10/05/2026
بادشاہ سلامت کی ناراضگی تو بنتی ہے… آخر ڈی سی صاحب نے “لفٹ” جو نہیں کروائی۔ 😏
ویسے ایک سوال عوام بھی پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ آخر موصوف ہر تقریب، ہر افتتاح، ہر سکول، ہر ہسپتال اور ہر پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی کیوں پہنچ جاتے ہیں؟
کیا ضلع کے تمام اختیارات صرف ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتے ہیں؟
ڈی سی صاحب تو لاکھوں امیدواروں میں سخت مقابلے کے امتحانات پاس کرکے اس منصب تک پہنچتے ہیں، برسوں کی محنت، قابلیت اور اہلیت کے بعد۔
جبکہ بادشاہ سلامت کے خاندان میں تعلیم شاید آج بھی میٹرک کے آس پاس ہی گھوم رہی ہے، مگر اختیار ایسا کہ اگر کسی سکول یا ہسپتال نے دعوت نہ دی تو اگلے دن تبادلوں، دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔
یہاں تک کہ اگر کسی مخالف سیاسی خاندان کا کوئی فرد پولنگ ایجنٹ بن جائے تو اس خاندان کے سرکاری ملازم کو بھی دور دراز پہاڑی علاقوں میں ٹرانسفر کروا دیا جاتا ہے۔
اور اگر کسی کو ثبوت چاہییں… تو وہ بھی موجود ہیں۔
ڈھینڈہ ہاسپٹل میں موصوف کے سیکرٹری کے والد کے کردار سے ڈاکٹرز اور کلاس فور ملازمین خوب واقف ہیں، جنہیں عرصہ دراز سے ناکوں چنے چبوائے جا رہے ہیں۔
مگر افسوس… غصہ صرف اس بات پر آیا کہ ڈی سی آفس میں ایک متاثرہ خاندان کی امداد کیوں کر دی گئی۔
حالانکہ اگر یہی چیک، یہی امداد، یہی تصاویر بادشاہ سلامت کے ڈیرے پر جا کر کی جاتیں، اور ساتھ کیپٹن صفدر صاحب و پوری ٹیم موجود ہوتی… تو شاید سب کچھ “عوامی خدمت” قرار دے دیا جاتا۔
اصل مسئلہ خدمت نہیں… کریڈٹ ہے۔
اصل تکلیف امداد نہیں… فوٹو سیشن ہے۔
اور اصل خوف یہ ہے کہ کہیں عوام کو یہ احساس نہ ہو جائے کہ ریاستی ادارے کسی ایک خاندان کی جاگیر نہیں ہوتے۔
عوام سب دیکھ رہی ہے… اور یاد بھی رکھ رہی ہے۔
ماجد لالہ