06/01/2026
پنجاب کا فیصلہ | بلدیاتی کالا قانون نامنظور ✊
عوامی ریفرنڈم | 15 جنوری 2026
صوبائی حکومتوں کی جانب سے نت نئے ہتھکنڈوں کے ذریعے نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومتیں قائم نا کرنا غیر جمہوری اور عوام دشمن اقدام ہے۔ پنجاب حکومت نے 2015 کے بعد سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔
پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء کالا قانون ہے۔ اس کالے قانون میں آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت تمام سیاسی ، مالیاتی اور انتظامی اختیارات مقامی حکومتوں کو اختیار نہیں کیے جا رہے۔ جماعت اسلامی پاکستان ، پورے صوبے میں اس کالے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے والی واحد آواز اور سیاسی پارٹی ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پنجاب کے کالے بلدیاتی ایکٹ کو غیر جمہوری اور عوام دشمن قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی نےاس کالے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف عدالت کا رجوع بھی کیا ہے، اور ڈسٹرکٹ و ڈویژنل سطح پر عوام کے حق کے لیے دھرنے بھی دیے ہیں۔
جماعت اسلامی اس غیر جمہوری و عوام دشمن کالے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف صوبہ بھر کے عوام کی رائے لینے کے لیے پورے پنجاب میں 15 جنوری 2026 کو صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم کا اہتمام کر رہی ہے۔
آپ بھی 15 جنوری کو کالے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف ہونے والے اس عوامی ریفرنڈم میں شریک ہو کر اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے۔