22/05/2025
**عنوان: فطرت کی حفاظت، ہم سب کی ذمہ داری**
ضلع لوئردیر فارسٹ ڈویژن کے پہاڑوں میں لگی آگ نے نہ صرف جنگلات کو جھلسا دیا، بلکہ معصوم جانوروں اور پرندوں کی چہچہاہٹ کو بھی خاموش کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کس طرح ایک ظالم انسان کی بے حسی نے لاکھوں مخلوقات کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اللہ کی بنائی ہوئی یہ رنگین دنیا، جو ہماری مشترکہ میراث ہے، ایک لمحے میں خاکستر ہو گئی۔ لیکن اس تاریکی میں روشنی کی ایک کرن فضل سبحان فارسٹر کی صورت میں نکلی، جو ضلع سوات کے علاقہ غالیگے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی محنت، جاں فشانی، اور بے پناہ کوششوں سے آگ پر قابو پایا گیا اور کئی معصوم پرندوں کو نئی زندگی ملی۔ یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی ذمہ داری صرف اپنی نہیں، بلکہ ہر ذی روح کی حفاظت کرنا ہے۔
**ظالم کون؟**
وہ شخص جو پہاڑوں پر آگ لگاتا ہے، وہ نہ صرف درختوں کو جلاتا ہے، بلکہ اللہ کی مخلوق کو بھی نیست و نابود کرتا ہے۔ یہ کام کرنے والا ظالم، بے رحم، اور اللہ کے احکامات سے باغی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: **"وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا"** (الاعراف: 56) یعنی "زمین میں فساد نہ پھیلاؤ جبکہ وہ درست ہو چکی ہو۔" آگ لگانے والا شخص اس آیت کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر جاندار کی حفاظت کریں، یہاں تک کہ ایک چڑیا کو بھی بلاوجہ مارنا گناہ ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: **"جس نے ایک چڑیا کو بھی بلا سبب مارا، وہ قیامت کے دن اس کے سامنے فریاد کرے گی"** (سنن نسائی)۔
**اسلام اور فطرت کا رشتہ**
اسلام فطرت کو اللہ کی نشانی قرار دیتا ہے۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے، اور انہیں نقصان پہنچانا شیطانی عمل۔ جو شخص آگ لگا کر جنگلات کو تباہ کرتا ہے، وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: **"ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ"** (الروم: 41) یعنی "لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے خشکی اور تیر میں فساد پھیل گیا۔" ہمیں اپنے گردو پیش کی حفاظت کو عبادت سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہی ہماری آزمائش ہے۔
**آئیے! عہد کریں:**
۱. ہم کبھی بھی فطرت کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
۲. آگ لگانے والے کو روکیں گے اور قانون تک پہنچائیں گے۔
۳. درخت لگا کر اور جنگلات بچا کر صدقہ جاریہ بنائیں گے۔
اللہ ہم سب کو فطرت کی حفاظت کی توفیق دے اور ظلم کرنے والوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین