Hackzone

Hackzone Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hackzone, Faisalabad.

01/05/2022
https://bit.ly/3HdwQaf......join and ean real online money
30/01/2022

https://bit.ly/3HdwQaf......join and ean real online money

This is a 404 error, which means you've clicked on a bad link or entered an invalid URL. Maybe what you are looking for can be found at Bitly.com. P.S. Bitly links are case sensitive.

04/08/2016

نیکی کی قرآنی تعریف
لوگ نیکی کی قرآنی تعریف کو چھوڑ کر بعض دیگر اعمال کو اہمیت دیتے ہیں
جبکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ، آخرت کے دن، فرشتوں، کتاب، اور نبیوں کو مانے، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کو آزاد کروانے کے لئے خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔ نیک تو وہ لوگ ہیں جو جب وعدہ کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں اور تنگی و مصیبت میں اور جنگ کے موقع پر صبر کرتے ہیں۔ یہی یہ راستباز لوگ اور یہی متقی ہیں۔ البقرۃ 2: 177
اہل کتاب کے ہاں قبلے کا فرق ایک معرکۃ الآرا بحث تھی۔ ایک گروہ بیت المقدس کے مشرقی حصے کو قبلہ مانتا اور دوسرا مغربی حصے کو۔ اللہ تعالی نے یہ بیان کر دیا کہ اس قسم کی بحثیں اللہ کے نزدیک لا یعنی ہیں۔ یہ بات ایک مثال کے طور پر بیان ہوئی۔ اس قسم کی جتنی بھی بحثیں ہمارے مذہبی حلقوں میں پائی جاتی ہیں ان سب کی یہی حیثیت ہے۔
اصل نیکی یہ لا یعنی بحثیں، فقہی و کلامی اختلافات اور کسی مخصوص گروہ سے وابستگی نہیں بلکہ ایمان و اخلاقیات ہیں۔ قرآن مجید نے ایمان کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالی، آخرت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ اسی ایمان کی وضاحت احادیث میں کی گئی ہے۔
ایمان کے بعد اہم ترین چیز اخلاقیات ہیں۔ ضرورت مندوں پر اللہ تعالی کی رضا کے لئے خرچ کرنا عظیم نیکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں غلامی کی لعنت دنیا میں موجود تھی، اسے تدریجاً ختم کرنے کے لئے غلاموں کو آزاد کرنے پر زور دیا گیا۔ نماز کا قیام اہم ترین نیکی ہے اور انسان کے اعلی اخلاق کا حصہ ہے کیونکہ یہ رب کریم کا شکر ہے جو بندے کو اس کی نعمتوں کے جواب میں ادا کرنا چاہیے۔
وعدے کو پورا کرنا اور مصیبت میں ثابت قدمی اختیار کرنا نیکی کا اہم ترین پہلو ہے۔ نیکی کے یہ وہ پہلو ہیں جو ہمارے معاشرے میں بالعموم ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم لوگ عام طور پر وعدہ کر کے وقت پر نہیں پہنچتے۔ کاروباری معاملات میں وعدہ خلافی اور وقت پر دوسرے کا حق نہ دینا عام ہے۔ مصیبت کے موقع پر ہم لوگ چیخ و پکار اور توڑ پھوڑ میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالی کے حکم کے خلاف بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اس آیت کی روشنی میں اپنی شخصیت کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم لوگ ان نیکیوں پر کس حد تک قائم ہیں۔ آئیے اس آیت میں دی گئی نیکیوں کی فہرست کا جائزہ لیں اور اپنی شخصیت کا محاسبہ کریں:
· اللہ تعالی پر ایمان
· آخرت پر ایمان
· فرشتوں، آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان
· اللہ کی راہ میں حاجت مندوں پر خرچ کرنا
· نماز قائم کرنا
· زکوۃ دینا
· وعدہ پورا کرنا
· مصیبت میں ثابت قدم رہنا اور صبر کرنا

29/07/2016

ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﻞ
ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﻟﮯ ﺟﺲ
ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﮨﻢ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﻮ
ﻓﯿﺼﺪ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﮏ ﻭﺷﺒﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ
ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﮯ
ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﭘﺘﮭﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﯿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ
ﺳﺎﺕ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﺎﺕ ﮐﺘﻨﯽ ﺍﮨﻢ , ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﭽﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ..؟
ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ ..
ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ___ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﮯ ..
ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﮐﯽ ___ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮﮮ ..
ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ___ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﮯ ..
ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ___ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ..
ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ___ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ..
ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺲِ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ___ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺑﻨﺎﯾﺎ ..
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺪﮐﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮨﯿﺰﮔﺎﺭ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﯼ..
ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺭﮐﮭﺎ , ﻭﮦ ﻣﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ..
ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﯾﺎ , ﻭﮦ ﻧﺎ ﻣﺮﺍﺩ ﺭﮨﺎ ..
( ﺳﻮﺭﮦ ﺍﻟﺸﻤﺲ , ﺁﯾﺖ 1 ﺗﺎ 10 )
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺑﺘﺎﯾﺌﮯ.. ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺍﮔﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﯽ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺭﮐﮭﺎ ﻭﮦ ﻣﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﺷﺪﮦ
ﺑﺎﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﮨﯽ ﻣﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﻔﺲ ﭘﺎﮎ ﮨﻮ ﮔﺎ..
ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ .......... ﮨﻢ ﺳﺐ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﮧ ﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺫﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮ ﭼﯿﭧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.. ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ
ﭘﮍﮪ ﻟﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ .. ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﭘﺎﮎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﯾﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻔﺲ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﺑﺪ ﮐﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮔﺎﺭ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﯼ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﺎ
ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻔﺲ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺗﺎﺑﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ..
ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ! ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮨﮯ .. ﺟﺲ
ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .. ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ
ﻭﻗﺖ ﮨﮯ.. ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ..
ﺗﺤﺮﯾﺮ : ﻓﺨﺮ ﻭﺳﯿﻢ

میرے نبی ﷺ کی ذات کو جو مانتے نہیں...وہ جان لیں کہ ھم بھی انہیں جانتے نہیں ...وہ جن کو اپنی جان سے پیارے نہیں رسول ﷺصف ع...
05/07/2016

میرے نبی ﷺ کی ذات کو جو مانتے نہیں...
وہ جان لیں کہ ھم بھی انہیں جانتے نہیں ...

وہ جن کو اپنی جان سے پیارے نہیں رسول ﷺ
صف عاشقان ھم انہیں گردانتے نہیں ...

وہ جو ممتاز قادری نے ٹھانی تھی جس طرح...
سب لوگ اس طرح کی یہاں ٹھانتے نہیں ...

دہلیز جن کو مل گئ میرے حضور ﷺ کی...
وہ خاک ھر گلی کی کبھی چھانتے نہیں ...

🌹🌹ھم سب آپ ﷺ پر قربان یا رسول اللہ🌹🌹
ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

03/07/2016

ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ، ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕِ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖ ﻟﮯ ﻟﮯ۔
ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﺳُﻨﺎ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺗﮭﮯ، ﺩﻝ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﻭﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺗﯿﺰ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮۂ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﺮﺥ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮ ! ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮨﯽ ﻟﮯ ﻟﻮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﻢ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﮍﭖ ﺍُﭨﮭﺎ، ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﻼﺏ ﺑِﮧ ﭘﮍﺍ، ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﺑﺎﻥ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﮭﯽ، ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺁﻗﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﮑﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﭼﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ "
ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ،
ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ، ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﻧﺎﻡ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ، ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﻖ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺟﺐ ﺟﻨﮓِ ﺍُﺣﺪ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﮌﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﻮﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﮔﺮ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻧﮧ ﻟﻮ،
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " ﺍﮮ ﻋﻤﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ، ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﻨﮫ ﺩﮐﮭﺎﺅﻧﮕﺎ، ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍﺀ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﻭ،
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﮯ ﻟﻮ۔
ﺣﻀﺮﺍﺕِ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﮧ ﺭُﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻨﮕﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﺎ ﮐُﻮﮌﺍ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐُﺮﺗﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ، ﺣﻀﺮﺕِ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﮌﺍ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﮐﻮ ﭼُﻮﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ " ﻓَﺪﺍﮎَ ﺍﺑِﯽ ﻭﺍُﻣﯽ " ﻣﯿﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭﻭﮞ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﻣﮩﺮ ﻧﺒﻮّﺕ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﮐﺮ ﺟﻨّﺖ ﮐﺎ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﻨّﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮐﺮﻟﯽ۔
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ !
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺳﭽﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺟﺰﺑﮧ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ۔ ﺁﻣﯿﻦ !
( ﺍﻟﺮﺣﯿﻖ ﺍﻟﻤﺨﺘﻮﻡ )

02/07/2016

منقبت حضرت ابوبکرصدّیق ؓ

میں کیسے مان لوں انکو دلِ زندہ میسّر ہیں

نہیں صدّیق ؓ کے جو معترف ‛پتھّر سے بدتر ہیں

جو اصابِ پیمبر ہیں مقدّس ہیں منوّر ہیں

علاماتِ چراغِ مسجد و محراب و منبر ہیں

مسلّم ہیں معظّم ہیں معزّز ہیں

بیانِ مختصر یہ ہے کہ وہ صدّیق اکبر ہیں

میں اخلاصِ مجسّم کو منافق کس طرح کَہ دوں ؟

مرے پیشِ نظر دوزخ کے عبرتناک منظر ہیں

نفاقِ باہمی ہے موت کا پیغام ملّت کو

اشارہ کر رہے ہیں اب زمانے کے جو تیور ہیں

فقط نامِ خدا ‛نامِ محمدﷺ چھوڑ کر گھر میں

جو سب کچھ پیش کر دیتے ہیں وہ صدّیقِ اکبر ؓ ہیں

کسی قابل نہیں پھر بھی حغیظٌ اس بزم اقدس میں

یہ گلہاے عقیدت ذکر پر ان کے نچھاور ہیں

حفیظٌ میرٹھی

02/07/2016

اسکی عادت تھی کہ وہ اذان سے کافی پہلے مسجد میں آ جاتا اور وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت شروع کردیتا. اس طرح جماعت ہونے سے پہلے اسے تلاوت کیلئے کافی وقت مل جاتا.
آج بھی کچھ اسی طرح ہوا تھا وہ مسجد میں بیٹھا تلاوت کر رہا تھا کہ ایک چھوٹا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا. اس نے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا تو بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا.
وہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہوگیا. تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے دعا مانگ رہا تھا.
اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. بچے کا دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کر کے اسے دیکھنے لگا.
تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا تو اس کا دل چاہا کہ وہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے اسے کچھ دے. اس نے بچے کو پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اس کو سو کا نوٹ دیا . بچے نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کر لیا.
اس نے بچے سے پوچھا کہ بتاؤ تم اللہ س کیا دعا مانگ رہے تھے؟
بچے نے مسکراتے ہوئی کہا .... میرا چاکلیٹ کھانے کا دل کر رہا تھا تو میں نے اللہ جی سے سو روپے مانگے تھے .. یہ کہہ کر وہ چلا گیا.
بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتا رہا جس طرف وہ بچہ گیا تھا جو اسے یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سکھایا گیا تھا.

02/07/2016

ایک درد بھرا سچا واقعہ
( یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا )

ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈاکے ہم . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ آجاے.

Address

Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hackzone posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share