KOH E GHIZER

KOH E GHIZER Ghizer District is North most part of the Northern Areas of Pakistan. It joins with Wakhan strip on its north-west, and China on its north most borders. About.

Ghizer Velley:

Ghizer District is North most part of the Northern Areas of Pakistan. On its west, there is Chitral District of NWFP; and on its east is situated Gilgit. Diamer District is on its south. Its capital is Gakuch. The highest peak in Ghizer District is Koyo Zum (6,871 m) (Hindu Kush Range) which lies on the boundary of Ghizer District. Ghizer::

Some of the main places in the district

are Ishkoman and Yasin valleys. Other places include Phandar, Khalti , Hundrap Gupis, Chatorkhand, Imit and Utz. Ghizer is also a contact point between Gilgit and Chitral via Shandur Pass. The main river in the district is Ghizer River, which is known as Gilgit River in the east of Gupis town. Some of its tributaries include Karambar River, Ishkoman River, Phakora River and Hayal River. Ghizer is a multi ethnic district and three major languages are spoken. Khowar, Shina and Burushaski are spoken in Ghizer. There are also a few Wakhi speakers in Ishkoman. Accessibility:

Ghizer is connected to Chitral via Shandur pass( highest Polo ground in the world)and Gilgit which is well connected by air with Islamabad( weather dependent) and by road with Islamabad/Rawalpindi, Skardu. You can take a flight to Gilgit from the capital of the country and reach Ghizer. Ghizer Valley

FACT FILE:

Geographical Location:


36°10'36.03"N

73°45'29.53"E

Physical Location:


Ghizer District, Northern Areas of Pakistan

07/09/2024

ہزاروں کی تعداد میں غذر، گلگت بلتستان کی عوام کا اپنے سرحدی گاوں شندور کی زمینوں پر بیرونی غاصبانہ قَبْضَوں کے خلاف پیدل مارچ!

شندور باونڈری کے تاریخی حقائق اور نتیجہتصنیفِ : رائے سرفراز شاہبتاریخ   : 7 ستمبر 2024شندور باونڈری لائن کی تاریخی حقیقت...
07/09/2024

شندور باونڈری کے تاریخی حقائق اور نتیجہ

تصنیفِ : رائے سرفراز شاہ
بتاریخ : 7 ستمبر 2024

شندور باونڈری لائن کی تاریخی حقیقت یہ ہے کہ 1892ء سے قبل یہ باونڈری لائن چترال اور کوہ غذر ( گوپس) کے لوگوں کے آپس کی مفاہمت سے کوہ ہندوکش کے “پانی ڈھل دھار” سے گزارتے ہوئے قائم کیا گیا تھا۔ سرکاری مہمانوں اور ڈاک وغیرہ کے تبادلے، “شندور پنجی لشٹ غوچا” کے مقام پر ہوتے چلے آئے ہیں اور روڑ کی مرمت اور برف کے صفائی کی زمہداری عوامِ غذر کی تھی۔ جسکی آخری حد غوچار پنجی لشٹ تھا۔
تاریخی حقائق پیرا 1-10 بحوالہ کتاب “شندور ڈیورنڈ سیکیورٹی باونڈری وائیلیسن صفہ نمبر 60,61,62 لفِ ہٰذا۔

بحوالہ “کتاب گلگت 1947ء سے پہلے" تصنیف گھنسارا سنگھ غالباً 1878ء کے آس پاس مہترِ چترال آمان الُملک کو غذر سرحداد میں بیرونی حملہ آوروں اور مداخلت کاروں کی نگرانی اور رپورٹنگ کیلئے چترال سے اُٹھاکر یاسین میں تعینات کرتے ہوئے، مہاراجہ کشمیر کی نگرانی میں دیدیا گیا۔ بعد میں جب پتہ چلا کہ مہترِ چترال آمان الملک باہر سے غیر قانونی حملہ آوروں کے خلاف روپورٹنگ کرنے اور “کمک” (فوجی امداد) کے پہنچنے تک، بارڈر پہ روکنے کی بجائے؛ اُلٹا بیرونی مداخلت کاروں کی سہولتکاری کیا کرتا تھا۔ جسکی لفٹننٹ کرنل اے جی ڈیورنڈ کی طرف سے برطانیہ ہند سرکار کو رپورٹ کرنے پر، اُنہیں ہدایت ہوئی تھی کہ مہتر آمان اُلملک کو نہ صرف یاسین سے واپس (بےدخل) کیا جائے، بلکہ اُسے بمعِ اُسکے ریاست چترال کے، مالاکنڈ ایجینسی کی نگرانی میں دیدیا جائے اور اُسکے بعد دونوں علاقوں غذر اور چترال کے درمیان واٹر شیڈ کی بنیاد پر سیکیورٹی باونڈری لائن قائم کیا جائے۔

چنانچہ 1885ء میں مہترِ چترال آمان الملک کو یاسین سے واپس کرتے ہوئے، ریاستِ چترال سمیت مالاکنڈ ایجینسی کی تحویل میں دیدیا گیا۔ جس کے بعد لفٹننٹ کرنل اے جی ڈیورنڈ نے بحوالہ شملہ رپورٹ 1892-1893ء پیرا- 20، شندور انڈس واٹر شیڈ باؤنڈری کے نام سے، سابقہ عوامِ چترال اور غذر کی باہمی مفاہمت سے قائم کردہ “پانی ڈھل" باونڈری لائن کو ہی شندور انڈس واٹر شیڈ باؤنڈری لائن کے نام سے اپناتے ہوئے، قائم کیا۔ جو کہ حسبِ سابق “پنجی لشٹ (ژنگ گول لشٹ)” سے ہوتے ہوئے، مقامِ غوچار سے گُزرتے ہوئے، یاسین کے بروغل پاس اور اشکومن کے “خورا بھورت پاس” سے گزرتے ہوئے، آگے افغان بارڈر تک جاملتا ہے۔
ریکارڈ پیرا - 20 شملہ رپورٹ
بعنوانِ: “Relations with Chitral” محفوظ ہے۔

لفٹننٹ کرنل اے جی ڈیورنڈ کے "شندور انڈس واٹر شیڈ باونڈری” کی قیام کے بعد، سروے آف انڈیا کی طرف سے تاریخ میں پہلی دفعہ 1903ء میں سروے میپ شیٹ پبلِش/شائع کیا گیا۔ یکے بعد دیگرے 9 سروے میپ شیٹیں (نقشہ جات) شائع ہوئیں، جو کہ اس مطابق ہیں:

۱- سروے میپ شیٹ آف انڈیا 1903ء
۲- سروے میپ شیٹ آف انڈیا 1924ء
۳- سروے میپ شیٹ آف انڈیا 1929ء
۴- سروے میپ شیٹ آف انڈیا 1933ء
۵- سروے میپ شیٹ آف انڈیا 1945ء
۶- سروے میپ شیٹ آف پاکستان 1955ء
۷- سروے میپ شیٹ آف پاکستان 1972ء
۸- سروے میپ شیٹ آف پاکستان 1979ء
۹- سروے میپ شیٹ آف پاکستان 1984ء (42-D/12)

سروے آف پاکستان کے پاس یہ تمام میپ شیٹیں موجود ہیں، کسی بھی وقت طلب کئے جاسکتے ہیں۔ میپ شیٹ 1984ء 42-D/12 شندور باونڈری لائن کو بخوبی کَور/سپورٹ کرتا ہے۔ اسی سروے میپ شیٹ کے مطابق، شندور ٹوپوگرافی اور شندور بڑی جھیل باؤنڈری لائن مقامِ غوچار سے غذر کے حدود کے اند واقع ہے، شندور بڑی جھیل شندور باؤنڈری لائن غوچار سے بقدرِ تقریباً 1.5 کلو میٹر کے فاصلے پہ غذر کی حدود کے اندر واقع ہے۔ تفصیلات کیلئے کتاب
“SHANDUR DURAND’s SECURITY BOUNDARY VOILATION”
صفہ نمبر 4 تا 10 نصیف رائے سرفراز شاہ ملاحظ ہوں۔

بحولہ بالا تاریخی حقائق و آفیشل ریکارڈز / ڈاکومنٹس کی بنیاد پہ غذر اور چترال کے مابین شندور باؤنڈری لائن پر دونوں اطراف کے عوام کی طرف سے زمانہِ قدیم سے اب تک ایک دوسرے کی حدود کا احترام کرتے آئے ہیں۔ اسکے باوجود، علاقہ چترال کے بعض مخصوص گروپ کے عناصر کو نہ جانے کیا تکلیف ہے کہ ضیاء الحق دور کے بعد سے، “بروک اور بالیم” کے موسمی عارضی اور مشروت گھاس چرائی کے چرواہوں کے پیچھے چھُپ کر، عوامِ غذر کی دل آزاری کا باعث بنتے آئے ہیں۔ شندور ٹاپ پہ چترال سکاوٹس کی طرف سے تجاوزات کا معاملہ جب قابو سے باہر ہونے لگا اور انتظامیہ ناردرن ایریاز کی طرف سے بھی، جب صوبہِ سرحد کے چترال انتظامیہ کی کسی نہ کسی وجہ سے سہولتکاری کی مجبوری ہونے لگی، تو بحالتِ مجبوری عوامِ غذر بالا کو اپنے نمائیندوں کے ذریعے کانا/سیفران ڈیوژن اور وزیرِ اعظم تک کی رسائی کرنی پڑی۔

بالآخر وزیرِ اعظم کی ہدایت پر، شندور ایشو کو حل کرنے کیلئے صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے) اور ناردرن ایریا (موجودہ گلگت بلتستان) کے اعلٰی سطحی حُکام اور باونڈری ایشو غذر اور چترال کے فریقین، نیز سروے آف پاکستان اور دونوں اطراف کے فوجی کمانڈروں پر مشتمل ایک مشترکہ اعلٰی سطحی اجلاس بلایا گیا اور انچارج منسٹر کانا/سیفران ڈیوژن کو یہ ہدایت ہوئی کہ وہ اجلاس کی صدارت کرے اور آفیشل ریکارڈز و تاریخی حقائق کی روشنی میں شندور باونڈری ایشو کو حل کرکے رپورٹ پیش کرے۔

چنانچہ مورخہ 16 جولائی 2003 کو بمقامِ کانا/سیفران ڈیوژن یہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی سطح کے دونوں چیف سیکریٹری صاحبان، ہوم سیکریٹری صاحبان اور ڈی سی او چترال سمیت، شندور ایشو کے فریقین بھی شامل تھے۔

اجلاس چونکہ ناردرن ایریا کی طرف سے طلب کیا گیا تھا، جسکی وجہ سے صدرِ اجلاس کے حکم پر راقم کو بحیثیتِ عوامی و حکومتی نمائیندہ اپنے موقف کی حمایت میں شندور ایشو پر تاریخی حقائق اور آفیشل ریکارڈز یا ڈاکومنٹس کی بنیاد پہ بریفینگ دینی پڑی۔ اس موقعے پر راقم کے ساتھ غذر کی جانب سے وفد کے ممبران کے طور پر؛ ایڈوکیٹ علی خان، صوبیدار میجر باباعلی، انجینیئر اکبر جان، راجہ گوہر ولی خان اور سلیم خان وغیروں نے بھی بحث و تمحیص میں بھرپور حصہ لیا۔

چترال کی طرف سے جواب میں خاموشی تھی اور کوئی دستاویزی ثبوت اپنے موقف کی حمایت میں پیش نہ کرسکے (ریکارڈ محفوظ ہے)۔ جسکی وجہ سے صدرِ اجلاس نے ناردرن ایراز کے پیش کردہ موقف کو بحث کیلئے اُوپن کردیا۔

ہمارے موقف کی ہمایت و مخالفت میں سیر حاصل بحث و مباحثہ کے بعد؛ بااتفاقِ رائے، رودادِ اجلاس کے طور پہ “ورکینگ پیپر” تیار ہوا۔ تفصیلات کیلئے کتاب “شندور ڈیورنڈ سیکیورٹی باونڈری وائلیشن” صفہ نمبر 4-10 تصنیف رائے سرفراز شاہ ملاحظ ہوں۔

انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اُس وقت کے کانا/سیفران ڈیوژن کے انچارج منسٹر نے بدنیتی سے، اس اجلاس کی روداد / کاروائی کو وزیرِ اعظم کے ضروری احکامات کیلئے آگے نہیں بھیجا اور ابھی تک ریکارڈ معدوم ہے۔ کیونکہ کانا/سیفران ڈیوژن کی نگرانی میں منعقدہ اس اجلاس نے ہمارے موقف کی ہمایت میں لفٹننٹ کرنل اے جی ڈیورنڈ کے، فیصلہ مورخہ 1892-1893ء کو، جملہ ممبران نے تاریخی دستاویزات و حقائق کی روشنی میں مطفقہ طور پر ویریفائی/ تصدیق کردیا ہے۔ چونکہ چترال انتظامیہ نے دستاویزات جمع کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت حاصل کرنے کے باوجود بھی کئی ہفُتوں اور بلکہ آج تک بھی کسی قسم کی کوئی دستاویز اپنی موقف کے ہمایت میں سامنے نہیں لاسکے، کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ورکنگ پیپر کانا/سیفران ڈیوژن ناردرن ایراز کے موقف کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے ایک مشترکہ تاریخی فیصلہ ہے۔ کہ جس پر فوری طور پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور چترال سکاوٹس سمیت مشروت گھاس چرائی کے لوگوں کو شندود ایریا سے نکال باہر کردیا جائے کہ جس طرح ایک دفعہ پہلے بھی 1969ء میں شرائط کی خلاف ورزی پر چترال و غذر کے دونوں حکومتوں کی طرف سے چرواہوں کو نکال باہر کردیا گیا تھا، جنہیں بعد میں معافی تلافی پر بحال کیا گیا تھا۔

لہٰذا نگارش ہے کہ انتظامیہ غذر ریکارڈ کی روشنی میں گاس چرائی کے چرواہوں کو شرائط کے مطابق اپنے احکامات کا پابند بنائے، خلافورزی کی صورت میں FIR کی بنیاد پہ قانونی کاروائی ہو۔ جہاں تک چترال سکاوٹس کا تعلق ہے، اُنہیں مزید رکھا گیا تو دونوں اطراف کے عوام کو آپس میں متصادم کرواتے ہوئے، خون خرابہ کروانے کے شیدید خدشات ہیں، اس لئے امن و آمان کی خاطر چترال سکاوٹس کو فوری طور پہ واپس کرتے ہوئے، اُنکی جگہ سیکیورٹی نگرانی کیلئے گلگت بلتستان سکاوٹس کی تعینات فوری ضرورت ہے۔ عمل در آمد کیا جائے، بصورتِ دیگر دونوں اطراف کے صوبائی انتظامیہ، دونوں اطراف کے عوام میں پیدا ہونے والی خون خرابے کے زمہدار ہونگے۔

19/07/2021

شندور واٹر شیڈ باونڈری لائن:

تحریر: رائے سرفراز شاہ

سُننے میں آیا ہے کہ 16-07-2003 سے آج تک بین الصوبائی فیصلے کے نتیجے میں، چترال اور کے پی کے انتظامیہ کی طرف سے ایک طویل خاموشی کے بعد، اب دوبارہ شندور ٹاپ پہ غیر قانونی تعمیرات کرنے کی ناکام کوشش ہورہی ہے۔ جسے فوری طور پہ روکنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان اور غذر انتظامیہ سے گزارش ہے کہ 16-07-2003 کی بین الصوبائی فیصلے کی روشنی میں شندور ٹاپ پہ اپنے علاقائی واٹر شیڈ حدود کی حفاظت میں ضروری اقدامات کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ گلگت بلتستان اور خاصکر غذر کے عوام مشتعل ہوں اور فریقین کے مابین کسی بھی قسم کی ناخوشی کے واقعات روپزیر نہ ہوں۔

جون ۲۰۰۲ کے دوران، چترال انتظامیہ کی طرف سے غیر قانونی کاروئیوں، کو روکنے کیلئے جب غذر کی طرف سے تقریباً 6000 عوام پر مشتمل، اہتجاجی جلوس شندور ٹاپ پر پہنچ گیا، تو چترال انتظامیہ کے پاس کام کو روکنے اور شندور ٹاپ پر عوامِ غذر کی پروپرائیٹری رائٹس کو تسلیم کرنے کر سوا، کوئی چارہِ کار باقی نہ تھا۔

ڈی سی چترال کا ڈی سی غذر کے نام لیٹر ، ریکارڈ پہ موجود ہے، جسکے تحت، شندور تنازع کو تسلیم کرتے ہوئے، ڈی سی غذر سے گزارش کی ہے کہ تنازع کو بین العلاقائی سطح کے غیرجانبدار نمائیندوں اور انتظامیہ کے ذریعے سے حل کروایا جائے۔ جسکے نتیجے میں عوامِ غذر اور انتظامیہ کی طرف سے، کانا و سفران ڈیوژن کو واقعے کی رپورٹ پیش کی گئی۔ کہ جسے کانا و سفران ڈیوثن کی طرف سے سمری کی صورت میں اُس وقت کے وزیر اعظم کو مجوزہ کمیشن کی ایپرول کیلئے پیش کی گئی کہ جس میں کے پی کے اور گلگت بلتستان کے طرف سے دونوں ہی چیف سیکریٹری صاحبان بھی شامل تھے اور وزیر اعظم موصوف نے اُس کمیشن کو منظور کرنے کے بجائے مسترد کرتے ہوئے، اُس وقت کے انچارج منسٹر کانا و سفران ڈیوژن کو ریکارڈ کے مطابق ڈائریکشن دی کہ وہ ایک بین الصوبائی سطح پہ تمام مطعلقہ علاقائی حکومتی اداروں اور عوامی فریقین پر مشتمل کے پی کے اور گلگت بلتستان، دونوں صوبوں کے مابین مشترکہ میٹینگ کے ذریعے سے تاریخی حقائق اور آفیشل ریکارڈ کی بنیاد پہ شندور باونڈری لائن کا فیصلہ کرے۔

یہ میٹینگ 16-06-2003 کو بمقامِ کانا و سفران ڈیوثن اسلام آباد، میں منعقد ہوئی اور وزیر اعظم کی ڈایریکٹیوز کے مطابق فریقین نے طویل بحث و تمحیص کے بعد گلگت بلتستان/ ناردرن ایریا کی طرف اپنا فیصلہ دیدیا۔ جبکہ چترال انتظامیہ کی طرف سے کوئی دستاویز اپنے موقف کی ہمایت میں پیش نہیں ہوسکا، البتہ ریکارڈ کی روشنی میں، اُنکے نمائیندہ ڈی سی چترال اور ہوم سیکریٹری صوبہ سرحد/کے پی کے نے عرض کیا کہ اُنہیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے، تاکہ وہ اپنا کوئی دستاویز مہیا کر سکیں۔ لیکن ریکارڈ شاہد ہے کہ اُسکے بعد چترال انتظامیہ اور کے پی کے، کے ہوم سیکریٹری وغیرہ کی طرف سے کوئی ریکارٹ آج تک نہیں آسکا اور اُس شرمندگی کو چھپانے کیلئے شندور ٹاپ پہ کبھی کبھار تجاوزات کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین، چترال انتظامیہ اور غذر گلگت بلتستان کے مابین شندور ٹاپ پہ فیصلے کی امپلیمنٹیشن تک کسی قسم کی کوئی تعمیرات وغیرہ چترال کی طرف سے نہ کرنے کی سُپریم ایپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نے انتظامیہ غذر کے حق میں “سٹیٹسکو سٹے” مستقل طور پہ جون ۲۰۱۲ سے جاری کردیا ہے۔

انتظامیہ گلگت بلتستان اور غذر کو چائیے کہ وہ اپنے علاقے کے حدود کی حفاظت کیلئے کانا و سفران ڈیوثن کے ریکارڈ پہ موجود، اس بین الصوبائی فیصلے کے اُپر فوری علمدرآمد کروائیں اور منسٹر کانا و سفران ڈیوثن سے پوچھا جائے کہ ابھی تک اس فیصلے پر علمدرآمد کیوں نہیں ہوا ہے؟

اگر فریقین غذر و چترال انتظامیہ یا عوام کے مابین، کسی بھی وقت، کسی بھی قسم کی شندور ٹاپ پہ بدامنی کے نتیجے پہ تصادم ہوجاتے ہے تو، اُسکی زمہداری کانا و سفران ڈیوثن کے منسٹروں اور چیف سیکٹریری گلگت بلتستان و کی پی کے پر عائد ہوگی۔

لہٰذا، چیف منسٹر گلگت بلتستان سے گزارش ہے کہ وہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کرتے ہوئے، غیر قانونی تعمیرات کو رُکوائیں اور شندور بین الصوبائی فیصلہ 16-07-2003 کے اُپر فوری عملدرآمد کروائیں۔

12/08/2020
04/05/2019
24/06/2018
Shandur Polo Festival 2018 will be held at the world's highest Polo Ground at   on 7 of next month.The Festival manageme...
05/06/2018

Shandur Polo Festival 2018 will be held at the world's highest Polo Ground at on 7 of next month.
The Festival management has invited visitors & tourists from across the Globe to experience a traditional polo tournament between the local teams of and guests teams from .

07/08/2017

The leading Newspaper of Gilgit Baltistan, Online Newspaper

16/01/2017
07/01/2017

Address

Ghizer
Gilgit-Baltistan
15100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KOH E GHIZER posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to KOH E GHIZER:

Share