13/04/2026
Kay shahkar ilfaaz
صورتحال
عمران خان جیل میں مررہا ہے۔ اسکی ملاقاتیں بند ہیں۔ اسکی معلومات تک رسائی بند ہے۔ اسے قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر کچھ ہفتوں کے وقفے سے کبھی بیٹوں سے بات کروا کے اور کبھی کسی وکیل کو بھجوا کر دیکھا جاتا ہے کہ ابھی وہ ٹوٹا ہے یا نہیں۔ اس کی استقامت دیکھ کر سختی پھر بڑھا دی جاتی ہے۔ یہ سختیاں اب طویل تر ہوتی جارہی ہیں اور عمران خان اب محو ہوتا جارہا ہے۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ سختی بہت زیادہ ہے۔ فوج کو کوئی بھی حد عبور کرتے ہوئے کچھ وقت نہیں لگتا۔ ایسے حالات میں چند ہزار لوگ سڑکوں پر آکر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کیا کرسکتی ہے؟ تحریک انصاف کی قیادت اس جعلی نظام کی بیساکھیاں بننے سے انکار کرسکتی ہے۔ پختونخواہ اسمبلی آئی ایم ایف ڈیل پر تلوار کھڑی کرکے عمران خان کو صحت اور ملاقاتوں کی سہولیات دلوا سکتی ہے۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش میں حکومت گرتی ہے تو گر جائے۔ یوں بے بسی سے عہدوں سے چپکے رہنے سے عوام مایوس اور بے بس ہورہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گالم گلوچ ، تحریک انصاف کے رہنماؤں کو رسواء کرنا اور نفرت کا اظہار اب معمول بن چکا ہے۔ اسکی مذمت کافی نہیں ہے۔ اسکی وجوہات تلاش کی جانی چاہییں۔ وجوہات وہی ہیں ، نا منصوبہ بندی ہے ، نا اتفاق ہے ، نا کوئی پیش رفت ہے نا کوئی لائحہ عمل ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت بہت زیادہ تجربہ کار قور ذہنی پختہ بھی نہیں ہے۔
موجودہ چہروں میں سے بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ تو دو سال پہلے بطور سیاستدان صفر تھے۔ سہیل آفریدی پہلی مرتبہ اسمبلی آیا ہے۔ رجیم چینج نا ہوتا تو جنید اکبر بھی پہلی صف کے رہنماؤں میں نہ ہوتے۔ لیکن ان لوگوں کو اس تنقید اور اس ردعمل کی وجوہات تلاش کرکے اس کا سدباب کرنا ہے اور جلد از جلد کرنا ہے ناکہ سوشل میڈیا کو اپنا دشمن سمجھ کر ، یا تنقید کو سازش سے تعبیر کرکے چلنا ہے۔
فوج ناکام ہے۔ فوج نے معیشت تباہ کردی ہے۔ فوج نے افغانستان ، امارات ، چین سے تعلقات بگاڑ لیے ہیں۔ فوج کے خلاف عوامی نفرت سبھی ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ فوج موجودہ ماڈل اور اہلیت کیساتھ کبھی نہیں بچ سکتی۔ ایک دن یہ سارا بوجھ فوج کو لے ڈوبے گا۔ لیکن تحریک انصاف کو اور عوام کو اس بربادی کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہنا۔ ہاتھ پاؤں مارنے ہیں۔ اگر نہیں کرسکتے تو عہدے چھوڑ دیں ، اسمبلیاں چھوڑ دیں۔ اسمبلیوں اور عہدوں سے الگ ہونے کا مطالبہ دھمکیاں نہیں ہیں۔ یہ بھی اس نظام کو کمزور کرنے کا منصوبہ ہے۔
اگر آپ گالیاں مت دیں تو ایک آخری بات کہوں ؟
علیمہ خانم اور انکی بہنوں نے تحریک انصاف کے اندر ایک دھڑے کی خاموش حمایت کی جس کا مجموعی طور پر تحریک کو نقصان ہوا۔ جس وقت علی امین گنڈاپور تحریک انصاف میں اپنے حریفوں کو دبا رہا تھا اس وقت ان کی جائے پناہ علیمہ خانم تھیں۔ اڈیالہ کے باہر عمر ایوب بھی دکھائی دیتے تھے اور عاطف خان بھی۔ جیسے ہی بلا ٹلی اور عمران خان نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلی لگایا یہ لوگ بھی غائب ہوگئے۔ انہیں شروع دن سے ان لوگوں سے لاتعلق رہنا چاہیے تھا۔ ابھی بھی تحریک انصاف کے اندر کسی بھی شخص سے ہمدردی یا اس سے نرم گوشہ رکھنے کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا چاہے وہ سلمان اکرم راجہ ہوں یا کوئی اور تاکہ ایک حد کھینچ دی جائے اور گوں مگوں والی پالیسی ختم ہوجائے۔