25/01/2026
تیراہ میں جاری فوجی آپریشن اور اسکے نتیجے میں پچاس ہزار خاندانوں کی جبری انخلا پر پنجابی جرنیلوں کی تشکیل کردہ حکومت کا جھوٹا پروپیگینڈا
وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے حالیہ بیان نہ صرف زمینی حقائق سے متصادم ہے بلکہ خود ریاستی اداروں کے ریکارڈ پر موجود اعلانیہ اعترافات کی صریح تردید بھی ہے۔
اول، چند روز قبل قومی اسمبلی کے فلور پر وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اس امر کا اعتراف کیا کہ ”وادیٔ تیراہ میں عسکری آپریشن ہماری یعنی حکومت کی مرضی سے ہورہا ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے“ اسی طرح گورنر خیبر پختونخوا اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں نہ صرف آپریشن بلکہ عوامی نقل مکانی اور انسانی بحران کا کھلے الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ مزید برآں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھیجے گئے سرکاری خطوط اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ متاثرہ آبادی کی بحالی اور امداد ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ، سماجی تنظیموں اور آزاد ذرائع کے مطابق اس وقت وادیٔ تیراہ میں جاری فوجی کارروائی کے نتیجے میں تقریباً پچاس ہزار خاندان اپنے گھروں سے جبراً بے دخل ہو چکے ہیں، جن میں عورتیں، بچے اور بزرگ شدید سردی، بارش اور برفباری کے موسم میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان ناقابلِ تردید حقائق کے باوجود “کوئی نقل مکانی نہیں ہو رہی” جیسے دعوے عوام کی توہین کے مترادف ہیں، جو اس ریاست کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
دوم یہ کہ خیبر، تیراہ میدان میں تعینات فوجی کمانڈر (کرنل) کی جانب سے گھر گھر نقل مکانی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے اور واضح طور پر یہ دھمکی دی گئی کہ حکم کی تعمیل نہ کرنے والوں کو “قیمت چکانا” پڑے گی۔ یہ تصور کہ ایسے احکامات کسی فردِ واحد کی صوابدید پر جاری ہو رہے ہیں، نہایت سادہ لوحی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ یہ سمجھتی ہے کہ یہ اقدامات ایک منظم، ساختی اور ادارہ جاتی پالیسی کا حصہ ہیں جو کور کمانڈر پشاور اور جی ایچ کیو کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ سخت موسمی حالات میں بے دخلی، نقل و حرکت پر پابندیاں، شہری آبادی کو کولیکٹیو سزا دینا اور زندگی کے بنیادی ذرائع سے محروم کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، جنیوا کنونشنز اور پاکستان کے اپنے آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ سب کچھ کسی دھشتگردی کو ختم کرنے نہیں بلکہ پشتون علاقوں میں ایک مستقل حالتِ استثنا کے تحت مسلط کی گئی ایسی پالیسی ہے جسے ہم بجا طور پر پشتون عوام کے خلاف منظم ریاستی تشدد اور سماجی نسل کشی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
تمام جمہوری و سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی قومی و بین الاقوامی تنظیموں، وکلاء، صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں سے پُرزور مطالبہ کرتےہے کہ وہ اس سنگین انسانی بحران پر خاموشی توڑیں۔اگر آج جبری نقل مکانی، عسکری جبر اور عوامی زندگی کی بے وقعتی کے خلاف مزاحمت نہ کی گئی تو کل یہ منطق پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات