Inayat Ullah Malik Official

Inayat Ullah Malik Official Education gives you consciousness Consciousness enlightens your heart and mind

اپنوں کی بے حسی... ایک خاموش کرب 💔​زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے، لیکن ان کی کسک انسان کو اندر سے کھوک...
02/06/2026

اپنوں کی بے حسی... ایک خاموش کرب 💔
​زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے، لیکن ان کی کسک انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ سب سے بڑا زخم وہ نہیں جو غیر دیں، بلکہ وہ ہوتا ہے جو خون کے رشتے ہماری قربانیوں کے بدلے میں دیتے ہیں۔
​بہت سے لوگ اپنی جوانی، اپنے خواب اور اپنی خواہشات کو خاندان کے دیے ہوئے چراغوں کو روشن رکھنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ وہ خود اندھیروں میں رہتے ہیں تاکہ دوسروں کی زندگیوں میں اجالا رہے۔ یہ قربانی صرف مالی نہیں ہوتی، یہ جذباتی اور نفسیاتی بھی ہوتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ قربانی دینے والے اکثر خاموش رہتے ہیں، اور خاموشی کو اکثر لوگ کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔
​جب احساس دم توڑ دے
​سب سے تکلیف دہ موڑ تب آتا ہے جب برسوں کی محنت اور شفقت کے بعد، آپ کو یہ سننے کو ملے کہ "آپ نے جو کیا اپنی مرضی سے کیا" یا "آپ ہماری زندگی میں بوجھ بن رہے ہیں۔"
"یا آپ اپنی زندگی کی کچھ بہتر پلاننگ کرلیتے وغیرہ وغیرہ "
​یہ الفاظ صرف جملے نہیں ہوتے، یہ ایک پورا اعتماد توڑ دیتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ مادہ پرستی اور خود غرضی نے رشتوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ انسان روٹی کی کمی سے اتنا نہیں ٹوٹتا، جتنا وہ اپنوں کی بے حسی اور لاپرواہی سے ٹوٹ جاتا ہے۔
​رشتوں کی بقا اور ظرف کا امتحان
​لیکن اس سب کے باوجود، کچھ لوگ اپنے ظرف کو چھوٹا نہیں ہونے دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ گھر کا مطلب ہی یہی ہے کہ جب دنیا کا کوئی سہارا نہ رہے، تو انسان واپس پلٹ کر آ سکے۔
​جو لوگ ٹھوکریں کھا کر لوٹتے ہیں، انہیں اپنانا اور معاف کر دینا کمزوری نہیں، بلکہ ایک بہت بڑے دل کی نشانی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ رشتوں کی اہمیت انسان کی اپنی انا سے کہیں بڑھ کر ہے۔
​یاد رکھیں:
​ ماں باپ اور بڑے بہن بھائی گھنے درختوں کی طرح ہوتے ہیں، جن کی قدر تب تک نہیں ہوتی جب تک ہم ان کے سائے سے محروم نہ ہو جائیں۔
​رشتوں میں "احسان" سے زیادہ "احساس" کی ضرورت ہوتی ہے۔
​خاموشی: جو لوگ خاموشی سے آپ کی زندگی سنوارتے ہیں، ان کا احترام کریں، کیونکہ ان کی دعائیں ہی آپ کی کامیابی کی اصل معراج ہوتی ہیں۔
​اپنوں کے ساتھ رویوں میں نرمی لائیے، کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے، اور وقت گزرنے کے بعد صرف پچھتاوے باقی رہ جاتے ہیں
Inayat Ullah Malik Official
​"کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ رشتے محبت اور احساس سے قائم رہتے ہیں،
​"کیا آپ بھی اس خاموش کرب سے گزرے ہیں؟ اپنے خیالات کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ اس پوسٹ کو اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید گہری تحریروں کے لیے ہمیں فالو کریں۔"
✍️💌✨
​ #احساس

بیان القرآنمفسر: ڈاکٹر اسرار احمدسورۃ نمبر 2 البقرةآیت نمبر 286أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ ال...
31/05/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 286
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا اكۡتَسَبَتۡ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا وَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا ۚ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ  ۞

ترجمہ:
اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اسی جان کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی کے اوپر وبال بنے گا جو اس نے ُ برائی کمائی اے ہمارے ربّ ! ہم سے مؤاخذہ نہ فرمانا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے اور اے رب ہمارے ! ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا تھا جو ہم سے پہلے تھے اور اے رب ہمارے ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرماتا رہ ! اور ہمیں بخشتا رہ ! اور ہم پر رحم فرما تو ہمارا مولا ہے پس ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں ؏

تفسیر:
آیت ٢٨٦ لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ط
یہ آیت اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل و کرم کا مظہر ہے۔ میں نے آیت ١٨٦ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا منشور Magna Carta ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے : اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی اور جہاں بھی وہ مجھے پکارے۔ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ پس انہیں بھی چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ گویا دو طرفہ بات چلے گی ‘ یک طرفہ نہیں۔ میری مانو ‘ اپنی منواؤ ! تم دعائیں کرو گے ‘ ہم قبول کریں گے ! لیکن اگر تم ہماری بات نہیں مانتے تو پھر تمہاری دعا تمہارے منہ پردے ماری جائے گی ‘ خواہ قنوت نازلہ چالیس دن تو کیا اسّی دن تک پڑھتے رہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمہاری دعاؤں کے باوجود تمہیں سقوط ڈھا کہ کا سانحہ دیکھنا پڑا ‘ تمہیں یہودیوں کے ہاتھوں شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اگرچہ ان مواقع پر حرمین شریفین میں قنوت نازلہ پڑھی جاتی رہی ‘ لیکن تمہاری دعائیں کیونکر قبول ہوتیں ! تمہارا جرم یہ ہے کہ تم نے اللہ کو پیٹھ دکھائی ہوئی ہے ‘ اس کے دین کو پاؤں تلے روندا ہوا ہے ‘ اللہ کے باغیوں سے دوستی رکھی ہوئی ہے۔ کسی نے ماسکو کو اپنا قبلہ بنا رکھا تھا تو کسی نے واشنگٹن کو۔ لہٰذا تمہاری دعائیں تمہارے منہ پردے ماری گئیں۔
لیکن آیت زیر مطالعہ اس اعتبار سے بہت بڑی رحمت کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھے کی لاٹھی والا معاملہ نہیں ہے کہ تمام انسانوں سے محاسبہ ایک ہی سطح پر ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ کس کی کتنی وسعت ہے اور اسی کے مطابق کسی کو ذمہّ دارٹھہراتا ہے۔ اور یہ وسعت موروثی اور ماحولیاتی عوامل پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر شخص کو جو genes ملتے ہیں وہ دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ان genes کی اپنی اپنی خصوصیات properties اور تحدیدات ‘ limitations ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہر شخص کو دوسرے سے مختلف ماحول میسرّ آتا ہے۔ تو ان موروثی عوامل hereditary factors اور ماحولیاتی عوامل environmental factors کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا ایک ہیولیٰ بنتا ہے ‘ جس کو مستری لوگ پاٹن کہتے ہیں۔ جب لوہے کی کوئی شے ڈھالنی مقصود ہو تو اس کے لیے پہلے مٹی یا لکڑی کا ایک سانچہ pattern بنایا جاتا ہے۔ اس کو ہمارے ہاں کاریگر اپنی بولی میں پاٹن کہتے ہیں۔ اب آپ لوہے کو پگھلا کر اس میں ڈالیں گے تو وہ اسی صورت میں ڈھل جائے گا۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ شاکلہ ہے جو ہر انسان کا بن جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖط فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلاً بنی اسرائیل کہہ دیجیے کہ ہر کوئی اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ پس آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے۔ اس شاکلہ کے اندر اندر آپ کو محنت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کا شاکلہ وسیع تھا اور کس کا تنگ تھا ‘ کس کے genes اعلیٰ تھے اور کس کے ادنیٰ تھے ‘ کس کے ہاں ذہانت زیادہ تھی اور کس کے ہاں جسمانی قوت زیادہ تھی۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس کو کیسی صلاحیتیں ودیعت کی گئیں اور کیسا ماحول عطا کیا گیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ماحولیاتی عوامل اور موروثی عوامل کو ملحوظ رکھ کر اس کی استعدادات کے مطابق حساب لے گا۔ فرض کیجیے ایک شخص کے اندر استعداد ہی ٢٠ درجے کی ہے اور اس نے ١٨ درجے کام کر دکھایا تو وہ کامیاب ہوگیا۔ لیکن اگر کسی میں استعداد سو درجے کی تھی اور اس نے ٥٠ درجے کام کیا تو وہ ناکام ہوگیا۔ حالانکہ کمیت کے اعتبار سے ٥٠ درجے ١٨ درجے سے زیادہ ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کا محاسبہ جو ہے وہ انفرادی سطح پر ہے۔ اس لیے فرمایا گیا : وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا مریم اور سب لوگ قیامت کے دن اس کے حضور فرداً فرداً حاضر ہوں گے۔ وہاں ہر ایک کا حساب اکیلے اکیلے ہوگا اور وہ اس کی وسعت کے مطابق ہوگا۔
لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ط کے الفاظ میں جو ایک اہم اصول بیان کردیا گیا ہے ‘ بعض لوگ دنیا کی زندگی میں اس کا غلط نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں۔ وہ دنیا کے معاملات میں تو خوب بھاگ دوڑ کرتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اندر صلاحیت اور استعداد ہی نہیں ہے۔ یہ محض خود فریبی ہے۔ استعداد و استطاعت اور ذہانت و صلاحیت کے بغیر تو دنیا میں بھی آپ محنت نہیں کرسکتے ‘ کوئی نتائج حاصل نہیں کرسکتے ‘ کچھ کما نہیں سکتے۔ لہٰذا اپنے آپ کو یہ دھوکہ نہ دیجیے اور جو کچھ کرسکتے ہوں ‘ وہ ضرور کیجیے۔ اپنی شخصیت کو کھود کھود کر اس میں سے جو کچھ نکال سکتے ہوں وہ نکالیے ! ہاں آپ نکال سکیں گے اتنا ہی جتنا آپ کے اندر ودیعت ہے۔ زیادہ کہاں سے لے آئیں گے ؟ اور اللہ نے کس میں کیا ودیعت کیا ہے ‘ وہ وہی جانتا ہے۔ تمہارا محاسبہ اسی کی بنیاد پر ہوگا جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے۔ اس مضمون کی اہمیت کا اندازہ کیجیے کہ یہ قرآن مجید میں پانچ مرتبہ آیا ہے۔
لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ط ۔
اس مقام پر بھی ل اور عَلٰی کے استعمال پر غور کیجیے۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ سے مراد ہے جو بھی نیکی اس نے کمائی ہوگی وہ اس کے لیے ہے ‘ اس کے حق میں ہے ‘ اس کا اجر وثواب اسے ملے گا۔ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ط سے مراد ہے کہ جو بدی اس نے کمائی ہوگی اس کا وبال اسی پر آئے گا ‘ اس کی سزا اسی کو ملے گی۔
اب وہ دعا آگئی ہے جو قرآن مجید کی جامع ترین اور عظیم ترین دعا ہے :
رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ج
ایمان اور عمل صالح کے راستے پر چلتے ہوئے اپنی شخصیت کے کونوں کھدروں میں سے امکان بھر اپنی باقی ماندہ توانائیوں residual energies کو بھی نکال نکال کر اللہ کی راہ میں لگا لیں ‘ لیکن اس کے بعد بھی اپنی محنت پر ‘ اپنی نیکی ‘ اپنی کمائی اور اپنے کارناموں پر کوئی غرّہ نہ ہو ‘ کوئی غرور نہ ہو ‘ کہیں انسان دھوکہ نہ کھاجائے۔ بلکہ اس کی کیفیت تواضع ‘ عجز اور انکساری کی رہنی چاہیے۔ اور اسے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے پروردگار ! ہماری بھول چوک پر ہم سے مؤاخذہ نہ فرمانا۔
انسان کے اندر خطا اور نسیان دونوں چیزیں گندھی ہوئی ہیں : اَلْاِنْسَانُ مُرَکَّبٌ مِنَ الْخَطَاأ وَالنِّسْیَانِ خطا یہ ہے کہ آپ نے اپنی امکانی حد تک تو نشانہ ٹھیک لگایا تھا ‘ لیکن نشانہ خطا ہوگیا۔ اس پر آپ کی گرفت نہیں ہوگی ‘ اس لیے کہ آپ کی نیت صحیح تھی۔ ایک اجتہاد کرنے والا اجتہاد کر رہا ہے ‘ اس نے امکانی حد تک کوشش کی ہے کہ صحیح رائے تک پہنچے ‘ لیکن خطا ہوگئی۔ اللہ معاف کرے گا۔ مجتہد مخطی بھی ہو تو اس کو ثواب ملے گا اور مجتہد مصیب ہو ‘ صحیح رائے پر پہنچ جائے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ اور نسیان یہ ہے کہ بھولے سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ اُمَّتِی الْخَطَأَ وَالنِّسْیَانَ ٣٧ اللہ تعالیٰ نے میری امتّ سے خطا اور نسیان معاف فرما دیا ہے۔
رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ج ۔
ایک حمل بوجھ وہ ہوتا ہے جس کو لے کر انسان چلتا ہے۔ اسی سے حمال بنا ہے جو ایک بوری کو یا بوجھ کو اٹھا کر چل رہا ہے۔ جو بوجھ آپ کی طاقت میں ہے اور جسے لے کر آپ چل سکیں وہ حمل ہے ‘ اور جس بوجھ کو آپ اٹھا نہ سکیں اور وہ آپ کو بٹھا دے اس کو اصر کہتے ہیں۔ یہ لفظ سورة الاعراف آیت ١٥٧ میں پھر آئے گا : وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط ان الفاظ میں ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ شان بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے لوگوں کے وہ بوجھ جو ان کی طاقت سے بڑھ کر تھے ‘ ان کے کندھوں سے اتار دیے۔ ہم سے پہلے لوگوں پر بڑے بھاری بوجھ ڈالے گئے تھے۔ شریعت موسوی ہماری شریعت کی نسبت بہت بھاری تھی۔ جیسے ان کے ہاں روزہ رات ہی سے شروع ہوجاتا تھا ‘ لیکن ہمارے لیے یہ کتنا آسان کردیا گیا کہ روزے سے رات کو نکال دیا گیا اور سحری کرنے کی تاکید فرمائی گئی : تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً ٣٨ سحری ضرور کیا کرو ‘ اس لیے کہ سحریوں میں برکت رکھی گئی ہے۔ پھر رات میں تعلق زن و شو کی اجازت دی گئی۔ ان کے روزے میں خاموشی بھی شامل تھی۔ یعنی نہ کھانا ‘ نہ پینا ‘ نہ تعلق زن و شو اور نہ گفتگو۔ ہمارے لیے کتنی آسانی کردی گئی ہے ! ان کے ہاں یوم سبت کا حکم اتنا سخت تھا کہ پورا دن کوئی کام نہیں کرو گے۔ ہمارے ہاں جمعہ کی اذان سے لے کر نماز کے ادا ہوجانے تک ہر کاروبار دنیوی حرام ہے۔ لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ کاروبار کرسکتے ہیں۔
رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ج وَاعْفُ عَنَّاوقفۃ ہماری لغزشوں کو معاف کرتا رہ !
وَاغْفِرْ لَنَاوقفۃ ہماری خطاؤں کی پردہ پوشی فرما دے !
مغفرت کے لفظ کو سمجھ لیجیے۔ اس میں ڈھانپ لینے کا مفہوم ہے۔ مِغْفَرْ ’ خود ‘ ہیلمٹ کو کہتے ہیں ‘ جو جنگ میں سر پر پہنا جاتا ہے۔ یہ سر کو چھپا لیتا ہے اور اسے گولی یا تلوار کے وار سے بچاتا ہے۔ تو مغفرت یہ ہے کہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈھانپ دے ‘ ان کی پردہ پوشی فرما دے ۔
وَارْحَمْنَآوقفۃ اَنْتَ مَوْلٰٹنَا
تو ہمارا پشت پناہ ہے ‘ ہمارا والی ہے ‘ ہمارا حامی و مددگار ہے۔ ہم یہ آیت پڑھ آئے ہیں : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْالا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط آیت ٢٥٧ ۔
فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ
انہی الفاظ پر وہ دعا ختم ہوئی تھی جو طالوت کے ساتھیوں نے کی تھی۔ اب اہل ایمان کو یہ دعا تلقین کی جا رہی ہے ‘ اس لیے کہ مرحلہ سخت آ رہا ہے۔ گویا : ؂
تاب لاتے ہی بنے گی غالب

مرحلہ سخت ہے اور جان عزیز !
اب کفار کے ساتھ مقابلے کا مرحلہ آ رہا ہے اور اس کے لیے مسلمانوں کو تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ درحقیقت غزوۂ بدر کی تمہید ہے۔
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم ۔

Inayat Ullah Malik Official
ڈاکٹر اسرار احمد رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیرِ سورۃ البقرہ کی آیت 286 پر مبنی یہ تحریر نہایت جامع اور ایمان افروز ہے۔ یہ آیت نہ صرف اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فضل و کرم کا حسین اظہار ہے، بلکہ ہماری زندگیوں کے لیے ایک مکمل رہنمائی اور بہترین دعا بھی ہے۔

​خلاصہ کلام
​سورۃ البقرہ کی یہ آخری آیت درحقیقت اس سفرِ ہدایت کا نچوڑ ہے جو اس سورت کے آغاز سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر کبھی بھی ان کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اللہ کی رضا کے لیے وقف کریں، اپنی کمیوں پر استغفار کریں، اور اللہ سے اس کی مدد کے طلبگار رہیں تاکہ ہم اپنی ذات اور معاشرے میں حق و صداقت کا پرچم بلند رکھ سکیں۔
​لائیک، شیئر اور فالو کے لیے گزارش:
​اگر آپ کو یہ تفسیری نکات پسند آئے ہیں اور آپ کا دل قرآن کی حکمت سے روشن ہوا ہے

​لائیک (Like): اس پیغام کی تائید کے لیے لائک ضرور کریں۔
​شیئر (Share): اس نور کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس پوسٹ کو اپنے حلقہ احباب میں شیئر کریں۔ صدقہ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالیں۔
​فالو (Follow): مزید ایسی ہی فکر انگیز اور علمی و دینی تحریروں کے لیے ہمارے پیج "Inayat Malik Writes" کو فالو کریں، تاکہ آپ تک بروقت مفید مواد پہنچتا رہے۔
​جزاکم اللہ خیراً کثیرا۔

بیان القرآنمفسر: ڈاکٹر اسرار احمدسورۃ نمبر 2 البقرةآیت نمبر 280أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ ال...
30/05/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 280
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِنۡ كَانَ ذُوۡ عُسۡرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ‌ؕ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی حاصل ہونے تک اسے مہلت دو اور اگر تم صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
تفسیر:
آیت ٢٨٠ وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ ط
اسے مہلت دو کہ اس کے ہاں کشادگی پیدا ہوجائے تاکہ وہ آسانی سے آپ کا قرض آپ کو واپس کرسکے۔
وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ
تمہارا بھائی غریب تھا ‘ اس کو تم نے قرض دیا تھا ‘ اس پر کچھ سود لے کر کھا بھی چکے ہو ‘ باقی سود کو تو چھوڑا ہی ہے ‘ اگر اپنا رأس المال بھی اس کو بخش دو تو یہ انفاق ہوجائے گا ‘ یہ اللہ کو قرض حسنہ ہوجائے گا اور تمہارے لیے ذخیرۂ آخرت بن جائے گا۔ یہ بات سمجھ لیجیے کہ آپ کی جو بچت ہے ‘ جسے میں نے قدر زائد surplus value
کہا تھا ‘ اسلامی معیشت کے اندر اس کا سب سے اونچا مصرف انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو ‘ صدقہ کر دو ۔ اس سے کم تر قرض حسنہ ہے۔ آپ کے کسی بھائی کا کاروبار رک گیا ہے ‘ اس کو قرض دے دو ‘ اس کا کاروبار چل پڑے گا اور پھر وہ تمہیں تمہاری اصل رقم واپس کر دے گا۔ یہ قرض حسنہ ہے ‘ اس کا درجہ انفاق سے کم تر ہے۔ تیسرا درجہ مضاربت کا ہے ‘ جو جائز تو ہے مگر پسندیدہ نہیں ہے۔ اگر تم زیادہ ہی خسیس ہو تو چلو اپنا سرمایہ اپنے کسی بھائی کو مضاربت پردے دو ۔ اور مضاربت یہ ہے کہ رقم تمہاری ہوگی اور کام وہ کرے گا۔ اگر بچت ہوجائے تو اس میں تمہارا بھی حصہ ہوگا ‘ لیکن اگر نقصان ہوجائے تو وہ کلُ کا کل تمہارا ہوگا ‘ تم اس سے کوئی تاوان نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد ان تین درجوں سے بھی نیچے اتر کر اگر تم کہو کہ میں یہ رقم تمہیں دے رہا ہوں ‘ اس پر اتنے فیصد منافع تو تم نے بہرحال دینا ہی دینا ہے ‘ تو اس سے بڑھ کر حرام شے کوئی نہیں ہے۔
اس آیت میں ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر تمہارا مقروض تنگی میں ہے تو پھر انتظار کرو ‘ اسے اس کی کشائش اور فراخی تک مہلت دے دو ۔ اور اگر تم صدقہ ہی کر دو ‘ خیرات کر دو ‘ بخش دو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔
اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔
اگر تمہیں اللہ نے حکمت عطا کردی ہے ‘ اگر تم اولو الالباب ہو ‘ اگر تم سمجھ دار ہو تو تم اس بچت کے امیدوار بنو جو اللہ کے ہاں اجر وثواب کی صورت میں تمہیں ملے گی۔ اس کے مقابلے میں اس رقم کی کوئی حیثیت نہیں جو تمہیں مقروض سے واپس ملنی ہے۔
اگلی آیت نزول کے اعتبار سے قرآن مجید کی آخری آیت ہے
Inayat Ullah Malik Official
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی تفسیر کی روشنی میں اس آیت کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں:
​خلاصہ کلام
​سورۃ البقرہ کی آیت 280 معاشی اخلاقیات کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہے۔ یہ آیت نہ صرف مقروض کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دیتی ہے بلکہ سرمایہ کاری کے اسلامی تصور کو بھی واضح کرتی ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے مطابق، اگر مقروض تنگ دست ہو تو اسے وقت دینا اخلاقی فرض ہے، اور اگر استطاعت ہو تو اس کے قرض کو صدقہ کر دینا اس سے کہیں بہتر اور اللہ کے ہاں ذخیرہ آخرت ہے۔
​اہم نکات
​مہلت دینا فرض: اگر کوئی مقروض مشکل میں ہے، تو اس پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اسے آسانی تک مہلت دینا لازم ہے۔
​انفاق کا بلند مقام: اپنا اصل سرمایہ (رأس المال) بخش دینا، جسے اللہ کی راہ میں انفاق کہا جاتا ہے، اسلامی معیشت کا سب سے افضل مصرف ہے۔
​قرض حسنہ اور مضاربت: انفاق کے بعد قرض حسنہ کا درجہ ہے، اور اس کے بعد مضاربت (نفع و نقصان میں شراکت) کا۔
​سود کی ممانعت: کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اس سے طے شدہ منافع لینا (یعنی سود لینا) اسلامی تعلیمات میں انتہائی ناپسندیدہ اور حرام عمل ہے۔
​حکمت و بصیرت: جو شخص اللہ کی دی ہوئی سمجھ بوجھ اور حکمت رکھتا ہے، وہ دنیاوی واپسی کے بجائے آخرت کے دائمی اجر کو ترجیح دیتا ہے۔
​اختتامیہ:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مسلمان کا مقصدِ حیات صرف مال جمع کرنا نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کے کمزور افراد کے ساتھ تعاون کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اللہ ہمیں اس قرآنی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
​اگر آپ کو یہ علمی نکات پسند آئے ہوں اور آپ قرآن فہمی کے اس سفر میں ہمارے ساتھ جڑے رہنا چاہتے ہیں، تو براہ کرم اس پوسٹ کو لائیک کریں، اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس فیض سے مستفید ہو سکیں، اور مزید قرآنی تعلیمات کے لیے ہمیں فالو کریں۔

اللہ کی بارگاہ میں رجوعچار قرآنی نسخے​قرآنِ کریم محض ہدایت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ مومن کے لیے ہر مشکل، بیماری اور اندیشے ...
29/05/2026

اللہ کی بارگاہ میں رجوع
چار قرآنی نسخے
​قرآنِ کریم محض ہدایت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ مومن کے لیے ہر مشکل، بیماری اور اندیشے کا "درمان" بھی ہے۔ درج ذیل آیات نہ صرف دعائیں ہیں، بلکہ اللہ کے وعدے بھی ہیں جو اس نے اپنے انبیاء اور صالحین کے لیے پورے فرمائے۔
​1. غم اور پریشانی کا علاج: "دُعائے یونسؑ"
​۞ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ۞
"تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہو گیا۔" (الانبیاء: 87)
​پس منظر: یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں، تین اندھیروں (سمندر کی تہہ، رات کا اندھیرا، مچھلی کا پیٹ) میں کی تھی۔
​قرآنی وعدہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔" (الانبیاء: 88)
​نکتہ: اس دعا میں اعترافِ گناہ ہے جو اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص حضرت یونسؑ کی یہ دعا پڑھے گا، اللہ اس کی مشکل ضرور دور کرے گا۔" (جامع ترمذی)
​2. بیماری اور تکلیف کا علاج: "دُعائے ایوبؑ"
​۞ رَبِّ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۞
"اے میرے رب! مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔" (الانبیاء: 83)
​پس منظر: حضرت ایوب علیہ السلام نے برسوں شدید بیماری میں صبر کیا۔ جب تکلیف انتہا کو پہنچی، تو انہوں نے انتہائی ادب کے ساتھ اپنی کیفیت کا اظہار کیا۔
​قرآنی وعدہ: "تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ اسے تھا وہ دور کر دیا۔" (الانبیاء: 84)
​نکتہ: یہ دعا سکھاتی ہے کہ بیماری میں شکوہ کرنے کے بجائے اپنی عاجزی اور اللہ کی صفتِ رحم کو یاد کیا جائے۔ یہ دعا صبر اور رجوع کا حسین امتزاج ہے۔
​3. خوف اور گھبراہٹ کا علاج: "حسبنا اللہ"
​۞ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ۞
"ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔" (آلِ عمران: 173)
​پس منظر: یہ آیت غزوۂ حمراء الاسد کے موقع پر نازل ہوئی جب مسلمانوں کو بڑی فوج کے حملے کا ڈر دلایا گیا تھا۔
​قرآنی وعدہ: "پھر وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی۔" (آلِ عمران: 174)
​نکتہ: یہ کلمہ بندے کے ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔ امام بخاریؒ کے مطابق، حضرت ابراہیمؑ نے اسے آگ میں ڈالے جاتے وقت اور نبی کریم ﷺ نے غزوۂ خندق کے موقع پر پڑھا تھا۔ یہ اللہ پر کامل توکل (Reliance) کا مظہر ہے۔
​4. مکر و فریب سے حفاظت: "دُعائے مؤمنِ آلِ فرعون"
​۞ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ۞
"میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔" (غافر: 44)
​پس منظر: یہ کلمات ایک نیک شخص نے کہے تھے جو فرعون کے دربار میں چھپ کر ایمان لایا تھا اور اپنی قوم کو سیدھے راستے کی دعوت دے رہا تھا۔
​قرآنی وعدہ: "پس اللہ نے اسے ان کی سازشوں کی برائیوں سے محفوظ رکھا۔" (غافر: 45)
​نکتہ: جب انسان خود کو بے بس پائے اور اسے لگے کہ لوگ اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، تو یہ دعا اسے ایک ایسے قلعے میں لے جاتی ہے جہاں کسی کا مکر کارگر نہیں ہوتا۔
​خلاصہ اور عمل
​ان چاروں آیات کا مشترک نکتہ "تسلیم و رضا" ہے۔
​غم میں: اپنی کوتاہی کا اعتراف۔
​بیماری میں: اللہ کی رحمت کا واسطہ۔
​خوف میں: اللہ کی ذات پر بھروسہ۔
​سازشوں میں: اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کرنا۔
​مفکرینِ اسلام اور علماء کا کہنا ہے:
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے صرف قصے بیان نہیں کیے، بلکہ ہر مشکل کے لیے ایک "کلیہ" (Formula) دیا ہے۔ جو شخص ان دعاؤں کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیتا ہے، اس کا دل وسوسوں اور خوف سے پاک ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ "جس کا اللہ کارساز ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔"
​اللہ تعالیٰ ہمیں ان قرآنی نسخوں پر عمل کرنے اور ان کی برکات سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Inayat Ullah Malik Official
"یاد رکھیے! قرآن کے یہ نسخے وقتی نہیں، بلکہ ابدی ہیں۔ جب بھی دل بوجھل ہو یا حالات مشکل نظر آئیں، ان آیات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، بس یقین کی ضرورت ہے۔"
"زندگی کی بھاگ دوڑ میں اگر سکون چاہیے تو اللہ کے دروازے پر دستک دینا سیکھ لیں۔ یہ چار دعائیں آپ کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی اور اطمینان کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔"
​💡 ایک چھوٹی سی نیکی: اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو اسے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر ضرور کریں؛ ہو سکتا ہے کہ آپ کا ایک شیئر کسی پریشان حال انسان کے لیے سکون کا باعث بن جائے۔
​❤️ اگر آپ کا دل ان قرآنی دعاؤں کی افادیت سے مطمئن ہوا ہے، تو اس پوسٹ کو لائیک کریں۔
​🔔 ایسی مزید اصلاحی اور قرآنی تعلیمات پر مبنی تحریروں کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ آپ کو ہماری ہر نئی پوسٹ بروقت مل سکے۔

کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے گا؟ خارجہ پالیسی اور اندرونی دباؤ کا جائزہ​پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کو تسلیم...
26/05/2026

کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے گا؟ خارجہ پالیسی اور اندرونی دباؤ کا جائزہ
​پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہمیشہ سے حساس رہا ہے، لیکن موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے اس بحث کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے۔ اس وقت پاکستان پر امریکی دباؤ واضح ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات میں ایک ثالث (Mediator) کا کردار ادا کر رہا ہے۔
​تاہم، زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا قریب المستقبل میں ممکن نظر نہیں آتا۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
​1۔ عوامی جذبات اور اندرونی سیاسی دباؤ
​پاکستان میں مسئلہ فلسطین صرف ایک سفارتی معاملہ نہیں بلکہ ایک گہرا مذہبی، جذباتی اور قومی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت (خواہ وہ مسلم لیگ ن ہو، پی ٹی آئی ہو یا کوئی اور) اس معاملے پر اچانک یو-ٹرن لینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایسا کوئی بھی فیصلہ ملک میں شدید عوامی احتجاج، مذہبی حلقوں کے غصے اور سوشل میڈیا پر ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جو کسی بھی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
​2۔ عسکری قیادت اور ریاست کا تاریخی مؤقف
​پاکستان کی عسکری اور مقتدر قیادت کا فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف مؤقف ہمیشہ سے تاریخی اور غیر لچکدار رہا ہے۔ یہ صرف سویلین سیاستدانوں کا فیصلہ نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ حال ہی میں وزارتِ خارجہ کا یہ بیان کہ "اسرائیل کو تسلیم کرنا زیرِ غور نہیں ہے" اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف 1948ء سے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی (OIC) میں مستقل رہا ہے کہ جب تک 1948ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی، اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
3۔ امریکی دباؤ اور ابراہام ایکارڈز (Abraham Accords)
​امریکی انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے "ڈیل میکر" کے طور پر ابھرنا چاہتی ہے اور اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔ امریکہ پاکستان کو محض ایک آپشن نہیں سمجھتا بلکہ وہ اسے ایران کے ساتھ ڈیل اور وسیع تر علاقائی معاہدوں کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
​4۔ سیاسی جماعتوں کا یکساں مؤقف
​سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں واضح طور پر کہا تھا کہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اور اب اپوزیشن میں رہ کر بھی ان کا یہی مؤقف رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس اصولی موقف پر ایک پیج پر ہیں؛ فرق صرف اندرونی سیاست اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنے کی حد تک ہے۔
​5۔ سفارتی حکمتِ عملی اور معاشی مجبوریاں
​پاکستان اسرائیل کو براہِ راست "نا" کہے گا، لیکن سفارتی سطح پر اپنے لہجے کو نرم رکھے گا۔ چونکہ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور امریکہ کی ضرورت ہے، اس لیے وہ سفارت کاری میں مبہم اور طویل المدت مذاکرات کا سہارا لے گا۔ ممکن ہے کہ ماضی کی طرح اندرونی سطح پر یا انٹیلی جنس کی حد تک معلومات کا تبادلہ (Covert Sharing) جاری رہے، لیکن علانیہ طور پر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
​خلاصہ کلام
​اگر ایران امریکہ ڈیل ہو جاتی ہے اور وسطی ایشیائی ممالک اس بلاک کی طرف بڑھتے ہیں، تو پاکستان کو سفارتی تنہائی کا احساس ضرور ہو سکتا ہے۔ لیکن چونکہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور چین کا تزویراتی شراکت دار ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں۔
​ہماری خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ "پالیسی ساز" ہونے کے بجائے "ردِعمل" (Reactive) پر مبنی رہی ہے، اور معاشی کمزوری کے باعث عالمی سطح پر ہمارا اثر و رسوخ (Leverage) کم ہے۔ اگر مستقبل میں معیشت یا سلامتی کا کوئی شدید بحران پیدا ہوتا ہے، تو ممکن ہے کہ ریاست اپنے اس اصولی مؤقف کو "حکمتِ عملی کی تبدیلی" کا نام دے کر اس میں لچک پیدا کرنے کی کوشش کرے، جیسا کہ کئی عرب ممالک پہلے ہی کر چکے ہیں۔
​اگر آپ اس تحریر میں مزید کوئی تبدیلی، سرخیاں یا اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کے لیے مخصوص اختتامیہ (جیسے لائک، شیئر اور فالو کی اپیل) شامل کرنا چاہیں، تو ضرور بتائیے۔
Inayat Ullah Malik Official
​آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا پاکستان بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اپنے اس اصولی مؤقف پر قائم رہ پائے گا، یا معاشی مجبوریاں ہمیں کوئی نیا راستہ چننے پر مجبور کر دیں گی؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں۔
​فالو، لائک اور شیئر کریں:
اگر آپ کو یہ تفصیلی اور غیر جانبدارانہ تجزیہ پسند آیا ہے، تو اس پوسٹ کو لائک کریں، اپنے حلقہ احباب میں شیئر کریں، اور مزید سنجیدہ، تحقیقی اور فکری مواد کیلئے ہمارے پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں۔
​قلم سے شعور تک — عنایت ملک رائٹس

"نوجوان اور قومی دھارا: فکری تربیت سے عملی قیادت تک"نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اس کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ...
25/05/2026

"نوجوان اور قومی دھارا: فکری تربیت سے عملی قیادت تک"

نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اس کا مستقبل ہوتے ہیں۔ پاکستانی تناظر میں اگر بات کی جائے تو ہماری کل آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ہمارے لیے ایک زبردست 'ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ' (Demographic Dividend) یعنی مادی و افرادی فائدہ ہے۔

​جبکہ ہمارے ہاں پچھلے کچھ عرصہ سے بدقسمتی اور شعوری فقدان کی وجہ سے کچھ طبقہ فکر کی جانب سے بوجہ بغض و عناد اس کو تضحیک ،جہالت ،جذباتیت ، شرپسندی ،بے ادب ،عقل سے عاری کے پیرائے میں بیانیہ کی شکل میں پھیلایا جا رہا ہے

​1۔ یوتھ (نوجوانوں) کی تعریف کیا ہے؟
​نوجوان کی تعریف مختلف اداروں اور ممالک نے عمر کے مختلف حصوں کے لحاظ سے کی ہے:
​اقوامِ متحدہ (UN): اقوامِ متحدہ کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد کو نوجوان (Youth) شمار کیا جاتا ہے۔
​دولتِ مشترکہ (Commonwealth): یہ تنظیم 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد کو نوجوان کہتی ہے۔
​حکومتِ پاکستان: پاکستان کی قومی نوجوانوں کی پالیسی (National Youth Policy) کے مطابق 15 سے 29 سال کے عمر کے افراد کو 'یوتھ' کا حصہ مانا جاتا ہے۔
​ یوتھ زندگی کا وہ دور ہے جہاں انسان بچپن سے نکل کر شعور کی پختگی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان میں توانائی، کچھ نیا کرنے کا جذبہ، اور خواب دیکھنے کی صلاحیت عروج پر ہوتی ہے۔
​2۔ قومی دھارے (National Mainstream) میں نوجوانوں کا کردار
​قومی دھارے سے مراد ملک کی ترقی، سیاست، معیشت، اور سماجی اصلاحات میں فعال حصہ لینا ہے۔ نوجوان درج ذیل شعبوں کے ذریعے ملک کے قومی دھارے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں:
​الف۔ معاشی ترقی اور ڈیجیٹل انقلاب (Economic Growth)
​آج کا نوجوان روایتی ملازمتوں سے ہٹ کر انٹرپرینیورشپ (Entrepreneurship) اور فری لانسنگ کی طرف آ رہا ہے۔
​آئی ٹی اور فری لانسنگ: پاکستان دنیا بھر میں فری لانسنگ کے میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ نوجوان اپنے ہنر کے ذریعے ملک کے لیے زرِ مبادلہ کما رہے ہیں۔
​جدت پسندی (Innovation): نئے بزنس آئیڈیاز اور سٹارٹ اپس ملکی معیشت کو سہارا دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
​ب۔ سیاسی اور جمہوری عمل میں شمولیت (Political Engagement)
​نوجوانوں کا ووٹ کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
​شعور اور بیداری: سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار ہو رہا ہے۔ وہ اب محض جذباتی نعروں کے بجائے کارکردگی اور پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
​قیادت (Leadership): نوجوانوں کا بلدیاتی اور قومی سطح پر سیاست کا حصہ بننا ملک کو نئی، مخلص اور پڑھے لکھے طبقے کی قیادت فراہم کر سکتا ہے۔
​ج۔ سماجی اصلاحات اور تحقیق (Social Reforms & Research)
​کسی بھی معاشرے کی برائیوں (جیسے منافقت، جہالت، رشوت ستانی، اور طبقاتی فرق) کے خلاف سب سے مضبوط آواز نوجوانوں کی ہوتی ہے۔
​سماجی شعور: نوجوان اپنے قلم، تحقیق، اور تحریروں کے ذریعے معاشرتی منافقت اور دوغلے پن کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔
​رضاکارانہ کام (Volunteering): قدرتی آفات (جیسے سیلاب یا زلزلہ) کے وقت یا سماجی بہبود کے کاموں میں نوجوان ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
​د۔ تعلیم اور مثبت بیانیہ (Education & Narrative Building)
​نوجوان نسل علم اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھ کر ملک کا نام روشن کر سکتی ہے۔
​وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ایک مثبت، پرامن اور ترقی پسند امیج (Soft Image) پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
​انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے وہ فکری اور تعلیمی مباحثوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔
​چیلنجز اور آگے کا راستہ
​اگرچہ نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے، لیکن انہیں بے روزگاری، معیاری تعلیم کی کمی، اور ذہنی انتشار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
​ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو صرف 'مستقبل کے معمار' نہ کہا جائے، بلکہ آج کے دور میں ہی انہیں پالیسی سازی، فیصلہ سازی اور کلیدی عہدوں پر لا کر قومی دھارے کا عملی حصہ بنایا جائے۔ ان کی فکری تربیت اور مثبت رہنمائی ہی قوم کی حقیقی کامیابی کی ضامن ہے۔
Inayat Malik Writes
Inayat Ullah Malik Official
​"حاصلِ کلام یہ ہے کہ نوجوانوں کو تضحیک، جہالت یا شرپسندی کے طعنے دینا دراصل قوم کے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے تاریک کرنے کے مترادف ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نوجوان نسل کو محض 'مستقبل کے معمار' کہہ کر بہلانے کے بجائے، آج ہی کے دن سے انہیں فیصلہ سازی اور قومی دھارے کا عملی حصہ بنائیں۔ جب تک ہم ان کی فکری تربیت اور مثبت رہنمائی کا حق ادا نہیں کریں گے، تب تک ایک حقیقی، باشعور اور مخلص قیادت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔"
انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہی ہمارے معاشی، سیاسی اور سماجی بحرانوں کا واحد اور حتمی حل ہے۔"

​📝 اگر آپ بھی نوجوانوں کی فکری تربیت اور ملکی ترقی میں ان کے مثبت کردار کے حامی ہیں، تو اس تحریر کو لائیک کیجیے، اپنے حلقہ احباب میں شیئر کیجیے، اور معاشرے کے اہم ترین موضوعات پر گہری، تحقیقی اور فکری تحاریر کے لیے پیج کو ضرور فالو (Follow) کریں۔ آپ کی رائے کمنٹ سیکشن میں ہمارے لیے سرمایہ ہوگی!

بیان القرآنمفسر: ڈاکٹر اسرار احمدسورۃ نمبر 2 البقرةآیت نمبر 264أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ ال...
25/05/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 264
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِكُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰىۙ كَالَّذِىۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلۡدًا ‌ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَىۡءٍ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:
اے اہل ایمان ! اپنے صدقات کو باطل نہ کرلو احسان جتلا کر اور کوئی اذیت بخش بات کہہ کر اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ اور یوم آخرت پر تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی (جم گئی) ہو پھر اس پر زوردار بارش پڑے تو وہ اس کو بالکل صاف پتھر چھوڑ دے ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا

تفسیر:
آیت ٢٦٤ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذٰیلا
کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَہٗ رِءَآء النَّاسِ
اگرچہ اپنا مال خرچ کر رہا ہے ‘ لوگوں کو صدقات دے رہا ہے ‘ بڑے بڑے خیراتی ادارے قائم کردیے ہیں ‘ لیکن یہ سب کچھ ریاکاری کے لیے ‘ سرکار دربار میں رسائی کے لیے ‘ کچھ اپنے ٹیکس بچانے کے لیے اور کچھ اپنی ناموری کے لیے ہے۔ یہ سارے کام جو ہوتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ ان میں کس کی کیا نیت ہے۔
وَلاَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط
جو کوئی ریاکاری کر رہا ہے وہ حقیقت میں اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ ریا اور ایمان ایک دوسرے کی ضد ہیں ‘ جیسا کہ یہ حدیث ہم متعدد بار پڑھ چکے ہیں :
مَنْ صَلّٰی یُرَاءِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ ‘ وَمَنْ صَامَ یُرَاءِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَاءِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ ٣٥
جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا ‘ جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا ‘ اور جس نے دکھاوے کے لیے لوگوں کو صدقہ و خیرات دیا اس نے شرک کیا۔
فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ
اگر کسی چٹان پر مٹی کی تھوڑی سی تہہ جم گئی ہو اور وہاں آپ نے کچھ بیج ڈال دیے ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہاں کوئی فصل بھی اگ آئے ‘ لیکن وہ انتہائی ناپائیدار ہوگی۔
فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا ط
بارش کے ایک ہی زوردار چھینٹے میں چٹان کے اوپر جمی ہوئی مٹی کی تہہ بھی بہہ گئی ‘ آپ کی محنت بھی ضائع ہوگئی ‘ آپ کا بیج بھی اکارت گیا اور آپ کی فصل بھی گئی۔ بارش سے دھل کر وہ چٹان اندر سے بالکل صاف اور چٹیل نکل آئی۔ یعنی سب کچھ گیا اور کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاکاری کا یہی انجام ہوتا ہے کہ ہاتھ سے مال بھی دیا اور حاصل کچھ نہ ہوا۔ اللہ کے ہاں کسی اجر وثواب کا سوال ہی نہیں۔
لاَ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّمَّا کَسَبُوْا ط
ایسے لوگ اپنے تئیں صدقہ و خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا۔
وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ
وہ ناشکروں اور منکرین نعمت کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا اور انہیں بامراد نہیں کرتا۔
اگلی آیت میں فوری تقابل simultaneous contrast کے طور پر ان لوگوں کے لیے بھی مثال بیان کی جا رہی ہے جو واقعتا اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی امید رکھتے ہوئے خلوص و اخلاص سے خرچ کرتے ہیں۔
Inayat Malik Writes
Inayat Ullah Malik Official
احسان جتانے کی ممانعت: کسی کی مدد کر کے اس پر احسان جتانا یا اسے ذہنی و دلی اذیت دینا، انسان کے اپنے ہی اعمال اور صدقات کو برباد کر دیتا ہے۔
​ریاکاری (دکھاوا) پوشیدہ شرک ہے: حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں جو عمل اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کو دکھانے، ناموری کمانے یا دنیاوی مفادات کے لیے کیا جائے، وہ شرکِ اصغر (پوشیدہ شرک) کے زمرے میں آتا ہے۔
​چٹان اور مٹی کی مثال: ریاکار کا عمل اس مٹی کی طرح ہے جو چٹان پر عارضی طور پر تو نظر آتی ہے،
​✨ آپ کا تعاون ہمارے لیے قیمتی ہے!
​اگر آپ کو ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی یہ فکر انگیز تفسیر پسند آئی ہے اور آپ اس علمی و قرآنی سفر کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں، تو آپ سے گزارش ہے:
​👍 لائیک (Like) کریں: اس پوسٹ کو لائیک کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں۔
​🔄 شیئر (Share) کریں: اس قرآنی پیغام کو اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور پیاروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ یہ صدقہ جاریہ بن سکے۔
​🔔 فالو (Follow) کریں: ہمارے پیج/چینل کو فالو کر لیں تاکہ آپ کو "بیان القرآن" اور دیگر اسلامی معلوماتی مواد کی اپڈیٹس باقاعدگی سے ملتی رہیں۔
​"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔" (الحدیث)
آئیے اس خیر کے کام کو پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالیں!

Address

Kallur Kot
Bhakkar
30140

Telephone

+923465119168

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inayat Ullah Malik Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Inayat Ullah Malik Official:

Share

Category