Corruption Free Upper Chitral CFUC

Corruption Free Upper Chitral CFUC بدعنوانی کے خلاف، انصاف اور شفافیت کے لیے اپر چترال کی آواز۔

الحمدوللہ بہت بڑی کامیابی اپر چترال میں حالیہ  ڈیزاسٹر کے مد میں ہونے والے 518 ملین کرپشن کے خلاف ہمارا کیس محمد ھارون ب...
30/03/2026

الحمدوللہ بہت بڑی کامیابی

اپر چترال میں حالیہ ڈیزاسٹر کے مد میں ہونے والے 518 ملین کرپشن کے خلاف ہمارا کیس محمد ھارون بنام حکومت خیبرپختونخوا پشاور ہائیکورٹ میں باقائدہ سماعت کے لئیے منظور ہوگیا۔

اچترال کی بہتر مفاد میں اس کیس کی پیروی نوجوان قانون دان ایڈوکیٹ شکیل دورانی صاحب اور ایڈوکیٹ شیر حیدر صاحب نے کی۔
دوران سماعت ایڈوکیٹ شکیل دورانی صاحب نے عدالت کو بتایا جہاں پر پبلک سیفٹی کی بات آجائے اور پبلک فنڈ کی درست استعمال نا کی جائے اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے تحقیقات کرنے میں خاموشی اختیار کریں تو عدالت عالیہ کے پاس اختیار ہے کہ وہ عدالتی مداخلت کے ذریعے متعلقہ اداروں یا ماتحت عدالتوں کے ذریعے مزکورہ فنڈ کے بابت تحقیقات کرسکتی ہے۔جس پر عدالت حضور نے کیس کو باقائدہ سماعت کے لئیے مقرر کرکے صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

یاد رہے اس سے پہلے ہم نے تمام فورم ، اینٹی کرپشن ، چیف سیکرٹری کو درخواست دی تھی ان کے علاؤہ تمام فورم پر پریکٹس کیا لیکن انصاف نا ملنے پر ہم مجبورا اعلیٰ عدلیہ کا رجوع کیا۔
انشاء اللہ بہت جلد انصاف ملے گا اور ہم اپنے علاقے کے حقوق کے لئیے پر ممکن کوشش کرینگے۔

مکمل تفصیلات ویڈیو بیان میں جاری کرونگا۔
انجنیئر آصف علی خان

ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے مطالبہ ہے کہ رمضان ریلیف پیکیج 2026 سے متعلق تمام مستحقین کی فہرستیں فوری طور پر عوام کے سامنے پ...
15/03/2026

ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے مطالبہ ہے کہ رمضان ریلیف پیکیج 2026 سے متعلق تمام مستحقین کی فہرستیں فوری طور پر عوام کے سامنے پبلک کی جائیں۔

رمضان ریلیف پیکیج صوبائی حکومت کی طرف سے اس شدید مہنگائی کے دور میں غریب اور پسے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے دیا گیا تھا، نہ کہ سرکاری ملازمین یا صاحبِ استطاعت افراد کے لیے۔ مگر عوامی سطح پر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ متعدد سرکاری ملازمین کے نام اور ان کے خاندان کے افراد کو بھی اس پیکیج میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ اصل مستحقین محروم رہ گئے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض جگہوں پر ایک ہی گھر کے 5 سے 6 افراد کو رمضان پیکیج میں شامل کیا گیا ہے، جو شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

لہٰذا ضلعی انتظامیہ فوری طور پر تمام فہرستیں عوام کے سامنے جاری کرے تاکہ حقیقت واضح ہو اور جہاں ضابطگیاں ہوئی ہیں ان کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اصل حقداروں کو ان کا حق دیا جائے۔

06/02/2026

اپر چترال کے علاقہ تورکہو میں کئی دنوں سے ٹیلی نار فور جی سروس مکمل طور پر غائب ہے. یہ صورتحال نہ صرف ٹیلی نار کمپنی کی نااہلی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ہمارے سیاسی نمائندگان اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے. تورکہو کے عوام کے ساتھ یہ ایک کھلی ناانصافی ہے جس پر خاموشی مجرمانہ غفلت بھی ہے.اس وقت تورکہو میں بسنے والے اسٹوڈنٹس اور بیرون ملک رہنے والے مسافر انتہائی پریشان ہیں. وقت کے ساتھ ساتھ موبائل نیٹ ورک سروس بھی ضروریاتِ زندگی کا ایک اہم جز بن چکی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا علاقہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہے. اسٹوڈنٹس پندرہ سو دو ہزار روپے کا پیکیج لگاتے ہیں تاکہ ان کی آن لائن کلاسز میں کوئی مسئلہ نہ ہو مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا علاقہ فور جی سے بالکل محروم ہے. نہ آن لائن کلاسز ممکن ہیں نہ اسائنمنٹس جمع ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اساتذہ سے رابطہ رہتا ہے. یہ صورتحال طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ سیدھی زیادتی ہے. ٹیلی نار کمپنی عوام سے پورے پیسے وصول کرنے کے باوجود سروس فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹیلی نار والے عوام کو لوٹنے میں بھرپور اپنا کردار ادا کر رہے ہیں. جب نیٹ ورک ہی موجود نہیں تو مہنگے پیکیجز کس بنیاد پر بیچے جا رہے ہیں. ہم اربابِ اختیار ضلعی انتظامیہ متعلقہ محکموں اور سیاسی نمائندگان سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے جلد از جلد فور جی نیٹ ورک بحال کیا جائے عوام کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی کا سخت محاسبہ کیا جائے. تورکہو کے عوام کسی عیاشی کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنا بنیادی حق مانگ رہے ہیں. اگر اس مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی بےچینی میں مزید اضافہ ہوگا جس کی ذمہ داری براہ راست متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی. شیم شیم.

غلام جلیل کھوتیک

پریس ریلیز منجانب انصاف لائیرز فورم اپر چترالجمله وکلاء انصاف لائیرز فورم اپر چترال (ILF) کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت ...
02/02/2026

پریس ریلیز منجانب انصاف لائیرز فورم اپر چترال

جمله وکلاء انصاف لائیرز فورم اپر چترال (ILF) کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت صدر انصاف لائیرز فورم اپر چترال منعقد ہو کر ذیل قرار دار متفقہ طور پر پاس کئی گئی۔

1. یکه وکلاء انصاف لائیرز فورم اپر چترال کا منشور ہمیشہ سے Rule of Law اور آئین کی بالادستی پر قائم رہا ہے۔ اس سلسلے میں انصاف لائیر ز فورم اپر چترال کی جدو جہد بانی تحریک انصاف پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی کے Vision اور نظریہ کی بالا دستی کو قائم رکھنا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی مذکورہ منشور میں سے ایک بنیادی منشور Corruption Free Pakistan پاکستان ہے۔ کوئی ملک معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا۔ جب تک کرپشن جیسی لعنت کو معاشرے سے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان بالخصوص اپر چترال کے ہر معزز شہری پر لازم ہے کہ وہ مذکوہ بد عنوانی کی بیماری کو معاشرے سے مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے اپنے قانونی ، آئینی اور اخلاقی فرائض ادا کریں۔

2 یکہ حکومت کے پی کے نے عوامی مفادات اور علاقہ کے ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق حکومت کے پی انتہائی مالی بحران کے باوجود اپر چترال کے ترقی کو اولین حیثیت دے کر مختلف ترقیاتی کاموں کے لئے بے شمار اقدامات اٹھا کر بھاری مقدار میں فنڈز ریلیز کرتا رہا ہے۔ تاہم بے منگلیوں بد عنوانی کی وجہ سے مذکورہ پبلک فنڈز درست طور پر مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے خاطر Utilize نہیں ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اپر چترال کے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کی زندہ مثال حالیہ دنوں میں ریلیز ہونے والی فنڈ مبلغ 38000000 روپے جو کہ ڈیزاسٹر 2024/25 کے مد میں آئے تھے کے استعمال میں باری انظر میں بے ضابگلی اور خرد برد کا عنصر نمایاں رہا ہے۔ مزید کہ دیگر پبلک فنڈز بھی مطلوبہ مقاصد کے لئے استعمال درست طور پر نہیں ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومت کے پی

کے ساتھ اور خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کا منشور مجروح ہونے کا خطرہ ہے۔

3 یکہ مندرجہ وجوہات کے تناظر میں ہم انصاف لائیر فورم اپر چترال علاقہ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت کے پی کے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کے پی کے اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر قانون کے مطابق تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کا فوری طور پر اغاز کرے۔ اس سلسلے میں انصاف لائیرز فورم اپر چترال نے بھی PUBLIC FUNDS کے استعمال میں نوٹس شدہ بے ضابطگیوں کے بابت تحقیقات کا بھی آغاز کا اعلان کرتی ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس سلسلے میں تعاون کرے۔ بعد از تحقیقات، جملہ کاروائی ہمراہ دستیاب ثبوت برائے قانونی کاروائی متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جائے گا۔

25/01/2026

To whom it may concern
ضلعی انتظامیہ اپر چترال اس لاپرواہی کا زمہ دار کون؟
مزید قیمتی جانی نقصانات کا انتظار ہے کیا؟

25/01/2026

🚨اپر چترال چرون اویر

اپر چترال چرون اویر میں برف باری کے بعد رابطہ سڑکوں کی بحالی
اپر چترال کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت برف باری کے بعد سڑکوں کی بحالی میں مصروف ہیں، لیکن یہ صورتحال ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندگان کے لیے باعث شرم ہے۔

سڑکوں سے برف ہٹانا ، سٹرکوںثکو بحال کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ اس مد میں مختص کروڑوں روپے عوام کی بھلائی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے بجائے چند افراد کی ذاتی مفادات میں ضائع ہو رہے ہیں۔یہ عوام کی اپنی مدد آپ محنت اور قربانی حکومت کی ناکامی کو نمایاں کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، سہیل خان آفریدی صاحب سے درخواست ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے کہ مختلف محکموں کو ملنے والی ایمرجنسی کے پیسے ، فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہے ؟
ضلعی انتظامیہ اپر چترال میں رابطہ سڑکوں کی بروقت بحالی اور ایمرجنسی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi

25/01/2026

ضلعی انتظامیہ اپر چترال منتخب نمائندگان کی مجرمانہ غفلت افسوس ناک ہے۔۔

کل اسلم خان شیروانی صاحب نے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ برف باری کی وجہ سے روڈ بند ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوسکتا ہے۔لیکن افسوس کہ انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ایک ماں جسے بروقت ہسپتال پہنچایا جاتا تو بچ سکتی تھی، روڈ بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئی۔
یقیناً موت سب کے لیے مقدر ہے، لیکن یہ مجرمانہ غفلت ہے۔
خیال رہے کہ روڈوں کی بحالی اور سنو کلیرنس کے لیے کروڑوں روپے بعد میں جاری کیے جائیں گے، مگر افسوسناک نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے۔
ضلع انتظامیہ سے فوری کارروائی، روڈوں کی بحالی اور ایمرجنسی کے لیے فعال اقدامات کی ضرورت ہے۔

Address

Chitral Upper
Chitral

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Corruption Free Upper Chitral CFUC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category