15/12/2025
ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پاکستان تحریکِ انصاف گلگت بلتستان قمر زمان شاہ نے حلقہ غذر 2, GBLA-20 کے لیے اضافی نشست اور ضلع غذر کے تاریخی نام کے تحفظ کا عوامی و اصولی مطالبہ چیف ایلیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو پیش کیا
گلگت:
ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پاکستان تحریکِ انصاف قمر زمان شاہ نے کہا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان میں ایک جامع، آئینی، تاریخی اور عوامی ترجمانی کی حامل درخواست جمع کرائی ہے۔ اس میں حلقہ انتخاب غذر 2, GBLA-20 کے لیے ایک اضافی جنرل نشست کے قیام اور ضلع غذر کے تاریخی نام کو دونوں نئے اضلاع کے ساتھ برقرار رکھنے کا باوقار، اصولی اور عوامی مطالبہ کیا گیا ہے۔
قمر زمان شاہ نے کہا کہ غذر 2, GBLA-20 جغرافیائی اعتبار سے گلگت بلتستان کے سب سے وسیع، دشوار گزار اور منتشر حلقوں میں شامل ہے، جو بیارچی سے شندور پاس تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک ہی منتخب نمائندے کے ذریعے پورے خطے کی مؤثر نمائندگی ممکن نہیں، جس کے باعث عوامی مسائل، سیاسی شمولیت اور ترقیاتی مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے تاریخی اور ثقافتی تناظر میں کہا کہ پنیال، یاسین، کوہِ غذر (گوپس، پھنڈر) اور اشکومن کے علاقے برطانوی دور میں تسلیم شدہ انتظامی وحدتوں کے حامل تھے اور آج بھی یہ عوامی شناخت، ثقافتی وحدت اور سیاسی شعور کی مضبوط بنیاد ہیں۔ یہی تاریخی اور انسانی ربط موجودہ انتخابی اور انتظامی فیصلوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قمر زمان شاہ نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ضلع گوپس۔یاسین کے قیام اور تحصیل پنیال و اشکومن کو سابقہ ضلع غذر کے تحت برقرار رکھنے کے باوجود ضروری ہے کہ تاریخی نام غذر دونوں اضلاع کے ساتھ برقرار رکھا جائے تاکہ عوامی وقار، تاریخی تسلسل اور علاقائی وحدت محفوظ رہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ درخواست کے دو بنیادی اور روشن مطالبات یہ ہیں:
۱- اپر غذر ڈسٹرکٹ میں تحصیل گوپس اور پھنڈر کے لیے ایک اضافی جنرل نشست کا قیام، تاکہ عوامی مسائل کی ترجمانی اور دورافتادہ علاقوں کی ترقیاتی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
۲- ضلع غذر کے تاریخی نام کو اپر غذر ڈسٹرکٹ اور لوئر غذر ڈسٹرکٹ دونوں کے ساتھ برقرار رکھا جائے، تاکہ عوام کی شناخت، ثقافت اور تاریخی وقار محفوظ رہیں۔
قمر زمان شاہ نے واضح کیا کہ یہ درخواست کسی جماعتی یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ضلع غذر کے عوام کے دیرینہ مسائل، جغرافیائی مشکلات اور آئینی حقِ نمائندگی کے پیشِ نظر جمع کرائی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقِ نمائندگی، تاریخی وقار اور روشن مستقبل کے لیے یکجا ہو کر اس اصولی مطالبے کی حمایت کریں۔
سیاسی اور سماجی مبصرین کے مطابق، اگر الیکشن کمیشن اس درخواست پر سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ غور کرے تو یہ ضلع غذر اور پورے گلگت بلتستان میں نمائندگی، عدل و انصاف، ترقی اور عوامی اعتماد کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔