Burushaal Public Library

Burushaal Public Library Spreading Literacy, Planting Smiles!🌟 Burushaal Library, established in 2020, stands as a remarkable community endeavor.

Serving as a beacon for constructive engagement among the youth, the Burushaal Public Library is a fresh initiative fostering a culture of reading and providing a hub for wholesome activities. Its primary goal is to actively involve school and college students, steering them away from detrimental influences prevalent in society, thereby creating a positive and nurturing environment.

21/02/2026

– ضیاء الحق کی وہ خوشامد جو بھٹو کو بہت پسند آئی!"

روزنامہ امروز ملتان کے ایڈیٹر مسعود اشعر بیان کرتے ہیں کہ جب جنرل محمد ضیاء الحق ملتان کے کور کمانڈر تھے تو ایک رات وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ملتان میں قیام پذیر تھے۔ بھٹو صاحب بہت کم سوتے تھے، اس لیے رات کے تقریباً دو بجے برآمدے میں چلنے کی آواز سن کر باہر نکلے تو حیرت سے دیکھا کہ ملتان کا کور کمانڈر جنرل ضیاء الحق خود چوکیدار بن کر برآمدے میں گشت کر رہے ہیں۔

بھٹو نے وجہ پوچھی تو ضیاء صاحب نے بڑے خوشامدی اور عاجزانہ لہجے میں عرض کیا کہ میں اس لیے جاگ رہا ہوں کہ شاید آپ کو کسی چیز کی ضرورت پڑ جائے۔ اگلی شام بھی ضیاء الحق دیگوں کے ڈھکن اٹھا اٹھا کر مسٹر بھٹو کے کھانے کی خود چیکنگ کرتے رہے۔

یہ واقعہ اس دور کی سیاسی وفاداری اور خوشامد کی ایک دلچسپ مثال ہے جو آج بھی سنائی جاتی ہے۔۔

20/01/2026
20/01/2026

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Challenging weather conditions did not hinder student engagement. Through constructive interaction and collaborative eff...
20/01/2026

Challenging weather conditions did not hinder student engagement. Through constructive interaction and collaborative efforts, students remained actively involved in productive and meaningful activities.

This quote highlights the different levels of thinking and conversation that define a person’s mindset. People with stro...
15/11/2025

This quote highlights the different levels of thinking and conversation that define a person’s mindset. People with strong minds focus on ideas; they discuss possibilities, innovations, philosophies, and ways to make a difference. Their conversations revolve around growth, learning, and creating impact. They think critically, challenge norms, and inspire others through thoughtful discussions that lead to progress.

On the other hand, average minds tend to talk about events, what’s happening around them, news, trends, or day-to-day occurrences. It’s not negative, but it often stays on the surface rather than diving deep into meaning or change. Weak minds, however, spend their energy gossiping about people, judging others, or discussing personal matters that add no value. The quote reminds us to rise above petty talk and train our minds to think in terms of ideas, creativity, and solutions, because that’s where true growth and wisdom begin.

*بل گیٹس سے ایک صحافی نے انٹرویو میں پوچھا**آپ اگر آج دوبارہ غریب ہو جائیں، آپ پینتیس سال پچھلے سٹیٹس پر چلے جائیں، تو آ...
28/10/2025

*بل گیٹس سے ایک صحافی نے انٹرویو میں پوچھا*

*آپ اگر آج دوبارہ غریب ہو جائیں، آپ پینتیس سال پچھلے سٹیٹس پر چلے جائیں، تو آپ کیا کریں گے؟*

*بل گیٹس نے ہنس کر جواب دیا: "کیا فرق پڑتا ہے، میں دوبارہ امیر ہو جاؤں گا۔"*
*پوچھنے والے نے پوچھا:*

*"آپ کو دوبارہ دنیا کا امیر ترین بل گیٹس بننے کے لیے کتنا عرصہ لگے گا؟"*

*بل گیٹس نے جواب دیا "میں جتنا امیر پینتیس برسوں میں ہوا، مجھے اگر دوبارہ اتنا امیر ہونا پڑے تو میں ساڑھے تین سال میں آج کے برابر ہو جاؤں گا۔"*

*جواب حیران کن تھا، لہذا پوچھنے والے نے پوچھا: "مگر کیسے؟"*

*بل گیٹس نے جواب دیا: "آج سے پینتیس برس پہلے مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ*
*میرا ٹیلنٹ کیا ہے؟*
*وہ کون سا کام ہے جو میں کر سکتا ہوں؟*

*لہذا میرا زیادہ تر وقت ان کاموں میں ضائع ہو گیا جو میں سرے سے کر ہی نہیں سکتا تھا۔ لیکن آج میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرا ٹیلنٹ کیا ہے اور میں کیا کر سکتا ہوں، لہذا میں سیدھا وہ کام سٹارٹ کروں گا اور ساڑھے تین سالوں میں دوبارہ دنیا کا امیر ترین شخص ہوں گا۔"*

*🌟 اپنا ٹیلنٹ پہچانئے کامیابی کی طرف پہلا قدم بڑھائیے۔*

*دنیا کے 98٪ لوگ ساری زندگی وہ کام کرتے رہتے ہیں جو انہیں آتا ہی نہیں۔*

*انہیں صرف یہ بتایا جاتا ہے:*

*“تُو کر لے گا، بس لگا رہ!”*

*لیکن حقیقت یہ ہے —*
*کامیابی محنت سے نہیں، صحیح سمت میں محنت سے ملتی ہے۔*

*جس دن آپ جان لیتے ہیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں،*
*اسی دن آپ کامیابی کے سفر پر نکل پڑتے ہیں۔*

*سوچ بدلئے:*

*آپ پوری لائبریری نہیں پڑھ سکتے، مگر ایک کتاب تو پڑھ سکتے ہیں۔*

*آپ باڈی بلڈر نہیں بن سکتے، مگر آدھا گھنٹہ واک تو کر سکتے ہیں۔*

*آپ سب کچھ نہیں کر سکتے، مگر اپنا بہترین ضرور کر سکتے ہیں۔*

*✨ وہ کام کیجئے جو آپ کر سکتے ہیں —*
*دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔*

29/07/2025

آج بورڈ نے میٹرک کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ میری بیٹی نے بھی بہت اچھے نمبرز لیے ہیں لیکن میں نے نہیں بتائے۔ اس کی وجہ کہ میں ان نمبرز کو لینا کوئی اچیومنٹ نہیں سمجھتا۔بس مزاق کرتا رہا تاکہ والدین کا موڈ لائٹ رہے۔ یہ نمبر گیم بچے کی ذہانت کا معیار نہیں ہے۔میرے نمبر 515 تھے۔ سنہ 99 میں کُل نمبرز 850 ہوتے تھے۔ اس زمانے میں فرسٹ ڈویژن لے لینا کارنامہ تصور ہوتا تھا۔ مارکنگ سسٹم انتہائی سخت ہوتا تھا۔ پاس ہونے والوں کی ریشو بھی 33 فیصد سے نہیں بڑھتی تھی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا۔ میرا گھرانہ سیالکوٹ کے خوشحال گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ والد کامیاب بزنس مین تھے۔ سن 1982 میں میری پیدائش ہوئی تو والد نے کرولا 1982 خریدی کہتے ہیں اس وقت سیالکوٹ میں گنتی کی گاڑیاں چلتی تھیں اور کرولا 82 سارے شہر میں صرف دو تھیں۔ ایک والد صاحب کی اور ایک ہاکی بنانے والی مشہور فرم علی ٹریڈنگ کے مالک کی۔میری عمر دس سال ہوئی تو والد صاحب نے نہ جانے کیا ایسا کر دیا کہ سارا بزنس ٹھپ ہو کر ختم ہو گیا۔ کسی پر اعتبار کر کے انوسٹ کیا اور وہاں سے ایسا دھوکہ ملا کہ اس کے بعد نہ والد سنبھلے نہ بزنس۔ایف ایس سی تک آتے آتے ایک دن انکشاف ہوا کہ والد کو کینسر ہے۔ اماں کو سرکاری سکول میں نوکری کرنا پڑ گئی اور مجھے ایف ایس سی کی پڑھائی کے ساتھ ایک چمڑا بنانے والی کمپنی میں پارٹ ٹائم جاب۔

کالج سے فری ہو کر شام 4 بجے چمڑے کی فیکٹری چلا جاتا اور رات دس بجے تک اکاونٹس دیکھتا۔ یہ کچا چمڑا پراسس کرنے کی ٹینری تھی۔ شام کو تیار شدہ کچا چمڑا ٹینری سے باہر جاتا جس کی گنتی اور لوڈنگ کی ذمہ داری میری ہوا کرتی۔لوڈ شدہ ٹرک کا گیٹ پاس بنانا بھی میری ڈیوٹی تھی۔ رات آٹھ سے دس تک باہر سے کھالیں ٹینری میں آتیں ان کی گنتی کے بعد وصولی لینا بھی میرے ذمے ہوتا اور آخر میں اکاونٹس کی لیجر پر سارا حساب درج کر کے چھٹی کر جاتا۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ چمڑے کی ٹینری میں کیمیکلز اور کچے چمڑے کی کتنی بدبو ہوتی ہے۔ شروع کے دنوں میں متلی آتی رہی پھر انسان عادی ہوتا جاتا ہے۔ سخت بدبو میں کام کرنا مجبوری تھی کہ والدہ کی تنخواہ تو ادویات اور ہسپتالوں کے اخراجات میں صرف ہو جایا کرتی۔

گھر آتے رات کے گیارہ بج جاتے۔ ایک گھنٹہ کالج کا کام دیکھتا پھر سو جاتا۔ صبح تین بجے اٹھ کر مجھے ڈسٹری بیوٹر سے اخبار لینا ہوتی جسے صبح کے نو بجے تک مجھے اپنی سائیکل پر گھروں اور دفاتر میں تقسیم کرنا ہوتا۔ پھر کالج کا وقت ہو جاتا۔میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ دن میری زندگی کے سخت ترین دن ہیں یہ گزر جائیں گے۔ ایف ایس سی کے بعد ڈگری کروں گا تو کہیں بہتر نوکری مل جائے گی۔ دن گزرتے رہے۔ کینسر سے کسے فرار نصیب ہے۔ والد کے انتقال کے بعد میں نے پنجاب یونیورسٹی داخلہ لیا اور دو سالہ بی ایس سی مکمل کی۔ اس وقت گریجویشن دو سالہ ہوا کرتی تھی۔ 2004 میں گریجویشن مکمل ہوئی تو مجھے نوکری مل گئی۔ یہ انٹرنیٹ سروس پرواڈر کمپنی میں کسٹمر سپورٹ کی جاب تھی۔ ساری رات لوگوں کی شکایات فون پر سننا ہوتیں اور ان کو حل بتانا ہوتا۔ صبح کو پڑھنا ہوتا۔

2004 سے ہی فوٹوگرافی کے سفر کا آغاز کیا۔ یہ شوقیہ سلسلہ چلتا رہا۔ میں نے چار سالہ ڈگری پروگرام BS Hons Telecommunication & Computer Networks میں داخلہ لیا۔ 2008 میں ڈگری مکمل کی اس دوران جاب پر کچھ ترقی ملتی رہی تو میں ساتھ ساتھ کمپیوٹر نیٹورکس کی فیلڈ میں انٹرنیشنل سرٹیفکیٹس کی تیاری کر کے انہیں پاس کرتا رہا۔ فوٹوگرافی سے پذیرائی ملتی رہی۔ لوگوں نے جاننا شروع کیا اور میرے کام کو سراہا جانا لگا۔ 2008 سے 2009 کے بیچ میں نے مائیکروسافٹ ، لینکس اور Cisco کو پاس کیا ۔ MCSE,CCNA,CCNP,JUNIPER, LINUX کی سرٹیفکیشن پاس کیں۔ جاب پر ترقی کر کے IP Core Network ٹیم کا حصہ بن گیا اور نیٹورک انجینئر ہوا۔ میری تنخواہ چھ ہندسوں پر چلی گئی۔

فوٹوگرافی میں شہرت ملی تو لکھنا بھی شروع کر دیا اور میری پہچان بطور کالم کار بھی بن گئی۔ یہاں میں ٹورازم اور فوٹوگرافی میں ملنے والی اچیومنٹس کا ذکر نہیں کروں گا۔ عزت و شہرت بہت ملی پروردگار کا کرم رہا اور اس ملک کے لئے جو کر سکتا تھا کیا۔ میری پروفائل آپ جانتے ہوں گے۔

2015 کے آخر میں مجھے کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر اپنا ازواجی تعلق ختم کرنا پڑ گیا۔ اس کے ساتھ بچوں کی ذمہ داری مجھ پر آ گئی کہ ان کی والدہ کو انہیں رکھنے میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔ بچے چونکہ چھوٹے تھے وہ اپنی ماں کے بنا رہ نہیں سکتے تھے مگر ان کو کون سمجھاتا کہ تمہاری ماں نہیں چاہتی تم کو اس لئے مجھے جاب چھوڑنا پڑی اور بچوں کی نگہداشت کرنے میں چھ ماہ گھر میں لگا رہا۔ ان بیروزگار چھ ماہ میں جو سیونگ تھی وہ لگتی رہی اور ایک بار پھر مجھے جاب کرنا پڑی۔ یہ وہ دور تھا جب ڈان میرے کالمز پبلش کر رہا تھا اور میں پاکستان کی وزارت خارجہ کو اپنی فوٹوگرافی سروسز مفت دے رہا تھا کیونکہ چاہتا تھا پاکستان کے سافٹ امیج کی پروموشن ہو جائے۔ اس کی تفصیلات بہت لمبی ہیں۔ مختصر یہ کہ مجھے اسی دوران انفارمیشن منسٹر پرویز رشید صاحب نے سرکاری جاب کی آفر کی لیکن وہ بدلے میں مسلم لیگ نواز پر میری قلمی خدمات چاہتے تھے۔ میں نے انکار کر دیا کہ یوں نہیں ہو سکتا۔ بعد ازاں 2019 میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو زلفی بخاری نے مجھے ٹورازم پر بنے پانچ رکنی بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی۔ میں نے پھر انکار کر دیا۔ان کی وجوہات پھر کبھی سہی۔

میں یونیورسٹی میں آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں پڑھانے لگا۔ سیالکوٹ چھوڑا لاہور منتقل ہو گیا۔ تنخواہ سے گزر بسر ہوتی رہی۔ دو سال پڑھانے کے بعد یونیورسٹی چھوڑی اور اپنے دیگر کاموں میں مصروف ہو گیا یعنی فوٹوگرافی اور ریسرچ سے متعلقہ پراجیکٹس میں جو اداروں یا ملٹی نیشنلز کے لئے تھے یا Huawei کے لئے۔ ان پراجیکٹس سے گزر بسر ہوتا رہا مگر اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان میں اتنی رقم ہوتی ہے کہ سہولت سے گزارا ہو جائے تو آپ بالکل غلط سمجھ رہے ہیں۔ یہ کام میں اس لئے کرتا رہا کہ میرے متعلقہ تھے اور میرا دل فوٹوگرافی و سیاحت میں لگا رہتا تھا۔ سو دل کی سنتا رہا۔

یہاں کا معاشرہ عجب ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر آپ کی رہائش، سفر، کھانے اور دیگر اخراجات پر لاکھوں لگا سکتا ہے مگر آپ کو اپنے گھر کے اخراجات کے لئے یا کام کا معاوضہ لاکھوں میں دیتے ایک ایک پائی پر بحث کرتا ہے۔ ایسا وقت رہا ہے مجھ پر کہ میں بزنس کلاس میں چائنہ اور مسقط اور اندرون ملک کوئٹہ کراچی سفر کرتا رہا مگر میری جیب میں دو ہزار سے زیادہ نہیں تھے نہ بینک میں کچھ موجود تھا۔ میرے پاس ڈیڑھ لاکھ کا موبائل تھا جو کمپنی کا مجھے بطور برآنڈ ایمبسیڈر گفٹ تھا۔ یہ معاشرہ آپ سے نہیں پوچھتا کہ آپ کو کیا چاہیئے یہ اپنے معین شدہ پروٹوکول کو فالو کرتے ہیں۔ میں فائیو سٹارز میں ٹھہرتا رہا، بزنس کلاس میں سفر ہوتے رہے اور ذہن میں کچن چلانے کی ٹینشن لئے گھومتا رہا۔

میں فنکار تھا مگر فائن آرٹ فنکار نہیں تھا اس لئے اپنا نام مجھے کیش کرانا نہ آ سکا۔ شرم، مروت، جھجک میرے آڑے آتی رہی کہ کسی سے پیسوں پر ڈیل کرنا اور بحث کرنا میرے بس کا نہیں رہا۔ میں بڑے اداروں سے ایک ایک پائی پر بحث نہیں کر سکتا۔ مجھے بات کرتے شرم آتی رہی کہ ان سے کیا کہوں ان کو خود معلوم ہونا چاہیئے کہ اگر یہ کام کروانا چاہتے ہیں تو خود ہی مناسب پے کر دیں مگر ہوتا یہ رہا کہ سامنے والا بزنس مین تھا یا ادارے کا فنانس یا مارکیٹنگ مینجر جس نے اپنے ادارے کو ثابت کرنا ہوتا تھا کہ دیکھا اتنے پیسے بچا کر کام کروا لیا ۔۔۔۔

میں نے پھر سرکاری نوکری کی تلاش شروع کی۔ 18 سالہ ایجوکیشن اور 12 سالہ تجربے کے ساتھ میں اوور کوالیفائڈ تھا گریڈ 18 اور 19 کی نوکری کے لئے کہ وہ 16 سالہ ایجوکیشن اور 6 سالہ تجربہ مانگتے تھے۔ عمر کی حد ٹیکنیکل جاب میں اس گریڈ میں 40 سے 45 سال تک ہوتی ہے لہذا عمر میں بھی کم تھا۔ میں سی وی بھیجتا رہا اور مجھ سے کم تجربے والے کامیاب ہوتے رہے۔ جب میں نے دیکھ لیا کہ میرٹ نامی کوئی شے اس ملک میں نہیں ہے۔

مجھ پر اسی سال یہ وقت بھی آیا کہ میں نے اپنی گاڑی کریم پر چلانی شروع کر دی۔ میں کسی کو کیا بتاتا کہ آجکل کریم چلا رہا ہوں ؟ مجھے نتھیاگلی میں ٹورازم پر منعقد کانفرنس میں مدعو کیا گیا جہاں صدر پاکستان سے لے کر سب بڑے موجود تھے۔ ہال کی نمائش میری ہی تصاویر سے کی گئی تھی اور ان بڑوں نے میرے کام کو خراج تحسین پیش کر کے تالیاں بھی بجائیں۔ دل کیا کہ اپنی تقریر میں سیاحت پر گفتگو کرنے کے ساتھ یہ ایک جملہ بھی کہتا چلوں کہ بارہ چودہ سال اس ملک کی خدمت کر کے آجکل گھر چلانے کو کریم چلا رہا ہوں کیونکہ جس نوکری کا میں اہل ہوں وہ آپ لوگ اپنوں میں بانٹ رہے ہیں مگر سوچا چپ رہو۔ رہنے دو۔

میں شام چھ سے صبح چھ تک بنا کسی کو بتائے لاہور کی سڑکوں پر کریم ٹیکسی چلاتا رہا۔ میری بیگم کے علاوہ اس بات سے کوئی آگاہ نہیں تھا کیونکہ کسی کو کیا بتاتا ؟۔

کوئی سواری آ کر بیٹھتی تو اس کا سوال ہوتا

آپ فل ٹائم یہی کام کرتے ہیں ؟

جی

اس سے پہلے کیا کرتے تھے آپ ؟

کچھ نہیں بس ایسے ہی چھوٹے چھوٹے کام

پڑھے لکھے لگتے ہیں آپ تو نوکری نہیں کرتے ؟

نہیں۔ میں نے ایسے ہی عمر ضائع کی اسی لئے تو ٹیکسی چلا رہا ہوں۔

مجھے وکیل، ڈاکٹر، سائنسدان، پروفیسرز غرض ہر شعبے سے وابستہ مرد و حضرات ملے۔ میں زیادہ بات نہیں کرتا اس لئے چپ چاپ گاڑی چلاتا مگر کچھ لوگ جو بات کرنا چاہتے تھے ان کے سوالوں کے جواب دینے سے گریز کرتا رہتا کہ ان کو اپنے بارے کیا بتاوں ۔۔۔ لوگ میری ڈریسنگ جو کہ ہمیشہ سے ہی اچھی رہی ہے اور دن میں رے بین کی عینک لگی دیکھ اور سامنے ڈیش بورڈ پر لگا پونے دو لاکھ کا موبائل P30 Pro جو Huawei نے مجھے بطور برآنڈ ایمبسیڈر دیا تھا یہ سب دیکھ کر تجسس کا شکار ہوتے۔ ان کو کیا بتاتا کہ یہ کوٹ، موبائل اور عینک نہیں بکتی ! یہ اعزازی عہدے میرے فن کو سلامی تھے بس۔۔۔

ایک بار پھر میں نے منسٹری آف ڈیفنس میں ڈپٹی چیف ٹیکنیکل آفیسر کی گریڈ 19 کی جاب کے لئے اپلائی کیا۔ فیڈرل پبلک سروس کے ذریعہ امتحان دیا اور پاس کر کے انٹرویو میں پیش ہوا۔ پانچ لوگوں پر مشتمل سلیکشن بورڈ تھا اور میں ان کے سامنے بالکل چپ تھا کیونکہ مجھے پتا تھا یہ سب خانہ پری کر رہے ہیں۔ دل اٹھ چکا تھا مگر یہ سارا عمل رائیگاں سے گزرنے کا اس لئے سوچا کہ ٹیکسی چلا چلا کر ڈرائیو بننے والے مائنڈ سیٹ اور فریم ورک سے ایک دن کو نکل کر یہی محسوس کر لوں کہ میں ایک قابل انسان بھی ہوں۔

بورڈ والے آئی ٹی کے متعلقہ سوالات کر چکے تو مجھ سے پوچھنے لگے اس کے علاوہ آپ کی کوئی hobby یا کوئی ایسا کام جو آپ کو لگتا ہو کہ آپ منفرد کرتے ہیں؟ میں پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا میں نے اپنے بارے آج تک کی اپنی اچیومنٹس بارے تفصیل سے بتانا شروع کر دیا۔ میں پندرہ منٹ لگاتار بولتا رہا وہ سنتے رہے۔ جب سب کچھ بول چکا تو مجھے کہا گیا آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔

سنہ 2019 اپریل سے میں نے اقوام متحدہ میں بطور کنسلٹنٹ کام کرنا شروع کر دیا۔ یہ بھی ایک قصہ ہے کہ 2019 کی چھوٹی عید سے قبل مجھے کال آئی اور یو این سے آفر ہوئی۔ عید کے فوری بعد مجھے منسٹری آف ڈیفنس سے جاب کا لیٹر موصول ہو گیا۔ ایک دن ایسا آیا میرے دونوں ہاتھوں میں ہائی پے سکیل یا انکم کے جاب لیٹر تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ بیوروکریسی میں بابو بنے بیٹھے رہنے سے اچھا کہ اقوام متحدہ کی آفر قبول کر لوں۔ اس میں سفر ہے، فوٹوگرافی ہے، ریسرچ ورک اور لکھنے کا کام ہے۔ سنہ 2020 کے دسمبر میں مجھے ورلڈ بینک پاکستان مشن کی میڈیا کنسلٹنسی بھی مل گئی اور سنہ 2023 میں مجھے یو این او میں پروفیشنل گریڈ پر مستقل یا پرماننٹ سیٹ مل گئی۔

آپ نے اتنا لمبا مضمون پڑھا شکریہ آپ سب کا۔ زندگی اسی کا نام ہے۔ وقت آتا ہے گزر جاتا ہے۔ انبیاء سے اس زمین نے وفا نہیں کی۔ خدا ان پر آزمائشیں ڈالتا رہا۔ یہ آزمائشیں بھی ایک نعمت ہوتی ہیں۔ حوصلہ شرط ہے۔ میں بہت برے حالات میں بھی مسکراتا اور آپ سب کو ہنساتا رہا ہوں۔ انسان اگر حالات سے ٹوٹ جائے تو وہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ مرنے سے پہلے مر جاتا ہے۔ لہذا کوشش جاری رکھو۔ بیٹی کو بھی یہی سمجھاتا ہوں کہ نمبرز گیم میں نہ پڑو بس کوشش جاری رکھو۔ وہ ہنس کے کہتی ہے “بابا اتنے اچھے نمبرز تو لیے ہیں اور کتنی کوشش کروں ؟”۔ میں نے کہا “ کاکا، یہ نمبر شمبر پریکٹیکل لائف میں صفر ہیں۔زندگی میں صرف سکلز کام آئیں گی۔ تعلیمی اسناد صرف تعلیمی نظام کو پاس کرنے کا ثبوت ہیں اور ملازمت پر خانہ پری کے لیے ہوتی ہیں۔”
Copied

میں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوا، ایک ایسے گھرانے میں جہاں سختی اور تشدد معمول تھا۔ جب دوسرے بچے کھیلتے تھے، میں چھپ جاتا ت...
19/07/2025

میں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوا، ایک ایسے گھرانے میں جہاں سختی اور تشدد معمول تھا۔ جب دوسرے بچے کھیلتے تھے، میں چھپ جاتا تھا۔ مجھے اسکول میں مارا پیٹا گیا، چھٹی کے وقت نظر انداز کیا گیا اور ایک بار سیڑھیوں سے نیچے پھینکا گیا، جس کا اختتام ہسپتال کے بستر پر ہوا۔ ان مشکلات نے مجھے کچل نہیں دیا۔ انہوں نے مجھے مذید مضبوط بنا دیا
17 سال کی عمر میں، میں دو بیگ اور Zero public connection کے ساتھ کینیڈا پہنچا، اپنے کزن کے صوفے پر سوتا رہا اور مکھن والی روٹی پر زندہ رہا کیونکہ یہ سب سے سستا کھانا تھا۔ لیکن میں نے ایک خواب دیکھا: امریکہ پہنچنا، زمانے کو بدلنے والی ٹیکنالوجی ایجاد کرنا… اور ثابت کرنا کہ میرا وژن پاگل پن نہیں تھا۔ ناکامیوں کے ایک سلسلے کے بعد، میں نے اپنی پہلی کمپنی Zip2 (زپ۲) $300 ملین میں فروخت کی۔ وہ جیت تو صرف شروعات تھی
جب میں نے ٹیسلا کی بنیاد رکھی تو سب مجھے پاگل کہتے تھے۔ میں نے اپنے آخری ڈالر تک اس پراجیکٹ میں ڈالے۔ 2008 میں، ٹیسلا دیوالیہ پن کا شکار ہوا اور SpaceX کے پہلے تین راکٹ پھٹ گئے۔ میں کرایہ بھی نہیں دے سکتا تھا کبھی کبھی میں دفتر میں اکیلا بیٹھ جاتا، آنسو گرتے۔ پھر چوتھی لانچ پر راکٹ نے کامیاب پرواز کی۔ ایک بروقت سرمایہ کاری نے گیارہویں گھنٹے میں ٹیسلا کو بچایا۔ یہ میرا حقیقی جنم تھا
اب بہت سے لوگ ایک ارب پتی کو مریخ پر نظریں جمائے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ ہر فتح کے پیچھے کیا لڑائی ہوتی ہے۔ میں نے طنز، شکست، تنہائی اور خوف کا مقابلہ کیا۔ اگر آپ کا خواب آپ کو ڈراتا ہے، تو آپ صحیح راستے پر ہیں
"دنیا کو تبدیل کرنے والے کسی نے بھی یہ کام اپنے Comfort Zone سے نہیں کیا۔ بہرحال چھلانگ لگائیں، چاہے زمین آپ کے گرد ہل جائے… اس طرح ناممکن آخرکار حقیقت بن جاتا ہے”۔
- ایلون مسک
Thanks for reading

جس ملک میں پانچویں جماعت کا بچہ ننھے پروفیسر کے نام سے مشہور ہو جائے اور اسکے 4.1 ملین فالورز ہوں لیکن وہاں چالیس سال سے...
21/06/2025

جس ملک میں پانچویں جماعت کا بچہ ننھے پروفیسر کے نام سے مشہور ہو جائے اور اسکے 4.1 ملین فالورز ہوں لیکن وہاں چالیس سال سے عالمی معیار کی درسگاہوں میں تعلیم دینے والے، ایم آئی ٹی امریکا سے آج سے پنتالیس سال پہلے پی ایچ ڈی کرنے والے، دنیا کے ٹاپ 100 تھنکرز میں 85ویں نمبر پر جگہ بنانے والے، کئی تحقیقی کتابوں کے مصنف عالمی جریدوں میں سینکڑوں سائینس مضامین لکھنے اورسائینس فلسفےتاریخ سمیت کئی موضوعات پر ہزاروں لیکچرز دینے والے درجنوں ملکی و عالمی ایوارڈ وصول کرنے والے سائنسدان، پروفیسر ہود بھائی جیسے استاد کے فالورز کی تعداد اسکا ایک فیصد یعنی اکتالیس ہزار بھی نا ہو تو وہاں کی تعلیمی نظام پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے.

50 Rules of preposition.
21/06/2025

50 Rules of preposition.

Address

Barkolti Yasin, Gilgit Baltistan
Ghizar

Telephone

+923554194211

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Burushaal Public Library posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category