30/08/2025
ایک کھلونا جس نے کروڑوں ذہنوں کو قیدی بنالیا
(قاسم علی شاہ)
لیزا کے ہاتھ میں بیگ تھا اور اس کے ساتھ ایک بندر نما کارٹون لٹک رہا تھا جس کے نوکیلے کان، بڑی بڑی آنکھیں، لمبے دانت تھے اور چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔ لیزا نے یہ تصویر انسٹاگرام پر شیئر کی جو چند گھنٹوں میں وائرل ہوگئی۔ا س کے بعد بے شمار اداکاراؤں اور فیشن بلاگرز نے اس کارٹون کے ساتھ تصاویر بنوائیں، یہاں تک کہ ریحانہ، دوالیپا، اننیاپانڈے اور خوشی کپور جیسی مشہور شخصیات بھی اس اثر سے محفوظ نہ رہیں اور انھوں نے بھی اس کارٹون کی تصاویر نشر کیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں نے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر”پر تجسس ہیش ٹیگز“ کے ساتھ اسے پھیلانا شروع کیا تو اس کے بعد ”لبوبو“ نامی یہ کھلونا دنیا بھر میں مشہور ہوگیا اور لوگ اسے پانے کے لیے بے قرار ہونے لگے۔ چین میں لوگ رات بھر قطار میں کھڑے ہو کر اسے خریدنے لگے، ہانگ کانگ کے سپر اسٹورز پرخریداروں کا رش لگ گیا، اسی طرح جنوبی کوریا، جاپان،تھائی لینڈمیں بھی لوگ دیوانہ وار ”لبوبو“خریدنے لگے۔ امریکا اور یورپ میں نوجوان نسل اسے جدید ثقافت کے طورپر اپنانے لگی جب کہ پاکستانی اور بھارتی بھی اس اثر سے محفوظ نہ رہے اور یہاں بھی لوگ آن لائن خریدنے لگے۔
یہ کھلونا بیلیجئم کے ایک فن کار”کیسنگ لنگ“ نے 2010میں بنایا تھاجسے 2019میں معروف اسٹور Pop Martنے متعارف کرایا۔پانچ سال تک یہ غیر معروف رہااور پھر اچانک 2024میں اس کی تصویر وائرل ہوگئی۔اس معاملے میں سب سے زیادہ فائدہ ”پاپ مارٹ“ کمپنی نے اٹھایا۔2024 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے لبوبوکی فروخت سے 410 ملین ڈالر (تقریباً 1.14 کھرب پاکستانی روپے) سے زائدکمائے جو کہ آج تک اس کی سب سے بڑی کمائی ہے۔اسی کے متعلق یہ خبربھی آئی کہ گذشتہ ماہ چین کے شہر بیجنگ میں بولی لگی جس میں ”لبوبو“ کے مختلف مجسمے شامل تھے۔اس تقریب میں 200افرادشریک ہوئے جب کہ ہزاروں لوگوں نے آن لائن حصہ لیا۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ساڑھے چارفٹ لمبا”لبوبو“108ملین چینی یوآن(تقریباً4 کروڑ 28 لاکھ روپے) میں فروخت ہوااوریہاں بھی”پوپ مارٹ“کی چاروں انگلیاں گھی میں رہیں، کمپنی نے اس بولی سے 3.73ملین یوان(تقریباً 14 کروڑ 79 لاکھ روپے) کمائے۔
آخر اس کھلونے میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔
دراصل اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ کچھ مخصوص حلقوں نے سوشل میڈیا پر ایسے نفسیاتی، سماجی اورتشہیری حربے آزمائے جن کی وجہ سے دنیا بھر میں شوق و تجسس پیدا ہوگیا۔”پاپ مارٹ“کمپنی نے اعلان کیا کہ اس پراڈکٹ کا ہر 72واں ڈبا خوش قسمت ڈبا ہوگا،اس میں منفرد رنگ کا ”لبوبو“ ہوگا۔جسے بھی یہ نایاب کھلونامل جائے وہ اسے لاکھوں ڈالرز میں بیچ سکتاہے۔دوسری وجہ معروف شخصیات کا استعمال ہے جنھوں نے اپنے بیگ اور موبائل کے ساتھ یہ کارٹون لٹکاکراسے نیافیشن بنایا۔تیسری وجہ سوشل میڈیا کا اشتعال ہے جہاں لوگوں نے مختلف ٹرینڈز کے ساتھ اسے مشہور بنایا۔چوتھی وجہ ”لبوبو“ کامحدوداسٹاک ہے۔اس کارٹون کا ہر ماڈل محدودمقدار میں آتا ہے اس لیے لوگ ختم ہونے سے پہلے اسے خریدناچاہتے ہیں۔پانچویں اور اہم وجہ خوف اور تجسس ہے۔”لبوبو“ کی عجیب و غریب شکل کوکچھ لوگوں نے شیطان سے منسوب کیا اورسوشل میڈیاپر یہ بات بھی پھیلائی گئی کہ اس کے ساتھ کچھ شیطانی طاقتیں ہیں،جوبھی شخص یہ کھلوناخریدتاہے، شیطانی طاقتیں اس کے گھر میں آجاتی ہیں۔
اس تمام صورت حال میں ایک چیز واضح ہوگئی کہ ایسا کھلونا جس کی نہ تاریخی حیثیت ہے اور نہ ثقافتی و تہذیبی، اس کی شکل بھی ڈراؤنی ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا بھرمیں اس قدرمشہور ہواکہ لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے پاگل ہوگئے۔یہ سب سوشل میڈیا کی بدولت ہوا۔
”لبوبو“ کواگرسوشل میڈیا پلیٹ فارم نہ ملتا توشاید اسے مقبولیت بھی نہ ملتی،لوگ بھی اس کے جنون میں مبتلا نہ ہوتے اور نہ ہی پاپ مارٹ کمپنی کھربوں روپے کماتی۔اس سے واضح ہوتاہے کہ سوشل میڈیاآج کا انتہائی طاقتورترین ہتھیار ہے جو نہ صرف تیزی کے ساتھ معلومات پہنچاتاہے بلکہ رائے عامہ کی تشکیل اور ذہن سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ کسی بھی مخصوص پیغام کو وائرل کرنے کے لیے چند موثر افراد یا ٹرینڈنگ پوسٹو ں کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر لوگ نہ صرف اسے سچ ماننے لگتے ہیں بلکہ اس کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔
ان حالات کے پیش نظریہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آج ہم ریاست کے بجائے سوشل میڈیا کی سلطنت میں جی رہے ہیں،جہاں الگورتھمز ہمارے خیالات تشکیل دیتے ہیں اور ہم سے فیصلے کرواتے ہیں۔اب فیس بک، انسٹاگرام یا یوٹیوب صرف تفریح یا رابطے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ پلیٹ فارمز خودمختار ریاست سے زیادہ طاقتورہوچکے ہیں۔تحقیق بتاتی ہے کہ ہمارے آٹھ یا نودوستوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر الگورتھم ہمارے رویے اور مستقبل کے بارے میں تقریبا95 فی صد تک درست پیشن گوئی کرسکتاہے۔آپ کو بتاتاچلوں کہ سوشل میڈیا الگورتھمز ایک خاص قسم کاEcho Chamberبناتے ہیں جہاں صارفین کو وہ مواد دکھایا جاتا ہے جو ان کے خیالات اور جذبات کے مطابق ہوتا ہے جب کہ مخالف نقطہ نظران سے پوشیدہ رکھاجاتاہے۔صارف مخصوص خیالات کو درست جب کہ اس کے مقابلے میں تمام خیالات کوغلط سمجھتاہے۔اس وجہ سے وہ انتہا پسند بن جاتاہے اور معاشرہ گروہ بندی کاشکار ہوجاتاہے۔ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز Self-�persuacionجیسی تدابیر استعمال کرتے ہیں جس میں صارف کے سامنے بار بار مخصوص قسم کا مواد پیش کیاجاتاہے اورصارف اسی کے مطابق فیصلے کرتاہے۔
ٹریسٹن ہیرس نے طویل عرصہ سوشل میڈیاکمپنیوں میں کام کیا،وہ بتاتاہے کہ جو پراڈکٹ(فیس بک،انسٹاگرام وغیرہ) آپ بغیرپیسوں کے استعمال کرتے ہیں تو اس بات سے خوش نہ ہوں،کیوں کہ اس صورت میں آپ ہی پراڈکٹ بن رہے ہیں۔یعنی کمپنیاں آپ کی توجہ حاصل کرکے اسے بیچتی ہیں او ر آپ کوذہنی غلام بناتی ہیں۔
اگرہم ”لبوبو“والے معاملے کاتجزیہ کریں تواس میں لوگوں کی کئی خامیاں سامنے آتی ہیں۔
اس رجحان نے واضح کیا کہ لوگ اقدار سے زیادہ ٹرینڈزکوپسند کرتے ہیں تاکہ وہ دنیا والوں کو دکھاسکیں کہ ہم پسماندہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ہیں۔دوسری چیزتنقیدی سوچ کا فقدان ہے۔لوگوں نے ایک بدصورت کھلونا اس لیے خریداکیوں کہ باقی لوگ بھی خرید رہے ہیں۔اس سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ معاشرہ علم، تہذیب اور سنجیدہ فکر کے بجائے ایسی چیزوں کی طرف متوجہ ہوتاہے جو تسکین آمیز ہوں،اگر چہ یہ تسکین عارضی کیوں نہ ہو۔تیسری چیز سرمایہ دارانہ نظام کی چالاکیاں ہیں۔کمپنیاں انسانوں کی نفسیاتی کمزوریوں سے واقف ہیں اوران کا بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کھربوں ڈالرز کمارہی ہیں۔
”لبوبو“کی مقبولیت والا معاملہ ابھی بھی چل رہا ہے۔ہوسکتاہے کہ آئندہ ہمیں اس جیسے مزید واقعات بھی دیکھنے کو ملیں۔چنانچہ ہمیں کچھ تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس طرح کی چالوں کاشکار نہ ہوں۔
تنقیدی سوچ اپنائیں
بدقسمتی سے ہم ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں سچائی کا تعین وائرل پوسٹ یا مشہور شخصیت کی پسند ناپسند سے کیا جاتا ہے۔ا یسے میں تنقیدی سوچ پروان چڑھانا بہت ضروری ہے تاکہ ہم ہر چیز کو سوالیہ نگاہ سے دیکھیں کہ یہ چیز کون بیچ رہا ہے؟ اس کے پیچھے کیا مفادات کار فرما ہیں اور کیا یہ میری حقیقی ضرورت ہے یا کسی سازش کے تحت اسے میری خواہش بنا دیا گیا ہے؟ کیا یہ چیز میں صرف دوسروں کی تقلید میں پسند کر رہا ہوں یا یہ میری اقدار کے مطابق ہے؟ہمیں نئی نسل کو بھی یہ تربیت دینی چاہیے کہ ہر وائر ل ہونے والی چیز حقیقت نہیں ہوتی،عین ممکن ہے کہ وہ فریب ہو۔
ڈیجیٹل خود آگہی
لبوبو جیسے واقعات نے بتادیا کہ تعلیم عام ہونے کے باوجودہمارامعاشرہ ڈیجیٹل ان پڑھ ہے۔ہمیں نوجوان نسل کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں کیادکھاتا ہے اور کیوں دکھاتا ہے۔الگورتھم ہماری نفسیات پر کس طرح اثرانداز ہوتاہے نیز وائرل ٹرینڈ کے پیچھے کیا منصوبہ بندی ہوتی ہے۔اس حوالے سے ریڈیو، ٹی وی اورسوشل میڈیا پر ڈیجیٹل خودآگاہی پر مشتمل بات چیت ہونی چاہیے تاکہ لوگ جان سکیں کہ کمپنیاں کس طرح ان کے لائکس اورشیئرز کواپنے مفاد میں استعمال کرتی ہیں اورانسانوں کواپنا پراڈکٹ بناتی ہیں۔
شناخت
”لبوبو“نے انسانوں کی اجتماعی سوچ کو یرغمال بنالیا،یہ اس بات کاثبوت ہے کہ لوگوں کی اکثریت مصنوعی چیزوں کو اپنی شناخت بنارہی ہے۔ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ہم کس چیز پر فخر کرتے ہیں؟کیا ہماری شناخت ہماری اقدارہیں یامصنوعی چیزیں؟ہمیں اپنے جوانوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ لباس، کھلونے یاٹرینڈ کو اپنی شناخت نہ بنائیں۔اپناشعوربلند کریں تاکہ تجارتی کمپنیاں ہمیں کسی دھوکے میں مبتلانہ کریں۔ہمیں معاشرے میں ایسے رول ماڈلز کی ضرورت ہے جو ”فالوور کلچر“ کے خلاف آواز بلند کریں اورنئی نسل کو اس قدر بااعتماد بنائیں کہ وہ ہرچمکنے والی چیز کے دھوکے میں نہ آئیں۔
صارفیت (Consumerism) کو سمجھیں
سرمایہ دارانہ نظام کی چالاکی یہ ہے کہ یہ ہر لمحہ ہمیں یہ باور کرواتا ہے کہ ”جب تک یہ نئی چیز تمھارے پاس نہ ہوتم مکمل نہیں ہو“۔ ”لبوبو“ جیسے کھلونے کا جنون اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ہمیں ایسے اشتہارات کوسمجھناہوگا۔ والدین، اساتذہ، علما اورمعاشرے کے بااثرافراد اس بارے میں آواز بلند کریں اورلوگوں کوسمجھائیں کہ زندگی محض خواہشات کے پیچھے بھاگنے کا نام نہیں بلکہ بامقصد زندگی دراصل کامیاب زندگی ہے۔نیز مشہورہونامعزز ہونے کی علامت نہیں۔
مخلص تعلقات کو فروغ دیں
جب فرد کو محسوس ہوکہ اس کا کوئی ”سچا ساتھی“ نہیں ہے تو وہ بے جان اشیا میں سکون ڈھونڈنے لگتا ہے۔ ہمیں معاشرتی سطح پر اجتماعیت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے۔گلی محلے میں ایک دوسرے کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم کرنے چاہییں۔ ہمیں سوشل میڈیا پر جڑنے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے ساتھ حقیقی رفاقت بھی اختیار کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کے حالات سے باخبر ہوں اور اگر کوئی فرد مشکل میں ہو تو اس کی بروقت مدد کی جاسکے اور اسے یہ احساس دلایا جاسکے کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ کو ذہنی یا نفسیاتی طور پر پریشان نہیں ہونے دیں گے۔