21/07/2026
سوال: کہتے ہیں کہ تھوڑی عبادت قابل قبول ہے اور زیادہ ہو تو قابل قبول نہیں ہوتی۔
جواب :
زیادہ اور تھوڑا ہماری مقداریں ہیں، یہ اللہ کے ہاں نہیں ہوتیں۔ وہ چیزیں وہ صفات دنیاوی Achievements جن پر آپ بالعموم Generally فخر کرتے ہیں وہ چیز ایثار کرنا عبادت ہے۔ یعنی جو چیز آپ کو دنیا میں اپنے حاصل کی دنیا میں سب سے عزیز ہے، آپ وہی قربان کر دیں تو یہ عبادت ہے۔ اگر آپ اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کے روبرو پیش کر دیں۔ جو بھی آپ کو سب سے زیادہ عزیز ہے، اپنی اس حالت میں اپنی اس زندگی میں، اگر اللہ کو وہ چیز پیش کریں گے تو یہ عبادت ہے۔
مثلا" ایک شخص نے ساری عمر میں پیسے کمائے، بڑی محنت کی وہ Self made بندہ محنت کر کر کے آج اس قابل ہوا کہ وہی چیز اللہ کے راستے میں شمار کر دے تو یہ عبادت ہے۔ ایک آدمی ایک گرو کا چیلا تھا اس کو اُس کے گرو نے جنگل کی بوٹیوں کی سنڈی کے لیئے لگایا اور کہا کہ اُن کا رس یعنی عقاقیر اکٹھا کرو۔ وہ بڑا محنت طلب اور مشکل کام ہوتا ہے۔ اس رس کو جواہر عقاقیر کہتے ہیں یعنی بوٹیوں کا رس۔ وہ اس کام میں لگ گیا۔ جنگل کی بوٹیوں میں جاتا تھا بوٹی پھلنے پر آتی ہے تو اس کے اندر سے اس کی ایک خاص مشک نافہ نکلتی ہے جو اس کا خاص جو ہر ہوتا ہے۔ اس بیچارے چیلے نے تیس سال محنت کرنے کے بعد ایک چھوٹی سے شیشی اکٹھی کی چیلہ بہت خوش ہوا کہ محنت کامیاب ہو گئی اور مقصد حاصل ہو گیا۔
تو وہ خوشی خوشی اپنے گرو کے پاس گیا راستے میں ٹھوکر لگی اور شیشی ٹوٹ گئی۔ اس نے بڑی فریاد کی کہ میں نے اتنے سال لگا کے یہ عرق اکٹھا کیا تھا اب تو میری بینائی بھی کام نہیں کرتی، مجھے تو کوئی بوٹی بھی نظر نہیں آئے گی، میں کہاں سے لاؤں گا کیونکہ اب تو میرے اعضا بھی شل ہو گئے ہیں۔ اس کی فریاد پر گرو ہنس رہا تھا۔ اس نے کہا مہاراج! آپ میری فریاد پر کیوں ہنس رہے ہیں۔
گرو نے کہا کہ تیری فریاد اپنی جگہ پر کیونکہ تو سمجھ رہا ہے کہ جو چیز تو نے چاہی وہ نہیں ملی، لیکن جو میں نے چاہا وہ مجھے مل گیا ہے۔ اس نے کہا مہاراج آپ نے کیا چاہا تھا؟ گرو نے کہا میں نے تیرے آنسو چاہے تھے۔
کہتا ہے ان آنسوؤں کا کیا فائدہ؟ گرو نے کہا انہیں آنسوؤں سے بوٹیوں میں رس پیدا ہوتا ہے۔ تو کہانی اتنی ساری ہے کہ اگر آپ کے پاس آنسو ہیں تو یہی اللہ کی یاد میں لگا دو۔ آپ اللہ سے کبھی نقلی بات نہ کرنا۔ جتنا ہو سکتا ہے اس کی راہ میں لگا دو۔ آپ یہ دیکھیں کہ آپ نے اپنے کل Amount میں سے کتنی Percentage میں اللہ کو یاد رکھا ہے۔ جتنا اپنے حاصل کی کائنات میں آپ نے اللہ کا حصہ رکھا ہوا ہے، اتنا ہی اس کی کائنات میں آپ کا حصہ ہے۔ اگر آپ نے اپنی ساری کائنات اس کے حوالے کر رکھی ہے تو اس کی کائنات پر آپ کا اختیار ہے۔ اگر آپ نے کہا کہ اللہ میاں تو ذرا ٹھر کے آتو پھر وہ بھی کہے گا کہ تو بھی ذرا ٹھہر کے آجا،
تو اللہ سے آپ نے کیا لینا ہے؟ جو دینا ہے وہی لینا ہے۔ اگر آپ اسے مکمل اختیار دے دیں تو آپ کا کام بن جائے گا۔ آپ کے پاس جو Best چیز ہے اگر وہ اللہ کی راہ میں شمار کردو تو اس کی بہترین چیزیں بھی آپکے لیے ہوں گی..
امیر آدمی اگر پیسہ اللہ کی راہ میں نہیں لگاتا اور نمازیں پڑھتا رہتا ہے تو نا منظور ہو گا۔ امیر آدمی کے پاس اگر دولت ہے تو اللہ کی راہ میں دولت دے۔ جو غریب آدمی گھبراتا رہتا ہے اگر وہ اپنی گھبراہٹ اللہ کے حوالے کر دے اور نہ گھبرائے غریبی کو نا پسند نہ کرے یہ کہے کہ جو دیا ہے ٹھیک ہے تو اللہ اس سے راضی ہو گا۔ اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے والا عام طور پر اللہ کو راضی رکھتا ہے۔ آپ نے اللہ کے ہر فیصلے کو رضا مندی سے دیکھا تو اللہ تعالیٰ آپ پر راضی ہے یہ نہ کہنا کہ یا اللہ یہ بھی دے اور وہ بھی دے بلکہ اس نے جو دیا ٹھیک ہے اور جو لے گیا وہ بھی ٹھیک ہے۔ غم بھی اس کا خوشی بھی اسی کی ہر چیز اسی کی آپ خود بھی اسی کے۔ اگر یہ کہا تو پھر اللہ راضی ہے۔ اس طرح آپ کی یہ زندگی اچھی ہو جائے گی.
جو کچھ آپ کا حاصل ہے وہ ٹھیک ہے اور جو محرومی ہے وہ بھی ٹھیک ہے، جو آیا وہ بھی ٹھیک ہے اور جو چلا گیا وہ بھی ٹھیک ہے، جو زندہ رہے وہ بھی ٹھیک ہے اور جو مر گیا وہ بھی ٹھیک ہے، یہ اس کے کام ہیں، ہم نے تو یہ کھیل نہیں کیا یہ اس کی مرضی ہے۔ اس لیے اس کی مرضی کو اس کے حوالے رہنے دو۔
اگر آپ راضی ہو جائیں تو اللہ کے ہاں سب عبادت قبول ہے۔ تو کون سی عبادت اچھی ہے؟ اس کے فیصلوں پر راضی ہونا۔ یہ شارٹ کٹ ہے۔
آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کسی لمبی آزمائش میں نہ ڈالے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازے۔ آپ لوگوں کے رشتے دار آباد رہیں، بچے بھی خوش رہیں اور زندہ سلامت رہیں۔ اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے۔ آپ خوش باش رہیں۔
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو 8 صفحہ نمبر 253,,,251