Bhuttri dam

Bhuttri dam public place

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن ندیم خان  والد اورنگزیب خان نوید خان کےبھائی بٹھڑی ڈیم محلہ پڑی اللہ پاک ان کی...
15/09/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن ندیم خان والد اورنگزیب خان نوید خان کےبھائی بٹھڑی ڈیم محلہ پڑی اللہ پاک ان کی مغفرت فرماے اور گھر والوں کو صبر دے شریف اورسادہ مزاج کا بندہ تھا سب بھائی دعا کرے ندیم خان کے لیے نماز جنازہ شام 6بجے ہو گا

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کی پٹھان کالونی میں اغوا اور ق*تل ہونے والی 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کے خاندان کے ہاں، اس ک...
09/09/2026

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کی پٹھان کالونی میں اغوا اور ق*تل ہونے والی 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کے خاندان کے ہاں، اس کی تدفین کے 14 دن بعد ایک اور بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔

والدین نے مقتولہ کی یاد میں نو مولود کا نام بھی آیت نور رکھ دیا ہے۔ یاد رہے کہ معصوم آیت اگست 2026 میں لاپتہ ہوئی تھی جس کی لا*ش 15 روز بعد ملی تھی، اور اس واقعے پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
24/08/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن اللہ تعالیٰ جنت میں اعلی مقام عطاء فرماے بہت ہی اخلاق والے انسان تھے اللہ تعال...
01/08/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن اللہ تعالیٰ جنت میں اعلی مقام عطاء فرماے بہت ہی اخلاق والے انسان تھے اللہ تعالیٰ عمران خان کے گھر والوں کو صبر دے

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَانتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ حمزہ ولد لیاقت خان، رہائشی محلہ ڈل...
12/07/2026

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ حمزہ ولد لیاقت خان، رہائشی محلہ ڈلیاں، یونین کونسل بانڈی شیر خان، ضلع ہری پور، انتقال کر گئے ہیں۔

نمازِ جنازہ:
🕌 کل بروز پیر صبح 10:00 بجے ادا کی جائے گی۔

تمام اہلِ علاقہ سے گزارش ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت فرما کر مرحوم کے لیے مغفرت اور بلند درجات کی دعا کریں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

#دعاء

پچاس برس بعد اپنے خاندان سے ملنے والی ہری پورکی خاتون ہری پور کی سرزمین سے میرا تعلق ہے، اس لیے جب اس ماں کی داستان میرے...
21/06/2026

پچاس برس بعد اپنے خاندان سے ملنے والی ہری پورکی خاتون
ہری پور کی سرزمین سے میرا تعلق ہے، اس لیے جب اس ماں کی داستان میرے سامنے آئی تو دل بے اختیار بھر آیا۔ یہ صرف ایک خاتون کی کہانی نہیں بلکہ پچاس برس پر محیط جدائی، انتظار، آنسوؤں اور امید کی ایسی داستان ہے جو پتھر دل انسان کو بھی رُلا دے۔
آج سے تقریباً پچاس سال قبل ایک معصوم بچی کراچی کے علاقے لیاری سے اچانک لاپتہ ہوگئی۔ گھر والے اسے پیار سے "ڈوڈو" کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کے والد کالو خان کے نام سے مشہور تھے جبکہ والدہ کا نام گلاب جان تھا۔ اس کے بھائی امین، شفیع اور جاوید تھے اور ایک بہن تھی جسے گھر میں محبت سے "جانے" کہا جاتا تھا۔
ڈوڈو کی عمر اس وقت صرف دس برس تھی۔ اسے آج بھی یاد ہے کہ ان کا گھر لیاری کے علاقے چاکیواڑہ میں ایک گندے نالے کے قریب تھا۔ ایک دن حمیدہ نامی خاتون گھر آئی۔ اس وقت گھر کے افراد مصروف تھے۔ وہ اپنے ساتھ چاول لائی۔ معصوم بچی نے چاول کھائے۔ کچھ دیر بعد اس خاتون نے کہا کہ تمہارے ابو کھڈا مارکیٹ میں ہیں، چلو ان کے پاس چلتے ہیں۔ بچی اس کے ساتھ چل پڑی۔ چند گلیاں عبور کرنے کے بعد اسے ایک گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ چاولوں میں شاید کوئی نشہ آور چیز شامل تھی، اس لیے وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔
اس کے بعد اس کی زندگی کا وہ المناک باب شروع ہوا جس کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔ اسے گھر سے دور لے جایا گیا۔ وہ دن رات روتی، اپنے والدین کو یاد کرتی، گھر جانے کی ضد کرتی لیکن اسے ڈرایا دھمکایا جاتا۔ رات کو سلانے کے لیے نیند کی گولیاں دی جاتیں۔ دس برس تک اس سے سخت مشقت کروائی گئی۔ مچھلیوں اور جھینگوں کی صفائی کا کام لیا جاتا حالانکہ وہ خود کہتی ہے کہ اسے ان چیزوں کی بو سے شدید نفرت تھی۔
پھر ایک دن اسے کسی اور جگہ فروخت کردیا گیا۔ بعد میں اس کی شادی ہوگئی، گھر بار بن گیا، بچے بھی ہوگئے لیکن دل کے ایک کونے میں اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور اپنے گاؤں کی یاد ہمیشہ زندہ رہی۔ پچاس برس تک وہ اپنے بچھڑے ہوئے خاندان کو یاد کرکے روتی رہی۔
وقت گزرنے کے باوجود اس کی یادداشت میں چند تصویریں محفوظ رہیں۔ اسے یاد تھا کہ ان کا اصل تعلق ہزارہ سے تھا، ہری پور کا نام بھی اس کی زبان پر آتا تھا۔ اسے "بیڑ" نامی ایک مقام یاد تھا جہاں ایک لکڑی کا پل تھا۔ وہ بتاتی تھی کہ گاؤں سے پیدل چل کر وہاں پہنچتے، ہوٹل میں کھانا کھاتے اور پھر کراچی جانے والی بس میں سوار ہوتے۔
جب اس لکڑی کے پل کی تصویر موبائل پر اسے دکھائی گئی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ دیر تک تصویر کو دیکھتی رہی اور اپنے بیٹے سے کہنے لگی:
"یہ تصویر اپنے موبائل میں رکھ لو، میں صبح شام اسے دیکھتی رہوں گی، میرے دل کو سکون ملتا ہے۔"
یہ الفاظ سن کر شاید ہی کوئی آنکھ نم ہونے سے بچ سکے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا۔ نیک نیتی، مسلسل کوششوں، سوشل میڈیا کی طاقت اور لوگوں کے تعاون سے اس ماں کی آواز اس کے اپنے لوگوں تک پہنچ گئی۔ بالآخر معلوم ہوا کہ اس خاتون کا آبائی تعلق ضلع ہری پور کے علاقے لوئر تناول کے گاؤں حال جدال سے ہے جبکہ اس کا خاندان کراچی لیاری میں شیدی عربی مسجد کے قریب رہائش پذیر رہا تھا۔
وہ لمحہ یقیناً ناقابلِ بیان ہوگا جب پچاس برس بعد جدائی کے اندھیرے ختم ہوئے اور اپنوں کی پہچان دوبارہ زندہ ہوگئی۔ جن چہروں کو بچپن میں دیکھا تھا، ان کی یادیں تو باقی تھیں لیکن وقت نے نسلیں بدل دی تھیں۔ اس کے باوجود خون کے رشتے اپنی پہچان ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔
یہ واقعہ والدین کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ بچے اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر ہر وقت نظر رکھیں، انہیں اجنبی افراد کے ساتھ نہ بھیجیں اور ان کی حفاظت کے معاملے میں کبھی غفلت نہ برتیں۔ ایک لمحے کی بے احتیاطی بعض اوقات پوری زندگی کے دکھ میں بدل جاتی ہے۔ اس ماں کے والدین نے بھی شاید کبھی سوچا نہ ہوگا کہ ان کی دس سالہ بیٹی ایک دن یوں ان سے جدا ہوجائے گی اور پھر نصف صدی بعد اس کا سراغ ملے گا۔
اس موقع پر ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے جنہوں نے اس نیک کام میں حصہ لیا۔ خصوصاً معروف عالم دین اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والی شخصیت ولی اللہ معروف قابلِ ستائش ہیں جو برسوں سے گمشدہ افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے بے لوث کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی محنت، اخلاص اور انسان دوستی کی بدولت بے شمار گھرانوں میں خوشیاں لوٹ چکی ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں۔
آج ہری پور کی اس بیٹی کی کہانی غم سے خوشی تک کے سفر کی داستان بن چکی ہے۔ پچاس برس کے آنسو آخرکار مسکراہٹ میں بدل گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ماں کو اپنی اولاد اور کسی اولاد کو اپنے والدین سے جدا ہونے کا دکھ نہ دکھائے، اور جو لوگ آج بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں، انہیں بھی جلد اپنے بچھڑے ہوئے عزیزوں سے ملا دے۔ آمین۔)
#چاکیواڑہ #انسانیت #ہزارہ #پاکستان

ظالموں اللہ سے ڈرو کیا حالت بن گی ہیں ہمارے گاؤں  کے پہاڑو کی جس نے یہ آگ لگائی ہیں اللہ اُس کے گھر بھی اسی طرح لگائے کت...
10/06/2026

ظالموں اللہ سے ڈرو کیا حالت بن گی ہیں ہمارے گاؤں کے پہاڑو کی جس نے یہ آگ لگائی ہیں اللہ اُس کے گھر بھی اسی طرح لگائے کتنے پرندو کے بچے اس آگ جلے ہو گے ایک سال کے گراس کے لیے پہاڑو کو آگ لگانے سے زرا بھی شرم یا ڈر ان لوگوں میں نہیں ہیں اس آگ میں کتنی چیزے جلے گی نہ کوئی درخت چھوڑا ہیں خوبصورتی ختم کر دی ہیں پنجاب کی طرح گرمی اسی وجہ سے ہیں اللہ کی طرف سے عذاب ہیں گاؤں والوں سے گزارش ہیں ایک ہو کے کمیٹی ایک بناؤ جو بھی پکڑا جائے اُس کو سٹاپ پر عوام کے سامنے الٹا لٹکاؤ پورا گاؤں اُس کو لیتر مارے

10/04/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن بشیر چاچا اللہ پاک جنت میں اعلی مقام عطاء فرماے اور گھر والوں کو صبر دے بہت عر...
08/01/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن بشیر چاچا اللہ پاک جنت میں اعلی مقام عطاء فرماے اور گھر والوں کو صبر دے بہت عرصہ اللہ پاک کے گھر کی خدمت کی ہیں اللہ پاک اُس کا اجر دے آمین

Address

Bhuttri Haripur
Haripur
BHUTTRIDAMHARIPUR

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bhuttri dam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share