Immit,northern area

Website

Immit,northern area ghizer
valley is very beautiful place it's a Haven on tha earth��

اصل مسئلہ یہ ہے: سولر سسٹم صرف پلیٹس (panels) سے نہیں چلتا۔ اس کے لیے ضروری چیزیں ہوتی ہیں:انورٹر (جو بجلی کو قابلِ استع...
23/03/2026

اصل مسئلہ یہ ہے: سولر سسٹم صرف پلیٹس (panels) سے نہیں چلتا۔ اس کے لیے ضروری چیزیں ہوتی ہیں:
انورٹر (جو بجلی کو قابلِ استعمال بناتا ہے)
بیٹری/سیل (بجلی محفوظ کرنے کے لیے)
وائرنگ اور فٹنگ
اگر یہ سب نہ ہوں تو پینلز اکیلے کسی کام کے نہیں ہوتے۔ عوام نہ ان سے پنکھا چلا سکتی ہے، نہ لائٹ، نہ موبائل چارج کر سکتی ہے۔
عوام کی پریشانی: جب حکومت یا اسکیم کے نام پر صرف پلیٹس دی جائیں اور باقی سب کچھ خود خریدنے کو کہا جائے، تو یہ غریب آدمی کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ:
بیٹری اور انورٹر سب سے مہنگے ہوتے ہیں
فٹنگ اور انسٹالیشن کا خرچ الگ ہوتا ہے
کرایہ/ڈیلیوری بھی لیا جا رہا ہے
اس طرح ایک "مفت اسکیم" حقیقت میں مہنگی بن جاتی ہے۔
نتیجہ: عوام یہی سوال کرتی ہے:
👉 "خالی پینلز کا کیا فائدہ؟"
حل کیا ہونا چاہیے؟ حکومت کو چاہیے:
مکمل سولر سسٹم دے (پینل + بیٹری + انورٹر)
یا کم از کم باقی سامان بہت کم قیمت پر دے
اور کسی قسم کے چھپے ہوئے اخراجات نہ ہوں
آخر میں: اگر مکمل نظام نہ دیا جائے تو یہ اسکیم عوام کے لیے فائدہ نہیں بلکہ مایوسی کا سبب بن جاتی ہے۔ سولر تب ہی فائدہ دیتا ہے جب پورا سسٹم ایک ساتھ لگایا جائے، ورنہ صرف پلیٹس رکھنے کا کوئی عملی فائدہ نہیں

Pakistan zindabad
09/03/2026

Pakistan zindabad

🙄

ہمارے معاشرے میں اکثر ایسے سیاست دان سامنے آتے ہیں جو پہلے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترتے ہیں، پھر کسی بڑی جماعت...
23/02/2026

ہمارے معاشرے میں اکثر ایسے سیاست دان سامنے آتے ہیں جو پہلے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترتے ہیں، پھر کسی بڑی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد وہ دوسری جماعت کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر کسی تیسری پارٹی میں نظر آتے ہیں۔ ہر بار نئے وعدے، نئے نعرے اور نئی باتیں کی جاتی ہیں، مگر سوال وہی رہتا ہے کہ اصل مقصد کیا ہے؟
سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ نظریہ، مستقل مزاجی اور عوامی خدمت کا نام ہے۔ جب کوئی رہنما بار بار اپنی جماعت تبدیل کرتا ہے تو عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا یہ تبدیلی عوام کی بھلائی کے لیے ہے یا ذاتی مفاد کے لیے؟
ایک مضبوط قیادت وہ ہوتی ہے جو مشکل وقت میں بھی اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ اگر کوئی شخص ہر بدلتی ہوئی سیاسی ہوا کے ساتھ اپنا رخ بدل لے تو اس کی سنجیدگی اور استقامت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ عوام صرف سڑکوں یا وقتی کاموں سے مطمئن نہیں ہوتے، وہ ایک واضح وژن، مستقل مزاجی اور خلوص چاہتے ہیں۔
آج سوشل میڈیا کا دور ہے، عوام باشعور ہو چکی ہے۔ ہر بیان اور ہر وعدہ ریکارڈ پر موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ووٹ دیتے وقت جذبات کے بجائے سمجھداری سے کام لیا جائے۔ ایسے نمائندے کا انتخاب کیا جائے جو نظریے اور کردار میں پختہ ہو، نہ کہ وہ جو بار بار اپنی سیاسی شناخت بدلتا رہے۔
سیاست میں اصل طاقت عہدے سے نہیں بلکہ اعتماد سے ملتی ہے۔ اور جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

نگر خاص: 16 سالہ لڑکی طبی معائنے اور علاج کے بعد لڑکے کی شناخت اختیار کر گئی — علاقے میں ہلچلنگر خاص کے پُرسکون علاقے تھ...
04/02/2026

نگر خاص: 16 سالہ لڑکی طبی معائنے اور علاج کے بعد لڑکے کی شناخت اختیار کر گئی — علاقے میں ہلچل

نگر خاص کے پُرسکون علاقے تھول میں ایک ایسا حیران کن اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے خطے کو حیرت اور بحث میں مبتلا کر دیا ہے۔ عباس داسو کے خاندان سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ نوجوان، جسے پیدائش کے وقت لڑکی سمجھا جاتا تھا، طویل طبی معائنے اور علاج کے مراحل سے گزرنے کے بعد باقاعدہ طور پر لڑکے کی شناخت اختیار کر چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے تفصیلی میڈیکل ٹیسٹ، ہارمونل تجزیہ اور دیگر ضروری مراحل مکمل کرنے کے بعد اس نوجوان کی اصل حیاتیاتی شناخت واضح کی، جس کے بعد قانونی اور طبی اصولوں کے مطابق جنس کی تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ نگر کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پانچواں واقعہ ہے، جس نے ایک بار پھر علاقے میں حساس سماجی، مذہبی اور قانونی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

اس غیر معمولی پیش رفت کے بعد شناختی دستاویزات، تعلیمی ریکارڈ، وراثتی حقوق اور سماجی قبولیت جیسے اہم معاملات اب زیر بحث آ گئے ہیں۔ مقامی حلقوں میں اس واقعے کو حیرت اور تجسس کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جبکہ بعض سماجی رہنما اس معاملے پر واضح قانونی رہنمائی اور سماجی آگاہی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

متاثرہ خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا بلکہ برسوں کی ذہنی اذیت، طبی الجھن اور سماجی دباؤ کے بعد یہ مرحلہ طے کیا گیا۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں طبی احتیاط، قانونی شفافیت اور معاشرتی برداشت انتہائی ضروری ہوتی ہے تاکہ متاثرہ فرد کی عزت نفس اور بنیادی حقوق محفوظ رہ سکیں۔

یہ واقعہ نگر اور گردونواح میں موضوعِ بحث بن چکا ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ایسے حساس معاملات کے لیے واضح پالیسی اور آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔

15/01/2026
چٹورکھنڈ تا ایمت اشکومن سڑک: وعدوں، دھوکوں اور سیاسی تماشے کی کہانییہ تصویر کسی فرضی کہانی کی نہیں بلکہ چٹورکھنڈ تا ایمت...
06/01/2026

چٹورکھنڈ تا ایمت اشکومن سڑک: وعدوں، دھوکوں اور سیاسی تماشے کی کہانی
یہ تصویر کسی فرضی کہانی کی نہیں بلکہ چٹورکھنڈ تا ایمت اشکومن جانے والی اس سڑک کی اصل حالت دکھا رہی ہے، جو برسوں سے عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر اس علاقے کے لوگ روزانہ سفر کرنے پر مجبور ہیں، مگر افسوس کہ یہ سڑک ترقی کی نہیں بلکہ محرومی کی علامت بن چکی ہے۔
یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ چٹورکھنڈ تا ایمت اشکومن سڑک کا ٹینڈر منظور ہو چکا تھا۔ فنڈز بھی جاری ہو گئے تھے، کاغذی کارروائی مکمل تھی، اور کام شروع ہونا چاہیے تھا۔ مگر عین اسی وقت ہمارے ہی ایک نام نہاد سیاسی نمائندے نے اس منصوبے کو جان بوجھ کر رکوا دیا۔
کیوں؟
صرف اس لیے کہ وہ اس سڑک کو اپنی ذاتی سیاست کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
آج وہی نمائندہ گاؤں گاؤں جا کر کہتا ہے:
“مجھے ووٹ دو، میں یہ سڑک بنوا دوں گا”
یہ کیسا ظلم ہے؟
یہ کیسی سیاست ہے جس میں پہلے عوام کو تکلیف دی جائے، پھر اسی تکلیف کے بدلے ووٹ مانگا جائے؟
یہ سڑک صرف ایک راستہ نہیں،
یہ ہمارے بچوں کی تعلیم،
مریضوں کی جان،
کسانوں کی محنت،
اور مزدور کی روزی روٹی سے جڑی ہوئی ہے۔
بارش ہو تو یہی سڑک ندی بن جاتی ہے،
سردیوں میں برف پڑے تو گاڑیاں پھنس جاتی ہیں،
اور کسی ایمرجنسی میں یہی راستہ موت کا پیغام بن جاتا ہے۔
ہم سے بار بار کہا جاتا ہے کہ
“ابھی صبر کرو، الیکشن کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا”
لیکن سوال یہ ہے:
جو شخص خود کام روک کر بیٹھا ہو،
وہ بعد میں کام کیسے کروائے گا؟
یہ سڑک اس بات کی گواہ ہے کہ ہمیں بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں وعدوں، نعروں اور جھوٹے خوابوں میں الجھا کر ہمارے بنیادی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
ووٹ ہمارا حق ہے،
اور یہ حق ان لوگوں کو دینا جرم ہے
جو جان بوجھ کر ہماری مشکلات کو زندہ رکھتے ہیں۔
چٹورکھنڈ تا ایمت اشکومن کی یہ سڑک ہم سے سوال کر رہی ہے:
کیا ہم اب بھی خاموش رہیں گے؟
یا اب سچ بولیں گے؟
یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔

Address

Ghizar
GILGITBALTISTAN

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Immit,northern area posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share