Danger politics

Danger politics political views

معذور حکومتکے اختیتامی دور میں گلگت کی معاشی حالت
19/11/2025

معذور حکومت
کے اختیتامی دور میں گلگت کی معاشی حالت

19/11/2025

NHA میگا کرپشن اسکینڈل میں ڈسٹرکٹ غذر کے دو سیاسی اھم اشخاص ملوث ایک کا تعلق گاھکوچ جبکہ دوسرے کا تعلق یاسین سے ھے
زرائع

جب پہلی بار انسان نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تو ایسا لگا جیسے زمین نے اپنے ہی وجود کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ مگر انسان کی جس...
01/05/2025

جب پہلی بار انسان نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تو ایسا لگا جیسے زمین نے اپنے ہی وجود کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ مگر انسان کی جستجو وہیں نہیں رکی۔ جلد ہی انسان نے ایٹمی طاقت کا ایک ایسا روپ دریافت کر لیا جو عام ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ ہولناک تھا — ہائیڈروجن بم۔ اسے بعض اوقات تھرمونیوکلئیر بم بھی کہا جاتا ہے، اور اگر سادہ الفاظ میں بیان کریں تو یہ وہ ہتھیار ہے جو سورج اور ستاروں کی توانائی کو زمین پر اتارنے کی کوشش ہے۔

ہائیڈروجن بم کا اصول بالکل مختلف ہے۔ عام ایٹم بم میں بھاری ایٹم، جیسے یورینیم یا پلوٹونیم کو توڑ کر توانائی حاصل کی جاتی ہے، مگر ہائیڈروجن بم میں ہلکے عناصر کو آپس میں جوڑ کر ناقابلِ تصور توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ یہ عمل نیوکلیئر فیوژن کہلاتا ہے، وہی عمل جو سورج میں کروڑوں سالوں سے جاری ہے اور جس کی بدولت زمین پر روشنی اور زندگی قائم ہے۔ ہائیڈروجن بم میں چھوٹے ایٹم — جیسے ڈیوٹیریم اور ٹرائٹیریم — ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک نیا عنصر پیدا کرتے ہیں، اور اس عمل میں جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ٹن روایتی دھماکہ خیز مواد کے برابر ہو سکتی ہے۔

مگر اس بم کو بنانے کا عمل کوئی آسان کام نہیں تھا۔ فیزیکل طور پر، ہائیڈروجن بم دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے ایک عام ایٹمی بم کا دھماکہ کیا جاتا ہے تاکہ اتنی زیادہ گرمی اور دباؤ پیدا ہو جو فیوژن عمل شروع کر سکے۔ پھر یہ شدید حالات ہلکے ایٹموں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ آپس میں جڑ کر ایک تباہ کن دھماکہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن بم، عام ایٹمی بم کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر عام ایٹم بم کسی شہر کو تباہ کر سکتا ہے تو ہائیڈروجن بم پورے ملک کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا میں ہائیڈروجن بم بنانے کی دوڑ دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ امریکہ نے 1952 میں پہلا کامیاب ہائیڈروجن بم تجربہ کیا، جسے "آئیوی مائیک" کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ مارشل آئی لینڈز کے ایک دور دراز جزیرے پر کیا گیا تھا اور اس کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا جزیرہ ہی نقشے سے مٹ گیا۔ سوویت یونین نے 1953 میں اپنا جواب دیا، اور 1961 میں انہوں نے "Tsar Bomba" کا دھماکہ کیا — ایک ایسا دھماکہ جس کی شدت آج تک انسانیت کی تاریخ کا سب سے بڑا نیوکلیئر دھماکہ ہے۔ اس دھماکے کا بادل ساٹھ کلومیٹر کی بلندی تک اٹھا اور اس کی روشنی ہزاروں کلومیٹر دور سے دیکھی گئی۔

برطانیہ، فرانس، اور چین نے بھی جلد ہی ہائیڈروجن بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ بعد میں بھارت نے 1998 میں اپنے پوکھران ٹیسٹ میں ایک تھرمونیوکلئیر ڈیوائس کا تجربہ کیا، حالانکہ اس پر دنیا بھر میں کچھ شبہات کا اظہار بھی کیا گیا۔ پاکستان نے اسی سال اپنے کامیاب ایٹمی تجربات کیے، مگر اب تک کوئی سرکاری طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پاکستان کے پاس مکمل ہائیڈروجن بم ہے۔ شمالی کوریا نے 2016 میں اعلان کیا کہ اس نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے، مگر بہت سے ماہرین اب بھی اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ہائیڈروجن بم صرف ایک ہتھیار نہیں، یہ ایک فلسفہ ہے: طاقت کی انتہا، تباہی کی معراج۔ یہ اتنا مہلک ہے کہ اس کے استعمال کے بعد زمین پر کئی برسوں تک "نیوکلیئر ونٹر" آ سکتا ہے — ایک ایسا دور جب آسمان دھوئیں سے ڈھک جائے گا، سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچے گی، درجہ حرارت گر جائے گا اور زندگی کا بیشتر حصہ فنا ہو جائے گا۔ اس بم کی تباہی کا عالم یہ ہے کہ اگر چند درجن ہائیڈروجن بم پھٹ جائیں تو انسانی تہذیب کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

شاید اسی خوف نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے معاہدے کریں۔ مگر ہائیڈروجن بم کی موجودگی اب بھی اس دنیا پر ایک ایسا سیاہ سایہ ہے جو کبھی بھی حرکت میں آ سکتا ہے، اگر انسان نے ہوش سے کام نہ لیا۔ آج جب ہم ستاروں کی کھوج میں ہیں، مریخ پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھتے ہیں، تو یہ ہتھیار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہی سیارے کو تباہ کرنے کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

شاید یہی ہائیڈروجن بم کی سب سے بڑی کہانی ہے — طاقت کی معراج، اور فنا کا دہانہ۔

کوئٹہ کا خونی دھرنا: بی ایل اے دہشتگردوں اور ماہرنگ لانگو کی منظم سازش بے نقاب!🔹️ آج کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرن...
22/03/2025

کوئٹہ کا خونی دھرنا: بی ایل اے دہشتگردوں اور ماہرنگ لانگو کی منظم سازش بے نقاب!

🔹️ آج کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے کے پیچھے جو خونی کھیل کھیلا گیا، وہ پہلے سے تیار کردہ ایک مکمل منصوبہ تھا، جس میں بی ایل اے کے دہشتگردوں کو ماہرنگ لانگو کی قیادت میں فساد پھیلانے کے لیے متحرک کیا گیا۔

🔹️ نہتے مظاہرین کے بھیس میں مسلح دہشتگرد دھرنے کا حصہ بنے، اور جب واٹر کینن سے پانی کا اسپرے کیا گیا تو ان ہی دہشتگردوں نے پتھراؤ کی آڑ میں فائرنگ کر کے تین بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

🔹️ یہ قتل محض اتفاق نہیں تھا، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیاسی فائدے کے لیے کیے گئے۔ تینوں مقتولین کی لاشوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سازش کی گئی، لیکن ایک مقتول کے بہادر لواحقین نے سازشی عناصر کے چنگل سے لاش چھین لی۔

🔹️ تاہم باقی دو مقتولین کے اہلخانہ کو مغوی بنا کر اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر ان لاشوں کو فساد بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

🔹️ یہی وجہ ہے کہ ان مقتولین کی لاشوں کو جان بوجھ کر تفتیش سے دور رکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ اگر کوئی غیرجانبدار تحقیقات کی جاتی، تو ان فسادیوں کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہو جاتا۔ مگر سچ کو کب تک دبایا جا سکتا ہے؟ یہ گھناؤنی سازش جلد یا بدیر بے نقاب ہو کر رہے گی.😠🖐️

🥷🇵🇰❤️✊💫💫

کتاب پڑھنا عام طور پر ایک صحت مند سرگرمی ہے، لیکن بلوچ قوم پرستوں  نے اسے ہتھیار بنا لیا ہے جس کی وجہ سے ریاست کو مداخلت...
19/02/2025

کتاب پڑھنا عام طور پر ایک صحت مند سرگرمی ہے، لیکن بلوچ قوم پرستوں نے اسے ہتھیار بنا لیا ہے جس کی وجہ سے ریاست کو مداخلت کرنی پڑی۔ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی مصنفین کے کاموں کا ترجمہ کیا جا رہا ہے جن کی نظریات بائیں بازو کے ہیں یا جو جنگی حکمت عملیوں پر مبنی ہیں، جیسے "وار آف دی فلی" (Robert Taber) اور "دی آرٹ آف وار" (Sun Tzu)۔ ان ترجموں کا مقصد نوجوان قارئین کو ہدف بنانا ہے تاکہ انہیں نظریاتی بیانیے اور جنگی حکمت عملیوں سے آشنا کیا جائے اور نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لیے بھرتی کیا جائے۔ ایسے افراد جیسے مہرنگ غفار جو بلوچ حقوق کے حامی ہیں، افسوس کی بات ہے کہ اس ایجنڈے کی حمایت کر رہے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو پرتشدد علیحدگی پسند اقدامات کی طرف دھکیل رہے ہیں۔🔥🖐️

🥷🇵🇰❤️✊⚔️💫

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔بہت سارے گمراہ دوست جو حقیقت سے کوسوں دور ہیں ۔ سوشل میڈیا پر جو دیکھتے ہیں ۔جو سنتے ہیں ۔اسی ک...
16/02/2025

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
بہت سارے گمراہ دوست جو حقیقت سے کوسوں دور ہیں ۔ سوشل میڈیا پر جو دیکھتے ہیں ۔جو سنتے ہیں ۔اسی کو سچ مانتے ہیں ۔ گلیشیر کی سردی کا اندازہ صرف ان کو ہے ۔ جو وہاں پر موجود ہے ۔ افواج پاکستان کے جوانوں کے علاوہ وہاں پر کوئی بھی سویلین نہیں ہے ۔ سیاہ چین کے پہاڑوں پر افواج پاکستان کے جوان ڈیوٹی پر مامور ہے ۔ اس بلندی پر پہنچنے کے لیے کم و بیش تیس دن درکار ہوتے ہیں ۔ اور وہاں سے نیچے انے کے لیے بھی اس سے زیادہ کا وقت درکار ہوتا ہے ۔ جہاں ہیلی کاپٹر کا انجن اگر بند کر دیں تو اس کو دوبارا آپ اون نہیں کر سکتے ۔ ہر یونٹ وہاں پر دو سال کا قیام کرتا ہے ۔ اور اس میں جیتنے بھی جوان اج تک ڈیوٹی سر انجام دے کر آئے ہیں ۔ ان کے پاوں ہاتھ اور جسم کے دیگر حصوں کو اگر یہ گمراہ دوست ۔ یہ بھائی اگر دیکھیں جو فوج پر تنقید کرتے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ دوبارا یہ غلطی نہیں کریں گے ۔ پچھلے سال 6 ستمبر کو یادگار شہداء پر ایک کیپٹن صاحب ۔ میں ان کا نام نہیں لونگا وہ جب سیاہ چین سے لاہور پہنچے تو ان کو سورج کی طرف دیکھتے میں سخت دشواری پیش آ رہی تھی ۔ انہوں نے آنکھوں پر چشمہ لگا رکھا تھا ۔ میں نے سوال کیا تو حیران کر دینے والا جواب ملا کہ 15 ماہ بعد سورج دیکھا ہے ۔ جہاں مانس تیس سے بھی زیادہ سردی ہوں ۔ جہاں پانی برف بن جائے ۔ جہاں کپڑے دھوں کر سوکھانے کے لیے دن لگے ۔ جہاں جسم پر بھاری بھرکم وردی جسم پر پہن کر ڈیوٹی کرنی پڑے جہاں نہ فون نہ رابطہ ۔ نہ نیٹ ۔ ہمارا نیٹ چند منٹ کے لیے بند ہو جائے تو ہم نیٹ والے کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتے ۔ وہی پر یہ جوان دو دو ماہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کر سکتے ۔ ہم کہہ دیتے ہیں ۔ کہ فوج نوکری کرتی ہے ۔ اور اس کی تنخواہ لیتی ہے ۔ میری ایک جگہ پر ایک دوست سے بحث ہوگئ اسی بات کو لیکر میں کسی واقعے کا ذکر کر رہا تھا ۔ اس نے اگے سے کہہ دیا کہ فوج اس بات کی تنخواہ لیتی ہے ۔ میں نے اس سے کہہ کہ آپ صرف دس دن سیاہ چین پر رہ کر دیکھا دیں میں اپکو تین گناہ زیادہ تنخواہ دونگا اور آپ کو خراج تحسین پیش کروں گا ۔ مجھے اپنے بھائیوں پر بڑا افسوس ہوتا ہے ۔ جب وہ شہیدوں کی پوسٹ پر سمائل کا ریکٹ کرتے ہیں ۔ مذاق اُڑاتے ہیں ۔ سخت گرمی میں ۔ سخت سردی میں ۔ جنگلوں میں ۔ پہاڑوں پر سمندر میں یہ سب کچھ پیسے کے لیے کرتے ۔جذبہ حب الوطنی کی خاطر کرتے ہیں ۔ وطن عزیز کے دفاع کے کرتے ہیں ۔ قوم کی حفاظت کے لیے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔
امین ثم آمین یارب العالمین 🤲🤲🤲

پاکستان تاقیامت ذندہ باد 🇵🇰❤️
وطن کی مٹی کا قرض دار🇵🇰❤️

15/02/2025

*آئی ایم ایف کا افسران کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کی مدت میں توسیع سے انکار*

خدا جانے یہ آئی ایم ایف والوں کو سرکاری افسران سے کیا دشمنی ہے۔ اچھا بھلا وہ کھا پی کر ڈکاریں مار رہے تھے کہ اب اس عالمی مالیاتی ادارے نے ان سے ان کے اخراجات، آمدن اور اثاثوں کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھنے والے بچوں کے تعلیمی اداروں اور ان کی فیسیں بھی معلوم کرنے کا کہہ کر ان شریف سفید پوش افسروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ افراتفری میں وہ مقررہ وقت میں توسیع کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ حسب عادت جھوٹے سچے دستاویزات بنا کر اپنے کو وہ گنگا نہائے معصوم ثابت کر سکیں مگر آئی ایم ایف والے بھی یہ سب الٹ پھیر جانتے ہیں۔ وہ کوئی پاکستانی تحقیقاتی کمیٹی تو ہے نہیں کہ ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جو مرضی ہے ان کی، کہہ دیا جائے، پڑھا دیا جائے اور وہ مان جائیں۔ یہ عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو دنیا بھر کو چلاتا ہے، امداد دیتا ہے، قرضہ دیتا ہے‘ تو وہ وصول کرنا بھی جانتا ہے۔ اب اس ادارے نے پاکستانی اعلیٰ افسران کا بھی کچا چٹھا کھولنے کا فیصلہ کیا ہے کہ معلوم ہو سکے کہ ایک سرکاری افسر اتنی تنخواہ میں ماہانہ لاکھوں روپے کے اخراجات، لاکھوں روپے بچوں کی کی فیسیں، لاکھوں روپے یوٹیلٹی بلز کیسے ادا کرتے ہیں۔ یہ تو کوئی جادوئی طاقت ہی ایسا کر سکتی ہے۔ اگر آمدن ماہانہ دو لاکھ ہے تو اخراجات، وہ بھی شاہانہ 20 لاکھ کیسے ہو سکتے ہیں۔ ایسا کون سا جادوئی چراغ سرکاری افسران کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ ذرا عوام کو بھی اور دنیا کو بھی پتا چلے۔ اب اس معلومات کے افشا کرنے سے تو بہتر ہے کئی افسران منہ چھپائے ادھر ادھر چلے جائیں۔ ان میں سے بہت کم افسر لینڈ لارڈ ہوتے ہیں، باقی سب افسری ملنے کے بعد بن جاتے ہیں۔ اب بھلا یہ اپنے شاہانہ اخراجات کی بابت کیا بتائیں گے اور اثاثے جو بنائے ہیں، ان کو کس طرح ظاہر کریں گے، اس طرح تو وہ عوام کے سامنے بھی عریاں ہو جائیں گے۔ اب آئی ایم ایف والوں نے تو مقررہ وقت میں توسیع سے مکمل انکار کر دیا ہے۔

پاکستان پر بوجھ کب تک؟سالوں سے 🇵🇰 پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دیتا رہا، مگر سیکیورٹی خطرات اور معاشی دباؤ کے پی...
14/02/2025

پاکستان پر بوجھ کب تک؟

سالوں سے 🇵🇰 پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دیتا رہا، مگر سیکیورٹی خطرات اور معاشی دباؤ کے پیش نظر غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی ناگزیر ہو چکی ہے!

📢 یہ دشمنی نہیں، قومی سلامتی کا تقاضا ہے!

🔹 غیر قانونی قیام اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو ڈی پورٹ کرنا ہر ملک کا حق ہے!

🔹 مغربی ممالک جو انسانی حقوق کی دہائی دیتے ہیں، کیا وہ خود اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین قبول کرنے کو تیار ہیں؟

پاکستان کا فیصلہ قومی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے!❤️💯🇵🇰✊

🥷🇵🇰❤️⚔️✊

13/02/2025

حیرت ہے پاکستانیوں پہ ہجرت کے بعد سے دو نسلیں جوان ہو گئیں مگر لچھ لوگ ابھی تک مہاجر بنے گھومتے ہیں 🤔
یا پھر سپنے آپ کو انڈین کہلاتے ہیں 🤔
خدارا اپنی قومیت کو پہچانئیے دنیا ہنستی ہے ایسی جہالت والی گفتگو پہ 😢
ہم سب ایک قوم بن جائیں یہ ہی بہت بڑی بات ہے پتہ نہیں ہم کب عقل و شعور والی قوم بنیں گے 😔
کراچی پاکستان کا ایک صنعتی اور تجارتی اور بین الاقوامی شیرت کا حامل شہر ہے خدا کے لئیے اسے لسانی اور فرقہ ورانہ تعصب کی نظر مت ہونے دیں ہم سب پڑھے لکھے با شعور ہیں ہمیں اس گندی سیا ست سے بچنا ہوگا اور ثابت کرنا ہوگا کہ کراچی پاکستان کا ایک بہت بڑا تجارتی مرکز ہے اور یہاں سب پاکستانیوں کے حقوق برابر ہیں ۔ اگر کوئی آپکے سامنے ایسی بات کرے جس سے لسانی یا فرقہ ورانہ فرق ظاہر ہو تو برائے مہربانی اسکو ٹوک نا آپکا فرض بنتا ہے تاکہ آہستہ آہستہ یہ تما م باتیں ہماری سوسائٹی میں ناپید ہو جائیں ۔
کراچی ہم سب کا ہے کسی ایک قوم و فرقہ کا نہیں ۔
اللہ ہمارے خوبصورت شہر کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور دشمنوں کو اپنے برے ارادوں میں ناکام فرمائے 🤲
الہی آ مین
التماس دعا :

فوج دہشتگردوں سے قوم دہشتگردی سے نمٹ رہی ہے!پاکستان پر مسلط نظر نا آنے والی جدید دور کی جنگ ہائیبرڈ ففتھ جنریشن کولڈ وار...
13/02/2025

فوج دہشتگردوں سے قوم دہشتگردی سے نمٹ رہی ہے!
پاکستان پر مسلط نظر نا آنے والی جدید دور کی جنگ ہائیبرڈ ففتھ جنریشن کولڈ وار میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس وقت ایک نظریاتی جنگ کے میدان میں ہے۔
جہاں دشمن نہ صرف مغربی سرحدوں اور اندرونی دیگر محاذوں پر بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے پورے ملک اور ذہنوں اور دلوں ایمانوں پہ عقائد پہ پروپیگنڈے کے ذریعے حملہ آور ہے اور دوسری جانب معاشی دباؤ اور تیسری جانب مسلح دہشتگردوں کے ذریعے سے حملہ آور ہے۔ اس جنگ میں ہر محبِ وطن پاکستانی کا کردار اہم ہے، کیونکہ دشمن صرف بندوق اور اپنی معاشی کنٹرول کی طاقت سے سیاسی و عالمی اداراتی طاقت سے اور اپنے پیسے و جنگی سازو سامان سے ہی نہیں بلکہ جھوٹے بیانیوں اور نفسیاتی حملوں سے بھی وار کر رہا ہے۔

پاک فوج اور عوام ایک ساتھ ناقابلِ تسخیر!
پاک فوج، آئی ایس آئی اور دیگر سیکیورٹی ادارے ہر محاذ پر دشمن کو پسپا کر رہے ہیں، جبکہ محبِ وطن عوام پوری قوم کیجانب سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے دشمن کے مسلسل جھوٹے پروپیگنڈوں اور نفسیاتی حربوں اور ڈس انفارمیشن وارفیئر کا بہترین مقابلہ کر رہے ہیں۔
ہماری سپاہ ہماری انٹیلیجنس ایجنسیز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور کچھ کیمو فلاج ہیروز کے علاؤہ محب وطن پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پاکستان کا فخر ہیں اور جب تک محب وطن پاکستانی اس جذبہ حب الوطنی سے سرشار اور انکے حونصلے جوان اور بلند ہیں اور قوم اور فوج ایک جان دو قالب ہیں خدا کی قسم پاکستان کو کوئی میلی انکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا مٹانے کی بات تو بہت بہت بہت دور کی ہے۔
ہر شہید کے بدلے ہر گھر سے غازی نکلے گا دشمن یہ جان لے خدا کی قسم ہمارا 12 سال کا بچہ بھی غازی ہے پاک فوج کا سپاہی ہے محب وطن پاکستانی اپنے وطن کے محافظوں کے ساتھ کھڑے تھے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے!

پاکستان زندہ باد!
پاک فوج پائندہ باد!
تحریک نظریہ پاکستان 🇵🇰🇧🇩⚔️

اللہ تعالیٰ امتحان لیتا ہے، صبر کا، دعاؤں کا، انتظار کا، اور برداشت کا۔ یہ امتحان اکثر مشکل لگتے ہیں۔ کبھی تکلیف برداشت ...
12/02/2025

اللہ تعالیٰ امتحان لیتا ہے، صبر کا، دعاؤں کا، انتظار کا، اور برداشت کا۔ یہ امتحان اکثر مشکل لگتے ہیں۔ کبھی تکلیف برداشت کرنا دشوار ہو جاتا ہے تو کبھی دعاؤں پر یقین ٹوٹنے لگتا ہے۔ طویل انتظار دل کو تھکا دیتا ہے، اور درد ناقابلِ برداشت محسوس ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو، یہ امتحان تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں ہوتے۔ غور کرو تو سمجھ آتا ہے کہ جب تم اس آزمائش میں نہیں تھے، تب تم اللہ سے اتنے قریب بھی نہیں تھے جتنا یہ امتحان تمہیں لے آیا ہے۔ تمہاری دعاؤں میں خلوص اور یقین بڑھ گیا ہے، تمہارا دل اللہ پر بھروسا کرنے لگا ہے۔ یہ آزمائش تمہارے دل و دماغ پر چھائی دھند کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور شاید یہی وہ راستہ ہو، جو اللہ نے تمہیں اپنے قریب لانے کے لیے بنایا ہے۔ بس صبر کرو، دعا مانگتے رہو، اور اللہ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھو، کیونکہ آزمائش کے بعد ہمیشہ رحمت اور خوشحالی کا وقت ضرور آتا ہے۔ ❤️

Address

Bunji

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Danger politics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category