30/11/2025
میں MPA جناب عبدُالکبیر خان کا دِل سے شکرگزار ہوں کہ انہوں نے تمباکو کے کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے جرگہ منعقد کیا اور کسانوں کی آواز سننے کے لیے فوراً اقدام اٹھایا۔
یہ ایک مثبت آغاز ہے، مگر اصل اور بنیادی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔
مختصر نوٹس کے باعث ہمیں یہ اہم نکات پیش کرنے اور ان فیصلوں کی اصل وجوہات جاننے کا موقع نہیں مل سکا، جو پورے مندنڑ اور بونیر کے کسانوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
۱۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی (PTC) نے مندنڑ میں خریداری مرکز کیوں بند کیا؟
یہ پورے علاقے کا سب سے بڑا سوال ہے:
• کیا کمپنی اپنے انتظامی اخراجات کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھا رہی ہے؟
• یا گزشتہ سال کے کچھ ناخوشگوار واقعات، جن میں بعض کاشتکاروں کی PTC اسٹاف کے ساتھ بدتمیزی اور غیر ذمہ دارانہ رویّے شامل تھے، اس فیصلے کی وجہ بنے؟
• جو بھی وجہ ہو، نقصان صرف اور صرف ہمارے کسانوں کو ہو رہا ہے، جنہیں اب لمبا سفر کرکے سواڑئ میں تمباکو فروخت کرنا پڑے گا۔
۲۔ لیکسن ٹوبیکو کمپنی نے بھی مندنڑ سے اپنا خریداری مرکز کیوں ختم کیا؟
دو بڑی کمپنیاں ایک ہی علاقے سے پیچھے ہٹ جائیں — یہ معمولی بات نہیں۔
اس کی وجوہات جاننا کسانوں کا حق ہے۔
۳۔ پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB) نے تمباکو کا کوٹہ کم کیوں کیا؟
یہ فیصلہ پورے خیبرپختونخوا کے کاشتکاروں کے لیے دھچکے سے کم نہیں۔
• کیا تمباکو کی برآمدات (Exports) کے لیے کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی گئی؟
• یا منصوبہ بندی کی کمی کے باعث کسانوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے؟
• کوٹہ میں کمی کے باعث ہزاروں خاندانوں کی آمدنی براہِ راست متاثر ہوگی۔