16/06/2023
پی ڈی ایم تحریک چلی تو سراج الحق عمران خان کا ساتھ دینے کے بجائے لاہور میں بلاول زرداری کے کندھوں کے ساتھ کندھا ملائے پریس کانفرنس کرتے پائے گئے ،
تحریک عدم اعتماد آئی تو بظاہر سسٹم سے لڑنے والی جماعت کے امیر عمران خان کا ساتھ دینے کے بجائے خود کو اس عمل سے الگ قرار دیتے رہے ،
جس وقت سندھ ہاؤس میں تحریک انصاف کے کارکنان خرید کر رکھ لیے گئے تو سراج الحق مینگورہ میں کھڑے ہو کر چلاتے رہے کہ اب عمران خان وزیراعظم نہیں رہے ، انھیں عزت کے ساتھ استعفیٰ دے کر گھر چلے جانا چاہیے ،
وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں سائفر لہرایا تو سراج الحق سوات میں کھڑے ہو کر عوام کو کہتے رہے کہ یہ عمران خان کی پرانی بیوی کا خط ہے اور فیصل آباد میں کھڑے ہو کر چیلنج کرتے رہے کہ عمران خان سچا ہے تو مجھے اس خط ( سیکرٹ دستاویز) کی فوٹو سٹیٹ بھیجے ،
انسانی منڈیاں لگا کر رجیم چینج آپریشن کیا گیا تو سراج الحق تحریک عدم اعتماد کو آئینی عمل قرار دے کر تحریک انصاف کو فیصلہ تسلیم کرنے کے مشورے دیتے رہے ،
عمران خان نے ڈونلڈ لو کی دھمکی کا ذکر کیا تو سراج الحق کہتے رہے کہ عمران خان نے ایسا کونسا کارنامہ سر انجام دیا ہے کہ امریکہ اس کے خلاف سازش کرے ،
قوم سڑکوں پہ رجیم چینج آپریشن کے خلاف احتجاج کرتی رہی تو سراج الحق جرگہ میں بیٹھ کر کہتے رہے کہ یہ حکومتیں گرنا شہزادوں کے اپنے مسائل ہیں ، عوام تو نان شبینہ کی محتاج ہے ،
قوم پہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے تو اس جبر و ستم میں سراج الحق اسے سیاسی عمل قرار دے کر بھاگتے رہے ،
نو مئی کے پلانٹڈ ڈرامے کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف پہ کریک ڈاؤن شروع ہوا تو سراج الحق اس نظام بد کو جانتے ہوئے بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے بجائے پشاور میں کھڑے ہو کر روہانسی شکل بنا کر چلاتے ریے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے تاریخی گھر کو جلایا گیا۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت فریاد کر رہی تھی کہ میرا جرم کیا ہے؟
تحریک انصاف کے راہنماؤں کی جبری پریس کانفرنسز چل رہی تھی تو سراج الحق کرک میں کھڑے ہو کر چلاتے رہے کہ تحریک انصاف دیگر جماعتوں سے جمع کیے گئے سیاسی کچرے کا ڈھیر ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی صرف اقتدار کے لیے ہے۔
اب جب کراچی میں تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی غیر مشروط حمایت کی لیکن پیپلز پارٹی نے جماعت کے ساتھ وہی کھیل کھیلا اور غنڈہ گردی کر کے زبردستی اپنا میئر منتخب کروا لیا جبکہ پندرہ چیئرمین باہر کھڑے چلاتے رہے۔ آج جماعت حرامی کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ اس سسٹم سے لڑنا ہے تو ان حرام کاریوں کو چھوڑ کر تحریک انصاف کا ساتھ دینا ہو گا کیونکہ وہ اس وقت پورے ملک کے مشترکہ مافیا کے ساتھ اکیلی نبردآزما ہے!!!bangash