09/02/2026
ایک مسکراتی زندگی، ایک تلخ حقیقت
روہلانوالی سرکاری ہسپتال میں آج ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے انسانیت، ذمہ داری اور ہمارے نظامِ صحت پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے۔
محمد شعیب نامی ایک نوجوان، جو چند لمحے پہلے تک ہنستا کھیلتا، مسکراتا اور بالکل ٹھیک ٹھاک تھا، اچانک دل کے شدید دورے کا شکار ہو گیا۔ اس کے ساتھی فوراً اسے روہلانوالی سرکاری ہسپتال لے کر پہنچے، اس امید کے ساتھ کہ یہاں اس کی جان بچا لی جائے گی۔
مگر افسوس…
ہسپتال پہنچنے پر وہاں **کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا**۔
نوجوان کے ساتھ آئے افراد نے بھرپور کوشش کی، بار بار فون کیے، منت سماجت کی، ڈاکٹروں کو بلانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر ڈاکٹر موقع پر نہ پہنچ سکے۔ وقت گزرتا رہا، سانسیں کمزور پڑتی گئیں، اور آخرکار محمد شعیب اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں تھی،
یہ **غفلت، لاپرواہی اور بے حسی کی موت تھی**۔
محمد شعیب آج ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی کہانی ایک سوال چھوڑ گئی ہے:
اگر سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر موجود نہیں تو غریب اور بے بس مریض کہاں جائے؟
اگر وقت پر علاج نہ ملے تو ذمہ دار کون ہوگا؟
**یہ تحریر ڈاکٹروں اور ذمہ دار اداروں کے لیے ایک سبق ہے**
کہ ڈاکٹر ہونا صرف ایک نوکری نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔
ہسپتال میں موجود نہ ہونا کسی مریض کی زندگی چھین سکتا ہے۔
ایک لمحے کی غفلت، ایک خاندان کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ سکتی ہے۔
اور **عوام کے لیے یہ پیغام ہے**
کہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں،
آج ہم ہنستے ہیں، کل ہمارا نام بھی کسی تحریر میں ہو سکتا ہے۔
اس لیے انسانیت، احساس اور ذمہ داری کو زندہ رکھیں۔
اللہ تعالیٰ محمد شعیب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،
اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے،
اور ہمیں اتنی ہمت دے کہ ہم ایسے واقعات پر خاموش نہ رہیں بلکہ اصلاح کا سبب بنیں۔
**کیونکہ خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔**
تحریر محمد مزمل حسین
روہلانوالی پریس کلب
Mian Zahid Ismail bhutta MuzInfo Tv
M Ali Arif Khichi Riffat Abbas