01/05/2026
یوم مزدور
~ تو قادر اور عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
(علامہ اقبال)
اگر علامہ اقبال کے اس شعر کو دیکھا جائے تو رب سے شکوہ بنتا ہے مگر گہرائی میں اتریں تو حقیقت واضح ہوتی ہے
جیسے پانی کا فارمولا ہے نا H20 یعنی دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن ہوں گے تو ہی پانی بنے گا ایسے ہی احساس ذمہ داری اور خودداری ہونے سے بنتا ہے مزدور۔
کوئ شخص صرف اپنی بھوک مٹانے کو مزدوری کی چکی کے پاٹوں میں نہیں پسے گا، وہ یہ مشکل اپنے پیاروں کے لئے اپناتا ہے ،ان کو ضروریات زندگی مہیا کرنے کی خواہش اسے کوہلو کا بیل بنائے رکھتی ہے ۔
اپنے لئے تو روٹی مانگ کے بھی پوری کی جاسکتی ہے مگر خودداری کی دولت اسے ایسا کرنے نہیں دیتی ۔خواتین مزدور تو مزید داد کی مستحق ہیں کیونکہ ان کے لئے تو کئ سہل راستے موجود ہوتے ہیں۔
مگر وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ وہ آسان راستے عزت کی منزل پہ نہیں پہنچاتے اس لئے وہ اپنے لئے مزدوری کی کٹھن راہ کو چن لیتی ہیں ۔
اس لئے گھر میں جھاڑو پوچا کرتی ماسی ہو یا کسی عمارت کی تعمیر میں اینٹیں ڈھوتا مزدور ہر ایک کی عزت کیجیے کیونکہ یہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں ۔
کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ
اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے ۔(مسند احمد بن جبل)
سو اللہ کی دوستی بڑی قیمتی شے ہے اور وہ محنت کی چکی میں پسنے والوں کا انعام ہے۔
میرا سلام پہنچے اللہ کے سب دوستوں کو,اور اس یوم مزدور پہ یہی دعا ہے کہ
اے ہمارے رب !ہمیں بھی اپنے دوستوں میں شامل فرما آمین