Ammad Hassan Khan

Ammad Hassan Khan Content Creator 📸 Related Content
Comedy / Entertainment / Fun 💀
TikTok : mainhoonmaadi
Insta : mainhoonmaadi

انکل جی پورے دو گھنٹے سے خوب محنت کر رہے ہیں اس لوہے کے سریے کو توڑنے کے لیے دو گھنٹے محنت کی ہے اتنا تو حق بنتا ہے اگر ...
03/09/2026

انکل جی پورے دو گھنٹے سے خوب محنت کر رہے ہیں اس لوہے کے سریے کو توڑنے کے لیے دو گھنٹے محنت کی ہے اتنا تو حق بنتا ہے اگر دو گھنٹے کے پیسے نہ ملے تو اس کو ساتھ میں لے جائے اور جا کے بیچ لے 🤪

آیت نور ہم انشاءاللہ ہم تمہیں بولیں گے نہیں انصاف دلائیں گے
03/09/2026

آیت نور ہم انشاءاللہ ہم تمہیں بولیں گے نہیں انصاف دلائیں گے



03/09/2026

Khwaab aise hi aate 😂😂

ایک رزلٹ جو خوشی کے بجائے آنکھیں نم کر گیاستیانہ کے 39 گ ب کے یسین بھٹی (بورڈ آفس والے) کے بیٹے کا نہم جماعت کا آج رزلٹ ...
03/09/2026

ایک رزلٹ جو خوشی کے بجائے آنکھیں نم کر گیا

ستیانہ کے 39 گ ب کے یسین بھٹی (بورڈ آفس والے) کے بیٹے کا نہم جماعت کا آج رزلٹ جاری ہوا، جس میں اس نے 532 نمبر حاصل کیے۔

افسوس کہ آج جب اس کی کامیابی کا نتیجہ سامنے آیا تو وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھا۔ 21 اگست 2026 کو ایک افسوسناک ٹریفک ح ا د ث ہ کے بعد وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

532 نمبر اس کی محنت، قابلیت اور روشن مستقبل کے خوابوں کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ رزلٹ اس کے والدین کے لیے یقیناً فخر کا لمحہ بھی ہے اور ایک نہایت یادگار لمحہ بھی۔

کاش آج وہ خود اپنا رزلٹ دیکھتا اور اپنے والدین کے ساتھ اس کامیابی کی خوشی مناتا۔ 💔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین 🤲

باپ چاہے کتنا بھی غریب ہو بیٹی کے لیے وہیں بادشاہ ہوتا ہے سڑک کنارے بیٹھا ہوا باپ اپنی بیٹی کے بالوں کو پونی کر رہا ہے ا...
02/09/2026

باپ چاہے کتنا بھی غریب ہو بیٹی کے لیے وہیں بادشاہ ہوتا ہے سڑک کنارے بیٹھا ہوا باپ اپنی بیٹی کے بالوں کو پونی کر رہا ہے اللہ تعالی اس بیٹی کو نیک بنائے اور اس بھائی پر اپنی رحمت فرمائے تاکہ یہ اپنی بیٹی کو زندگی کی ہر خوشی دے سکے 🥰🤲

آیت نور کیس میں اب تک پولیس کی پوری تفتیش کا مرکزی کردار ملزم عثمان دکھائی دیتا ہے۔ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور نے...
02/09/2026

آیت نور کیس میں اب تک پولیس کی پوری تفتیش کا مرکزی کردار ملزم عثمان دکھائی دیتا ہے۔

ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا

“ملزم عثمان نے معصوم بچی کو اغواء اور زناء بالجبر کا اعتراف عدالت میں کیا، جس کا اقبالِ جرم جج نے ریکارڈ کیا۔”

عثمان نے اقبالی بیان دیا۔
اس نے آیت نور کے اغوا کا اعتراف کیا۔
اس نے آیت نور سے زنا بالجبر/زیادتی کا اعتراف کیا۔
یہ اعتراف پولیس کے سامنے نہیں بلکہ عدالت میں جج نے ریکارڈ کیا۔

لیکن اس پورے معاملے میں ڈی پی او نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ طلحہ نے زیادتی کا اعتراف کیا یا قاسم نے زیادتی کا اعتراف کیا۔ بلکہ دونوں کے بارے میں صرف ریمانڈ کی کارروائی بتائی گئی ہے۔

دفعہ 164 کے بیان میں پانچ ملزمان تھے ۔ عثمان نے اعتراف کیا ۔ قاسم طلحہ اور دو نامعلوم

نامعلوم چوتھا ملزم حسن خان … ٹریس کرکے گرفتار کیا اور ملزم کی نشاندہی پر … کنویں کو دریافت کرکے آیت نور کی نعش ریکور کی۔

یعنی پولیس کی سرکاری narrative میں اس وقت چار ملزمان ہیں، پانچ نہیں۔ اس لیے اگر 164 متن میں واقعی عثمان + طلحہ + قاسم + دو نامعلوم = پانچ افراد موجود ہیں تو پھر یہ ایک بہت اہم تضاد ہے: پانچواں شخص کہاں گیا؟

ہائیکورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن ہی ان سوالات کا جواب دے سکتا ہے



02/09/2026

Punjab ki Taraqi ka Raaz 😂😂
PML-N Punjab PTI Punjab

02/09/2026

Pakistani Jhandey ki qadar karo 🇵🇰☠️

جب تقریباً دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی سپانٹک چوٹی کی برف سے نکال لیا گیا تو ان ...
01/09/2026

جب تقریباً دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی سپانٹک چوٹی کی برف سے نکال لیا گیا تو ان کے خاندان نے اس مشکل اور جان جوکھوں میں ڈالنے والے اپریشن کے رضاکاروں کو معاوضہ دینے کی پیشکش کی۔ ان 6 نوجوانوں نے یہ رقم قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔ جس کام کے لیے مبینہ طور پر تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے وہ انہوں نے ایک پیسہ لیے بغیر مکمل کر دکھایا۔

ماجرا کیا تھا؟

34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق کا تعلق ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ برطانیہ میں مقیم تھیں جہاں گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ طب کے پیشے کے ساتھ ساتھ انھیں کوہ پیمائی، سفر اور ٹریول ولاگنگ سے خاص دلچسپی تھی۔

وہ پانچ رکنی پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم کا حصہ تھیں جس نے قراقرم میں واقع 7027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی۔ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر انھیں اچانک شدید طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی ممکنہ وجہ بلند مقام کی مخصوص بیماری بتائی گئی۔ ساتھی ماؤنٹین گائیڈز کی بھرپور کوشش کے باوجود 21 اگست کو کیمپ تھری پر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

لا۔۔ش دو ہفتے تک برف میں دبی رہی

مو۔ت کے بعد باقی ٹیم نیچے اتر آئی جبکہ ان کی میت سات ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں دب گئی۔ ابتدائی کوششیں ناکام رہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں موسم کی شدت اور دشوار گزار راستوں نے کام مزید مشکل بنا دیا تھا۔ اسی دوران میت کی برآمدگی کے لیے خاندان سے مبینہ طور تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے۔ ان کے شوہر بھی بیرون ملک سے واپس آگئے تھے۔

6 رضاکاروں کا کارنامہ

بالآخر مبینہ طور پر شگر کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محبوب علی ارندو کی قیادت میں چھ رضاکار ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز سپانٹک روانہ ہوئے۔ اس ٹیم میں نواب عباس، حسین بیگ (مونٹنر)، حسین علی، مظاہر حسین اور عابدین نمبردار شامل تھے۔ سخت موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود انہوں نے کیمپ تھری سے آگے سرچ آپریشن جاری رکھا اور آخرکار میت تلاش کر لی۔ ڈپٹی کمشنر شگر شیر افضل کے مطابق ٹیم میت کے ہمراہ کیمپ ٹو پہنچ گئی اور برفباری میں رکاوٹ نہ آئی تو اگلا مرحلہ بیس کیمپ اور پھر پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سکردو منتقلی کا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ جب ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت برآمد ہوئی تو خاندان والوں نے ان رضاکاروں کو ان کی محنت کا صلہ دینا چاہا تاہم انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انھوں نے یہ کام فقط اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔۔

محبوب علی ارندو۔۔ ایک سماجی کارکن بھی

محبوب علی ارندو اپنے گاؤں کی تعلیمی بہتری کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ سپانٹک روانگی سے قبل بھی وہ اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کی اور ان کی ٹیم کی اس بے لوث خدمت کو بہت سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شگر کی سرزمین نے ایسے نوجوان پیدا کر کے دنیا کو انسانیت کا ایک نیا سبق دیا ہے۔

تدوین
ادیب یوسفزئی

میرے ابو کو کال کردیں وہ مجھے آکر بچالیں گے یہ آخری الفاظ عریشہ طیب کے تھے یہ بچی جس کا نام عریشہ ہے نالے کے قریب سے گزر...
01/09/2026

میرے ابو کو کال کردیں وہ مجھے آکر بچالیں گے یہ آخری الفاظ عریشہ طیب کے تھے

یہ بچی جس کا نام عریشہ ہے نالے کے قریب سے گزر رہی تھی کہ اندر گر گئی لوگوں نے بچانے کی کوشش کی لیکن سپیڈ اتنی تیز تھی کہ 12 سالہ عریشہ طیب کا کچھ پتہ نہ چل سکا ۔

رات تک ریسکیو کرنے والے لگے رہے لیکن اب تک کوئی خبر نہ ملی

جبکہ شام پانچ بجے عریشہ کا دوپٹہ اور ایک چپل گلبرگ گرینز نالے کے قریب سے ملا تھا ۔

اس وقت امید تھی کہ شاید یہ شہزادی بچ گئی ہوگی لیکن اب تک کوئی سراغ نہیں ملا

اندھیرے کے سبب سرچ آپریشن روکنا پڑا جس پہ میڈیا والے اور حاضرین طیش میں آئے ہوئے تھے

ریسکیو والے کہتے ہیں کہ اب امید چھوڑ دیں سوشل میڈیا پہ بچی کی تصاویر وائرل کریں تاکہ

اگر بچی کہیں پہ زندہ ہو یا کسی کو بہتی ہوئی ملی ہو تو والدین کو مل جائے

جبکہ والدین اور عوام کہہ رہی ہے کہ بچی بہت بہادر اور سمجھدار ہے اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتی ہے

ایک آخری امید کے طور پر بچی کی تصویر لگائی جا رہی ہے کہ شاید گلزار قائد تا دریائے سواں کسی نے اس کا وجود محسوس کیا ہو ، کیا معلوم کوئی اسے ہسپتال لے گیا ہو کسی نے بھی اسے کہیں دیکھا ہو تو ہمیں آگاہ کریں

بچی کی مزید تصاویر اور ریسکیو آپریشن پہلے کومنٹ میں ہے بچی کی والدہ کہتی ہیں کہ معجزہ ہوسکتا ہے میرا دل کہتا ہے کہ میری بیٹی زندہ ہے ۔

😪😥😪😥😥

Address

Haripur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ammad Hassan Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share