08/09/2026
" اپیل " اور یاددہانی
🇵🇰 ایک شہید کا نام صرف نام نہیں، ہماری تاریخ ہے
سوال اہلِ اختیار سے ہے:
مئی 2019 کو ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں بونی–تورکھو روڈ کو شہید کیپٹن محمد اجمل خان کے نام سے منسوب کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔
لیکن آج سوال یہ ہے کہ اس قرارداد پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟
کیپٹن اجمل خان نے 30 اپریل 2015 کو پاکستان کی خاطر
اپنی جان قربان کی۔
سنا ہے وہ اپنی ٹیم کو انتہای بہادری کے ساتھ اگےلییڈکرتےہوۓ جام شھادت نوش فرمایی۔اور اس بہادریی
کی وجہ سے اس کو تمغہ بصالت سےبھی نوازا گیا۔
افسوس اس بات کی ہے کہ
ان کی قربانی صرف ان کے خاندان کی نہیں، بلکہ چترال اور پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے۔
ہم کسی سے احسان نہیں مانگ رہے۔
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ایک منظور شدہ قرارداد کو عملی شکل دی جائے اور بونی–تورکھو روڈ پر شہید کیپٹن اجمل خان کے نام کی ایک باوقار یادگار نصب کی جائے۔
کیونکہ:
قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکھ کر اپنی آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ سکھاتی ہیں۔
اگر آج ہم اپنے شہیدوں کے نام اور قربانیوں کو نمایاں نہیں کریں گے، تو کل ہماری آنے والی نسلیں کیسے جانیں گی کہ تورکھو کی سرزمین نے پاکستان کے لیے اپنا ایک بہادر سپوت قربان کیا تھا؟
ہم متعلقہ حکام سے مؤدبانہ مگر پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
2019 کی منظور شدہ قرارداد پر عمل درآمد کیا جائے۔
بونی–تورکھو روڈ کو باضابطہ طور پر "Captain Ajmal Shaheed Road" کا نام دیا جائے۔
اور روڈ پر شہید کیپٹن اجمل خان کی یادگار نصب کی جائے۔
🇵🇰 شہید کیپٹن اجمل خان — ہمارا فخر، ہماری تاریخ، ہماری آنے والی نسلوں کا ورثہ۔
تحریر:اسرارللہ واشچ
اپرچترال