Pakistan Islamic law party.

Pakistan Islamic law party. chairman Pakistan Islamic law party Muhammad Asif Khan mobile no 0345 3230663

Raham ki apeel cheif justice of Pakistan sai.This email have been send to cheif justice of Pakistan and prime minister o...
02/06/2026

Raham ki apeel cheif justice of Pakistan sai.
This email have been send to cheif justice of Pakistan and prime minister of Pakistan

محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد
محترم جناب شھباز شریف صاحب پاکستان وزیراعظم
عنوان عمران خان نے جو کرپشن کے کیسز پاکستان کے پچھلے حکمرانوں جیسے نواز شریف شہباز شریف آصف علی زرداری مریم نواز صاحبہ بلاول بھٹو زرداری وغیرہ پر لگائیں ہیں وہ تمام معاف کر دیا جائے اور کرپشن کے کیسز خارج کر کے ان حکمرانوں کو شریفوں کی طرح جینے دو۔ اسلیے کہ غزوہ بدر سے قیامت تک تمام کافر تمام مسلمانوں کو ویسے قتل کرنا چاہتے ہیں جیسے برما اور فلسطین میں شھید ھو رہے ہیں ۔ پاکستان کو بھی یہ کافر ممالک جیسے انڈیا وغیرہ فلسطین اور برما جیسے بنانا چاہتے ہیں لیکن پاکستان فوج اور پاکستانی عوام اور تمام سیاسی پارٹیاں انڈیا وغیرہ کے خلاف فتح کے ساتھ آزادی کا تحفہ پاکستانیوں کو شھادت کے ساتھ دیں رہے ہیں ۔ اس عظیم فتح کو دیکھ کر میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سے رحم کی اپیل کرتا ہوں کہ آپ صاحبان ان ببر شیروں جیسے نواز شریف شہباز شریف آصف علی زرداری مریم نواز صاحبہ بلاول بھٹو زرداری وغیرہ کے صرف کرپشن کے کیسز معاف کر دے ۔ اور عمران خان کا منہ بند کر دیا جائے جو ان ببر شیروں کو پوری دنیا میں چوروں کے نام سے مشہور کر دیا ۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان صرف کرپشن کے کیسز معاف کر دے ان ببر شیروں کے ۔۔۔
عمران خان سے درخواست ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معافی کے بعد ان ببر شیروں کو تنگ نہ کر
صرف کرپشن پر مجرم تھے اسلیے چیف جسٹس آف پاکستان نے معاف کر دیے کرپشن کے علاؤہ ان ببر شیروں پر ھمت ھے تو مقدمہ کرو جیسے اغوا قفل زنا بالجبر وغیرہ میں کوئی اگر ملوث ہیں تو ثبوت چیف جسٹس آف پاکستان کو دو دو دن میں پھانسی کی سزا ھوجایگی ۔ لیکن کرپشن کے کیسز میں اس لیے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کے زریعے تمام پچھلے حکمرانوں کو رحم کے اپیل کے بعد معاف کروانا چاہتا ہوں کہ 1947 سے تمام کافر ممالک جیسے انڈیا وغیرہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو فلسطین اور برما جیسے بنایا جائے لیکن پاکستان فوج اور پاکستانی عوام اور تمام پچھلے وزیراعظم اور تمام سیاسی پارٹیاں انڈیا وغیرہ جیسے ممالک کے خلاف ہمیشہ ساتھ ھوتے ھیں اسلیے انڈیا اور تمام کافر ممالک کو شکست دی اور ثبوت یہ کہ آج تک پاکستان فلسطین اور برما جیسے نھی بنا ۔۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس عظیم فتح کا انعام پورے پاکستان کے ساتھ پاکستان فوج کو جنت کے شکل میں دینگے لیکن یہاں عمران خان نے صرف کرپشن کے کیسز میں ان ببر شیروں کو پوری دنیا میں بدنام کیا چوروں کے نام سے ۔۔۔ اگر چیف جسٹس آف پاکستان اور پاکستان وزیراعظم تمام حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں جیسے نواز شریف شہباز شریف آصف علی زرداری مریم نواز صاحبہ بلاول بھٹو زرداری وغیرہ کے صرف کرپشن کے کیسز معاف کر دے ۔۔۔۔ اسلیے کہ ان شیروں کی فتح کی وجہ سے آج پاکستان فلسطین اور برما جیسے نھی ۔۔۔۔
میں نھی کہتا کہ کرپشن جرم نہیں جرم ہے اور سزا جیل ہے
میں رحم کی اپیل کر کے کرپشن کے کیسز معاف کرنے کی درخواست اسلیے آپ صاحبان کے سامنے فریاد کرکے پیش کر رہا ہوں کہ ان ببر شیروں سے انڈیا وغیرہ جیسے ممالک ڈرتے ہیں کو چاہتے ہیں کہ پاکستان کو فلسطین اور برما جیسے بنایا جائے ۔ آج تک پاکستان فلسطین اور برما جیسے نھی بنا اسلیے کہ ان شیروں نے شکست دی انکو جو پاکستان کو فلسطین اور برما جیسے بنانا چاہتے ہیں اس عظیم فتح کو دیکھ کر انعام کے ساتھ ان کے صرف کرپشن کے کیسز معاف کر دے تو مھربانی ھوگی ۔
دوسرا پاکستان کے تمام ادارے پرفیکٹ کام کر رہی ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں تو میں 110 کیسز مفت جیت چکا ھوں کم وقت میں لیکن عمران خان اپنے ورکرز کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستان میں انصاف نھی ادارے کام نہیں کرتے اور پاکستان کے فوجی چور اور غدار ہیں جو حقیقت کے خلاف ہیں جو ناقابل بخشش جرم ہے ۔ آج عمران خان کے جھوٹے پروپگنڈے کی وجہ سے پی ٹی آئی کارکنان ان ببر شیروں کے کرپشن کیسز کی وجہ سے ان پر چوری کا نام لگا کر یہ بھول گئے کہ ان ببر شیروں کے نام سے انڈیا وغیرہ وہ کافر ممالک جیسے انڈیا وغیرہ ڈرتے ہیں ۔
چیف جسٹس آف پاکستان ان ببر شیروں کے کرپشن کے کیسز اگر آپ اور وزیراعظم پاکستان معاف کر دے تو ان شیروں کو اس فتح کا انعام زندگی میں مل جائے گا اور عمران خان بھی خاموش ہو جائیگا ۔ میں عمران خان کے کیسز جو کرپشن کے ہیں نواز شریف شہباز شریف آصف علی زرداری وغیرہ کے وہ خارج کرنے کی اپیل کرتا ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر نواز شریف شہباز شریف آصف علی زرداری وغیرہ پر قتل یا اغوا یا زنا بالجبر وغیرہ جیسے سنگین الزامات کے مقدمات ہیں تو ثبوت چیف جسٹس آف پاکستان کو دیں ان سب کو دو ہفتوں میں سزا کے بعد جیل جائینگے لیکن صرف کرپشن کے کیسز کی وجہ سے ان ببر شیروں کو چوروں کے نام سے بلانا اور جیل بھیجنا ظلم ہے ۔ اگر میری رحم کی اپیل منظور ھوگیی اور کرپشن کے کیسز معاف ھوگیے تو عمران خان کا منہ خود بخود بند ھوجایگا ۔ میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اپیل کرتا ہوں کہ عمران خان نے صرف کرپشن کو ٹارگٹ کیا اگر سپریم کورٹ آف پاکستان ان حکمرانوں کے کرپشن کے کیسز معاف کر دے تو عمران خان میں ھمت نھی کہ ان ببر شیروں پر کوئی دوسرا کیس کردے جیسے قتل زنا بالجبر اغوا وغیرہ ۔
شھباز شریف صاحب ان ببر شیروں کے صرف کرپشن کے کیسز معاف کر دے تاکہ یہ ببر شیر اپنے عظیم فتح کو منا سکے جو انڈیا وغیرہ جیسے ممالک کو شکست دی جو پاکستان کو فلسطین جیسا بنانا چاہتے تھے ۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان ان ببر شیروں کے فتح کو دیکھ انڈیا وغیرہ کے خلاف جو پاکستان کو فلسطین جیسا بنانا چاہتے ہیں اپکو ان ببر شیروں پر رحم اجایگا اور آپ کو ان کے کرپشن کے کیسز معاف کرنے میں آسانی ھوگی ۔
باقی عمران خان کو میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرتا ہوں کہ ابھی پاکستان فلسطین اور برما جیسے نھی اس عظیم فتح کے پیچھے پورا پاکستان انڈیا وغیرہ کے خلاف پاکستان فوج کے ساتھ ہے لیکن عمران خان کا جھوٹے پروپگنڈے کہ عدالتوں میں انصاف نھی پاکستان فوج غدار ہیں پورا پاکستان غلام ہیں اور ابھی ہم آزاد نھی ھوے ابھی آزادی کی جنگ لڑنی ہے کی وجہ سے ہمارے پی ٹی آئی کارکنوں کے زریعے نفرت پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا جواب کے وقث سارے پاکستانیوں نے پاکستان فوج کا ساتھ دیا ۔ چیف جسٹس آف پاکستان آپ صرف ان ببر شیروں کے کرپشن کے کیسز معاف کر دے باقی عمران خان خود خاموش ہو جائیگا ۔
آپکے رحم کا منتظر کہ آپ صاحبان نواز شریف شہباز شریف آصف علی زرداری مریم نواز صاحبہ بلاول بھٹو زرداری وغیرہ کے صرف کرپشن کے کیسز معاف کر دے باقی اغواء قتل یا زنا بالجبر وغیرہ میں یہ ملوث نہیں کہ عمران خان کیس کردے کہ ان ببر شیروں سے زنا بالجبر قتل اغوا وغیرہ ھوا ھے ۔
آپکے قیمتی وقت دینے کا شکریہ
محمد آصف خان
چیرمین اسلامک لاء پاکستان پارٹی
موبائل نمبر 03453230663
شناختی کارڈ ای میل کے ساتھ اٹیچ ہے ۔

02/06/2026
To cheif justice of Pakistan if gov of Pakistan refuse to close factories of norcotics in fata agencies area so this gov...
31/05/2026

To cheif justice of Pakistan if gov of Pakistan refuse to close factories of norcotics in fata agencies area so this gov have no rights to arrest smoker of norcotics and dealers of norcotics in Pakistan.
This email have been send to cheif justice of Pakistan and prime minister of Pakistan and DG anti norcotics

محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ اسلام آباد
محترم جناب شھباز شریف صاحب پاکستان وزیراعظم
محترم جناب ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورسز اسلام آباد ۔
عنوان منشیات پینے والوں کو گرفتاری کا حکم بند کر دیا جائے اس لیے کہ 1947 سے اب تک فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے ہیں جہاں سے منشیات پورے پاکستان اور پوری دنیا کو سپلائی ھورہاہے ۔ آج تک کسی بھی وزیراعظم نے ان منشیات کے کارخانوں کو بند کرنے کا حکم نہیں دیا جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں ۔
https://www.facebook.com/share/v/1BgGokF8CG/
اس لنک میں میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ویڈیو تقریر میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ چرس شراب ہیروئن ایس وغیرہ ان تمام منشیات کے کارخانے جو پاکستان کے فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں جیسے تیرا لنڈی کوتل طور خم کارخانوں مارکیٹ پشاور باڑہ مارکیٹ پورے فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے ہیں ۔ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے بڑے بڑے مارکیٹوں میں ان تمام منشیات کا بھت زیادہ سٹاک ہر وقت موجود ھوتا ھے ۔ لیکن پولیس والے کہتے ہیں کہ ہم فاٹا ایجنسی میں منشیات کے کارخانے بند نہیں کر سکتے ۔ اسکے بعد میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس درج کر دیا کیس نمبر ایچ آر سی 28155 - کے/2013
اس کیس میں میں نے فاٹا ایجنسی ایریا کے منشیات کے کارخانوں کو جلد سے جلد بند کرنے کی درخواست دی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس پر بھت تیزی کے ساتھ کام کیا اور فاٹا ایجنسی ایریا کو ختم کر کے فاٹا کو ڈسٹرکٹ ایریا میں تبدیل کردیا ۔ لیکن جن منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ جیسے کارخانوں مارکیٹ پشاور وغیرہ کو بند کرنے کے لیے میں نے درخواست دی وہ ابھی تک بند نہ ھوے ۔
چیف جسٹس آف پاکستان ڈسٹرکٹ ایریا میں پولیس بھت سختی کے ساتھ منشیات پینے والے اور بیچنے والے دونوں کو گرفتاری کے بعد جیل بھیج دیتی ہے جسے انمول پنکی وغیرہ لیکن جو فاٹا ایجنسی ایریا ہیں جیسے تیرا کارخانوں مارکیٹ پشاور وغیرہ یہاں منشیات کے کارخانے بھی ہے اور مارکیٹ بھی ۔۔۔ اپکو اگر 100 ٹرک چرس شراب ہیروئن ایس چاہے تو میں کارخانوں مارکیٹ سے آسانی سے سپریم کورٹ آف پاکستان سپلائی کر سکتا ہوں ۔
کارخانوں مارکیٹ کے پاس ہی پولیس چیک پوسٹ ہے جہاں سے وہ منشیات کا بازار نظر آتا ہے لیکن پولیس والے خاموش ہیں ۔پولیس والے کہتے ہیں فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات پر پابندی نھی لیکن اگر آپ کارخانوں مارکیٹ سے پینے یا بیچنے کے لیے منشیات خریدتے ہیں تو اس چیک پوسٹ پر ہم گرفتار کرینگے ۔ یہ مسلہ 1947 سے ہے 1947 سے اب تک پاکستان کے فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ کام کر رہے ہیں لیکن تمام پولیس خاموش تمام آرمی چیف خاموش تمام وزیراعظم پاکستان خاموش تمام چیف جسٹس آف پاکستان خاموش ۔
منشیات کے کارخانے پر جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں شھباز شریف صاحب خاموش لیکن اٹک کے چیک پوسٹ کو حکم دیا ہے کہ منشیات فروشوں اور پینے والے دونوں کو گرفتار کرو ۔ عجیب بات ہے چیف جسٹس آف پاکستان کہ شھباز شریف صاحب فاٹا ایجنسی ایریا کا بھی وزیراعظم ہے اور ڈسٹرکٹ ایریا کا بھی وزیراعظم اعظم ہے لیکن شھباز شریف صاحب منشیات کے کارخانے پر خاموش جو فاٹا میں ہے اور اٹک چیک پوسٹ پر منشیات فروشوں اور پینے والوں کو گرفتاری کا حکم دیتا ہے ۔ اگر شھباز شریف صاحب ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو حکم دے کہ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ بند کر دو تو ڈی جی اینٹی نارکوٹکس ایک دن سارے منشیات کے کارخانوں کو ختم کر کے مارکیٹ کو ختم کر کے مسلہ ختم کر دیگا۔۔۔ لیکن شھباز شریف صاحب ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو حکم نھی دیتا کہ منشیات کے کارخانے جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں آسکو بند کر دو ۔۔۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان اس کیس میں میرا مقدمہ وزیراعظم پاکستان شھباز شریف صاحب پر درج کر دیا جائے جو فاٹا ایجنسی ایریا کا وزیراعظم ہے لیکن شھباز شریف صاحب نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو روکا ہے کہ آپ منشیات فروشوں کو اور پینے والے ڈسٹرکٹ ایریا میں گرفتار کرو اور فاٹا ایجنسی ایریا جانا نھی وہاں منشیات کے کارخانے 1947 سے ہیں ان منشیات کے کارخانوں کو فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات بنانے دو ۔
چیف جسٹس آف پاکستان شھباز شریف صاحب پاکستان کے وزیراعظم ہیں ایک جرم شھباز شریف کا یہ کہ اس نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو فاٹا ایجنسی ایریا میں جانے سے کیوں روکا ہے ۔ دوسری طرف کھلے عام منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ جہاں سے منشیات پوری دنیا کو سپلائی ھوتا ہے لیکن حکومت پاکستان 1947 سے خاموش ۔ پاکستان حکومت اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف یہ نہیں چاہتا کہ یہ منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں یہ بند ھو اس لیے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو حکم نہیں دے رہا کہ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ بند کر دو ۔
چیف جسٹس آف پاکستان شھباز شریف صاحب کے فتح جو ان ممالک جیسے انڈیا وغیرہ جو چاہتے ہیں کہ پاکستان فلسطین اور برما جیسے بنایا جائے اس عظیم فتح کا انعام اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت کے شکل میں دینگے کہ شھباز شریف صاحب کہ فتح سے پاکستان فلسطین اور برما جیسے نھی بنا ۔ اس عظیم فتح کہ پاکستان فلسطین اور برما جیسے نھی کو دیکھ کر چیف جسٹس آف پاکستان ان عظیم غازیوں کو انعام دیا جائے اور ان پر کرپشن کے تمام کیسز معاف کر دیا جائے اور خارج کر دیا جائے جیسے نواز شریف شہباز شریف آصف علی زرداری مریم نواز صاحبہ بلاول بھٹو زرداری وغیرہ کے کرپشن کے کیسز معاف کر دے تو مھربانی ھوگی ان شیروں سے انڈیا وغیرہ ڈرتے ہیں لیکن کرپشن کے کیسز نے ان شیروں کو پریشان کر رکھا ہے ۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان کرپشن کے کیسز معاف کرنے کے بعد
میں چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے شھباز شریف صاحب پر مقدمہ کر رہا جس نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے بند کرنے سے روکا ہے ۔۔
شھباز شریف صاحب یہ تو مجھے آپکی عظیم فتح کہ آپکے دور حکومت میں پاکستان فلسطین اور برما جیسے نھی کا لحاظ کرتے ہوئے آخری بار درخواست کرتا ہوں کہ شھباز شریف صاحب مھربانی کرکے آپ بس ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو حکم دو کہ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے بند کر دیں اور منشیات کے مارکیٹ جیسے کارخانوں مارکیٹ پشاور بند کر دیں ایک ہفتے میں پورے پاکستان کے فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے بند ہو جائینگے اور پینے والوں کو منشیات پینے کے لیے نھی ملے گا منشیات کا مسلہ ختم ہو جائے گا ۔۔۔۔
لیکن چیف جسٹس آف پاکستان اگر شھباز شریف صاحب انکار کریں کہ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے ویسے چلیں گے جیسے 1947 سے اب تک چلتے ہوئے آرہے ہیں تو شھباز شریف صاحب مجرم ھوا ایسے مجرم کو عہدے سے ہٹا کر جیل بھیج دیا جائے ۔
ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس صاحب میں 2013 سے اب تک پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ایک درخواست کی کہ حکومت اگر منشیات کے خلاف ہے تو منشیات کے کارخانے بند کر دیا جائے جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں لیکن اگر حکومت پاکستان منشیات کے کارخانے کو بند کرنے سے انکار کریں لیکن منشیات کے کارخانے بند نہیں ہورہے اب بھی فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے ہیں لیکن شھباز شریف صاحب نے اپنے فورسز کو ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے بند کرنے سے روکا ہے جو کہ جرم ہے ۔ ایسے منشیات کے کارخانے کو بند نہ کرنا اپکو مجرم قرار دیتا ہے باقی چیف جسٹس آف پاکستان صاحب کی مرضی کہ کیا فیصلہ سناتے ئ۔۔۔
محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان ہیروئن ایس افیم وغیرہ یہ وہ نشہ ہے جو جوانوں کی زندگی تباہ کر دیتا ہے اور شھباز شریف صاحب آپ پھر بھی ان منشیات کے کارخانے پر خاموش ۔ شھباز شریف صاحب آپ ایک عظیم غازی ہے جنہوں نے شکست دی انڈیا کو جو پاکستان کو فلسطین اور برما جیسے دیکھنا چاہتے تھے ۔ میں 2013 سے اس کیس پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کر رہا ہوں لیکن فاٹا ایجنسی ایریا میں خاموشی 1947 سے اب تک تمام وزیراعظم خاموش تمام آرمی چیف خاموش تمام چیف جسٹس خاموش تمام ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس بھی خاموش تمام پاکستان ادارے خاموش لیکن کھلے عام ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ ہے اور حکومت خاموش ۔۔۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان شھباز شریف صاحب خاموش ہے منشیات کے کارخانے جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں اور دوسری طرف شھباز شریف نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو حکم دیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایریا میں منشیات پر سختی سے منشیات فروشوں اور پینے والوں دونوں کو جیل پہنچاؤں ۔
چیف جسٹس آف پاکستان آپ اوپر جو لنک بھیج دی ہے جو میرا ویڈیو تقریر جس میں درخواست کررہا ہوں کہ منشیات کے کارخانے جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں آسکو بند کر دو لیکن اگر حکومت منشیات کے کارخانے فاٹا میں بند کرنے سے انکار کریں تو ایسی صورت حال میں چیف جسٹس آف پاکستان اپکو پھر چرس پینے والے کو جیل بھیجنے کا حکم نہیں دینا چاہئے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم منشیات کے کارخانے کو بند کرنے سے انکار کریں اور دوسری طرف ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو حکم دے کہ پینے والے اور بیچنے والے کو گرفتارکر کے جیل بھیج دیں
یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ شھباز شریف کے بے وقوفی کی وجہ سے نشہ پورے پاکستان میں پھیل گیا اور نوجوانوں کی زندگی تباہ ھوگیی ۔۔۔۔
اور دوسری طرف چرسی اور پوڈری کو گرفتاری کے بعد جیل بھیجتا ہے جو کہ ظلم ہے ۔ چرس کے کارخانوں کو بند کرنے سے انکار لیکن چرسی کو جیل بھیجنا ثابت کرتا ہے کہ شھباز شریف صاحب ایک بے وقوف مجرم ہیں جو ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو حکم نھی دے رہا کہ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے بند کر دو ۔
چیف جسٹس آف پاکستان اب شھباز شریف صاحب نھی چاہتے کہ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ بند ھوجاے تو ٹھیک ہے شھباز شریف صاحب کو منشیات کے کارخانوں پر خاموشی جاری رکھنے دو تاکہ مستقبل میں بھی یہ فاٹا ایجنسی ایریا میں منشیات کے کارخانے اور مارکیٹ بند نہ ہو
لیکن انکار کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کو کوئی حق نھی کہ چرسی کو گرفتار کریں'۔ جب چرس کا کارخانہ جرم نہیں فاٹا ایجنسی ایریا جو پاکستان کا حصہ ہے تو پھر اسی پاکستان میں چرس پینا کیسے جرم ھوا ۔
لیکن پھر بھی چیف جسٹس آف پاکستان اگر شھباز شریف صاحب کہتا ہے کہ منشیات کے کارخانے ویسے چلیں گے جیسے 1947 سے اب تک چلتے ہوئے آرہے ہیں فاٹا میں تو پھر ایسی صورت حال میں شھباز شریف صاحب کو حق نھی کہ چرسی کو جیل بھیج دیں ۔ لیکن پھر بھی اگر حکومت چرسی کو گرفتاری کے بعد جیل بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے تو مجھے گرفتار کر لو اسلیے کہ ویڈیو میں میں تقریر کے ساتھ میں نے بطور چیلنج ایک چرس بھرا سگریٹ پی لیا ۔ چیف جسٹس آف پاکستان چرس کے کارخانوں کو بند کرنے سے انکار کے بعد میرے چرس بھرا سگریٹ آپکے سامنے پینے کا یہ مطلب ہے کہ اگر شھباز شریف صاحب کو منشیات کے کارخانے بند کرنے سے انکار اور چرسی کو گرفتار کرنے میں دلچسپی ظاہر کریں تو مجھے گرفتار کریں اسلیے کہ ویڈیو میں چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے چرس بھرا سگریٹ پی لیا ۔ میرا مطالبہ ہے شھباز شریف صاحب ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس اور چیف جسٹس آف پاکستان کہ آپ صاحبان منشیات کے کارخانے پر خاموش تو ٹھیک ہے آپ خاموش رہوں لیکن اس کے بعد اپکو چرسی پینے کا کوئی حق نہیں اسلیے تمام پاکستان ڈسٹرکٹ ایریا میں منشیات پینے والوں کو گرفتار کرنا بند کرنا دو ۔۔۔۔
منشیات کے کارخانے کو بند کرنے سے انکار اور چرسی کو گرفتار یہ بے وقوفی کا فیصلہ مجھے منظور نہیں
یا منشیات کے کارخانے بند کر دو جو فاٹا ایجنسی ایریا میں ہیں
یا
منشیات پینے والے اور بیچنے والے کو گرفتار کرنا بند کر دو
لیکن اگر منشیات کے کارخانے پر خاموشی اور مجھے چرس کے جرم میں گرفتاری کا سلسلہ جاری رہا تو میں احتجاج کرونگا کہ کارخانوں کو بند نھی کر رہے فاٹا ایجنسی ایریا میں اور چرسی کو پکڑنے بعد خود کو تیس مار خان سمجھتے ہیں ۔۔۔۔
آپ صاحبان کے قیمتی وقت دینے کا شکریہ
محمد آصف خان
چیرمین اسلامک لاء پاکستان پارٹی
موبائل نمبر 03453230663
شناختی کارڈ ای میل کے ساتھ اٹیچ ہے

Address

Dir
18300

Telephone

+923453230663

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Islamic law party. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pakistan Islamic law party.:

Share