04/08/2026
*گوادر کی ترقی اُس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کا فائدہ مقامی نوجوانوں کو نہ پہنچے.*
*میر حمل کلمتی*
بی این پی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر میر حمل کلمتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گوادر کے نام پر ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے دعوے اُس وقت اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں جب انہی منصوبوں میں گوادر کے مقامی نوجوانوں کو نظر انداز کرکے باہر سے لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف مقامی آبادی کے آئینی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ گوادر کے عوام کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کے نوجوان تعلیم، صلاحیت اور تجربہ رکھنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں، جبکہ مختلف سرکاری، نیم سرکاری، نجی اداروں، این جی اوز اور ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل غیر مقامی افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگر گوادر کے وسائل، زمین اور ترقی کے ثمرات سے خود گوادر کے لوگ ہی محروم رہیں تو ایسی ترقی عوام کے لیے نہیں بلکہ احساسِ محرومی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
میر حمل کلمتی نے کہا کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر اپنی بھرتیوں کے طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ لیں، مکمل شفافیت کو یقینی بنائیں اور مقامی امیدواروں کو قانون، میرٹ اور پالیسی کے مطابق ان کا جائز حق دیں۔ گوادر کے عوام کسی رعایت کے طلبگار نہیں، بلکہ اپنے آئینی اور قانونی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بی این پی نے ہمیشہ گوادر کے عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کی بھرپور نمائندگی کی ہے اور آئندہ بھی ہر فورم پر ان کے حق کی آواز بلند کرتی رہے گی۔ مقامی نوجوانوں کے روزگار پر کسی قسم کی سودے بازی یا حق تلفی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر یہ ناانصافیاں بند نہ ہوئیں تو بی این پی عوام کے ساتھ مل کر ہر جمہوری، آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے بھرپور عوامی جدوجہد کرے گی، کیونکہ گوادر کے مستقبل کا فیصلہ گوادر کے عوام کی مرضی اور ان کے حقوق کو نظر انداز کرکے نہیں کیا جا سکتا۔