Rerka Bala Sub Division

Rerka Bala Sub Division GEPCO Sub Division Rerka Bala

Shut downs Waryam  and kot Hast Feeders from 8:00 am to 11:00 amBherowal, Humbar and Jassowal feeders from 11:30 am to  ...
22/04/2025

Shut downs
Waryam and kot Hast Feeders from 8:00 am to 11:00 am
Bherowal, Humbar and Jassowal feeders from 11:30 am to 3:30 pm.

پانچ آئی پی پیز حبکو پاور، روش پاور، اے ای ایس لال پیر پاور، صبا پاور اور اٹلس پاور سے بجلی خرید معاہدے ختم کر دیے گئے ا...
17/10/2024

پانچ آئی پی پیز حبکو پاور، روش پاور، اے ای ایس لال پیر پاور، صبا پاور اور اٹلس پاور سے بجلی خرید معاہدے ختم کر دیے گئے اور نہ ہی ان پلانٹس کو کیپیسٹی سمیت آئندہ کے لیے کوئی ادائیگی کی جائے گی۔
ان پانچوں پلانٹس کی تفصیل میں پہلے ہی تین ماہ سے جاری اقساط میں لکھ چکا ہوں، آج دوبارہ مختصر بیان کر دیتا ہوں ان پلانٹس کی منظوری کب دی گئی، مالکان کون ہیں، گزشتہ ایک سال میں کیپیسٹی پیمنٹ کتنی کی گئی، گزشتہ ایک سال میں مجموعی ادائیگی کتنی کی گئی اور گزشتہ دس سالوں میں ان پانچوں پلانٹس کو کیپیسٹی پیمنٹ کتنی کی گئی، اس کے علاوہ معاہدے کے خاتمے کے بعد بچت کتنی ہو گی۔ میری نظر میں یہ پانچوں پرچون پاور پلانٹس ہیں، بڑی واردات پر بھی فوراً ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے چار پاور پلانٹس 1994 اور ایک پاور پلانٹ 2002 کی پاور پالیسی کے تحت لگایا گیا ہے۔
حبکو پاور پلانٹ حبکو کمپنی نے لگایا ہے جس کے مالک حبیب اللہ صاحب ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں اس پلانٹ نے کوئی پیداوار نہیں کی یعنی ایک یونٹ بھی بجلی پیدا نہیں کی اس کے باوجود اس پلانٹ کو صرف ایک سال میں کیپیسٹی کی مد میں 24.24 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ گزشتہ دس سالوں میں اسی پلانٹ کو صرف کیپیسٹی کی مد میں 205.034 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ حبکو گروپ کے تمام پاور پلانٹس کو صرف ایک سال میں مجموعی ادائیگی 355.993 ارب روپے کی گئی جس میں صرف 267.90 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹ شامل ہے۔
روش پاور داؤد گروپ کی ملکیت ہے جو گزشتہ ایک سال میں 4 فیصد چلا ہے یعنی سال میں 14 دن، اس پیداوار پر خرچہ 37.19 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ کیپیسٹی پیمنٹ 6.884 ارب روپے یعنی 706.86 روپے فی یونٹ جبکہ مجموعی ادائیگی 7.256 ارب یعنی 745.05 روپے فی یونٹ۔ گزشتہ دس سالوں میں صرف کیپیسٹی کی مد میں 60 ارب کی وصولی کی گئی۔
اے ای ایس لال پیر میاں منشاء گروپ کی ملکیت ہے۔ گزشتہ ایک سال میں اس پلانٹ نے بھی صرف 11 فیصد پیداوار دی ہے یعنی سال میں صرف 41 دن چلا ہے، اس پیداوار پر خرچہ وصولی 14.96 ارب روپے یعنی 41.73 روپے فی یونٹ۔ کیپیسٹی پیمنٹ 8.49 ارب روپے یعنی 23.69 روپے فی یونٹ جبکہ مجموعی ادائیگی 23.45 ارب روپے یعنی 65.41 روپے فی یونٹ کے حساب سے کی گئی ہے۔ اس پاور پلانٹس کو گزشتہ دس سالوں میں کیپیسٹی کی مد میں 52.081 ارب روپے کی ادائیگی۔ منشاء گروپ کے چاروں پلانٹس کا گزشتہ ایک سال میں کیپیسٹی کی مد میں 25.77 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی جبکہ گزشتہ دس سالوں میں 184.126 ارب روپے کی کیپیسٹی ادائیگی کی گئی۔
صبا پاور پلانٹ کوسٹل صبا پاور کمپنی لمٹیڈ نے لگایا جسے بعد میں اوریئنٹ کمپنی کا نام دے گیا۔ اس پاور پلانٹ نے گزشتہ ایک سال میں صرف 17 دن پیداوار دی ہے، اس پیداوار پر خرچہ وصول 3.36 ارب روپے یعنی 60.70 روپے فی یونٹ۔ کیپیسٹی پیمنٹ 3.132 ارب روپے یعنی 56.58 روپے فی یونٹ جبکہ مجموعی وصولی 6.50 ارب روپے کی گئی۔ اس پاور پلانٹ کو گزشتہ دس سالوں میں کیپیسٹی کی مد میں 17.833 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔
اٹلس پاور پلانٹ شیرازی خاندان کی ملکیت ہے، اس پلانٹ نے بھی گزشتہ ایک سال میں 47 دن پیداوار دی ہے اس پیداوار پر خرچہ وصولی 10.103 ارب روپے یعنی 39.94 روپے فی یونٹ۔ کیپیسٹی پیمنٹ 4.47 ارب روپے یعنی 17.65 روپے فی یونٹ جبکہ مجموعی وصولی 14.57 ارب روپے یعنی 57.59 روپے فی یونٹ۔ گزشتہ دس سالوں میں اس پاور پلانٹ کو 43.173 ارب روپے صرف کیپیسٹی کی مد میں ادا کیے گئے۔
اس حساب سے گزشتہ ایک سال میں ان پانچوں پاور پلانٹس کو 76.016 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی جس میں 47.216 ارب روپے صرف کیپیسٹی شامل ہے، اسی طرح گزشتہ دس سالوں میں ان پانچوں پاور پلانٹس کو 378.061 ارب روپے کیپیسٹی کی مد میں ادا کیے گئے۔
ان پانچوں پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 2465 میگاواٹ ہے۔ گزشتہ صرف ایک سال میں تمام 101 آئی پی پیز کو مجموعی ادائیگی 3127 ارب روپے جس میں 1929 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹ شامل ہے۔ ان پانچوں پاور پلانٹس کے معائدہ خاتمے سے مجموعی طور پر 76.016 ارب یعنی 2.43 فیصد ادائیگیوں میں کمی آئے گی۔ مزید 18 پلانٹس کی کیپیسٹی ختم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ان پلانٹس کو صرف بجلی پیداوار ادائیگی کی جائے گی۔۔۔

17/10/2024
آگاہی کی اشد ضرورت 200 یونٹ سےکم6 مہینے تک استعمال کرنے والے کو ریٹ پرانا ہی لگ رہا جبکہ 200سے اوپر استعمال کرنے والے کو...
27/08/2023

آگاہی کی اشد ضرورت 200 یونٹ سےکم6 مہینے تک استعمال کرنے والے کو ریٹ پرانا ہی لگ رہا جبکہ 200سے اوپر استعمال کرنے والے کو ریٹ زیادہ لگ رہا ہے جس کی ترتیب تصویر میں موجود ہے
ملازمین لاٸن مین میٹر ریڈر ریکوری سٹاف نہ اس کو کم کر سکتے ہیں نہ زیادہ

27/08/2023

فری یونٹس جب سے واپڈا بنا ھے اس وقت سے مل رھے ھیں اور ھر ملازم کو اسکے سکیل کے حساب مخصوص یونٹس ایک مالی سال کے حساب سے دۓ جاتے ھیں اگر سال ختم ھونے سے پہلے استعمال ھو جاتے ہیں تو باقی عرصہ اس کو بل دینا پڑھتا ھے۔ یہ نہی ھے کہ جتنے مرضی وہ استعمال کرے اگر کوئ ایسا کرتا ھے تو وہ غلط کرتا ھے آپ اسکو ایکسپوز کر سکتے ھیں۔ یہ سہولت باقاعدہ تنخواہ کا حصہ ھے اور ملازم اپنی تنخواہ کے ساتھ اس سہولت پر بھی انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور جہاں سے ملازم تنخوا لیتا ھے وہ دفتر اسکی پیمنٹ کرتا ھے ایک بل ملازم کو آتا ھے اور اسکی تمام تفصیل پیمنٹ کے لۓ اس کے دفتر کو جاتی ھے جس طرح دوسرے الاؤنسز مثلا ھاؤس رینٹ میڈیکل یا کنوینس الاؤنس وغیرہ ملتے ھیں اس طرح یہ بھی ملتے ھیں تنخواہ میں دو چیزیں شامل ھوتی ھیں بنیادی تنخواہ اور الاؤسز۔ مخصوص فری یونٹس بھی دوسرے الاؤسز کی طرح الاؤنس کے زمرے میں آتے ھیں۔ عوام میں یہ غلط فہمی جان بوجھ کر پھیلائ جا رھی ھے کہ ملازموں کو فری یونٹس ملنے کی وجہ سے بجلی مہنگی ھو رہی ھے۔ حالانکہ پہلے تو ریٹ اتنے نہی بڑھے تھے پھر اب کیوں اتنے بڑھ گۓ ریٹ طے کرنے میں فری یونٹس کا کوئ واسطہ نہی ھوتا ریٹ بجلی پیدا کرنے کی کاسٹ پر اور اس کی قیمت خرید پر طے ھوتا ھے اور وہ پرچیزنگ ایجنسی کرتی ھے اس میں ملازموں کے ملنے والے فری یوننٹس کا نہ کوئ تعلق ھوتا ھے اور نہ اسکو مد نظر رکھا جاتا ھے بجلی مہنگی کی اصل وجہ یہ ھے کہ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا ھو رہی ھے ڈالر اور تیل اور گیس مہنگی ھونے کی وجہ سے ریٹ بڑھ رھے ھیں ۔ مہنگائ کی وجہ سے تنخواہوں میں اضافہ اور پٹرول کی قیمت میں اضافہ اور دفتری اخراجات میں اضافہ بجلی ریٹ میں اضافے کا سبب بن رھا ھے۔ اس میں واپڈا ملازموں کا کوئ کردار نہی ھے اور نہ فری یونٹس کی وجہ سے ریٹ بڑھ رھا ھے۔ دوسری وجہ گورنمنٹ کی طرف سے سبسڈی میں کمی کرنا ھے پہلے 300 یونٹس تک ھر کسی کو سبسڈی ملتی تھی اور ریٹ کم لگتا تھا اب صرف 200 یونٹس تک استعمال کرنے والوں کو ملتی ھے اگر 200 سے 1 یونٹ بھی اوپر چلا جاۓ تو سبسڈی ختم ھو جاتی ھے اور پورا ریٹ چارج ھوتا ھے۔ لیکن چونکہ عوام کا واسطہ واپڈا ملازموں سے پڑتا ھے وہ انہی کو قصور وار سمجھتے ہیں کیونکہ عوام میں اتنی ھمت تو ھے نہیں کہ وہ حکمرانوں سے پوچھ سکیں جنھوں نے ڈیم نہی بننے دۓ اور اپنی سیاست کو چمکانے کے لۓ شارٹ ٹرم منصوبے لگا کر بجلی تو پوری کرلی لیکن وہ منصوبے اب وبال جان بن گۓ ھیں۔ ملک کو قرضوں کے شکنجے میں دھکیلنے اور اس پر سود کی ادائیگی اصل وجہ ھے۔ تیسری وجہ گورنمنٹ کے ٹیکسز اور ٹی وی فیس وغیرہ بھی ھے جب بجلی کا ریٹ بڑھتا ھے تو ٹیکسز بھی بڑھ جاتے ھیں۔ پنجابی کی ایک مثال ھے کہ "پانی ھمیشہ نیویں تھاں ول جاندا اے" اس لۓ ھم اپنا غصہ اسی پر اتارتے ہیں جہاں ھمارا زور چلتا ھے جہاں پتہ ھو کہ آگے جو ھے اس کو ھم کچھ نہی کہ سکتے وھاں خاموش ھو جاتے ہیں ۔اب الیکشن آرھے ھیں دیکھتے ھیں کہ سیاستدانوں سے بھی کوئ یہ سوال کرتا ھے سب اپنے اپنے پسندیدہ لیڈر کے آگے پیچھے پھریں گے چاھے کوئ کسی پارٹی سے بھی ھو ۔اس وقت ھر آدمی یہی دیکھے گا کہ مجھے کس سے فائدہ پہنچے گا میرے بچوں کو نوکری کون لے کے دیگا یا تھانے میرے ساتھ کون جاۓ گا کوئ شریف قابل بندا الیکشن میں کھڑا ھو جاۓ تو ھم اسے ووٹ نہی دیتے کہ میری ذات کو اس سے کوئ فائدا نہی ملے گا اسمبلی میں جیسے بھیجیں گے اسی طرح کا رزلٹ آۓ گا۔ شکریہ۔

27/08/2023

یونیورسٹی اپنے ملازمین کے بچوں کو فری پڑھاتی ہے۔ ریلوے میں آپ فری سفر کر سکتے ہیں۔ پی آئی اے میں بھی آپکو سال میں دو وزٹ فری ہیں۔ پی ٹی سی ایل میں فون فری ہے۔ کسی پرائیویٹ کمپنی میں جائیں اور آپکی سیل کی ڈیوٹی ہو تو آپکو گاڑی اور فون فری ملے گا۔ نیسلے کمپنی میں ہوں تو جوس وغیرہ ملیں گے اور اگر اولپرز میں ہوں تو دودھ بھی ہر ادارہ اپنے ملازمین کو سپورٹ کرتا ہے ایسے میں یہ کہہ دینا کہ واپڈا اپنے ملازمین کو سپورٹ کر رہا پے وہ ہمارا حق کھا رہا ہے یہ زیادتی ہے ۔۔
کسی بھی ٹیکس کے اندر یہ شامل نہیں ہے کہ واپڈا آپ سے پیسے لے کر ملازمین کو دے رہا ہے
ہر ادارہ ہر کمپنی ہر کوئی اپنے ملازمین کو سپورٹ کرتا ہے ایسے میں واپڈا سے احتجاج ناجائز اور غیر ضروری ہے۔ اس نعرے کو سپورٹ کرنے والے حالات و واقعات سے بے خبر سے لوگ ہیں جو مزید افراتفری اور نفرت کو بڑھاوا دے۔

نوٹ: واپڈا کے کسی ایمپلائی کو یونٹس فری نہیں مل رہے ہوتے بلکہ واپڈا ہر ملازم کے یونٹس کا بل ادا کرتا ہے جو متعلقہ ڈسٹریبیوشن کمپنی کو ادا ہوتا پے

نوٹ: بجلی مہنگی ہونے کی وجہ پرائیویٹ پاور پلانٹ ہیں جو گزشتہ حکومتوں میں لگے ہیں جو انتہائی مہنگی بجلی بنا رہے ہیں۔ اگر وقت پر ڈیمز بنائے جاتے تو آج بجلی اتنی مہنگی نہ ہوتی۔ واپڈا نے پاکستان بننے سے لے کر آج تک جو بجلی بنائی ہے اسکی قیمت ایک روپیہ یونٹ بھی نہیں بنتی ہے

Address

VPO Rekra Bala Near RHQ RB, Tehsil Phalia
District Mandi Bahauddin
50400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rerka Bala Sub Division posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Rerka Bala Sub Division:

Share