09/07/2026
ایک کھلا خط
محترم جناب منیر حسین لغمانی صاحب کے نام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
آج یہ چند سطور کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک وعدے کی یاد دہانی اور ایک کارکن کے درد کی ترجمانی کے لیے لکھ رہا ہوں۔
جب آپ الیکشن کے امیدوار بھی نہیں تھے اور صرف پارٹی ٹکٹ کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، اس وقت اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں، میری پوری فیملی اور میرے ساتھی ہر قدم پر آپ کے ساتھ کھڑے رہے۔ جب آپ کو پارٹی ٹکٹ ملا تو آپ کی پہلی انتخابی میٹنگ میرے گھر، حصاری گڑھی حبیب اللہ میں منعقد ہوئی۔ اسی موقع پر میں نے آپ کی توجہ اپنے محلے کی اس مختصر مگر نہایت اہم سڑک کی طرف دلائی تھی، جو تقریباً پانچ سو فٹ لمبی ہے۔ اور اس کے آگے ایک دیوار لگانے کی ضرورت تھی یہ راستہ اہلِ محلہ کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے۔
اس دن آپ نے وعدہ کیا تھا کہ یہ مسئلہ جلد حل کر دیا جائے گا۔
الیکشن مہم کے دوران میں نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر آپ کا ساتھ دیا۔ صبح سے رات گئے تک گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلائی، اپنے وسائل اور ذاتی گاڑیاں استعمال کیں، مخالفت اور تنقید بھی برداشت کی، مگر کبھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ آپ اپنے کارکنوں اور پارٹی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔
میں آپ کے ان تمام ترقیاتی منصوبوں کو سراہتا ہوں جو آپ نے برارکوٹ سے بابوسر ٹاپ تک مکمل کروائے۔ اس پر آپ یقیناً مبارکباد اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ لیکن دل میں ایک سوال آج بھی موجود ہے کہ میرے محلے کی وہ پانچ سو فٹ سڑک، جس کا وعدہ سب سے پہلے کیا گیا تھا، آخر آج تک کیوں نظر انداز ہے؟
جب بھی ملاقات ہوئی یا فون پر بات ہوئی، ہر بار یہی تسلی ملی کہ اس adp میں کر دیں گے"اگلی ADP میں یہ کام ہو جائے گا۔" پھر ADP میں بھی رکھا گیا اس کے باوجود بھی کچھ نہ ھو سکا مگر وقت گزرتا گیا، منصوبے بنتے رہے، فنڈز آتے رہے، ترقیاتی کام ہوتے رہے، لیکن یہ وعدہ ابھی تک تشنۂ تکمیل ہے۔
میرا سوال صرف اتنا ہے:
کیا ایک مخلص کارکن، ووٹر اور ساتھی کی خدمت کا صلہ یہی ہونا چاہیے؟ اگر یہ کام ممکن نہیں تو براہِ کرم صاف الفاظ میں آگاہ کر دیں، تاکہ میں آئندہ اس معاملے میں آپ کو زحمت نہ دوں۔ لیکن اگر وعدے کی ابھی بھی کوئی حیثیت ہے، تو امید ہے آپ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدام ضرور کریں گے۔
میر