Pakistan Awami Tehreek Daska

Pakistan Awami Tehreek Daska Welcome To Pakistan Awami Tehreek Daska Official page.Maintianed By Muhammad Kaleem Tahir

حافظ غلام مصطفیٰ گجر پاکستان عوامی تحریک کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ NA-73  اور محمد کلیم طاہر نامزد اُمیدوا...
22/01/2024

حافظ غلام مصطفیٰ گجر پاکستان عوامی تحریک کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ NA-73 اور محمد کلیم طاہر نامزد اُمیدوار براۓ صوبائی اسمبلی حلقہ PP-51 بیگ چک اور سیداں والی جامکے چیمہ ڈسکہ میں اپنے ووٹر سپوٹرز کیساتھ انتخابی مہم چلاتے ھوئے۔
پاکستان عوامی تحریک جامکے چیمہ ڈسکہ

22/01/2024

موجودہ صورتحال میں ملک خداداد پاکستان کو سیاسی عدم​ استحکام سے نکالنے کا واحد راستہ "رائج الوقت جابرانہ اور استحصالی نظام " کو مکمل طور پر بدل دینا ہی ہے ۔ حالیہ سیاسی انتشار اس "نظریے" کی ضرورت و اہمیت کافی بہتر انداز میں اجاگر ہوئی ہے۔ ملک کا پڑھا لکھا اور باشعور طبقہ اب یہ فہم و ادراک رکھتا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں انگریزوں نے برصغیر پاک و ہند میں جو"جابرانہ نظام "قائم کیا تھا ، آج بھی کم و بیش وہی فرسودہ سیاسی نظام پاکستان میں رائج ہے اور مملکت خداد کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ اگرچہ کئ سیاسی شخصیات نے بھی اپنی سیاسی مہمات​ کے دوران وقتاً فوقتاً "نظام بدلنے" کی ضرورت و اہمیت کو تسلیم کیا ہے مگر " نظام بدلنے" کا نظریہ پیش کرنے کا کریڈٹ درحقیقت "ڈاکٹر محمد طاہرالقادری" کو ہی جاتا ہے۔ ڈاکٹرطاہر القادری نے نہ صرف وطن عزیز کو درپیش مسائل کے حل کیلئے یہ نظریہ پیش کیا بلکہ پاکستان کیلئے ایک متبادل نظام کا قابلِ نفاذ اور جامع لائحہ عمل بھی پیش کیا۔ سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری سیاسی منظرنامے سے دور ہوگئے مگر اب بھی ان کے سیاسی نظریات کو اپنا کر نوجوان نسل ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ان کے سیاسی نظریات کو سمجھن کیلئے ڈاکٹر طاہرالقادری کے سیاسی سفر کے متعلق جاننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے مؤرخہ 25 مئی 1989ء کو " پاکستان عوامی تحریک" کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ میری تحقیقات کے مطابق انہوں نے " عوام سب سے پہلے " کے نام سے 186 صفحات پر مشتمل تفصیلی منشور بھی جاری کیا اور ساتھ ہی 32 ملکی شعبوں میں اصلاحات کا جامع پروگرام بھی تیار کیا ۔ اس نوزائیدہ سیاسی جماعت نے 1990 اور 1993 کے عام انتخابات میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ 1992ء میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے جملہ قومی اور بین الاقوامی ضروریات سے ہم آہنگ" بلاسود بینکاری نظام" پیش کیا تاکہ ملکی معیشت کو اسلامی اصولوں​ اور دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے استحکام کی راہ پر ڈالا جاسکے۔ 1998ء میں انہوں نے نوازشریف حکومت کے خلاف بننے ایک سیاسی اتحاد " پاکستان عوامی اتحاد" کی قیادت کی ، یہ اتحاد خلاف نواب زادہ نصراللہ مرحوم کی کوششوں سے بناتھا ، جس میں بینظیر بھٹو مرحومہ اور عمران خان سمیت کئی سیاستدانوں نے آپ کی قیادت میں سیاسی جدوجہد پر اتفاق رائے کیا ، تاہم مختلف سیاستدانوں کے پارٹی مفادات آڑے آئے ، جس کے سبب یہ اتحاد زیادہ دیر نہ چل سکا اور 1999میں ختم ہوگیا ۔ پاکستان عوامی تحریک نے 2002 کے عام انتخابات بھی حصہ لیا۔ 15 اکتوبر 2004 میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے فوجی طالع آزما جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف احتجاجاً قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد آپ برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں دوسری شخصیت ہیں ، جنہوں نے اصولوں کی خاطر اسمبلی کی رکنیت​ ترک کردی کیونکہ آپ کی سیاست کا مقصد محض اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنا یا اقتدار میں حصہ وصول کرنا کبھی نہیں تھا ۔ ان کا 85 صفحات پر مشتمل استعفیٰ اقتدار ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے وژن 2012 کے مطابق قوم میں دھاندلی زدہ انتخابی نظام کے خلاف "بیداری شعور کی تحریک " کا آغاز کیا​ اور اسی وجہ سے پاکستان عوامی تحریک نے 2008 کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔گویا ڈاکٹر طاہرالقادری نے ملکی سیاسی نظام کا حصہ بن کر بے حد مختصر وقت میں یہ نتیجہ اخذ کرلیا تھا کہ دھاندلی زدہ انتخابی نظام عوام کو کبھی حقیقی معنوں میں "حق انتخاب" نہیں دے گا اور یہ کہ رائج الوقت سیاسی نظام اس قدر بوسیدہ ہوچکا ہے کہ یہ عوام کو کچھ deliver کرنے سے قاصر ہے اور اسے تبدیل کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔انہوں نے اپنے 30 سالہ سیاسی سفر میں ہر موقع پر ملکی سیاسی مسائل کا قابلِ​ عمل حل پیش کیا۔ آپ نے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے" احتساب" کا لاحہ عمل مرتب کیا ۔ سیاست میں سب کو متناسب نمائندگی دینے کیلئے تصور دیا اور پارلیمانی نظام کو پاکستان میں ناکام قرار دیتے ہوئے پارلیمانی اور صدارتی دونوں طرزِ حکومت کی خوبیوں کو ملا کر پاکستان کیلئے متبادل طرزِ حکومت کیلئے مرتب کیا ۔ بلدیاتی انتخابی نظام کا مکمل خاکہ تیار کیا، جس کے تحت مشرف دور حکومت میں ایک مرتبہ ہی بلدیاتی انتخابات منعقد ہوپائے، اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے ثمرات سے عوام مستفید ہوتی رہتی اور "مقامی حکومت خوداختیاری " کا نظام مستحکم ہوتا کیونکہ یہ ہی حقیقی جمہوریت کی نرسری ہے۔ ڈاکٹرالقادری نے
23 دسمبر 2012 میں پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ " سیاست نہیں ، ریاست بچاؤ" کے عنوان کے تحت کیا اور دھاندلی زدہ انتخابی نظام میں اصلاحات کیلئے مفید تجویز پیش کیں ، آپ نے 13 جنوری 2013میں " دھاندلی زدہ انتخابی نظام" کے خلاف لاہور تا اسلام آباد لانگ مارچ کی قیادت کی تاہم انتخابی اصلاحات کی تحریری یقین دہانی کے باوجود حکومت وقت معاہدے سے مکر گئ ۔ جس کے بعد 2013 کے عام انتخابات ایک ایسے الیکشن کمیشن کے تحت ہوئے، جس کی تشکیل میں آئین کی خلاف ورزی ہوئی تھی ، چنانچہ "عوامی تحریک" نے ایک مرتبہ پھر 2013کے عام انتخابات کا اصولی طور پر بائیکاٹ کیا ، انتخابات کےبعد تمام ہارنے اور جیتنے والی سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے مئوقف کو درست تسلیم کیا۔ڈاکٹرطاہرالقادری کی احتجاجی تحریک کو روکنے کیلئے 2014 میں حکومت وقت نے " ماڈل ٹاؤن آپریشن کرکے کھلی ریاستی دہشتگردی کا ارتکاب کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین کو انصاف دلانے اور آئین کے آرٹیکل 62 ,63 کے خلاف قائم ہونے والی نوازشریف حکومت کے خلاف 14 اگست 2014 میں لاہور تا اسلام آباد " انقلاب مارچ کی قیادت کی اور اسلام آباد میں 21اکتوبر تک تاریخی دھرنا بھی دیا۔ آپ نے ایک مرتبہ پھر فرسودہ نظام کے خاتمے اور اس کے متبادل نظام کے قیام کیلئ ایک مکمل لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا ۔آپ نے کبھی کھوکھلے نعروں​ کی بنیاد پر محض حصول اقتدار کی سیاست نہیں کی بلکہ ہمیشہ قومی​ مسائل کے حقیقی معنوں کیلئے جدوجہد کی ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے سیاسی سفر کے دوران انتخابی اور انقلابی سیاست میں حصہ لیا لیکن ہر مرتبہ ظالمانہ اور جابرانہ نظام کا خاتمہ ہی ان کا مطمع نظر رہا۔ ان کی قائم کردہ سیاسی جماعت " پاکستان عوامی تحریک " نے 2024 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔کچھ لوگوں نے اس فیصلے پر عجیب وغریب ردعمل بھی دیا ، انہیں یہ علم ہونا چاہیے کہ "عوامی تحریک" بھی ایک سیاسی جماعت ہے اور اپنا الگ نظریاتی وجود بھی رکھتی ہے۔ "عوامی تحریک" نے ماضی میں بھی کئ مرتبہ عام انتخابات میں حصہ لیا تو اس مرتبہ کون سی نئی بات ہوگئ ؟ "عوامی تحریک" نے اپنے نظریے " نظام بدلو " پر نہ پہلے کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی آئندہ کبھی کرے گی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی "عوامی تحریک "یقیناً ان کے "سیاسی نظریات" کو own کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ نئے سیاسی حالات کے تناظر میں اپنی سیاسی حکمت عملی بھی بدلتی رہے گی ۔ یاد رکھیے کہ نظریات بدلنے اور سیاسی حکمت عملی بدلنے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ دراصل کچھ لوگوں نے غالبًا یہ ہی چاہا ہوگا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد "عوامی تحریک " کے سیاسی نظریات ، ووٹ بینک اور اسٹریٹ پاور کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرتے رہیں ۔ 2018 میں "عوامی تحریک" نے غیرمشروط طور پر " پی ٹی آئی " کی حمایت کرکے دیکھ لیا کہ جواباً سابق وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افسران کو ترقیاں دے کر اس کا بہت خوب صلہ دیا۔ اس صریحاً بے وفائی کے بعد شاید پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے راستے جدا ہونا فطری عمل تھا۔ اس وقت جو لوگ بھی پاکستان میں "نظام کی تبدیلی " کے نظریے کے حامی ہیں ، میں ان کا بےحد شکریہ ادا کرنا لازمی​ سمجھتی ہوں ۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ عوام دیکھیں اور سمجھیں کہ کون محض ووٹ لینے کیلئے نظام کی تبدیلی کے کھوکھلے نعرے لگارہا ہے اور کون نظام کی تبدیلی کے جامع لائحہ عمل پر مشتمل منشور پیش کررہا ہے ۔ جن لوگوں نے ماضی میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی مخلصانہ سیاسی جدوجہد میں ان کا ساتھ دینے کی بجائے محض کرسی کے حصول کیلئے فرسودہ نظام کےمحافظوں سے وفاداری نبھائی ، ان میں سابق وزیراعظم عمران خان نام بھی شامل ہے ، آج کل یہ موصوف اکثر گلے شکوے کرتے پائے گئےہیں ۔آج جو نام نہاد دانشور این اے 127 میں عوامی تحریک کی جانب سے ن لیگی امیدوار عطا تارڑ کے مقابلے میں بلاول بھٹوزرداری کی حمایت پر سیخ پا ہیں ، وہ یہ بھی بتائیں کہ پی ٹی آئی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نامزد ملزم " عمر ورک " کے بیٹے " محمد اویس " کو پارٹی ٹکٹ کیوں دیا؟ پہلے جذبات مجروح کیے جاتے ہیں اور پھر تعاون کیوں طلب کیا جاتا ہے؟ نام نہاد دانشور یہ بھی بتائیں کہ عمران خان ماڈل ٹاؤن کیس میں ملوث افسران کو ترقیاں دے کر بھی کیسے صحیح ؟ جبکہ صرف ایک لوکل حلقے میں بلاول بھٹوزرداری کی حمایت پر اس طرح تنقید کی زد میں ہیں کہ گویا قومی سطح پر کوئی بڑا انتخابی اتحاد ہوگیا یا کوئی سیٹ ایڈجسمنٹ لی گئ ہو تو پھر میں آپ کے تجزیے بالکل ہی جانبدارانہ​ اور یکطرفہ سمجھوں گی۔۔۔۔
تحریر: "عائشہ نور"!!!

*”علم و امن، تحقیق و تجدید اور شعور و آگہی کے 43 سال“*43 ویں یوم تاسیس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے کارکنان، وابستگان، ذم...
17/10/2023

*”علم و امن، تحقیق و تجدید اور شعور و آگہی کے 43 سال“*
43 ویں یوم تاسیس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے کارکنان، وابستگان، ذمہ داران، رفقائے کار اور اس عظیم مشن کے ساتھ شریک تمام احباب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

تقریب یوم تاسیس پاکستان عوامی تحریک 25 مئی بروز جمعرات شام 7 بجےرہائشگاہ:عبدالستار انجم صاحب ماڈل ٹاؤن ڈسکہ
24/05/2023

تقریب یوم تاسیس پاکستان عوامی تحریک
25 مئی بروز جمعرات شام 7 بجے
رہائشگاہ:عبدالستار انجم صاحب ماڈل ٹاؤن ڈسکہ

ہم حافظ غلام مصطفے گجر صاحب کو جنرل سیکرٹری پاکستان عوامی تحریک ضلع سیالکوٹ کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہی...
15/04/2022

ہم حافظ غلام مصطفے گجر صاحب کو جنرل سیکرٹری پاکستان عوامی تحریک ضلع سیالکوٹ کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
محمد کلیم طاہر
جنرل سیکرٹری پاکستان عوامی تحریک ڈسکہ

سیالکوٹ پولیس نے کمال ہوشیاری سے ڈکیتی کی واردات کو قتلِ عام کی واردات میں منتقل کر دیا، سہیل احمد قادری کی FIR میں ڈکیت...
20/01/2022

سیالکوٹ پولیس نے کمال ہوشیاری سے ڈکیتی کی واردات کو قتلِ عام کی واردات میں منتقل کر دیا، سہیل احمد قادری کی FIR میں ڈکیتی کا ذکر ہی نہیں کیا گیا، پولیس ہوش کے ناخن لے اور اصل واقعہ کے مطابق FIR درج کر کے ملزمان کو فل الفور گرفتار کرے۔
#سیالکوٹ

بجلی کے بلوں میں فیول پرائز ایڈجسٹمنٹ کے نام سے غریب عوام سے انتہا کی لوٹ مار جاری ہے سپریم کورٹ آف پاکستان از خود نوٹس ...
29/12/2021

بجلی کے بلوں میں فیول پرائز ایڈجسٹمنٹ کے نام سے غریب عوام سے انتہا کی لوٹ مار جاری ہے سپریم کورٹ آف پاکستان از خود نوٹس لے کے اس لوٹ مار سے عوام کو بچائے

بجلی کے بلوں میں فیول پرائز ایڈجسٹمنٹ کے نام سے غریب عوام سے انتہا کی لوٹ مار جاری ہے سپریم کورٹ آف پاکستان از خود نوٹس لے کے اس لوٹ مار سے عوام کو بچائے

Address

Daska

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Awami Tehreek Daska posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pakistan Awami Tehreek Daska:

Share