک حالات کے باوجود انہوں نے اپنا علاقہ نہیں چھوڑا اور آخری سانس تک امن کا پیغام دیتے رہے۔
مولانا خانزیب کہا کرتے تھے کہ ہر مسجد، مدرسہ، حجرہ اور معاشرے کے ہر فرد کو امن کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ اسلام سلامتی کا دین ہے اور پشتون روایات بھی بھائی چارے اور امن کا درس دیتی ہیں۔ امن ہر انسان کے فائدے میں اور بدامنی ہر ایک کے نقصان میں ہے۔
وہ 2024ء کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بھی تھے، مگر بدقسمتی سے عوام نے انہیں پارلیمان تک پہنچانے میں بھرپور ساتھ نہ دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر اہل اور مخلص قیادت کو آگے لایا جائے تو قوم کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
مولانا خانزیب کرپشن، ظلم، انتہا پسندی اور غیر آئینی اقدامات کے سخت مخالف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پارلیمان مضبوط ہو، آئین کی بالادستی قائم ہو، اور ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔
وہ ایک دیانتدار، باکردار اور محنتی انسان تھے۔ رزقِ حلال کے لیے شہد کی مکھیاں پالتے اور شہد کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کی زندگی قوم، امن اور انسانیت کے لیے وقف تھی۔
آج اگرچہ مولانا خانزیب ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی فکر، تحریریں، تقاریر اور جدوجہد ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کے علم کی شمع روشن رہے گی اور ان کا امن مشن جاری رہے گا۔ یقین ہے کہ تاریخ انہیں ایک قومی ہیرو اور امن کے علمبردار کے طور پر یاد رکھے گی۔
شیخ جہانزادہ
ممبر مرکزی کونسل اے این پی

ېو ټرک هندوانې او ېو چاکو ۔کچھ لوگ سینٹ کے فلور پر ایمل ولی خان کی تقریر سے ڈر کے یہ ڈرامہ کر تے تھے کہ ایمل ولی خان کو ...
22/05/2026

ېو ټرک هندوانې او ېو چاکو ۔

کچھ لوگ سینٹ کے فلور پر ایمل ولی خان کی تقریر سے ڈر کے یہ ڈرامہ کر تے تھے کہ ایمل ولی خان کو مزاحمتی بیانیہ سے ہٹانے کیلئے سینٹ میں جگہ دی گئی ہے وہ لوگ سن لیں! آپ لوگ میڈیا ٹرائل کے ذریعے ایمل ولی خان کی ہر طرح کی کردار کشی کرسکتے ہیں مگر چھ سال تک اب اس نہ دبنے والی قومی آواز کو براہ راست سننے کیلئے دل کلیجہ تھام کر اب حوصلہ پیدا کریں!
ایمل ولی خان سو سال کی تاریخ کا امین ہے وہ اس فلور پر ہر وہ بات کریگا جو تاریخی واقعیت رکھتا ہو جو قوم کے مفاد کے حق میں اور زورور کے مفاد سے ٹھکراتا ہو انہی آوازوں سے ڈر کے مارے پارلیمان میں سر اٹھا کر بات کرنے والوں کو چن چن کر باھر کیا گیا ہیں مگر یہ آواز اب یہاں گونجے گی ۔
ایمل ولی خان آپ کو آپ کے تاریخ کا ہر ورق درست پڑھائیگا اپکو ہر وہ بات ببانگ دہل کریگا جسکو لوگ آپس میں بیٹھ کر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں ۔
ایمل ولی خان سینٹ کے فلور پر آپ سے چند ٹکوں کی اسکیموں کا سودا کرنے نہیں آپ کا دماغ درست زاوئے پر لانے کیلئے بولیگا ۔
ایمل خان خان کی آواز اس فلور پر پشتونوں سمیت تمام محکوم قومیتوں کی نمائندہ آواز ہوگی ۔
مولانا خانزیب ۔۔۔



21/05/2026

د قامي او مزهبي مکتبه فکر ترمينځ/شلون

عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی کے زيراہتمام ناروا بجلی و گیس لوڈشیڈنگ، تمباکو کاشتکاروں پر ناجائز ٹیکسز، سی این جی بندش اور...
21/05/2026

عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی کے زيراہتمام ناروا بجلی و گیس لوڈشیڈنگ، تمباکو کاشتکاروں پر ناجائز ٹیکسز، سی این جی بندش اور مہنگائی کے خلاف صوابی چوک میں احتجاجی مظاہرہ، صوبائی جائنٹ سیکرٹری ایاز شعیب، ضلعی صدر آصف الرحمان، جنرل سیکرٹری نوابزادہ، سینئر نائب صدر توصیف اعجاز یوسفزئی، سابق تحصیل چیئرمین رزڑ غلام حقانی، سابق تحصیل چیئرمین خدوخیل گلزار حسین بابک، سلیم خان ایڈوکیٹ اور دیگر ضلعی و تحصیل ذمہ داران سمیت کثیر تعداد میں کارکنان اور عام عوام نے شرکت کی۔ شرکاء نے حکومت سے بجلی و گیس کی ناروا لوڈشیڈنگ، تمباکو کاشتکاروں پر ناجائز ٹیکس اور سی این جی کی بندش کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

| |

20/05/2026

عوامي نېشنل پارٹی کے ساتھ ہمارے وابستگی اس بنیاد پر ہے کہ ہم اس کو قومی تحریک کا ایک تسلسل سمجھتے ہیں
مولانا خانزیب



Address

Bajauri Koruna

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana KhanZeb Offical posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Maulana KhanZeb Offical:

Share