Sarwar Shaheed - NH Memorial Municipal Library M.C Gujarkhan

Sarwar Shaheed - NH Memorial Municipal Library M.C Gujarkhan Sarwar Shaheed NH Memorial Municipal Library Housing Scheme No 1 Gujarkhan was established in 1974. It has been shifted at present place on 14th August 2020.

On this page people will get a lot of knowledge on different topics.

سوال: کہتے ہیں کہ تھوڑی عبادت قابل قبول ہے اور زیادہ ہو تو قابل قبول نہیں ہوتی۔جواب :زیادہ اور تھوڑا ہماری مقداریں ہیں، ...
21/07/2026

سوال: کہتے ہیں کہ تھوڑی عبادت قابل قبول ہے اور زیادہ ہو تو قابل قبول نہیں ہوتی۔

جواب :
زیادہ اور تھوڑا ہماری مقداریں ہیں، یہ اللہ کے ہاں نہیں ہوتیں۔ وہ چیزیں وہ صفات دنیاوی Achievements جن پر آپ بالعموم Generally فخر کرتے ہیں وہ چیز ایثار کرنا عبادت ہے۔ یعنی جو چیز آپ کو دنیا میں اپنے حاصل کی دنیا میں سب سے عزیز ہے، آپ وہی قربان کر دیں تو یہ عبادت ہے۔ اگر آپ اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کے روبرو پیش کر دیں۔ جو بھی آپ کو سب سے زیادہ عزیز ہے، اپنی اس حالت میں اپنی اس زندگی میں، اگر اللہ کو وہ چیز پیش کریں گے تو یہ عبادت ہے۔
مثلا" ایک شخص نے ساری عمر میں پیسے کمائے، بڑی محنت کی وہ Self made بندہ محنت کر کر کے آج اس قابل ہوا کہ وہی چیز اللہ کے راستے میں شمار کر دے تو یہ عبادت ہے۔ ایک آدمی ایک گرو کا چیلا تھا اس کو اُس کے گرو نے جنگل کی بوٹیوں کی سنڈی کے لیئے لگایا اور کہا کہ اُن کا رس یعنی عقاقیر اکٹھا کرو۔ وہ بڑا محنت طلب اور مشکل کام ہوتا ہے۔ اس رس کو جواہر عقاقیر کہتے ہیں یعنی بوٹیوں کا رس۔ وہ اس کام میں لگ گیا۔ جنگل کی بوٹیوں میں جاتا تھا بوٹی پھلنے پر آتی ہے تو اس کے اندر سے اس کی ایک خاص مشک نافہ نکلتی ہے جو اس کا خاص جو ہر ہوتا ہے۔ اس بیچارے چیلے نے تیس سال محنت کرنے کے بعد ایک چھوٹی سے شیشی اکٹھی کی چیلہ بہت خوش ہوا کہ محنت کامیاب ہو گئی اور مقصد حاصل ہو گیا۔
تو وہ خوشی خوشی اپنے گرو کے پاس گیا راستے میں ٹھوکر لگی اور شیشی ٹوٹ گئی۔ اس نے بڑی فریاد کی کہ میں نے اتنے سال لگا کے یہ عرق اکٹھا کیا تھا اب تو میری بینائی بھی کام نہیں کرتی، مجھے تو کوئی بوٹی بھی نظر نہیں آئے گی، میں کہاں سے لاؤں گا کیونکہ اب تو میرے اعضا بھی شل ہو گئے ہیں۔ اس کی فریاد پر گرو ہنس رہا تھا۔ اس نے کہا مہاراج! آپ میری فریاد پر کیوں ہنس رہے ہیں۔
گرو نے کہا کہ تیری فریاد اپنی جگہ پر کیونکہ تو سمجھ رہا ہے کہ جو چیز تو نے چاہی وہ نہیں ملی، لیکن جو میں نے چاہا وہ مجھے مل گیا ہے۔ اس نے کہا مہاراج آپ نے کیا چاہا تھا؟ گرو نے کہا میں نے تیرے آنسو چاہے تھے۔
کہتا ہے ان آنسوؤں کا کیا فائدہ؟ گرو نے کہا انہیں آنسوؤں سے بوٹیوں میں رس پیدا ہوتا ہے۔ تو کہانی اتنی ساری ہے کہ اگر آپ کے پاس آنسو ہیں تو یہی اللہ کی یاد میں لگا دو۔ آپ اللہ سے کبھی نقلی بات نہ کرنا۔ جتنا ہو سکتا ہے اس کی راہ میں لگا دو۔ آپ یہ دیکھیں کہ آپ نے اپنے کل Amount میں سے کتنی Percentage میں اللہ کو یاد رکھا ہے۔ جتنا اپنے حاصل کی کائنات میں آپ نے اللہ کا حصہ رکھا ہوا ہے، اتنا ہی اس کی کائنات میں آپ کا حصہ ہے۔ اگر آپ نے اپنی ساری کائنات اس کے حوالے کر رکھی ہے تو اس کی کائنات پر آپ کا اختیار ہے۔ اگر آپ نے کہا کہ اللہ میاں تو ذرا ٹھر کے آتو پھر وہ بھی کہے گا کہ تو بھی ذرا ٹھہر کے آجا،
تو اللہ سے آپ نے کیا لینا ہے؟ جو دینا ہے وہی لینا ہے۔ اگر آپ اسے مکمل اختیار دے دیں تو آپ کا کام بن جائے گا۔ آپ کے پاس جو Best چیز ہے اگر وہ اللہ کی راہ میں شمار کردو تو اس کی بہترین چیزیں بھی آپکے لیے ہوں گی..

امیر آدمی اگر پیسہ اللہ کی راہ میں نہیں لگاتا اور نمازیں پڑھتا رہتا ہے تو نا منظور ہو گا۔ امیر آدمی کے پاس اگر دولت ہے تو اللہ کی راہ میں دولت دے۔ جو غریب آدمی گھبراتا رہتا ہے اگر وہ اپنی گھبراہٹ اللہ کے حوالے کر دے اور نہ گھبرائے غریبی کو نا پسند نہ کرے یہ کہے کہ جو دیا ہے ٹھیک ہے تو اللہ اس سے راضی ہو گا۔ اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے والا عام طور پر اللہ کو راضی رکھتا ہے۔ آپ نے اللہ کے ہر فیصلے کو رضا مندی سے دیکھا تو اللہ تعالیٰ آپ پر راضی ہے یہ نہ کہنا کہ یا اللہ یہ بھی دے اور وہ بھی دے بلکہ اس نے جو دیا ٹھیک ہے اور جو لے گیا وہ بھی ٹھیک ہے۔ غم بھی اس کا خوشی بھی اسی کی ہر چیز اسی کی آپ خود بھی اسی کے۔ اگر یہ کہا تو پھر اللہ راضی ہے۔ اس طرح آپ کی یہ زندگی اچھی ہو جائے گی.
جو کچھ آپ کا حاصل ہے وہ ٹھیک ہے اور جو محرومی ہے وہ بھی ٹھیک ہے، جو آیا وہ بھی ٹھیک ہے اور جو چلا گیا وہ بھی ٹھیک ہے، جو زندہ رہے وہ بھی ٹھیک ہے اور جو مر گیا وہ بھی ٹھیک ہے، یہ اس کے کام ہیں، ہم نے تو یہ کھیل نہیں کیا یہ اس کی مرضی ہے۔ اس لیے اس کی مرضی کو اس کے حوالے رہنے دو۔
اگر آپ راضی ہو جائیں تو اللہ کے ہاں سب عبادت قبول ہے۔ تو کون سی عبادت اچھی ہے؟ اس کے فیصلوں پر راضی ہونا۔ یہ شارٹ کٹ ہے۔
آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کسی لمبی آزمائش میں نہ ڈالے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازے۔ آپ لوگوں کے رشتے دار آباد رہیں، بچے بھی خوش رہیں اور زندہ سلامت رہیں۔ اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے۔ آپ خوش باش رہیں۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو 8 صفحہ نمبر 253,,,251

آپ بے شک اپنے حال کو بدلنے کی استعداد پیدا کریں لیکن راضی ہونے کا عمل کبھی ترک نہ کریں۔ آپ بے شک کوشش کریں ہوا میں اڑیں،...
20/07/2026

آپ بے شک اپنے حال کو بدلنے کی استعداد پیدا کریں لیکن راضی ہونے کا عمل کبھی ترک نہ کریں۔ آپ بے شک کوشش کریں ہوا میں اڑیں، پرواز کریں، خیال کی پرواز کر لیں۔ اگر آپ کو پرواز مل جائے تب راضی رہنا اور زمین پر آجائیں، تب بھی راضی رہنا۔
تو حق کے تقرب میں رہ کے لوگ اپنے تصرفات کرتے ہیں لیکن دونوں حالتوں میں راضی رہتے ہیں، وہ کامیاب ہوں، تب راضی، ناکام ہوں تب راضی، مثلا کوئی شخص حج کی بڑی دیر سے خواہش رکھتا ہے مگر جا نہیں سکا تو اسے بھی راضی رہنا چاہئے ایسا ممکن ہے کہ اس کا نہ جانا اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔
ایک آدمی اپنے شیخ کے پاس گیا اور کہا کہ بیس سال سے میں کوشش کر رہا ہوں اور مجھے حج کا موقعہ نہیں مل رہا۔ یہ کہہ کر وہ بہت زیادہ روتا رہا اور درخواست کی کہ یا شیخ دعا کریں کہ مجھے حج کا موقعہ مل جائے۔ اس کے شیخ نے کہا سارے دعا کریں کہ اس کو حج کا موقعہ نہ ملے۔ اس بات پر وہ شخص اور رویا اور کہنے لگا کہ یہ آپ نے کیا غضب کر دیا، میں حج پہ جانا چاہتا ہوں اور آپ میرے نہ جانے کی دعا فرما رہے ہیں۔ جب رونے کے بعد کچھ بحال ہوا تو اس کے شیخ نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے سولہ حج کئے ہیں اور سولہ حجوں کا ثواب تم لے لو اور حج کرنے کی خواہش کا جو درد ہے وہ مجھے دے دو! تو حج کرنا تو ثواب والی بات ہے، لیکن جو حج کی شدید خواہش ہے یہ اس سے زیادہ قیمتی ہے۔
تو یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ آپ کو غریبی میں رکھے، دوری میں رکھے یا قربت میں رکھے کیونکہ اس کے ہاں دور قریب تو ہے کوئی نہیں، دور قریب کا فاصلہ تو انسانوں کی دنیا میں ہوتا ہے اللہ کے ہاں کیا دوری اور کیا قریبی ہے؟ اور خیال کو بھی کیا دُوری ہے، مثلا اگر تعلق ہو تو دور رہنے والا آپ سے متعلق ہو سکتا ہے۔ مثلا" آپ کا بیٹا دور گیا ہوا ہے، آپ ہر وقت اس کی یاد میں رہتے ہیں، بیٹا بیٹا کرتے رہتے ہیں اور جو آپ کے قریب رہنے والا بیٹا ہے اسے ڈانٹتے رہتے ہیں تو قریب ہونے یا دور ہونے کی بات نہیں بلکہ پسند ہونے کی بات ہے۔

تو یاد کا نام بہتری ہے اور تعلق کا نام بہتری ہے۔ اس کی ذات کے مقابلے میں دور اور قریب کوئی نہیں ہے فاصلے کوئی نہیں ہوتے، حاصل اور محرومی کوئی نہیں ہوتے، بلکہ صرف رضا ہی رضا ہوتی ہے۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو 7 صفحہ نمبر 233,234

سوال:-بعض اوقات وہ ”گناہ جس سے ہم توبہ“ کر لیتے ہیں وہ ہم سے ”چِمٹ“ جاتے ہیں ۔ مثلاً ایک بُرا کام کرتے ہوئے کسی کی ٹانگ ...
17/07/2026

سوال:-
بعض اوقات وہ ”گناہ جس سے ہم توبہ“ کر لیتے ہیں وہ ہم سے ”چِمٹ“ جاتے ہیں ۔ مثلاً ایک بُرا کام کرتے ہوئے کسی کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے تو وہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ اس کو ساری عمر گناہ کی یاد دلاتی ہے
جواب:-
*شاباش! بڑا اہم سوال ہے ۔ ________
اس ””ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو آپ ہمیشہ عزت کی نگاہ““ سے دیکھیں جس نے آپ کو”” اللہ کا دروازہ دکھایا ۔ ““

: گناہ میں ٹوٹی ہوئی ٹانگ آپ کو اللہ کے گھر تک لے گئ ہے ، اللہ کے دَر تک لے گئ ہے ،
یہ ٹانگ آپ کو ایسے مقام تک پہنچا گئ ہے کہ
: آپ آفرین کرو اور اس ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو مبارک دیتے جاوء ۔ پھر وہ کہے گا کہ کیا ٹانگ ٹوٹی ہے کہ زندگی بن گئ ہے ""
اس لیے گناہ میں ٹوٹی ہوئی ٹانگ جو ہے وہ ”یادِ گناہ نہیں ہے“ بلکہ وہ ”راستے کا سفر ہے ، پاسپورٹ ہے ، ٹکٹ ہے اور ویزہ ہے ، Secret Badge ہے ، اس کی رحمت کی نشانی ہے ۔ ““
کہتا ہے کہ
یہ وہ ”مقام“ جہاں اس کی رحمت نے پکارا تھا ،
ٹانگ توڑ کے بُلایا تھا ۔
: آپ کو اب میں پیغام دے رہا ہوں کہ گناہ کے بغیر ہی آپ ”” توبہ کر کے اللہ کے پاس چلے جائیں ““

(گفتگو والیم 27 .......... صفحہ نمبر 195)
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

کیا زلیخا نام رکھنا درست ہے؟تحریر : سلیم زمان خان ہمارے معاشرے میں معلومات کی کمی کے باعث "زلیخا" نام بہت عام ہے اور لوگ...
16/07/2026

کیا زلیخا نام رکھنا درست ہے؟
تحریر : سلیم زمان خان

ہمارے معاشرے میں معلومات کی کمی کے باعث "زلیخا" نام بہت عام ہے اور لوگ اسے ایک معزز یا تاریخی اسلامی نام سمجھ کر اپنی بیٹیوں کا نام رکھ دیتے ہیں۔ لیکن جب ہم قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ اور حقائق کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ نام کسی بھی طرح اس قابل نہیں ہے کہ مسلمان خواتین اسے اپنے لیے یا اپنی بچیوں کے لیے اختیار کریں۔ آئیں، سب سے پہلے اس کردار کی اصل حقیقت کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھتے ہیں، جہاں
سے یہ قصہ اور یہ نام ہمارے معاشرے میں پھیلا۔

• زلیخا کون تھی؟
یہودیت کی قدیم روایات اور ان کی تفاسیر میں اس عورت کا نام "زلیخاہ" یا "زولیکھا" ملتا ہے۔ وہ مصر کے ایک بہت بڑے شاہی عہدے دار اور جلادوں کے سربراہ "پوتیفار" (جسے قرآن نے عزیزِ مصر کہا ہے) کی بیوی تھی۔ قدیم تاریخی روایات اس کے کردار, اس کی بدکرداری اور اس کے مکروہ عمل کو یوں بیان کرتی ہیں:
• ستاروں کا علم اور شدید غلط فہمی:روایات کے مطابق زلیخا نجوم اور ستاروں کے علم کی ماہر تھی۔ اس نے اپنے حساب کتاب سے یہ دیکھ لیا تھا کہ اس کی نسل سے حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد پیدا ہوگی، جو آگے چل کر انبیاء کے سلسلے کی کڑی بنے گی۔ وہ اس علمی زعم میں شدید غلط فہمی کا شکار ہو گئی کہ شاید یہ اولاد خود اس کے بطن سے ہوگی، اسی لیے وہ نفسانی خواہش اور اقتدار کے نشے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پیچھے پڑ گئی۔ (جبکہ عبرانی روایات خود تسلیم کرتی ہیں کہ بعد میں یہ رشتہ اس کی بیٹی "اسنات" کے ذریعے قائم ہوا جو حضرت یوسف کی بیوی بنیں)۔
• عشق کا فتنہ اور سرِعام بدکرداری: وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن پر دیوانی ہو کر محل کے اندر ہر وقت گناہ کے مواقع تلاش کرنے لگی۔ اس نے محل کے کمرے میں ایک بت رکھا ہوا تھا، جس پر گناہ کی دعوت دیتے وقت اس نے کپڑا ڈال دیا کہ میرا بت مجھے نہ دیکھے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کی گناہ کی خواہش کو سختی سے مسترد کر دیا اور وہاں سے بھاگے، تو اس نے پیچھے سے ان کا قمیص پھاڑ دیا اور الٹا ان پر پاکدامنی کی خیانت کا الزام لگا دیا۔
• سہیلیوں کی ملامت اور مکارانہ محفل: جب مصر کے اشرافیہ کی عورتوں اور زلیخا کی سہیلیوں نے اس پر ملامت کی کہ وہ ایک غلام کے پیچھے دیوانی ہو کر اپنے مرتبے کو گرا رہی ہے، تو اس نے اپنی شرمندگی چھپانے اور اپنی بدکرداری کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک فحش اور مکارانہ طریقہ اپنایا۔ اس نے اپنی سہیلیوں کو ایک محفل میں جمع کیا، ان کے بیٹھنے کے لیے تکیے لگوائے اور ان کے ہاتھوں میں تیز چھریاں اور پھل تھما دیے۔
• بے باکانہ اعترافِ جرم اور سزا کا دباؤ: جیسے ہی حضرت یوسف علیہ السلام اس کے حکم پر محفل میں آئے، ان کا ماورائی حسن دیکھ کر وہ تمام سہیلیوں مدہوش ہو گئیں اور انہوں نے پھل کاٹنے کے بجائے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔ اس موقع پر زلیخا نے شرمانے یا توبہ کرنے کے بجائے فخر سے سب کے سامنے اپنی بدکاری کا اعتراف کیا اور کہنے لگی کہ دیکھو! یہ ہے وہ جس پر میں مائل ہوئی تھی۔ اس نے اپنی سہیلیوں کے سامنے سرِعام یہ دھمکی بھی دے دی کہ اگر اس نے اب بھی میری بات نہ مانی تو میں اسے قید خانے میں سڑا دوں گی اور ذلیل و خوار کروں گی۔ اسی مکارانہ جوڑ توڑ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کو سالہا سال کے لیے جیل بھجوا دیا گیا۔
• شادی کا خود ساختہ افسانہ: روایات کے مطابق شوہر کی موت کے بعد زلیخا اندھی، بوڑھی اور فقیرنی ہو گئی تھی۔ ایک دن حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے پہچانا، اس کے لیے دعا کی، اللہ نے اس کی جوانی اور بینائی لوٹا دی اور پھر ان دونوں کا نکاح ہو گیا۔

اسرائیلی روایات کا یہ خود ساختہ تانہ بانا اسلامی تاریخ اور عقائد کی کسوٹی پر ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ اسلام میں اس کا تذکرہ صرف ایک منفی اور اخلاقی طور پر گرے ہوئے کردار کے طور پر ہی ملتا ہے۔
• نام اور نکاح کی مکمل نفی:قرآنِ کریم نے اس عورت کا نام کہیں ذکر نہیں کیا، بلکہ اسے صرف "امْرَأَتُ الْعَزِيزِ" (عزیزِ مصر کی بیوی) کہا ہے۔ ذخیرہِ حدیث میں بھی رسول کریمﷺ سے اس کا نام زلیخا ہونا یا اس سے شادی کا قصہ بالکل ثابت نہیں ہے۔ امام ابنِ کثیرؒ سمیت تمام جید مفسرین نے واضح کیا ہے کہ یہ شادی خالصتاً من گھڑت داستان ہے جو مسلم لٹریچر اور رومانوی مثنویوں میں منتقل ہوئی۔
• انبیاء کی عصمت کا اصول: یہ اسلامی عقیدے کا بنیادی اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء علیہم السلام کے بستر اور ناموس کو اخلاقی غلاظت سے پاک رکھتا ہے۔ کسی نبی کی بیوی کافر تو ہو سکتی ہے (جیسے حضرت نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں تھیں)، لیکن وہ بدکردار، فحاش یا زانیہ نہیں ہو سکتی۔ زلیخا کا مکارانہ اور فحش کردار کسی نبی کی زوجیت کے لائق ہی نہیں تھا۔

•• کیا یہ داستان عشق ہے؟؟
یہاں ایک بات واضح طور پر سمجھنے کی ہے کہ سورہ یوسف کوئی عام دنیاوی عشق یا رومانوی کہانی نہیں ہے۔ عزیزِ مصر کی بیوی کا معاملہ اور ان درباری عورتوں کا طرزِ عمل دراصل اس دور کے شاہی مصر کے ایک بدبودار معاشرے اور اس کے اندر ہونے والی شدید اخلاقی گراوٹ اور گند کی ایک بدترین مثال ہے۔قرآن اس واقعے کو کوئی رومانوی رول ماڈل پیش کرنے کے لیے نہیں لایا، بلکہ اس دور کے بگڑے ہوئے محلاتی نظام کی اخلاقی سڑاند کو بے نقاب کرنے کے لیے لایا ہے، جہاں گناہ پر فخر کیا جاتا تھا اور پاکبازوں کو جیل بھیجا جاتا تھا۔ یہ عبرت کا مقام ہے، محبت کا افسانہ نہیں۔

عام طور پر قصہِ یوسف پڑھتے ہوئے پورا دھیان صرف بھائیوں کی معافی کی طرف جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھائیوں کا ستم تو صرف ایک وقتی جدائی کا ذریعہ بنا، جبکہ سب سے زیادہ تکلیف، شدید ترین ذہنی اذیت اور سالہا سال قیدِ تنہائی کی مصیبت جس کردار کی وجہ سے آئی، وہ یہی عورت تھی۔ قرآن گواہی دیتا ہے کہ جب سچائی کھل کر سامنے آئی تو اس نے خود اعترافِ جرم کیا کہ "میں نے ہی اسے بہلانا چاہا تھا اور وہ سچا ہے" (سورہ یوسف: ۵۱)۔
اس کے بعد جب حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے حاکم بنے، تو انہوں نے اقتدار کے باوجود اس عورت اور اس کی سہیلیوں کو کوئی سزا نہیں دی، بلکہ درگزر فرما دیا۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ جو گناہگار سچی توبہ کر لیں وہ نیک تصور کیے جاتے ہیں اور ایمان لانے کے بعد اس عورت کا مقام بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھیوں اور صحابہ میں شمار ہو سکتا ہے۔ لیکن اس توبہ کے باوجود، ان کا یہ مقام ہرگز نہیں بنتا کہ انہیں انبیاء کی پاکیزہ بیویوں (ازواجِ مطہرات) میں شامل کیا جائے یا انہیں مسلم خواتین کے لیے ایک رول ماڈل بنا کر پیش کیا جائے، کیونکہ ان کی پہچان کا بڑا حصہ ایک منفی اور اخلاقی فتنہ کے پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔
اسلامی تاریخ میں معافی کی سب سے بڑی مثال وہ لوگ ہیں جن کو فتح مکہ کے موقع پر رسول کریمﷺ نے "طلقاء" (آزاد کیے گئے لوگ) کہہ کر معاف فرمایا تھا، اور آقا کریمﷺ نے بھی اس دن مکہ کے جانی دشمنوں کو معاف کرنے کے لیے اسی سورہ یوسف کی آیت پڑھی تھی کہ "آج تم پر کوئی گرفت نہیں"۔ پس جس طرح رسول کریمﷺ نے قریش کو معاف فرمایا، بالکل اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے قصے کی شدید ترین اذیت پہنچانے والی اس عورت کو معاف فرما کر اخلاقِ نبوت کا اصل عروج دکھایا۔
چونکہ اس کردار کا پورا تذکرہ تاریخ میں مکر، فحش کے سرِعام اظہار اور ایک نبی کو تڑپانے کی علامت ہے، اس لیے مسلم بچیوں کے لیے یہ نام رکھنا قطعی طور پر مناسب اور موزوں نہیں ہے۔ نام ہمیشہ پاکیزگی اور تقویٰ کی علامت ہونا چاہیے، جیسے امہات المؤمنین اور صحابیاتِ مطہرات کے نام۔ ہمیں اسرائیلی کہانیوں کے رومانوی سحر سے نکل کر قرآنی سچائیوں کو اپنانا چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

*آپ یہ دعا کیا کریں کہ یااللہ میں نیکی دیکھنا چاہتا ہوں ، مجھے بدی نہ دِکھا ، آپ دعا کیا کرو یااللہ ہمیں بدی نہ دکھا ، ہ...
16/07/2026

*آپ یہ دعا کیا کریں کہ یااللہ میں نیکی دیکھنا چاہتا ہوں ، مجھے بدی نہ دِکھا ، آپ دعا کیا کرو یااللہ ہمیں بدی نہ دکھا ، ہمیں حادثات نہ دکھا ، ہمیں وہ واقعات دکھا جس سے ہم رحمت میں جائیں ، ہم تیرے فضل کے نظارے دیکھنا چاہتے ہیں ، تیرے نُور کے نظارے دیکھنا چاہتے ہیں ، جہاں ظلم ہو رہا ہو ہمیں وہاں کے نظارے سے بچا ۔
ایک درویش جا رہے تھے ، انہوں نے دیکھا کہ ایک اونٹ وزن سے لدا ہوا جا رہا تھا ، نیچے کیچڑ تھا ، اونٹ کا پاؤں Slip ہوا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ اونٹ وہیں گر گیا ۔ اُوپر بھار تھا ، وزن تھا ۔ وہ درویش مصلّٰی بچھا کے وہیں بیٹھ گیا اور کہا کہ یااللہ تُو نے یہ نظارہ مجھے دکھایا کیوں ، اگر اس کی ٹانگ توڑنی تھی تو میرے بعد توڑ دیتا ، تیرا اپنا اونٹ ہے ، میرے سامنے یہ جو ٹانگ ٹوٹی ہے تو میرے دل میں یہ ٹانگ ٹوٹی پڑی ہے ، اب مہربانی کر کے اسے ٹھیک کر تا کہ پھر مَیں تیرے نام کے سفر پر جاؤں ۔ تو اونٹ ٹھیک ہو گیا ۔ انہوں نے وہاں شکر ادا کیا اور وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ دعا مانگو کہ یااللہ ہمیں ایسے نظارے نہ دکھا جس سے ہمارا احساس مجروح ہو ۔

(گفتگو والیم 20 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 147 ، 148)
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

سوال : جب اپ کوئی کام کر رہے ہیں محنت کر رہے ہیں کوشش میں مصروف ہیں تو جب وہ کام ہو جائے تو یہ ضرور سوچنا کہ رضا کس کی ہ...
14/07/2026

سوال : جب اپ کوئی کام کر رہے ہیں محنت کر رہے ہیں کوشش میں مصروف ہیں تو جب وہ کام ہو جائے تو یہ ضرور سوچنا کہ رضا کس کی ہے ؟ اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے ؟

جواب :

یہ تو انا ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ کا عمل انا ہے ،
: تو آپ کا عمل کیا ہے ؟ وہ انا ہے

: اور اگر انا کا عمل نہ کرو تو یہ میرے لیے آپ کی مہربانی ہے چاہے وہ عمل کامیاب ہی ہو اگر آپ نے وہ عمل اپنی انا کے لیے کرنا ہے

: تو بہتر ہے کہ پہلے ہی step پر وہ عمل withdraker کر جاؤ ، وہ نہ کرو ،

اگر وہ عمل کسی کی رضا کے لیے ہے اور وہ رضا والا یہ کہہ دے کہ اپ اس کام کو بس کر دو تو وہ کام بند کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ مشکل ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اسے یہ نہ کہنا کہ کل آپ کا حکم اور تھا اور اج اور ہے یہاں پر بڑا اندیشہ پیدا ہوتا ہے ، یہ بات دور لے جاتی ہے

: تو یہ دیکھو کہ رضا کس کی ہے ؟
اگر اللہ کی رضا ہے تو آپ اللہ کے لیے کرو پھر آپ کوئی فاول نہیں کرو گے ،
پھر اللہ آپ کے عمل میں آپ کے ساتھ شامل ہے
” اپنی رضا کو تھوڑی دیر کے لیے روک دو یہ انا کہلاتی ہے ۔۔۔ “

اس لیے اگر حلقے کے حوالے سے میں آپ کو کوئی بات کروں تو آپ میرے کہنے کے مطابق عمل کرو،،

: میں آپ کو چھوٹا سفر بتا رہا ہوں کہ اپنی زندگی پہ راضی ہونا سیکھ لو ،
: پہلا کام تو یہ کر لو اپنے گردو پیش پر فی الحال راضی ہو جاؤ
: جو ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے ، جب تک آپ کی استعداد نہیں ہے ، یہ ٹھیک ہو رہا ہے ،
: جب استعداد پیدا ہو جائے گی آپ کے اندر خود بخود عمل پیدا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر زمین پیاسی ہے ،،، ” تو آپ پرواہ نہ کرو “
اللہ سبب بنا دے گا دریا چل پڑیں گے اور پانی کی پیاس بجھ جائے گی یہ اللہ کے کام ہیں اللہ کے کام اللہ کے حوالے سے آپ دیکھو کہ وہ کیسے انتظام فرماتا ہے کیسے پیاس بجھاتا ہے ،

کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی آدمی کا عمل بڑا کامیاب ہوتا ہے مگر نتیجہ نہیں نکلتا ,
کتنی موومنٹ بنیں مگر کامیاب نہ ہوئی اج کل کئی جماعتیں ہیں بڑی کامیاب جماعتیں ہیں , مگر نتیجہ نہیں نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام کے حوالے سے دیکھو تو افغانستان میں اسلام موجود ہے لیکن نتیجہ کیا ہے ، ہندوستان کے مسلمانوں میں اسلام موجود ہے مگر نتیجہ کیا ہے بنگلہ دیش میں دیکھو ایران میں دیکھو کہ نتیجہ کیا ہے ،
: اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی خاص بات ہے اور وہ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے خاص بات ہے ,

: میں بار بار یہ بات کہہ رہا ہوں کہ آپ کسی وجہ سے ابھی تک محفوظ ہو تو وجہ کوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور وہ” وجہ مجھے معلوم “ ہے
: آپ کے ساتھ افغانستان کے مسلمانوں کا سا سلوک نہیں ہوا الحمدللہ کہ نہیں ہوا
ایران کے مسلمانوں جیسا سلوک نہیں ہوا عراق جیسا سلوک نہیں ہوا,

: ہندوستان کا مسلمان وہ ہے کہ جس بیچارے کے پاس کچھ ہے ہی نہیں رونے کے لیے انسو بھی نہیں رہ گئے ،
: ایک جیسا سلوک بھی نہیں ہوا آپ کے ساتھ بنگلہ دیش جیسا سلوک نہیں ہوا آپ ابھی تک بچے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ کوئی حادثہ گزر جائے آپ لوگ توبہ کر کے ٹھیک ہو جاؤ
اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ سب مسلمانوں پر کوئی نہ کوئی ابتلا آ گئی

: مگر آپ مجموعی طور پر محفوظ ہیں ہم دعا یہ کر رہے ہیں کہ محفوظ رہیں اگر آپ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے تو پھر بڑی مشکل ہو جائے گی ,

: کوئی نہ کوئی واقعہ بن جائے گا ,

: اس لیے, اے صاحبان عقل و بصیرت ,
: آپ اپنے ہونے کا شکر ادا کریں دنیا میں آپ نہ ہونا دیکھ رہے ہیں آپ ابھی موجود ہیں اس کا شکر ادا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شکر کے حوالے سے اپنا کوئی عمل تجویز کریں اپنا کوئی نیا نام رکھیں

کہ آپ اللہ کے سپاہی ہیں یا پھر کون ہیں,

آپ نے اگر دین کو مانا ہوا ہے تو دل سے مان لو ,
________منافق نہ بننا ________

ایک بات یہ کرنا کہ جس آدمی کو آپ اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں اس کا ادب دل سے کرنا چاہے وہ کہیں ہو کوئی ہو
اور جس آدمی کو اپنے سے کم سمجھتے ہیں اس سے محبت ضرور کرنا
یہ دو کام ضرور کرنا

کوئیRival پیدا نہ کرنا برابر کی ٹکر آپ نہ لگایا کریں
یا کسی ادمی کو ادب کے ساتھ Acknowledge کر لو ،
یا پھر کسی آدمی کو محبت سے Accommodate کر لو ۔۔۔۔۔۔
اتنی بات تو مان لو میری ،

گفتگو 22 صفحہ نمبر 141
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ

کامیابی کسی نقطے کا نام نہیں ، یہ مزاج کا نام ہے ۔  بڑے بڑے فاتحین ، جنگیں ہارنے کے بعد بھی فاتحین ہی رہے ۔ ہمارے پاس مث...
13/07/2026

کامیابی کسی نقطے کا نام نہیں ، یہ مزاج کا نام ہے ۔
بڑے بڑے فاتحین ، جنگیں ہارنے کے بعد بھی فاتحین ہی رہے ۔ ہمارے پاس مثال موجود ہے جسے اللّٰہ تعالی نے فتحِ مبین قرار دیا ۔
کربلا کی شکست ، فتح کی بشارت ہے ۔
ہم جسے تاریکی سمجھ رہے ہیں ، یہی صبحِ کاذب تو صُبحِ صادق کا آغاز ہے ۔
چلتے چلیں ، منزلیں خود ہی سلام کریں گی ۔

دنیا کے خلاف فریاد نہ کریں ۔ کوشش کریں کہ کوئی آپ کے خلاف فریاد نہ کرے ۔ دوسروں کو خوش کریں ۔ خوشی خود ہی مل جائے گی ۔۔۔۔ اور یہی جینے کا جواز ہے ۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب ( حرف حرف حقیقت )

کرپٹو کرنسی حرام ہے  تحریر: فاروقی جیسے ڈاکٹر مریض کی بدلتی ہوئی حالت ، نئی میڈیکل ریسرچ اور بیماری کی شدت کو دیکھ کر دو...
10/07/2026

کرپٹو کرنسی حرام ہے
تحریر: فاروقی
جیسے ڈاکٹر مریض کی بدلتی ہوئی حالت ، نئی میڈیکل ریسرچ اور بیماری کی شدت کو دیکھ کر دوا بدل دیتا ہے کہ حتیٰ کہ بسا اوقات وہ ڈاکٹر مریض کو وہی دوا دوبارہ شروع کرا دیتا ہے جس سے اس نے خود ہی پہلے منع کیا تھا ۔

اور پھر اس دوران ۔۔۔ کوئی بھی دانشور ڈاکٹر پر یہ اعتراض نہیں کرتا کہ : تم پہلے اس دوا سے منع کر رہے تھے ، اب کیوں دے رہے ہو ؟

کیوں نہیں کرتا ؟ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اب حالات بدل گئے ہیں ، ریسرچ بدل گئی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ بالکل اسی طرح مفتی اور عالم بھی دین کا ماہر ڈاکٹر ہے ۔۔۔ وہ ٹیکنالوجی کے بدلنے ، معلومات کے واضح ہونے اور امت کی ضرورت کو دیکھ کر شریعت کے اصولوں کے مطابق ہی نیا حکم بیان کرتا ہے اور جو حکم وہ بیان کرتا ہے ۔۔۔ وہ شریعت کا حکم ہی ہوتا ہے ۔

بات کو سمجھئے ۔۔۔ ہماری عوام کو لگتا ہے کہ جب بھی کوئی جدید ایجاد یا کوئی ماڈرن چیز سامنے آتی ہے تو یہ مولوی لوگ سب سے پہلے اس کا انکار کر دیتے ہیں اسے ناجائز کہہ دیتے ہیں ۔۔۔ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اسے جائز قرار دیتے ہیں بلکہ خود بھی اس پر آ جاتے ہیں اور اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔

اور پھر عوام اس اعتراض کے ثبوت میں کچھ مثالیں بھی پیش کرتی ہے ، جیسے اسپیکر کہ جب پہلی بار مارکیٹ میں آیا تو مولویوں نے اسے ناجائز کہا ۔۔۔۔ جب تصویر کا آغاز ہوا تو اسے ناجائز کہا گیا اور اب مولویوں کے اپنے یوٹیوب چینلز ہیں اور ان کی ویڈیوز چل رہی ہیں ۔۔۔ اسی طرح چھاپہ خانہ (Publishing System) جب یہ ٹیکنالوجی آئی تو اسے ناجائز اور کفر قرار دیا گیا ۔۔۔ اسی طرح بینکنگ کے معاملہ بھی کہ جب شروع ہوا تو اسے سود کہہ کر مسترد کیا گیا اور اب اسے (اسلامی بینکنگ کی صورت میں) حلال قرار دے دیا گیا ہے اور کتابیں بھی شائع ہو رہی ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں کہ آگے بات کہ تہہ میں اتروں ۔۔۔ اہک سوال کا جواب دیجئے اور انصاف سے بتائیے ، کیا دنیا میں چیزیں نہیں بدل رہیں ؟ اچھا آپ خود ہی بتائیے ، وہ کون سی چیز ہے جس میں تبدیلی نہیں آئی ؟ کائنات کی ہر شے مائل بہ تبدیلی ہے اور جب اس تبدیلی کا اعتراف خود آپ کو بھی ہے تو پھر اس بدلی ہوئی حقیقت کے شرعی حکم پر غور کیوں نہ کیا جائے ؟ کیا نئی حقیقت کے سامنے آنے کے بعد بھی پرانے حکم پر جمے رہنا دانش مندی ہے ؟

ویسے تو ہر جگہ یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ زمانے کی رفتار اتنی تیز ہے ، نئی سے نئی ٹیکنالوجی آ رہی ہے ، حالات بدل رہے ہیں تو ہمارے مفتی اور علماء آگے کیوں نہیں بڑھتے ؟ وہ جدید دور کے مسائل پر ریسرچ کیوں نہیں کرتے ؟ وہ وقت کے ساتھ کیوں نہیں چلتے ؟
اور اللہ کے بندو! جب وہی مفتی اور علماء دن رات ایک کر کے جدید مسائل پر ریسرچ کرنے لگیں ، ٹیکنالوجی کی گہرائی میں اتر کر اس کی حقیقت معلوم کریں اور بدلے ہوئے حالات کے مطابق شریعت کا بالکل درست اور حلال راستہ نکال کر سامنے رکھیں تو پھر اسی ریسرچ اور تحقیق کو تضاد کا نام دے دیا جاتا ہے!

اس لئے میرے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ ہمارے عام بہن بھائیوں کو یہ بنیادی نکتہ سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ فقہائے کرام اور مفتیانِ عظام کبھی بھی کسی چیز کے صرف ۔۔۔ نام ۔۔۔ کو نہیں دیکھتے بلکہ وہ اس کی اصل ۔۔۔ حقیقت ۔۔۔ پر نظر رکھتے ہیں کہ بعض اوقات کسی چیز کا نام وہی رہتا ہے ، وہ بظاہر دکھنے میں بھی پہلے جیسی ہی لگتی ہے لیکن اس کے پیچھے کام کرنے والی ٹیکنالوجی اور حقیقت پوری کی پوری بدل چکی ہوتی ہے ۔۔۔۔ اب جب اس کی حقیقت ہی بدل گئی تو عقل اور منطق کا یہ واضح تقاضا ہے کہ اس کا شرعی حکم بھی بدل جائے۔

مثال کے طور پر ، آپ کیمرے کی ہی مثال لے لیجیے ۔۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کا روایتی کیمرہ اور آج کا جدید ڈیجیٹل کیمرا بالکل ایک جیسے ہیں ؟ کیا دونوں کے کام کرنے کا طریقہ اور حقیقت ایک ہی ہے ؟ اگر یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور پہلے کیمرے کے مقابلے میں آج کے موبائل کیمرے کے پیچھے موجود حقائق بالکل مختلف ہو چکے ہیں تو پھر انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں کا شرعی حکم بھی الگ ہونا چاہیے۔

عوام سمجھتی ہے کہ مفتی صاحب صبح اٹھے اور بیٹھے بیٹھے کہہ دیا کہ "آج سے یہ چیز حلال ہے"۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا ۔۔۔ بلکہ اس کے پیچھے پورا ایک علمی پروسیس ہوتا ہے جس کا ایک مرحلہ ذکر کئے دیتا ہوں تاکہ بات سمجھ میں آجائے ۔۔۔ اور وہ مرحلہ ہے "تحقیق اور احتیاط" کہ جب بھی دنیا میں کوئی بالکل نئی چیز آتی ہے (جیسے شروع میں کیمرہ ، اسپیکر، یا آج کے دور میں کرپٹو کرنسی اور اے آئی وغیرہ) تو وہ مفتی صاحب کے لیے ایک "نامعلوم" چیز ہوتی ہے۔

اب یہاں اسلام کا ایک بڑا بنیادی اصول حرکت میں آتا ہے جس کا نام ہے : "احتیاط" ۔ کیا مطلب ؟ یعنی جب تک کسی نئی چیز کے نفع و نقصان اور اس کے اچھے یا برے اثرات کا پوری طرح پتہ نہ چل جائے اس وقت تک عوام الناس کو ممکنہ نقصان اور گناہ سے بچانے کے لیے احتیاطاً اس سے روکا جاتا ہے اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی نئی بیماری آئے تو ڈاکٹرز احتیاطاً کہتے ہیں کہ جب تک اس کی ویکسین یا دوا نہ بن جائے کوئی بھی یہ چیز نہ کھائے ۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہر چیز کا حکم وقت کے ساتھ بدل جائے ۔۔۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جہاں ٹیکنالوجی اور حالات کے بدلنے سے ہمیں حکم تبدیل ہوتا ہوا نظر آتا ہے ۔

اور ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ جدید مسائل میں حکم کی اس تبدیلی کی چار بڑی وجوہات ہیں ۔

پہلی وجہ ) ٹیکنالوجی کا فرق (Difference in Technology) کہ بعض اوقات ایک چیز جب شروع میں آتی ہے تو اس کی ٹیکنالوجی الگ ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں بنیادی تبدیلی آ جاتی ہے ۔۔۔ بظاہر وہ چیز دیکھنے میں ویسی ہی لگتی ہے لیکن اس کا اندرونی نظام بدل چکا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر تصویر کو لے لیں بالکل ابتدائی زمانے میں تصویر ہاتھ سے کاغذ ، دیواروں یا کھالوں پر بنائی جاتی تھی ۔۔۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ، اس لیے فقہاء نے بھی اسے ناجائز کہا ۔۔۔ پھر کیمرہ آیا ، جو نیگیٹو فلم پر تصویر کو چھاپتا تھا اور کیمیکل کے ذریعے اسے کارڈ پر اتارا جاتا تھا ۔۔۔ پھر موجودہ دور میں ڈیجیٹل تصویر سامنے آئی ۔۔۔ اس میں کیمرہ تصویر محفوظ تو کرتا ہے لیکن وہ اسے کہیں چھاپتا نہیں بلکہ وہ بجلی کے سگنلز اور کوڈز (Digital Signals) کی شکل میں اسکرین کے اندر ہی رہتی ہے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ٹیکنالوجی بدلنے سے حکم بدل گیا ۔

لیکن عوام کو بظاہر یہ لگتا ہے کہ "تصویر" تو پہلے بھی تصویر تھی اور آج بھی تصویر ہے ، پھر حکم کیوں بدلا ؟ ایسے موقع پر علم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افسوسناک المناک بات یہ ہے کہ ہم اپنی جہالت اور تربیت کا ثبوت دینے کمینٹ سیکشن میں دینے آجاتے ہیں ۔۔۔ بہرحال منطق کا اصول یہ ہے کہ حکم نام پر نہیں چیز کی حقیقت اور صفت پر لگتا ہے ۔۔۔ مثلاً اگر ایک گلاس میں "شراب" ہو تو اس کا پینا حرام ہے۔ اگر کچھ عرصے بعد وہ شراب خودبخود "سرکہ" بن جائے (جس کا کیمیکل سٹرکچر بدل جائے) تو اب اس کا استعمال حلال ہو جاتا ہے۔ بظاہر مائع (Liquid) وہی ہے، گلاس وہی ہے لیکن اندر کی حقیقت بدل گئی ۔۔۔ تو اب حکم بھی بدل گیا ۔

اسی طرح ہاتھ سے بنی تصویر میں انسان خود خالق (Creator) بننے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ ممنوع ہے۔ کیمرے کی تصویر میں انسان صرف عکس کو قید کر رہا ہے وہ تخلیق نہیں کر رہا اور ڈیجیٹل تصویر (موبائل اسکرین) میں تو وہ تصویر کاغذ پر موجود ہی نہیں ہے بلکہ بجلی کے سگنلز ہیں۔ چونکہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے چیز کی حقیقت بدل گئی اس لیے عقل کا تقاضا ہے کہ اس کا حکم بھی بدل جائے۔ لیکن یہ ساری باتیں میں نے کہا اہل علم اور عقل والوں کیلئے ہے ۔ جہلاء کو میری طرف سے پیار بھرا سلام ۔

سو ۔۔۔ آج بھی اگر اس ڈیجیٹل تصویر کو کاغذ پر پرنٹ (Print) کیا جائے تو علمائے کرام اسے (بلا ضرورت) جائز نہیں فرماتے ۔
معلوم ہوا کہ حکم تصویر کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود ٹیکنالوجی کا بدلا ہے۔

اسی طرح جب اسپیکر نیا نیا آیا ، تو بحث یہ چلی کہ اس سے آنے والی آواز حقیقی انسان کی ہے یا اس کی گونج (Echo/بازگشت) ہے ؟ اس وقت لاؤڈ اسپیکر کی ٹیکنالوجی میں آواز کے درمیان تھوڑا سا وقفہ (Delay/Gap) بھی ہوتا تھا ۔۔۔ اس بنیاد پر کچھ علمائے کرام نے یہ فتویٰ دیا کہ اس کے پیچھے نماز ادا کرنا درست نہیں کیونکہ نماز کا اصول یہ ہے کہ امام یا مکبّر کی اصل آواز منتقل ہونی چاہیے۔ ۔۔۔ علماء نے اس وقت بھی مطلقاً اسپیکر کو حرام نہیں کہا تھا بلکہ صرف نماز کے درست ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ بیان کیا تھا۔

دوسری بڑی وجہ ) مفتی کوئی نجومی یا غیب دان تو ہوتا نہیں بلکہ جب بھی کوئی نئی چیز مارکیٹ میں آتی ہے تو مفتی صاحب اس وقت کے سائنسدانوں اور ماہرین سے پوچھتے ہیں کہ "یہ کیا چیز ہے؟" ماہرین اس وقت جو معلومات دیتے ہیں ، مفتی اسی کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔۔۔ مفتی صاحب کو چھوڑیں ۔۔۔ ابتدا میں تو ماہرین کے پاس بھی اس کی مکمل معلومات نہیں ہوتیں ۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت واضح ہوتی ہے ۔۔۔ مثال لے لیں (کرپٹو کرنسی / بٹ کوائن) کی ۔۔۔ کہ جب کرپٹو کرنسی یا کوئی نیا معاشی نظام آیا ہے ، تو شروع میں وہ ایک مبہم (شکوک و شبہات سے بھری) چیز تھی اور اسلام کا اصول ہے کہ جس چیز میں دھوکا یا نقصان کا اندیشہ ہو ، اس سے بچو ۔۔۔ اس لیے احتیاطاً منع کیا گیا لیکن جب وقت کے ساتھ اس کے قوانین واضح ہونے لگے ہیں تو علماء کرام کی آراء میں اختلاف بھی پیدا ہونے لگا ہے ۔

تیسری وجہ ) عرف اور رواج کا بدلنا کیونکہ شریعت کے کچھ احکام کا تعلق "عرف" (عوام کے رواج اور ٹرینڈ) سے ہوتا ہے ۔۔۔ ایک زمانے میں ایک چیز معاشرے میں رائج نہیں ہوتی ۔۔۔ اس لیے اس کا حکم مختلف ہوتا ہے لیکن جب وہ عام ہو جائے تو حکم بدل جاتا ہے ۔۔۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں بھی مسلمانوں کے متفقہ اور مشترکہ معاملات (عرف) کو برقرار رکھا گیا ۔۔۔ لہٰذا ، عرف بدلنے سے بھی حکم میں تبدیلی آتی ہے۔

اور چوتھی وجہ ) کہ ضرورت اور حاجت کے تحت دوسرے مسلک پر فتویٰ بھی دے دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ چونکہ ہم لوگ بنیادی طور پر پاکستان میں فقہ حنفی کے پیروکار ہیں اور اسی کے مطابق فتاویٰ دیے جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ کسی مسئلے میں عوام کو شدید ترین مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور فقہ حنفی کے مطابق اس پر عمل کرنا ممکن نہیں رہتا۔
ایسی صورتحال میں مفتیانِ کرام اجتماعی غور و فکر کرتے ہیں اور ضرورتِ شدید کے تحت فقہ مالکی ، شافعی یا حنبلی کے اصولوں کے مطابق فتویٰ دے دیتے ہیں تاکہ امت کے لیے آسانی پیدا ہو ۔۔۔ بظاہر دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ مولویوں نے حکم بدل دیا ، حالانکہ وہ شریعت کے اندر ہی موجود دوسرے معتبر فقہی مکتبِ فکر کی رخصت پر عمل کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ آپ دیکھ لیں کہ کہ روایتی بینکنگ واقعی سود اور حرام تھی علمائے کرام نے اس کی متبادل "اسلامی بینکنگ" کی صورت میں حلال تجارت کا راستہ نکالا ہے ۔۔۔ تو کیا یہ حکم کا بدلنا ہوا ؟ نہیں ۔ بلکہ یہ تو حرام کے مقابلے میں حلال متبادل (Alternative) فراہم کرنا کہلاتا ہے ۔
لیکن عوام کو کیا لگتا ہے کہ جس "بینک" کو مولوی کل تک حرام کہہ رہے تھے آج اسی کے باہر "اسلامی" کا بورڈ لگا کر اسے حلال کہہ دیا۔

اس تمام تفصیلات کو جاننے کے بعد ہمارے لیے اب کیا حکم ہے ؟

یعنی اگر مستقبل میں ٹیکنالوجی یا معلومات بدلنے سے حکم بدل سکتا ہے تو ہم موجودہ دور میں کیا کریں ؟
موجودہ دور میں موجودہ حکم پر عمل کریں ۔۔۔ کیوں ؟ کیونکہ ہمارا کام مستقبل کی فکر کرنا نہیں بلکہ حال میں جو شرعی حکم موجود ہے اس پر عمل کرنا ہے تاکہ ہم ثواب حاصل کر سکیں اور گناہ سے بچ سکیں۔

دوسرا سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کی صورت میں کیا کریں ؟ یعنی اگر کسی جدید مسئلے میں دو مفتیانِ کرام کی رائے مختلف ہو تو شریعت کا اصول یہ ہے کہ:
جس عالم یا مفتی کے علم اور تقویٰ پر آپ کو زیادہ اعتماد ہو ، جو دین دار ہو اور اس فیلڈ (جدید مسائل) کا گہرا علم رکھتا ہو آپ اس کے فتوے پر عمل کر لیں۔

واللہ اعلم باالصواب

07/07/2026

صداقت کی جیت اور عشقِ رسول ﷺ کا کڑا امتحان

تاریخِ اسلام میں جہاں جانثاری اور شجاعت کی ان گنت داستانیں بکھری پڑی ہیں، وہیں حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے اور پھر توبہ کی قبولیت کا واقعہ اپنے اندر ایک منفرد سبق رکھتا ہے۔ یہ محض ایک لغزش کی کہانی نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری، کٹھن آزمائش اور پچاس راتوں کے صبرِ جمیل کے بعد نازل ہونے والے الٰہی انعام کا ایک لازوال قصہ ہے۔ صحیح بخاری کی طویل ترین اور جامع ترین روایات میں شامل یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب دنیا کے سب راستے مسدود ہو جائیں، تو سچائی انسان کو اللہ کی رحمت کے حصار میں لے آتی ہے۔

موسم کی سختی، باغات کی رونق اور تبوک کا بلاوا
9 ہجری کا دور تھا، مدینہ منورہ شدید تپش کی لپیٹ میں تھا اور کھجوروں کے باغات پھلوں سے لاد چکے تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب کسان اپنی محنت کا پھل سائے میں بیٹھ کر سمیٹنا چاہتا ہے۔ عین اسی مرحلے پر رسول اللہ ﷺ نے رومیوں کے لشکر کے خلاف غزوۂ تبوک کا اعلان فرما دیا۔ عام روایات کے برعکس، سفر کی طویل مسافت، جھلسا دینے والی گرمی اور دشمن کی کثیر تعداد کے پیشِ نظر آپ ﷺ نے اس غزوے کا ببانگِ دہل اعلان کیا تاکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق مکمل تیاری کر سکے۔
حضرت کعب بن مالکؓ اس منظر کی منظرکشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اس وقت میری مالی حالت بہت مستحکم تھی اور زندگی میں پہلی بار میرے پاس ایک ساتھ دو سواریاں موجود تھیں۔ میں روز دل میں ارادہ کرتا کہ کل تیاری شروع کروں گا، پرسوں سامان باندھوں گا... اسی ٹال مٹول اور سستی میں دن گزرتے گئے اور مجاہدین کا لشکر روانہ ہو گیا، جبکہ میں مدینہ ہی میں رہ گیا۔"

جب اسلامی فوج کوچ کر گئی، تو حضرت کعبؓ جب بھی مدینہ کی گلیوں کا رخ کرتے، ان کا دل بیٹھ جاتا؛ کیونکہ شہر میں پیچھے رہ جانے والوں میں صرف وہی لوگ نظر آتے جو یا تو منافق تھے یا پھر وہ معذور جنہیں اللہ نے جہاد سے رخصت دے رکھی تھی۔

سپہ سالارِ اعظم ﷺ کی واپسی اور کڑا عدالتی منظر
جب سرورِ کائنات ﷺ تبوک کی مہم سے سرخرو ہو کر مدینہ واپس تشریف لائے، تو اپنے معمول کے مطابق سب سے پہلے مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا کی اور پھر لوگوں کے احوال جاننے کے لیے بیٹھ گئے۔ تقریباً اسی (80) سے زائد منافقین نے باری باری آ کر جھوٹے بہانے بنائے اور قسمیں کھائیں۔ رحمتِ عالم ﷺ نے ان کے ظاہری عذر کو قبول فرمایا، ان کے حق میں دعا کی اور ان کے باطن کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔
پھر جب حضرت کعب بن مالکؓ کی باری آئی، تو انہوں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھ کر ایک ایسی مسکراہٹ دی جس میں پیار بھی تھا اور ناراضگی بھی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "تم کیوں پیچھے رہ گئے؟ کیا تم نے سواری کا انتظام نہیں کیا تھا؟"
حضرت کعبؓ نے اس نازک موڑ پر وہ تاریخی جملہ کہا جو رہتی دنیا تک کے لیے سچائی کی دلیل بن گیا:
"اے اللہ کے رسول! خدا کی قسم! اگر میں دنیا کے کسی عام حکمران کے سامنے بیٹھا ہوتا، تو اپنی چرب زبانی سے کوئی بھی عذر گھڑ کر اس کی ناراضگی سے بچ نکلتا، کیونکہ مجھے گفتگو کا ملکہ حاصل ہے۔ لیکن خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اگر آج میں نے آپ سے جھوٹ بول کر آپ کو عارضی طور پر راضی کر بھی لیا، تو عنقریب میرا رب آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا۔ اور اگر میں سچ بولوں گا تو یقیناً آپ کو ناگوار گزرے گا، مگر مجھے اللہ سے بہترین انجام کی امید ہے۔ سچ یہ ہے کہ میرے پاس پیچھے رہنے کا کوئی عذر نہ تھا، میں اس وقت اپنی زندگی کے سب سے بہترین اور خوشحال دور میں تھا۔"

یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس شخص نے بالکل سچ کہا ہے۔ اچھا، اب تم یہاں سے اٹھ جاؤ، یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے کا فیصلہ فرما دے۔"۔حضرت کعبؓ کے علاوہ دو اور جلیل القدر صحابہ حضرت مرارہ بن ربیع العمریؓ اور حضرت ہلال بن امیہ الواقفیؓ نے بھی اسی سچائی کا دامن تھاما۔

مدینہ کا مقاطعہ اور آزمائش کی پچاس راتیں
سچائی کا پہلا مرحلہ یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام مسلمانوں کو ان تینوں اصحاب سے بات چیت کرنے سے سختی سے روک دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ کا ماحول یکسر بدل گیا۔ حضرت کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود مجھ پر تنگ ہو گئی، اور مجھے یوں لگتا تھا جیسے میں کسی اجنبی بستی میں آ گیا ہوں۔
پہلے چالیس دن کا بائیکاٹ: بقیہ دو صحابہ عمر رسیدہ ہونے کے باعث گھروں میں محصور ہو کر روتے رہتے تھے، لیکن کعب بن مالکؓ جوان اور قوی تھے؛ وہ بازاروں میں بھی نکلتے، جماعت کے ساتھ نماز بھی پڑھتے، مگر کوئی ان کے سلام کا جواب تک نہ دیتا۔ وہ نبی کریم ﷺ کی محفل میں جا کر بیٹھتے اور کنکھیوں سے آپ ﷺ کے چہرہِ انور کو دیکھتے؛ جب کعبؓ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ ﷺ ان کی طرف دیکھتے، اور جیسے ہی کعبؓ کی نظر پڑتی، آپ ﷺ رخِ مبارک پھیر لیتے۔
شاہِ غسان کی پیشکش: اس کٹھن آزمائش کے دوران سلطنتِ روم کے زیرِ اثر غسان کے حکمران کا ایک قاصد مدینہ آیا اور کعبؓ کو ایک خط تھمایا، جس میں لکھا تھا: "ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے آقا نے تم پر جفا کی ہے۔ تم ہماری پناہ میں آ جاؤ، ہم تمہاری قدر و منزلت کریں گے۔" کعبؓ نے خط پڑھتے ہی کہا: "یہ ایک اور فتنہ ہے!"* اور انہوں نے فوراً اس خط کو تندور کی آگ کی نذر کر دیا۔
امتحان کا آخری مرحلہ: چالیس دن بیت جانے پر اللہ کے رسول ﷺ کا ایک فرستادہ پہنچا اور حکم دیا کہ "اپنی زوجہ سے بھی دور ہو جاؤ (مگر طلاق نہیں دینی)"۔ کعبؓ نے فرمانِ نبوی کے آگے سر جھکاتے ہوئے اپنی اہلیہ کو ان کے میکے بھیج دیا۔

آسمان سے نازل ہونے والا الٰہی مژدہ
جب پچاس طویل راتیں مکمل ہو گئیں اور صدمے کی شدت جان لیوا ہونے لگی، تو فجر کی نماز کے بعد کائنات کے مالک نے اپنے حبیب ﷺ پر ان تینوں سچے دلوں کی توبہ کی قبولیت کا پروانہ نازل فرما دیا۔
قرآنِ کریم کی سورہ التوبہ میں اس دلدوز اور رقت آمیز منظر کو ان الفاظ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا:

وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔
ترجمہ: "اور (اللہ نے) ان تینوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی کر دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ (کے غضب) سے خود اسی کی پناہ کے سوا کوئی مفر نہیں، پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کر لیں۔ بیشک اللہ ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ ہو جاؤ۔" (سورہ التوبہ: 118-119)

مسرت کی لہر اور سچائی کا انعام
توبہ کی خوشخبری ملتے ہی مدینہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ایک پکارنے والے نے سلع پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر پکارا: "اے کعب بن مالک! تمہیں بہت بہت مبارک ہو!" کعبؓ یہ مژدہ سنتے ہی سجدہ شکر میں گر گئے۔
جب وہ مسجدِ نبوی کی طرف روانہ ہوئے، تو صحابہ کرامؓ ان کا استقبال کرنے اور مبارکباد دینے کے لیے دوڑ پڑے۔ سب سے پہلے حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھاما اور گلے لگایا (حضرت کعبؓ ان کی اس والہانہ محبت کو زندگی بھر یاد کرتے رہے)۔
جب وہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے، تو سرکارِ دو عالم ﷺ کا چہرۂ مبارک خوشی سے چودھویں کے چاند کی مانند دمک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے کعب! تمہیں تمہاری زندگی کے اس بہترین دن کی خوشخبری ہو، جو تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک تم پر آیا ہے!"

حضرت کعبؓ اس قدر نہال ہوئے کہ اپنا تمام مال راہِ خدا میں صدقہ کرنا چاہا، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ مال اپنے پاس بھی رکھو۔ اس موقع پر انہوں نے عزم کیا: "یا رسول اللہ! اللہ نے مجھے صرف سچائی کی بدولت اس آزمائش سے نکالا ہے، لہٰذا اب میں زندگی کے آخری سانس تک کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔"

نتیجہ فکر
حضرت کعب بن مالکؓ کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مصلحت پسندانہ جھوٹ انسان کو عارضی فائدہ تو دے سکتا ہے مگر باطن کو کھوکھلا کر دیتا ہے، جبکہ سچ کا راستہ اگرچہ ابتدا میں کٹھن اور کٹھالی سے گزارنے والا ہو سکتا ہے، لیکن اس کا انجام ابدی کامیابی اور اللہ کی رضا ہے۔

مستند مراجع
* صحیح البخاری
* صحیح مسلم
* جامع الترمذی
* السیرۃ النبویۃ لبن ہشام
* تفسیر ابن کثیر

Address

Housing Scheme No 1 Gujarkhan
Gujar Khan
47850

Opening Hours

Monday 08:00 - 15:00
Tuesday 08:00 - 15:00
Wednesday 08:00 - 15:00
Thursday 08:00 - 15:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 15:00

Telephone

+923013313127

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarwar Shaheed - NH Memorial Municipal Library M.C Gujarkhan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category