جمعیت علمائے اسلام جوڑ بونیر

جمعیت علمائے اسلام جوڑ بونیر Jamiat Ulema-e Islam Pakistan is a Deobandi Sunni political party in Pakistan.

Established as the Jamiat Ulema-e Islam in 1945, it is the result of a factional split in 1988, F standing for the name of its leader, Fazal-ur-Rehman

02/08/2026
15/07/2026

شہداء ہمارے سروںk تاج اور ماتھے k جھومر ہیں۔ مگر بات وہی ہیکہ جو مولانا صاحب نے کہی۔ مراعات آپ لے رہے ہیں تو امن بھی تمہاری ذمہ داری یے۔

15/07/2026

جان ہم دے دیں گے بارڈر بھی ہم سنبھالیں گے لیکن 84 فیصد بجٹ بھی ہمارا ہوگا ڈی ایچ اے و کینٹ سمیت سب کچھ ہمارے حوالے ہوگا پہر دفاع جانے ہم جانے بولو منظور ہے ؟

وہ شخص جس نے برسوں پہلے کہا تھا کہ فوج میری آنکھوں پر پلکوں کی طرح ہے اور پلکیں آنکھوں پر بوجھ نہیں ہوتیں لیکن پلکوں کا ...
15/07/2026

وہ شخص جس نے برسوں پہلے کہا تھا کہ فوج میری آنکھوں پر پلکوں کی طرح ہے اور پلکیں آنکھوں پر بوجھ نہیں ہوتیں لیکن پلکوں کا کوئی بال اگر آنکھ میں چلا جائے تو آنکھ روتی ہے کہ تمھاری یہ جگہ نہیں ، فوج سرحد پر ہو تو پلکوں کی طرح ہو گی ، سیاست میں آئی گی تو سیاست دان روئے گا شور مچائے گا کہ تمھاری یہ جگہ نہیں ، اس لہجے میں بات کرنے والے شخص کو تم نے ایک جملہ پکڑ کر غدار بنا دیا ؟ تم نے اسکا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا ؟

ہم سے پوچھو کہ مولانا نے کس آگ اور دریا کو عبور کر کے مذہبی طبقے کو اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا کیا ؟

مولانا کے ارد گرد جو لوگ تھے ان سب کے پاس بندوق تھی ، ضیا الحق جب دیوبندیت کی تربیت کر رہا تھا تب مولانا جیل میں تھے ، واپس آئے تو ہر شخص واسکٹ پہنے لمبے بال رکھے چلتا پھرتا میزائل بنا ہوا تھا ،

ادھر افغانستان میں روسیوں کے خلاف لڑائی شروع کروائی گئی ، ساتھ ہی کشمیر کا محاذ گرم کیا گیا اور رہتی کسر شیعہ سنی فساد کے ذریعہ پوری کر دی گئی ، ہمارے مدارس فل استعمال ہوئے اور بچوں کو تعلیم کی بجائے عسکری محاذ پر بھیج دیتے تھے ، ایسے میں مولانا نے جمہوریت کی بات کی اور ایم آر ڈی تحریک چلائی ، خود کو بھی بچایا اور اپنے ورکرز کو بھی ،

پھر مشرف آیا تو اس نے سارے پروجیکٹ کلوز کر دیے ، نتیجتا کشمیری جماعتیں ریاست کے خلاف ہو گیئں۔ مدارس سے اٹھے لڑکے آپ کے خلاف لڑنے لگ گئے ، جھنگ والے شخص کے نام پر بنی عسکری جماعت آپ سے لڑنا شروع ہو گئی ، قبائلی خطے میں بگڑے ہوئے ٹرک ڈرائیور بھی آپ پر پڑ گئے اور پھر اسلام آباد کے دل میں مولانا عبد العزیز الگ کتاب کھول کر بیٹھے تھے ، یہ سب آپ کے تیار کردہ تھے ، آپ نے ہی ان کو چھوٹ دے رکھی تھی ، جب آپ نے پروجیکٹ کلوز کیے تو انہوں نے آپ کے خلاف فتوے دیے اور ہتھیار اٹھائے

ایسے میں مولانا کی تھے جو ریاست کیساتھ کھڑے ہو گئے ، وہ لوگ جو طاقت ور ریاست کیساتھ لڑ رہے تھے مولانا ان کے راستے میں رکاوٹ بن گئے ، مولانا نے ریاست پر بھی احسان کیا اور اپنے کارکنوں پر بھی ، خود پر خود کش حملے برداشت کیے لیکن ریاست کے خلاف نہیں چلے ،

ایک پوری نئی اور پرانی مذہبی نسل کو ریاست ، جموریت اور آئین کیساتھ جوڑنے والے شخص کو ٹکے ٹکے کے لوگ اٹھ کر غدار کہہ رہے ہیں ، حیرانی ہے

یہ صلہ ہے وفاؤں کا ؟

مولانا ہر مذہبی انسان کا محسن ہے ، مولانا سے لوگوں کو شکایات ہونگی لیکن آپ اسے غدار بنائیں گے اور فیاض الحسن جیسے گھٹیا لوگ ان پر چھوڑیں گے تو ناراض لوگ بھی مولانا کیساتھ کھڑے ہو جائیں گے

مولانا سیاست کا وقار ہیں۔

پرسوں ہی دوستوں سے کہہ رہا تھا کہ ماضی میں کئی پارلیمنٹیرینز ایسے تھے جن کی تقاریر سنتے تھے تو مسائل سے آگاہی ہوتی تھی اب کوئی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر معیار کی بات نہیں کرتا ، ایک مولانا ہیں ، وہ جب پارلیمنٹ میں بات کرتے ہیں تو جی چاہتا ہے سنا جائے ، ان کے لہجے میں توازن ہوتا ہے اور بات میں دلیل ، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی گھر کا بڑا بتا رہا ہو کہ یہ مسائل ہیں ان کا حل یہ ہے

ایسے شخص کو غدار نہ بنائیں۔ اسکے ساتھ بیٹھیں ، اسکی باتیں سنیں ، مولانا نہ عمران خان ہے اور نہ نواز شریف مولانا کے پیچھے اسکی تاریخ ہے ، یہ میڈیا ٹرائل نقصان دے گا ، مولانا بزرگ ہیں۔ بزرگ سانجھے ہوتے ہیں ، مولانا کی داڑھی سے نہ الجھیں انکی بے احترامی قوم کے لیے نقصان دہ ہو گی ، سب کو ایک لاٹھی سے نہ ہانکیں ، یہ مولانا نے ہمیں ڈھانپا ہوا ہے ورنہ پیچھے جذباتی لوگوں کا ایک طوفان ہیں جن کے پاس اپنے اپنے ریڈیو ہیں اور اپنی اپنی خبریں ہیں ، مولانا سے بات ہو سکتی ہے بعد والے پاگلوں سے کیا کہیں گے آپ ؟

ہمارے گفتگو والے آدمی کی عزت کریں ـ

تحریر عامر ہزاروی ـ

13/07/2026

جس جماعت کے ایک جلسے میں 90 سے زائد کارکن صرف اس لیے شہید ہوئے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اور ریاستِ پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے، اسے حب الوطنی یا ریاست سے وفاداری کا درس دینے والوں کو پہلے اپنی تاریخ دیکھ لینی چاہیے۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جن کو پسینہ بھی نہیں آیا وہ پالتو مولانا پر عپ عپ کر رہے ہیں ۔۔۔۔

12/07/2026

فوج کو کہتا ہوں آئیے، انتخابات میں حصہ لیجیے، پھر معلوم ہو جائے گا کہ عوام کس کو ووٹ دیتے ہیں۔
اختیار عوام کے پاس ہونا چاہیے کہ وہ جسے چاہیں حکومت دیں اور جس سے چاہیں حکومت واپس لے لیں

مولانا فضل الرحمٰن

12/07/2026

مگرمچھ کے آنسو

اس وقت مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ پر جو لوگ سب سے زیادہ شور مچا رہے ہیں، یہ کچھ اور نہیں بلکہ صرف اور صرف مگرمچھ کے آنسو ہیں۔
آج واویلا کرنے والی ان تمام سیاسی پارٹیوں نے خود اپنے ہاتھوں سے 25ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس وقت انہوں نے اس بات پر مہر لگائی تھی کہ ان علاقوں کو ٹیکس کی چھوٹ صرف 5 سال کے لیے دی جائے گی، جو کہ 2023ء تک بنتی تھی۔
جمعیت علمائے اسلام اکیلی ان کے اس فیصلے کے خلاف کھڑی تھی۔ آج جب ان کا اپنا پاس کردہ قانون عوام کے گلے کا پھندا بن چکا ہے، تو یہ معصوم بن کر احتجاجی تحریکوں کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
عوام اب بیدار ہے، انہیں سب یاد ہے!

ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ جمعیت علمائے اسلام نے اس وقت بارہا کہا تھا کہ ان علاقوں کی آئینی پوزیشن...
12/07/2026

ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ جمعیت علمائے اسلام نے اس وقت بارہا کہا تھا کہ ان علاقوں کی آئینی پوزیشن تبدیل کرنے سے پہلے وہاں کے عوام سے پوچھا جائے اور ان پر یکطرفہ فیصلے مسلط نہ کیے جائیں۔ مگر اس وقت جمعیت کی یہ اکیلی آئینی اور عوامی آواز باقی تمام سیاسی جماعتوں کے شور میں دبا دی گئی۔ یہ جماعتیں پچیس ویں ترمیم کے کریڈٹ لینے کے لیے

ایک دوسرے سے آگے تھے

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو سیاسی جماعتیں اس وقت اس جبری فیصلے کا حصہ دار تھیں، آج وہی سب سے زیادہ واویلا کر رہی ہیں اور اپنی ماضی کی حاملیت پر پردہ ڈالتے ہوئے ڈھٹائی کے ساتھ لمبی لمبی تقریریں جھاڑ رہی ہیں

اسلامی دنیا کا واحد سپریم لیڈر ،👑❤
21/06/2026

اسلامی دنیا کا واحد سپریم لیڈر ،👑❤

21/06/2026

Address

Jowar
Bunerwal
19260

Telephone

+923149139354

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جمعیت علمائے اسلام جوڑ بونیر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share