Sarwar Shaheed - NH Memorial Municipal Library M.C Gujarkhan

Sarwar Shaheed - NH Memorial Municipal Library M.C Gujarkhan Sarwar Shaheed NH Memorial Municipal Library Housing Scheme No 1 Gujarkhan was established in 1974. It has been shifted at present place on 14th August 2020.

On this page people will get a lot of knowledge on different topics.

ہم جنس پرستی(میڈیکل سائنس کی روشنی میں)تحریر: ڈاکٹر یونس خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(نہایت حساس موضوع کی بنا...
01/06/2026

ہم جنس پرستی
(میڈیکل سائنس کی روشنی میں)

تحریر: ڈاکٹر یونس خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(نہایت حساس موضوع کی بنا پر میں نے کئی دن اس سوچ بچار میں گزارے کہ اس پر قلم اٹھانا چاہئے یا نہیں۔

بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنا اور وسیع تر انسانی مفادات پر قلم اٹھانا، ایک لکھاری کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے، خصوصاً میڈیکل شعبے سے وابستہ قلم کاروں کی)

۔۔۔🔹🔹🔹۔۔۔۔

اس مختصر تمہید کے بعد آئیے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

ہم جنس پرستی (homos*xuality) کی تعریف کے مطابق، یکساں جنس کے افراد کا ایک دوسرے کی طرف جنسی طور پہ مائل ہونا، ہم جنس پرستی کہلاتا ہے۔

سماجی لحاظ سے اس کی چار اقسام ہیں۔

1۔ گے Gay

عموماً یہ اصطلاح مردوں کے باہمی جنسی رحجان کے لئے استعمال ہوتی ہے۔


2۔ لیسبیئن Le***an

یہ اصطلاح عورتوں کے باہمی جنسی رحجان کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

3۔ بائی سیکچوئیل Bis*xual

یہ اصطلاح ان افراد کے لئے استعمال ہوتی ہے جو جنسِ مخالف کے ساتھ ساتھ جنسِ موافق میں بھی جنسی رحجان رکھتے ہیں۔

4۔ ٹرانس جینڈر Transgender

اپنے مفہوم کے لحاظ سے یہ ایک نفسیاتی اصطلاح ہے جس میں مرد یا عورت، اپنی پیدائشی جنس کی بجائے مخالف جنس جیسی حرکات و سکنات اور خوہشات رکھتے ہیں۔ مثلاً ٹرانس جینڈر مرد، خواتین جیسی عادتوں اور رحجانات کا حامل ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اینل سیکس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مندرجہ بالا میں لیسبیئن کو چھوڑ کر باقی تینوں میں جو رحجان بہت عام ہے وہ ہے اینل سیکس (a**l s*x) ۔ چنانچہ اپنے مضمون کے اس حصے میں ہم صرف اینل سیکس کے میڈیکل اثرات پر گفتگو کریں گے۔

🔹اینل سیکس، "گے" مردوں میں تو عام ہے ہی مگر یہ مرد و خواتین کے تعلقات میں بھی ممکنہ طور پہ اپنا وجود رکھتا ہے۔

🔹اینس (anus)، انسان کے ڈائجسٹو سسٹم کا آخری حصہ ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف انسانی غیر ہضم شدہ غذائی مادوں اور ایلیمینٹری کینال کے فضلہ جات کا اخراج ہے۔ تولیدی نظام یا نسل کی بڑھوتری میں اس کا قطعی کوئی عمل دخل نہیں۔ تاہم اس کے بیرونی حصے کی جانب حسی اعصاب (sensory nerves) کی کثیر تعداد کی وجہ سے یہ نہایت حساس حصہ ہے۔

🔹اینس میں اگر مردانہ عضو تناسل کے دخول کے ذریعے جنسی عمل کیا جائے تو اس کے مندرج ذیل میڈیکل اثرات ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ بافتوں (tissues) کا زخمی ہونا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینس میں کسی قسم کا لبریکیشن سسٹم نہیں ہوتا، نہ ہی ایسے گلینڈز ہوتے ہیں جو ویجائنا میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ اینل سیکس کے دوران اس کے حساس ٹشوز زخمی ہو جاتے ہیں اور ان چھوٹے چھوٹے دراڑ نما زخموں سے وائرس اور بیکٹیریا بآسانی دورانِ خون میں شامل ہو کر جسم میں پہنچ جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ ایڈز کے امکانات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینل سیکس میں ایڈز کے وائرس کے منتقل ہونے کے امکانات بہ نسب نارمل سیکس کے تیس گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ دنیا میں سب سے زیادہ اینل سیکس کرنے والے افراد میں ایڈز کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ ہیومین پیپیلوما وائرس کی منتقلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیومین پیپیلوما وائرس (human papillomavirus) اس عمل میں بآسانی منتقل ہو کر warts اور کینسر کا باعث بنتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4۔ پاخانے پر کنٹرول کی کمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینس کے ارد گرد مسلز کے بنے ہوئے اینل سفنکٹرز (a**l sphincters) ہوتے ہیں جو سختی سے اینس کے سوراخ کو بند رکھتے ہیں۔ اینل سیکس کی کثرت سے یہ مسلز اپنی سختی کھو دیتے ہیں جس سے مریض کا اپنے پاخانے پر کنٹرول کم ہو جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ یورینری ٹریکٹ انفیکشن
Urinary Tract Infection
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینس میں کئی اقسام کے بیکٹیریا بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں جن کا اینس کو تو کوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن اگر یہ مردانہ عضو تناسل میں داخل ہو جائیں تو اسکے نظامِ اخراج اور گردوں میں انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6۔ دیگر انفیکشنز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینل سیکس سے کئی دیگر انفیکشنز بہت آسانی سے منتقل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً کلے مائڈیا، گونوریا، ہیپاٹائیٹس اور ہرپیز herpes وغیرہ۔ یہ سب انفیکشنز ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7۔ بواسیر Haemorrhoid
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینل سیکس بذاتِ خود تو بواسیر کا موجب نہیں بنتا لیکن اگر کسی کو پہلے سے بواسیر ہے تو یہ اس میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔

مندرجہ بالا اثرات کی بنا پر واضح طور پہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اینل سیکس غیر فطری بھی ہے اور شدید نقصان دہ بھی۔ اچھی صحتمند زندگی کے لئے اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔

🍁جب تک انسان  انسان کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا ، وہ سکون اور چین میں داخل نہیں ہو گا.🍁عجب حال ہے، انسان کے مزاج میں غ...
01/06/2026

🍁جب تک انسان انسان کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا ، وہ سکون اور چین میں داخل نہیں ہو گا.

🍁عجب حال ہے، انسان کے مزاج میں غرور ہے اور اس کے مقدر میں عاجزی۔

🍁طوفانوں کی طاقت سب کشتیوں کو نہیں ڈبو سکتی!

🍁 اس ملک کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ جس نے یہ ملک بنایا ہے وہی اس کا محافظ ہے ۔ آپ یہی اسمِ اعظم جاری رکھو کہ جس نے بنایا ہے وہی اس کا محافظ ہے ۔
اس ملک کا بنانے والا اللّہ ہے اس نے اپنی مرضی سے بنایا اور اپنے کام کے لئے بنایا ہے وہی اس کا محافظ ہے اور وہی اسے قائم رکھے گا ۔اور یہ قائم رہے گا

🍁مایوسی راستے کا سب سے بڑا رہزن ہے

🍁گمراہ ہونا بری بات نہیں، مایوس ہونا بری بات ہے

🍁اللّہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہم اپنے مستقبل سے مایوس نہ ہوں .

🍁گرفت کا کبھی انتظار نہ کرنا بلکہ اللّٰه کے فضل کا انتظار کرنا اور یہ اس کا فیصلہ ہے، اس نے بتا دیا ہے کہ میرا فضل بہت زیادہ ہے۔
🍁اگر کبھی آپ کا ذرا سا بھی اعتماد مجروح ہو جائے تو مایوس ہونے سے پہلے انتظار ضرور کرنا۔ مایوس نہ ہونا کیونکہ جب آپ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی راستہ نہیں ہے تو وہی وقت ہوتا ہے جب آپ کے لئے راستہ نکل آتا ہے، اللّٰه تعالٰی مہربانی کرتا ہے۔

🍁جہاں ایک دور ختم ہوتا ہے، وہیں سے دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لیے کبھی مایوس نہ ہونا۔

🍁مایوسی سے اگلا قدم کامیابی کا ہے۔ آپ مایوسی تک تو پہنچ چکے ہیں، اب اگلا قدم کامیابی کا ہے۔ گویا کہ مایوسی کی طرف ہی نہ رہنا بلکہ اگلا قدم اُٹھا کے رہنا۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ

کھانا کھانا اچھا کیوں لگتا ہے؟تحریر: ایاز بیگجب بھی آپ کسی جسمانی مشقت سے فارغ ہوتے ہیں تو آپ کو بلاشبہ شدید بھوک کا احس...
31/05/2026

کھانا کھانا اچھا کیوں لگتا ہے؟

تحریر: ایاز بیگ

جب بھی آپ کسی جسمانی مشقت سے فارغ ہوتے ہیں تو آپ کو بلاشبہ شدید بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ یہ شدید بھوک نہ صرف آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر بے چین کرتی ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر آپ کے اندر ایک عارضی چستی کی طاقت بھی فراہم کرتی ہے جس کا اظہار آپ کے خوراک کو تلاش کرنے کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے۔

ان تمام رویوں کے پیچھے انسانی دماغ میں بننے والا ایک ایک کیمیکل ہے جسے ڈوپامین (Dopamine) کہتے ہیں۔ڈوپامین ایک ایسا طاقتور کیمیکل ہے جس کی کم مقدار انسان کے اندر کسی چیز کو پا لینے کی خواہش پیدا کرتا ہے اور جب خوراک کا نوالہ انسانی زبان پر پڑتا ہے تو پھر انسانی دماغ بھرپور مقدار میں ڈوپامین پیدا کرتا ہے جو انسانی دماغ میں موجود ریوارڈ سسٹم کو ابھارتا ہے اور اس سے انتہائی لذت اور خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

چونکہ خوراک جسم کے اندر داخل کرنے سے انسان کو اپنے جسم کی نشوونما، مرمت اور روزانہ کے کام کاج سرانجام دینے کے لئے توانائی حاصل ہوتی ہے اس لیے انسانی دماغ خوراک کھانے کے عمل کو ایک احسن کام سمجھتا ہے اور جب آپ کھانا کھاتے ہیں تو یہ آپ کو لذت اور خوشی کا احساس دلاتا ہے۔

اگرچہ کھانا کھانے سے لذت اور خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ لذت کے جادو میں محصور ہوکر بسیار خوری کے مرتکب ہو جائیں(کیونکہ بہرحال زیادہ کھانا بھی ایک خطرناک عمل ہے), چناچہ جیسے جیسے آپ کھانا کھاتے ہیں ویسے ویسے انسانی دماغ ڈوپامین بنانا کم کر دیتا ہے کیوں کہ جس مقصد کے لیے ڈوپامین پیدا کرنا تھا وہ حاصل کیا جا چکا ہے. آپ کو لذت کا احساس کم ہوتا چلا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ دیر بعد آپ کھانا ترک کر دیتے ہیں۔

چونکہ انسان کی خوراک بہت سی اقسام پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے ہر خوراک کی قسم انسانی دماغ میں ایک جیسی لذت کا احساس پیدا نہیں کرتی۔ بعض کھانوں کو کھا کر انسانی دماغ میں ڈوپامین کی مقدار بہت زیادہ پیدا ہوتی ہے جس سے شدید خوشی کا احساس ہوتا ہے اور بعض کھانوں کو استعمال کرکے ڈوپامین انتہائی کم مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ہم اس کو کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔

تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر ہماری خوراک میں چینی(Sugar) اور روغنیات (Lipids) اگر بھاری مقدار میں موجود ہیں تو اس سے ہمارے دماغ میں ڈوپامین کی مقدار بہت زیادہ خارج ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ میٹھی اور تلی ہوئی چیزیں کھانے سے انسان کو خوشی کا احساس ہوتا ہے۔جب کبھی آپ بوریت محسوس کر رہے ہوں اور یکدم آپ کے سامنے میٹھی اور تلی ہوئی چیز سامنے آجائے تو یقینا آپ کے منہ میں پانی آ جائے گا۔

خوراک میں مٹھاس(Sugar) ،لحمیات(Proteins) اور روغنیات(Fats) ہزاروں لاکھوں سالوں سے انسانی خوراک کی تاریخ میں اس بات کی علامت رہی ہیں کہ یہ خوراک توانائی اور معدنیات سے بھرپور ہیں۔ لہٰذا انسان ہمیشہ سے ہی ان کے لئے شدید چاہت اور بھوک رکھتا آیا ہے۔اور اسی خوراک کو کھا کر انسان کی سخت ترین ماحول میں بچت ممکن ہوتی آئی ہے۔اور چونکہ یہ خوراک میں موجود مذکورہ بالا اجزاء انسان کو کبھی بھی اپنے ماحول سے اتنی زیادہ مقدار میں میسر نہیں ہوئیں تھی لہذا ان کا حد سے زیادہ استعمال کبھی بھی انسان کے لیے ممکن نہیں ہو سکا اور انسان ان اجزاء کے زیادہ استعمال کے اثرات سے محفوظ رہا۔

موجودہ صنعتی دور میں ان اجزاء کو قدرتی خوراک میں سے خالص حالت میں نکالا جاتا ہے اور اسے آج کی دور کی نت نئی خوراک کی اقسام میں وافر مقدار میں ڈالا جاتا ہے۔
موجودہ دور کی انسان کی بنائی ہوئی صنعتی خوراک مثلا پیزا، برگر، آئسکریم، ڈونٹ، کریم کیک، رس ملائی، حلوہ جات، مٹھائیاں، بسکٹس، کوکیز، انرجی ڈرنکس، بریڈ، پاستہ، سویاں، کاربونیٹڈ ڈرنکس، چاکلیٹس، کینڈییز، ٹافیاں، چپس، سرخ رنگ کے مشروبات، اس طرح کی اور بہت ساری چیزوں میں چینی، نمک اور تیل کی مقدار حد سے تجاوز کر دی گئی ہیں۔ جس کے نتیجے کے طور پر ان خوراک کے استعمال سے انسانی دماغ میں ضرورت سے زیادہ ڈوپامین کی مقدار پیدا ہوتی ہے جس سے انسان کو حد سے زیادہ لذت کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے انسان کو گھر کے کھانے کی بجائے باہر کے کھانے کھانے میں زیادہ لذت محسوس ہوتی ہے۔ اور جب کبھی بھی آپ بوریت محسوس کرتے ہیں تو آپ کو ضرور اپنے فیملی ممبرز یا دوستوں کے ساتھ کھانے پینے کی ہی سوجھتی ہے اور وہ بھی گھر سے باہر ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں۔

ان چیزوں کے استعمال سے بظاہر آپ کو لذت مل رہی ہوتی ہے اور ان کو بیچنے والی فوڈ کمپنیوں کے سرمائے میں اضافہ ہوتا ہے لیکن بہرحال نقصان آپ کا ہی ہوتا ہے کیونکہ ارتقائی نقطہ نظر سے انسانی جسم ان چیزوں کی خوراک میں اتنی زیادہ استعمال کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لہذا وقت کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کے مسلسل استعمال سے انسانی جسم جواب دے جاتا ہے اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو آج کے صنعتی دور کے انسان سے پہلے کبھی بھی انسانی آبادیوں میں موجود نہیں تھی۔مثلا موٹاپا، ذیابطیس، فشار خون، الزائمر وغیرہ۔

جب کسی خوراک کو کھانے سے بہت زیادہ لذت محسوس ہو تو انسانی دماغ اس کھانے کو اپنی یاداشت میں قید کر لیتا ہےاور جب کبھی بھی ضرورت پڑے تو اسے حاصل کرنے کے لئے آپ کو ابھارتا ہے۔ رفتہ رفتہ ہر وہ خوراک جس سے بہت ڈوپامین پیدا ہوتا ہے اس خوراک کو بکثرت استعمال کرنا ہماری عادت بن جاتا ہے۔ جیسے ہم روزانہ روٹی چاول، سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کچھ خوراک کے استعمال سے ڈوپامین بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے اس خوراک کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی خواہش بھی بڑھ جاتی ہے اور پھر ہم اس کے حصار میں قید ہو جاتے ہیں۔ یقینا یہی حالات اس شخص کے دماغ میں بھی پیدا ہو رہے ہوتے ہیں جو منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔جی ہاں منشیات کے استعمال سے بھی انسانی دماغ میں ڈوپامین کی بہت زیادہ مقدار پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ ڈوپامین کی زیادہ مقدار انسانی دماغ کو خوشی مہیا کرتی ہے لہٰذا بار بار منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والا ڈوپامین انسانی دماغ کو ایک گھن چکر میں گھیر لیتا ہے جس میں انسان ہر دفعہ نشے کی مقدار کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈوپامین کی مقدار حاصل کی جا سکے جس سے باہر آنا اس شخص کے لئے مشکل ہو جاتا ہے اور اس شخص کے منشیات کے استعمال کی وجہ سے اس کے رویے میں تبدیلی آتی ہے جو اس کے معاشرتی اور معاشی حالات پر اثر انداز ہوتی ہے۔اور انسان دنیا و آخرت کو خراب کر لیتا ہے اور جسمانی اور ذہنی طور پر تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔

قدرتی غذا کا استعمال زیادہ کیجیے اور انڈسٹریل فوڈ کا استعمال کم سے کم کیجیے۔

کیا آپ کو وائی فائی کالنگ (Wi-Fi Calling) فیچر کا پتہ ہے؟تحریر:  شاہد بابل کیا آپ نے اپنے سمارٹ فون میں اسے ایکٹو کیا ہو...
31/05/2026

کیا آپ کو وائی فائی کالنگ (Wi-Fi Calling) فیچر کا پتہ ہے؟
تحریر: شاہد بابل

کیا آپ نے اپنے سمارٹ فون میں اسے ایکٹو کیا ہوا ہے؟ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اس کے کیا فائدے ہیں، آج میں آپ کو اپنا اور اپنی فیملی کا ذاتی تجربہ بتاتا ہوں.
میں اکثر اپنی بیگم اور بیٹے اذان کے ساتھ مہینے کا راشن لینے گھر کے قریب گلشن اقبال والے امتیاز سپر مارکیٹ جاتا ہوں. وہاں بیسمنٹ میں جاتے ہی موبائل کے سگنل بالکل غائب ہو جاتے ہیں اور فون آف لائن ہو جاتا ہے. اب ظاہر ہے فیملی تو میرے ساتھ ہی ہوتی ہے، اس لیے انہیں کال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن سگنل نہ ہونے کی وجہ سے سب سے بڑی ٹینشن یہ ہوتی ہے کہ کہیں پیچھے سے کسی کی کوئی ایمرجنسی یا ضروری کال مس نہ ہو جائے، یا مجھے خود کسی کو فوری کال نہ کرنی پڑ جائے. اس مسئلے کا حل میں نے یہ نکالا ہے کہ جیسے ہی میں امتیاز کا وائی فائی کنیکٹ کرتا ہوں، میرے فون پر وائی فائی کالنگ کے ذریعے سم ایکٹو ہو جاتی ہے. سگنل واپس آ جاتے ہیں اور میں مارکیٹ کے اندر سے ہی کسی کی بھی نارمل کال سن سکتا ہوں اور ملا بھی سکتا ہوں.
بالکل اسی طرح آپ سب جانتے ہیں کہ میں اپنی سوزوکی جی ایس 150 ایس ای پر فیملی کے ساتھ شمالی علاقہ جات کے ٹورز پر جاتا رہتا ہوں. ناران، گلگت یا ہنزہ کی دور دراز وادیوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ موبائل نیٹ ورک کے سگنل بالکل دم توڑ دیتے ہیں. اب سفر میں ایمرجنسی میں کسی کو کال کرنی پڑ سکتی ہے، یا پھر بیگم کو اپنے گھر والوں سے بات کر کے اپنی خیریت دینی ہوتی ہے. ایسے میں اگر ہوٹل کا یا کسی کا بھی وائی فائی مل جائے تو یہ وائی فائی کالنگ کسی نعمت سے کم نہیں لگتی. سم کے سگنل فوراً ایکٹو ہو جاتے ہیں اور بغیر کسی ٹاور کے بھی ہم اپنے پیاروں سے نارمل سم کال پر باآسانی رابطہ کر لیتے ہیں.
اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بھائی جب انٹرنیٹ موجود ہی ہے تو بندہ واٹس ایپ کال کر لے. لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہر وقت ہر بندہ واٹس ایپ پر دستیاب نہیں ہوتا، اور اکثر لوگ بہتر کوالٹی اور فوری رابطے کے لیے سم نیٹ ورک کی نارمل کال کو ہی ترجیح دیتے ہیں.
اس فیچر کا ایک اور زبردست فائدہ ہے جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہے. اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اگر آپ اپنے موبائل میں ایئرپلین موڈ (Airplane Mode) آن بھی کر دیتے ہیں، تو بھی وائی فائی کالنگ صرف وائی فائی کے ذریعے کنیکٹ رہتی ہے. یعنی ایئرپلین موڈ آن کر کے آپ جیسے ہی صرف وائی فائی آن کریں گے، آپ کی سم فوراً ایکٹو ہو جائے گی. یہ چیز خاص طور پر بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے کسی لائف ہیک سے کم نہیں. اگر آپ پاکستان سے باہر جائیں تو انٹرنیشنل رومنگ کے چارجز بہت زیادہ اور مہنگے پڑتے ہیں. غلطی سے بھی رومنگ کے چارجز کٹنے سے جان چھڑانے کا بہترین اور سستا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنا فون ایئرپلین موڈ پر رکھیں اور وائی فائی ان کر لیں. پھر کوئی بھی سستا پیڈ وی پی این (VPN) لیں اور اسے پاکستانی سرور سے کنیکٹ کر لیں.
ایسا کرنے سے دنیا کے کسی بھی کونے میں آپ کی پاکستانی سم وائی فائی پر ایکٹو ہو جائے گی اور ایئرپلین موڈ کے باوجود آپ کی سم کام کرتی رہے گی. آپ باآسانی اپنے پاکستانی سستے پیکجز پر رہتے ہوئے دنیا کے کسی بھی کونے سے نارمل کال کر سکتے ہیں اور کوئی بھی آپ کو ڈائریکٹ سم پر کال کر سکتا ہے.
اب سب سے اہم بات کہ اس فیچر کو موبائل میں آن کیسے کرنا ہے. یہ بہت ہی آسان ہے. اگر آپ اینڈرائیڈ موبائل استعمال کر رہے ہیں تو اپنے فون کی سیٹنگز میں جائیں، وہاں نیٹ ورک اینڈ کنکشنز یا کال سیٹنگز کے اندر آپ کو وائی فائی کالنگ کا آپشن مل جائے گا جسے آپ نے آن کر دینا ہے. اور اگر آپ آئی فون استعمال کر رہے ہیں تو سیٹنگز میں جا کر فون کے آپشن میں جائیں، وہاں وائی فائی کالنگ لکھا ہوگا اسے آن کر لیں. ایک بار یہ سیٹنگ کر لیں اور پھر بھول جائیں، یہ خودکار طریقے سے کام کرتا رہے گا. کچھ نیٹ ورکس پر پہلی بار اس سروس کو ایکٹو کروانے کے لیے ہیلپ لائن پر کال یا میسج بھی کرنا پڑ سکتا ہے.
مختصر یہ کہ آپ کسی بھی ایسی جگہ ہوں جہاں موبائل ٹاورز نہ ہوں، آپ بس کسی سے بھی وائی فائی کنیکٹ کریں اور آپ کی سم کالنگ کے لیے ایکٹو ہو جائے گی. اب آپ لوگ کمنٹس میں بتائیں کہ آپ میں سے کتنے لوگ وائی فائی کالنگ کا فیچر باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں. اور کیا آپ کو بیرون ملک رومنگ سے بچنے والی اور ایئرپلین موڈ پر سم ایکٹو رکھنے والی اس ٹرک کا اندازہ تھا.

یہ صرف میرا مشاہدہ ہے یا واقعی فیس بک پہ اردو بولنے والے ملحدین کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے؟یا پھر یہ بھی کوئی سوچی سمجھی سا...
30/05/2026

یہ صرف میرا مشاہدہ ہے یا واقعی فیس بک پہ اردو بولنے والے ملحدین کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے؟
یا پھر یہ بھی کوئی سوچی سمجھی سازش ہے؟
اردو رسم الخط میں، مسلمان (مرد و زن) ناموں کے ساتھ جگہ جگہ ملحدین قرآنی آیتوں پہ، اللہ کے وجود پہ، اسلامی تہواروں پہ، قصص الانبیاء پہ، پیغمبرِ آخر الزماں پہ نعوذباللہ سوال اٹھاتے پھر رہے ہیں ، مذاق اڑاتے پھر رہے ہیں۔
(نعوذ باللہ ، استغفرُللہ)

اور تشویش کا عنصر یہ ہے کہ ان کی ایسی بیہودہ پوسٹس پہ ایک لمبی قطار جواب دینے والوں کی موجود ہوتی ہے جن میں جہاں "کچھ" انہیں لعن طعن کر رہے ہوتے ہیں تو وہیں اکثریت ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔۔۔

کیا ایسی پروفائلز کو رپورٹ نہیں کرنا چاہیے؟؟
کیا سائبر کرائم کا شعبہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا؟
کیا مشکل ہے ایسے عناصر کا پتہ لگانا وہ بھی اس جدید دور میں کہ آیا یہ شیطانی عناصر ملک میں موجود ہیں یا کسی بڑی سازش کے تحت کہیں اور سے یہ سارا جال بچھایا جا رہا ہے؟؟

ذرا اس پہلو سے سوچیے۔۔۔
بومرز کا دور ختم ہونے والا ہے۔ جن کو یہ سوشل میڈیا سمجھ ہی نہیں آتا۔۔۔
میلینییلز اس لحاظ سے اپنی نسلوں کے "کچھ" نزدیک ہیں کیونکہ ہم ان کے جدید دور کی ضرورتوں، عادتوں، شوق کو سمجھتے ہیں۔۔۔ اور خود بھی ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال میں لاتے ہیں۔۔۔ (ان کی طرح خبطی ہو کر نہیں لیکن بہرحال ہمیں اندازہ ہے۔)

کچھ عرصے بعد میلینییلز کی بھی عمر کی نقدی پوری ہونی شروع ہو جائے گی، رہ جایئں گے جین-زی، جین-الفا اور ان کے بعد آنے والی ہماری نسلیں۔۔۔۔
اور یہی ایسے عناصر کا نشانہ ہیں۔۔۔

مجھ سمیت اور بھی کئی لوگ ہوں گے جو کبھی ملکِ خداداد کے حالات سے گھبرا کر یہاں سے نکلنے کا سوچیں، تب یہی خیال آتا ہوگا کہ "چلو کسی طرح کوشش سے اگر نکل بھی جایئں، تو کیا بھروسہ ہے کہ دیارِ غیر میں پھیلے رنگ برنگے فتنوں سے اپنی نسلوں کو بچا سکیں گے؟ ہمارے بعد کی نسلوں کے ایمان کی کیا حالت ہوگی ۔۔"
لیکن اگر ایسے عناصر یہیں موجود ہیں، جن کی رسائی اس سوشل میڈیا کے ذریعے، مانوس زبان کے ذریعے ہماری نسلوں تک ہو چکی ہے تو یہ شیطانی حملہ تو گھر بیٹھے بھی ہوسکتا ہے۔۔۔

اس دورِ پُر فتن میں کسی کو کچھ خبر نہیں کس طرح کا فتنہ کب کہاں سے سر اٹھا کر سامنے کھڑا ہوجائے۔۔۔!
کچھ عرصہ پہلے واٹس ایپ پہ گروپس بنا کر نوجوانوں کو گستاخانہ مواد پھیلانے کے الزامات لگا کر بلیک میل کرنے والی خبریں تو آپ نے بھی سنی ہوں گی۔۔۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ایسے عناصر کا نقطئہ نظر کب، کون سی سازش کیوں اور کب پھیلا رہے ہیں۔۔۔

مجھے یاد ہے قریباً سات سال پہلے جب میں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا، اور نئے نئے فالوورز بننا شروع ہوئے تھے۔۔۔ ایسے میں ایک لڑکی جس کا نام مجھے یاد نہیں، اسلام آباد سے مجھے فیس بک میسنجر پہ میسج کرتی ہے اور دوستی کی دعوت دیتی ہے جو میں نے قبول بھی کی۔۔۔ کیونکہ میرا بھی نیا نیا ایسا تجربہ تھا۔۔۔ لکھنے کا، قاری بناننے کا۔ لیکن کچھ عرصے میں ہی اس کی عجیب سی جنونی حرکتوں کی وجہ سے مجھے اسے بلاک کرنا پڑا۔
چوبیس گھنٹے کسی عاشق کی طرح فکر کرنا، بار بار کھانے کا طبیعت کا پوچھنا، کسی سنجیدہ پوسٹ کے بعد پریشان ہوجانا کہ آخر مجھے کیا پریشانی ہے۔۔۔ اپنی روز مرّہ کی تصاویر بھیجتے رہنا، کبھی کھانا کھاتے ہوئے کبھی یونیورسٹی جاتے ہوئے۔۔۔
اس وقت میری دماغ کی بتّی جلنے میں ذرا تاخیر ہوئی کہ یہ سب چل کیا رہا ہے بہر حال، وقت رہتے عقل کے کیواڑ کھُلنے پر موصوفہ کو بلاک کردیا۔۔۔
اور پھر تقریباً دو سال بعد مجھے ایک اور میسج وصول ہوا۔۔۔
جس میں اعلانیہ اپنے ملحد ہونے کی خبر سنا کر دوستی کی دعوت دی جا رہی تھی، جسے میں نے سوچنے سے پہلے ہی بلاک کردیا۔

کہنے کا مقصد یہ کہ جب مجھ جیسی، پڑھی لکھی، عمر رسیدہ، نوکری پیشہ (کیونکہ عموماً نوکری پیشہ خواتین کو چالاک اور جہاں دیدہ خیال کیا جاتا ہے) سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، اور جب مجھ جیسی خاتون بھی ایک بار کو بیوقوف بن سکتی ہے تو ہمارے کچے ذہنوں کے بچے کیوں نہیں؟

ہمارے بزرگ اس سوچ کے حامل تھے کہ اپنی اولادوں سے کبیرہ گناہوں جیسے کہ زنا، شرک، ملحد، ہم جنس پرستی۔۔۔ ان کے تذکرے کو بھی دور رکھا جائے تاکہ ہم کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوں۔ شاید اُس دور کے یہی تقاضے ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اِس پُر فتن دور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھیں، انہیں ان ممکنہ گناہوں کے بارے میں بتایئں اور بتا کر سمجھائیں کہ یہ کیوں ممنوعہ ہیں۔۔۔ کیونکہ اِس دور میں ہر طرف یہ گناہ بکھرے نظر آیئں گے اور اگر ہم انہیں نہیں سمجھائیں گے تو باہر والے، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا پھر دنیا۔۔۔ انہیں اپنی مرضی کے مطلب سمجھائیں گے۔ صرف قرآن پڑھا دینا اور نمازوں کی پابندی کروانا ہی اسلام نہیں۔۔۔ حقوق اللّہ ، حقوق العباد ، کبیرہ و صغیرہ گناہوں میں تفریق کرنا، روز مرّہ کی بول چال میں احتیاط کرنا، کفریہ کلمات کی پہچان، اس طرح کے پُر فتن عناصر سے بچنا۔۔۔ اور بھی کئی باتیں ہیں جو ہم اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں، سمجھا سکتے ہیں، کہ کیسے اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔
کوشش کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔۔۔ جسے جیسے سمجھ آئے اپنی اولاد کی تربیت کرے۔
اور ان پہ نظر رکھیں کہ ان کی صحبت کیسی ہے، ان کے دوستوں کے دوست بنیں تاکہ آپ ان کی بیٹھک کا اندازہ لگا سکیں۔ دوستانہ طریقے سے انہیں آگاہ کرتے رہیں۔ ان کی ہر "کیوں" کو تحمل سے سنیں اور منطقی جواب دیں۔ انہیں اتنا سمجھدار تو بنایئں کہ جب سوشل میڈیا پہ ایسے شیطانی نظریات کے لوگ ان کے قریب آنے لگیں تو انہیں ان کی پہچان ہو۔ وہ خود کو بچاسکیں ان فتنوں سے۔ اور ان میں یہ احساس پیدا کریں کہ یہ سب انہیں اپنی آگے آنے والی نسلوں میں بھی منتقل کرنا ہے۔

اگر یہ شیاطین منظّم ہو کر ہماری نسلیں تباہ کرنے میں جُت سکتے ہیں، تو ہم کیوں غافل ہیں اپنی اولادوں سے؟ ہم کیوں منظّم ہو کر اپنے بچوں کی ذہنی تربیت نہیں کر سکتے؟

ذرا نہیں، پورا سوچئے ۔۔۔۔
دعاؤں کی طالب۔
حنا ظفر بھٹی

حق ادا کرنے کا طریقہ سوائے اس کے کیا ہے کہ جان ، جان دینے والے پر نثار کی جائے ، : مال دینے والے کی راہ میں خرچ کیا جائے...
30/05/2026

حق ادا کرنے کا طریقہ سوائے اس کے کیا ہے کہ جان ، جان دینے والے پر نثار کی جائے ،
: مال دینے والے کی راہ میں خرچ کیا جائے ۔

: بس دینے والے کو خوشی کے ساتھ بلکہ بنا سنوار کے ، پال پوس کے جیسے ”قربانی کا بکرا پالا “ جاتا ہے ،
لوٹا دیا جائے
اور اس ” فرض کو ادا کرنے کے بعد شکر ادا کیا جائے کہ ہم نے قرضہ ادا کر دیا ۔ “

; ہم نادہندہ نہیں ہیں ۔
: ایسے لوگوں کو ”نام لئے بغیر ہی ادب احترام کے ساتھ سلام کرنا یا ان کی خدمت میں سلام پیش کرنا واصف علی اپنا ” فرض سمجھتا“ ہے ۔

ان کا نام لینے کے لئے بھی ”زبان کو مصفا “ کرنا پڑے گا ۔

: خدا ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم اپنا فرض ادا کریں
: اور ادا کرنے والوں کو سلام پیش کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 13
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

یہ وہ کلمہ تھا جس نے زمین سے عرش تک کی فضا کو لرزہ دے دیاتحریر : حقیقت اور فسانہ ۔🕌🔥💔کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی شخص...
28/05/2026

یہ وہ کلمہ تھا جس نے زمین سے عرش تک کی فضا کو لرزہ دے دیا
تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔
🕌🔥💔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی شخص برملا آپ کے سامنے کھڑا ہو اور آپ کی ہستی کے خالق، آپ کے ربّ، آپ کے معبود کے بارے میں ایک ایسا لفظ بولے جس سے ایمان کی روح تڑپ اٹھے؟ کیا آپ نے کبھی اس لمحے کی شدت کو محسوس کیا ہے جب محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہو اور کوئی اس محبوبِ حقیقی کی شان میں گستاخی کر بیٹھے؟ یہ واقعہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، یہ عشق اور غیرت کا ایک زندہ منظر ہے۔
مدینہ منورہ کے ایک روشن دن، جب کھجوروں کے سائے لمبے ہونے لگے تھے اور ہوا میں ٹھہراؤ تھا، حضرت عتیق بن عثمان، جنہیں دنیا صدیقِ اکبر کے لقب سے جانتی ہے، ایک گلی سے گزر رہے تھے۔ ان کا وجود ہی گویا وقار تھا، چہرے پر نور تھا اور دل میں صرف ایک دھڑکن تھی، اور وہ دھڑکن تھی اللہ اور اس کے رسول کا نام۔ ان کے قدم انجانے میں یہودیوں کے محلے "بنی قینقاع" کی طرف مڑ گئے۔ وہاں ایک چبوترے کے گرد خاصا ہجوم جمع تھا۔ شور و غل کی بجائے وہاں ایک عجیب سا صناعی سکوت تھا، کیونکہ آج وہاں ان کا سب سے بڑا عالم اور فقیہ "یوحنا بن صوریا" آیا ہوا تھا، جس کے علم کا ڈنکا پورے یثرب میں بجتا تھا۔

صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی نظر جب اس ہجوم پر پڑی تو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس عالم سے کلام کیا جائے۔ ان کا دل تو ہمیشہ ہدایت کی تڑپ سے معمور رہتا تھا۔ وہ انتہائی سکون اور شفقت کے ساتھ آگے بڑھے اور یوحنا کے بالکل سامنے جا کر کھڑے ہو گئے۔ یوحنا نے جب آنکھیں اٹھائیں تو اس نے ایک ایسے چہرے کو دیکھا جس کی پیشانی سے سجدوں کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ حضرت عتیق نے اپنی نرم لیکن پراثر آواز میں کہا: "اے یوحنا! اللہ سے ڈرو۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو۔ تم خوب جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور وہ اپنے رب کی طرف سے جو دین لے کر آئے ہیں، وہ سراسر حق ہے۔ کیا تم نے اپنی تورات میں ان کا ذکر نہیں پڑھا؟"
یہ ایک سادہ اور مخلصانہ دعوت تھی، لیکن یوحنا کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے گرد جمع یہودیوں کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی قوم کے سامنے اپنی علمی برتری جتائے اور اس "ہاشمی" کے ساتھی کو شرمندہ کرے۔ اس نے گردن اکڑائی اور ایک ایسا کلمہ زبان پر لایا جس نے صدیقِ اکبر کے جسم میں موجود خون کو آگ میں بدل دیا۔

یوحنا نے پورے تمسخر اور فخریہ لہجے میں کہا: "اے عتیق! تم ہمیں اس اللہ کی طرف بلاتے ہو جو فقیر ہے؟ ہاں، تمہارا اللہ تو فقیر ہے، محتاج ہے، ہم سے قرض مانگتا ہے جبکہ ہم غنی ہیں، ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں!" یہ سنتے ہی فضا میں گویا ایک خاموش دھماکہ ہوا۔ یہودیوں کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹیں تھیں، لیکن صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ یہ معمولی بات نہیں تھی۔ یوحنا نے قرآن کی اس آیت کا مذاق اڑایا تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے ترغیباً فرمایا: "من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً" (کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟)۔ یہ اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی تھی، اور یہ گستاخی ایک ایسے شخص کے روبرو ہوئی جس کا لقب ہی "صدیق" تھا، جس کی غیرت و حمیت کا مرکز و محور ذاتِ باری تعالیٰ تھی۔
صرف ایک سیکنڈ کا بھی توقف نہیں کیا حضرت صدیق نے۔ ان کی رگوں میں ایمان کی غیرت دوڑ گئی۔ یہ وہ لمحہ نہیں تھا جہاں دلیل و برہان کی نرم گفتگو کی جائے۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں عشقِ الٰہی نے اپنے بندے کے ہاتھوں کو حرکت دی۔ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور یوحنا کے متکبر چہرے پر زوردار طمانچہ رسید کر دیا۔ طمانچہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پورے چبوترے پر گونج گئی اور یوحنا کا عمامہ سر سے جا گرا۔ حضرت صدیق نے اس کے قریب ہوتے ہوئے ایسی پرجلال اور رعب دار آواز میں کہا کہ وہاں موجود ہر شخص لرزہ براندام ہو گیا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی میثاق اور ذمہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن! میں یقیناً تیری گردن اڑا دیتا۔"
یہ الفاظ سن کر پورا مجمع سکتے میں آ گیا۔ کسی کو یقین نہیں آیا کہ قریش کے اس سردار نے، جو معمولاً انتہائی بردبار اور نرم مزاج ہیں، اس قدر سخت اور فیصلہ کن رویہ اختیار کیا ہے۔ یوحنا کا گال سرخ ہو چکا تھا، لیکن اس کے لیے اس سے بڑی چوٹ اس کی عزتِ نفس پر لگی تھی۔ اس نے بدلہ لینے کی قسم کھا لی۔ وہ اپنی قوم کے چند سرکردہ لوگوں کو ساتھ لے کر فوراً دارالندوہ کی طرف بھاگا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امورِ سلطنت کی نگرانی فرما رہے تھے۔ یہ معاملہ صرف دو افراد کا نہیں رہا تھا، اب یہ مقدمہ عدالتِ نبوی میں پیش ہونے والا تھا۔
دربارِ رسالت میں ہلچل مچ گئی جب یوحنا نے چیختے ہوئے فریاد کی: "اے محمد! دیکھئے، آپ کے ساتھی نے مجھ پر بلاوجہ ظلم کیا ہے۔ اس نے میرے منہ پر طمانچہ مار کر میری بے حرمتی کی ہے۔" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شکایت سنی تو آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ معاملہ بین المذاہب تھا، اور عدل کا تقاضا تھا کہ دونوں فریقوں کی بات سنی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو طلب کیا۔
حضرت عتیق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو ان کا چہرہ اب بھی اس روحانی غصے سے تمتمانے رہا تھا جو صرف اپنے رب کی غیرت میں کھایا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "اے عتیق! کیا وجہ ہے کہ تم نے اس شخص پر ہاتھ اٹھایا؟" صدیقِ اکبر نے جواباً عرض کی: "یارسول اللہ! اللہ کے اس دشمن نے بڑا بھاری کلمہ بولا ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کو فقیر اور محتاج کہا ہے اور اپنے آپ کو غنی بتایا ہے۔ جب میں نے اپنے رب کی شان میں یہ گستاخی سنی تو مجھ پر غصہ غالب آ گیا، اور میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا۔"
یہ سن کر یوحنا نے بڑے ڈرامائی انداز میں انکار کیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر دربار میں موجود لوگوں سے کہا: "یہ جھوٹ ہے! میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ یہ اپنے کیے کا جواز پیش کر رہے ہیں۔" اب معاملہ پیچیدہ ہو گیا۔ یہ قولِ رسول کے مقابل تھا، لیکن بدقسمتی سے اس موقع پر کوئی ایسا شخص وہاں موجود نہیں تھا جس نے یوحنا کی وہ گستاخانہ گفتگو سنی ہو۔ تمام یہودی یک زبان ہو کر یوحنا کی حمایت کرنے لگے۔ وہ عدالت میں شور مچانے لگے کہ صدیق کو سزا دی جائے۔ یہ لمحہ انتہائی کٹھن تھا، لیکن حضرت صدیق کے چہرے پر ذرہ برابر پریشانی یا ندامت نہیں تھی۔ انہیں اپنے رب پر کامل بھروسہ تھا۔
اور پھر وہ لمحہ آیا، جس کے تصور سے ہی دل بے اختیار دھڑکنے لگتا ہے۔ جب زمین کی ساری گواہیاں ختم ہو گئیں، جب یوحنا مکارانہ فتح کا مزہ چکھ رہا تھا، تو عرش سے ندا آئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کی تصدیق اور اس کی صداقت کا اعلان خود وحی کے ذریعے فرما دیا۔ جبرائیل امین نے یہ آیتِ کریمہ نازل کی: "لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ" (بے شک اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں)۔
وحی کا نزول ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اطمینان اور مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت لوگوں کو سنائی۔ یہ محض یوحنا کے جھوٹ کی تردید نہیں تھی، بلکہ صدیقِ اکبر کی عزت و صداقت پر عرشِ الٰہی سے مہرِ تصدیق تھی۔ اللہ نے گواہی دی کہ صدیق نے جو کہا، سچ کہا۔ یوحنا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ شرمندگی سے پانی پانی ہو گیا۔ وہ جس اللہ کا مذاق اڑا رہا تھا، اس نے اس کی ہر بات کو سن لیا تھا اور اپنے دوست کی لاج رکھ لی۔
یہ تھی صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی شان۔ انہوں نے اللہ کے لیے غصہ کھایا تو اللہ نے ان کی غیرت کو اپنی غیرت بنا لیا۔ ان کا یہ طمانچہ محض ایک ردعمل نہ تھا، یہ توحید کی غیرت تھی، جو ایک دل سے نکل کر اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوا اور اسے قرآن میں ابدی شہرت نصیب ہو گئی۔ یہ طمانچہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کی گستاخی سن کر خاموش رہنا ایمان کی کمزوری ہے، اور اس پر جوش غضب میں آنا عین ایمان ہے۔

خلاصہ یہ کہ :
دل میں صرف یہی بات گردش کر رہی تھی کہ صدیق نے اللہ کے دشمن کو سزا دی، مگر جب الزامات کی آندھی چلی تو رب نے خود اپنے بندے کی سچائی کا بول بالا کر دیا۔
اگر آپ یہاں تک پہنچے ہیں… تو اس کا مطلب ہے یہ کہانی کہیں نہ کہیں آپ کو چھو گئی ہے۔ لائک کر کے بتائیں۔
ایسی کہانیاں جو دل میں رہ جائیں… حقیقت اور فسانہ کو فالو کریں۔
کمنٹ میں صرف ایک لفظ لکھیں… جو آپ ابھی محسوس کر رہے ہیں۔

اگر ہیڈ آف دی فیملی حج کر کے آیا ہے نیکی کر کے آیا ہے تو اس کا ثواب اولاد کو بھی مل جائے گا۔ اس لیے اپنے آپ کو پکا رکھو۔...
28/05/2026

اگر ہیڈ آف دی فیملی حج کر کے آیا ہے نیکی کر کے آیا ہے تو اس کا ثواب اولاد کو بھی مل جائے گا۔ اس لیے اپنے آپ کو پکا رکھو۔ آپ اپنے آپ کو پکا نہیں رکھتے ۔ آپ کا پکا ہونا جو ہے وہ اولاد کے لیے بہتر ہو جائے گا۔ اگر ساری اولاد آپ کے راستے پر نہیں چل رہی ہے تو فکر کی بات نہیں ہے کوشش کرتے رہو اور اپنے آپ کو قائم رکھوتا کہ آپ کا ہونا ان کے ہونے کے لیے مفید ہو۔ اگر باپ یا ماں میں سے ایک مفید ہو جائے تو سارے خاندان کے لیے فائدہ ہے۔
ضروری نہیں ہے کہ وہ سارے آپ کے ساتھ چلیں ۔
اگر جاگنے والا ایک ہو تو سونے والا سارا گھر خیریت سے رہے گا ۔
اب آپ سارے گھر کو بیدار نہ کر دینا کہ چلو اُٹھو جاگو اُٹھو بیٹا سارے لوگ اُٹھو اگر تو تہجد گزار ہے تو دعا کر کہ یا اللہ بچے سورہے ہیں، غافل ہیں لیکن تیرے فضل کے سہارے سور ہے ہیں تو ان پر فضل فرما۔ تم ان کو بھی جگانا چاہتے ہولیکن بچے کیسے جاگیں گے۔ یہ ان کی عمر نہیں ہے۔ ان کو سونے دو اور دعا کرو کہ ان کی نیند حرام نہ ہو اور وہ خیر سے سوئیں عافیت میں سوئیں ۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو 26 صفحہ نمبر 206

ایسی خاتون کو دوست نہ بناؤ جس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہو (یعنی دین سے غافل ہو)"تحریر : عقیلہ بیگ ایک بہن بیان کرتی ہیں:...
27/05/2026

ایسی خاتون کو دوست نہ بناؤ جس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہو (یعنی دین سے غافل ہو)"
تحریر : عقیلہ بیگ

ایک بہن بیان کرتی ہیں:
"میں ایک بار اس (خاتون) کے ساتھ بیٹھی، وہ پورے وقت صرف کپڑوں، سونے (زیورات)، فرنیچر، سیر و تفریح (سفروں) اور خریداریوں کے بارے میں ہی باتیں کرتی رہی۔ یہاں تک کہ مجھے اس کے ساتھ بیٹھ کر یوں محسوس ہونے لگا جیسے میرے پاس اس دنیا میں کچھ ہے ہی نہیں، جبکہ اس کے پاس دنیا کی ہر چیز موجود ہے۔
اور ایک دن میری اس سے دوبارہ ملاقات ہوئی، تو وہ مجھے صفائی کے سامان کی خریداری کی فہرستیں، اور اپنے گھر کے پردوں کی تبدیلی وغیرہ کے قصے سنانے لگی...
تھوڑی سوچ بچار کے بعد مجھے ایک بہت بڑا انکشاف ہوا؛ میں نے یہ جانا کہ اس کی صحبت میں مجھے (اپنے اندر) ایک محرومی اور نقص کا احساس ہوتا ہے، جبکہ اس کے بغیر میں اس دنیا سے خود کو مطمئن اور بھرپور محسوس کرتی ہوں۔ چنانچہ میں نے اس سے دور ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
اسی دوران ایک جمعہ میں سورۂ کہف کی تلاوت کر رہی تھی، تو میری نظر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر پڑی:
{ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا }
(ترجمہ: اور اس شخص کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔)
میں جلدی سے تفسیر کی طرف بڑھی کہ دیکھوں 'فُرُطًا' کا کیا مطلب ہے۔
تو معلوم ہوا کہ (فرطاً) وہ شخص ہے جس نے اپنے دین کے معاملے کو ضائع کر دیا ہو، اس میں سستی برتی ہو، اور اپنی دنیا میں ایسا مگن ہو گیا ہو کہ اس کی مثال اس ہار (مالا) جیسی ہو جائے جو ٹوٹ جائے اور اس کے موتی بکھر جائیں۔
تب مجھے اپنے فیصلے (اس سے دور ہو جانے) کے بالکل درست ہونے کا پختہ یقین ہو گیا۔
ابھی سے اپنی سہیلیوں کے بارے میں سوچیے!
یقین رکھیے کہ آپ ان سے کوئی نہ کوئی اثر ضرور لیں گی:
قرآن پاک یاد کرنے والیوں (حفاظ) کی صحبت اختیار کریں گی، تو ان کی طرح قرآن حفظ کر لیں گی۔
اہل علم کی صحبت اختیار کریں گی، تو ان جیسی بن جائیں گی۔
تخلیقی صلاحیت رکھنے والوں (کریٹیو لوگوں) کا ساتھ اختیار کریں گی، تو ان کی طرح تخلیقی بن جائیں گی۔
خیر اور نفع پہنچانے والے لوگوں کی صحبت اختیار کریں گی، تو ان جیسی بن جائیں گی۔
اگر کبھی بیٹھنا ہی ہو تو کسی صالحہ (نیک خاتون) کے پاس بیٹھیں، اور اگر مشورہ کرنا ہو تو کسی عقل مند سے مشورہ کریں۔ اور خبردار! جو اپنی جان کو بے وقوف بنا بیٹھی ہو اور جس نے اپنی آخرت کی کوئی قدر و قیمت نہ جانی ہو، اس کی باتوں پر کبھی کان نہ دھریں۔
اللہ کے لیے پیارے لوگو، یہی نصیحت ہے:
ایسی خاتون کو دوست بنائیں جس کا معاملہ 'فرطاً' (دین سے غفلت اور حد سے بڑھا ہوا) نہ ہو، ورنہ آپ بھی اسی جیسی ہو جائیں گی۔"

Address

Housing Scheme No 1 Gujarkhan
Gujar Khan
47850

Opening Hours

Monday 08:00 - 15:00
Tuesday 08:00 - 15:00
Wednesday 08:00 - 15:00
Thursday 08:00 - 15:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 15:00

Telephone

+923013313127

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarwar Shaheed - NH Memorial Municipal Library M.C Gujarkhan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category