12/02/2026
اگر شاہنواز ڈاھانی اور زاہد محمود پنجاب سے ہوتے تو پہلی پسند ہوتے
مگر بدقسمتی سے وہ سندھ سے ہیں
سندھ کے غیرت مند جوانو
یہ پوسٹ صرف کرکٹ کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ ہمارے وجود اور ہماری انا کا سوال ہے
حقیقت یہ ہے کہ
45
سالہ آصف آفریدی 2.5 کروڑ میں فروخت
ہوتا ہے، جس کا کیریئر ڈھل چکا ہے
لیکن سندھ کے وہ ہیرے جنہوں نے اپنی رفتار اور اسپن سے دنیا کو حیران کیا،
وہ شاہنواز ڈاھانی اور زاہد محمود آج پی ایس ایل (PSL)
کی نیلامی میں اکیلے کھڑے ہیں، کیوں؟ کیونکہ ان کے پیچھے کوئی سفارشی نہیں، کیونکہ وہ سندھ کی مٹی کے بیٹے ہیں
اب سوال سندھ کے عوام سے ہے
اے سندھ کے لوگو
کیا تم یوں ہی تماشا دیکھتے رہو گے اور تالیاں بجاتے رہو گے؟
کیا ہم صرف پی ایس ایل کے میچوں میں دوسروں کے کھلاڑیوں کے لیے نعرے لگانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟
کیا تم اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی اس کھلی ناانصافی پر بے حسی کی خاموشی اختیار کرو گے؟
یا پھر اتنی غیرت دکھاؤ گے کہ اس تعصب کی بنیاد پر ہونے والی لیگ اور میچوں کا مکمل بائیکاٹ کرو گے؟
یاد رکھو
اگر آج تم نے اپنے ہیروز کے لیے آواز نہیں اٹھائی،
تو کل کوئی بھی سندھی نوجوان بیٹ یا بال ہاتھ میں اٹھانے کا حوصلہ نہیں کرے گا۔
آج بائیکاٹ کی طاقت دکھاؤ تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ سندھ کے ٹیلنٹ کو نظر انداز کرنے کی قیمت کیا ہوتی ہے
فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے
صرف تماشائی بننا ہے یا اپنے حق کے لیے ڈھال بننا ہے؟