Safe City Hassan Abdal

Safe City Hassan Abdal Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Safe City Hassan Abdal, Government Official, near rescue office city police station Hassan Abdal, Hassan Abdal.

Safe City Hassan Abdal Project is an initiative led by the Punjab Safe Cities Authority (PSCA) to enhance public safety and security through technology and data-driven approaches.

24/05/2026

تین سال بعد سپیشل چائلڈ علی کی اپنے والد سے ملاقات

الحمدللہ! کچھ کہانیاں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ مسلسل کوشش، امید اور اللہ کے کرم سے ایک دن مکمل ہو جاتی ہیں۔

یہ کہانی علی کی ہے، ایک ایسے سپیشل بچے کی جو تقریباً تین سال قبل قصور سے لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس وقت علی اپنی شناخت، گھر کا پتہ یا خاندان کے بارے میں کوئی معلومات بتانے سے قاصر تھا۔ وہ ایک نہایت کمزور اور بے سہارا حالت میں ملا، جس کے بعد اسے بحفاظت ایدھی سینٹر منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی دیکھ بھال کی جاتی رہی۔

علی کے خاندان کی تلاش کے لیے میرا پیارا ٹیم نے پنجاب پولیس کے تعاون سے قصور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں متعدد بار سرچ آپریشن کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ علی کا انٹرویو میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر متعدد بار اپلوڈ کیا گیا تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے خاندان تک پہنچا جا سکے۔

آخرکار، اللہ تعالیٰ کے فضل سے علی کے والد نے سوشل میڈیا پر علی کا انٹرویو دیکھا اور فوراً میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ ٹیم نے فوری طور پر رابطہ اور تصدیقی عمل مکمل کیا، اور پھر وہ لمحہ آیا جس کا انتظار تین سال سے کیا جا رہا تھا۔

الحمدللہ، تین سال کی طویل جدائی کے بعد علی کو اس کے والد سے بحفاظت ملا دیا گیا۔ یہ لمحہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں، بلکہ ایک باپ کی امید، ایک خاندان کی دعا اور میرا پیارا ٹیم کی مسلسل محنت کی کامیابی تھا۔

یہ کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ میرا پیارا ٹیم کا مشن صرف ایک ڈیوٹی نہیں، بلکہ ایک عزم ہے کہ کوئی بچہ، بزرگ یا ذہنی و جسمانی طور پر کمزور فرد اپنے پیاروں سے جدا نہ رہے۔

میرا پیارا ٹیم اپنی اسی لگن، محنت اور جذبے کے ساتھ بچھڑوں کو اپنوں سے ملانے کا سفر جاری رکھے گی۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے جدید نظام کے ذریعے مویشی منڈیوں اور شاہراہوں کی 24/7 خصوصی نگرانی جاری ہے۔پنجاب بھر میں قائم س...
24/05/2026

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے جدید نظام کے ذریعے مویشی منڈیوں اور شاہراہوں کی 24/7 خصوصی نگرانی جاری ہے۔
پنجاب بھر میں قائم سمارٹ سیف سٹیز کی ٹیمیں 24 گھنٹے متحرک ہیں، لائیو سرویلنس کا عمل مسلسل جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے، شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً 15 پر کال کریں

Safe City Hassan Abdal
Safe City Attock
Safe City Rawalpindi
Safe City Taxila
Punjab Safe Cities Authority


24/05/2026

یہ معصوم بچہ اپنا نام غلام اور والد کا نام ناصر بتاتا ہے۔ غلام 22 مئی 2025 کو اپنے والد کے ساتھ داتا دربار، لاہور آیا تھا، جہاں وہ لاپتہ ہو گیا۔
بچہ اپنے گھر کا پتہ بھی داتا دربار، لاہور بتاتا ہے۔ میرا پیارا ٹیم نے بچے کو متعدد بار فیلڈ وزٹ بھی کروایا ہے، لیکن تاحال اس کے گھر یا خاندان کا سراغ نہیں مل سکا۔
میرا پیارا ٹیم غلام کے ورثاء کی تلاش میں دن رات کوشاں ہے۔ اگر آپ غلام یا اس کے اہلِ خانہ کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں، تو براہِ کرم فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کریں۔
آپ کا ایک شیئر اس بچے کی زندگی بدل سکتا ہے اور اسے اپنے خاندان تک پہنچا سکتا ہے۔
Contact: 03090000015
Case ID: 130700031

یہ کہانی ہے ایک ایسی بچی ارم کی  جو اس کے والد کے مطابق  مرحوم سمجھی جاتی تھی اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش سے پانچ سال بعد...
24/05/2026

یہ کہانی ہے ایک ایسی بچی ارم کی جو اس کے والد کے مطابق مرحوم سمجھی جاتی تھی اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش سے پانچ سال بعد اپنے والد سے واپس مل گئی۔۔۔۔۔!
اللہ تعالیٰ نے ایک بوڑھے باپ کے دکھی دل کی دعا قبول کر لی اور اس کی پانچ سال پہلے گم ہونے والی بیٹی ارم کو اس سے ملا دیا۔ الحمدللہ رب العالمین تصویر میں نظر آنے والی بچی ارم ہے جو پانچ سال قبل لاہور سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ گھر کا پتہ بھول جانے کے باعث وہ اپنے خاندان تک واپس نہ پہنچ سکی۔ کسی شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا۔ ارم اور اس کے والدین چلاس سے محنت مزدوری کے لیے لاہور آئے تھے، اس لیے وہ شہر کے علاقوں سے زیادہ واقف نہیں تھی۔ اسے صرف گلبرگ کے قبرستان کا پتہ یاد تھا، نہ گھر کا پتہ، نہ گلی کا نام اور نہ ہی کوئی ایسی نشانی جس سے اس کے والدین تک پہنچا جا سکتا۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم بچی کو گلبرگ لے گئی۔ مغرب کی نماز کے وقت ایک مسجد کے باہر رکے تو نماز کے بعد ایک بزرگ نے بچی کو دیکھا اور حیرت سے بول اٹھے: “اس بچی کا تو سنا تھا کہ فوت ہو گئی تھی… یہ یہاں کیسے آئی؟” انہی بزرگ نے بتایا کہ ارم اور اس کا خاندان کبھی ان کے کرایہ دار تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ ارم کے والد شاہدرہ منتقل ہو چکے ہیں اور فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں۔
میرا پیارا ٹیم شاہدرہ پہنچی اور تلاش کرتے کرتے ایک بزرگ ریڑھی والے تک پہنچی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہی ظاہر شاہ ہیں… ارم کے برسوں سے منتظر والد۔ باپ نے بیٹی کو دیکھا تو ساکت رہ گئے، پھر اسے سینے سے لگایا، ریڑھی ڈھانپی اور فوراً ہمارے ساتھ گھر روانہ ہو گئے۔
گھر کے قریب پہنچے تو ایک ہمسائی دوڑتی ہوئی آئی اور چیخ اٹھی: “ارم! تم زندہ ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟” گھر پہنچتے ہی ماں بیٹی سے لپٹ گئی، روتی جاتی اور اللہ کا شکر ادا کرتی جاتی۔ بہن بھائیوں نے بھی ارم کو پہچان لیا اور گھر میں ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ جب ارم لاپتہ ہوئی تو گھر کے پیچھے پانی کی گزرگاہ تھی، انہیں یہی گمان ہوا کہ شاید بچی پانی میں بہہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس کا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کر دیا تھا۔ اللہ اکبر۔
آخر میں ایک پڑوسی نے بتایا کہ یہ باپ روز نماز میں دعا کرتا تھا: “یا اللہ! اگر میری بیٹی زندہ ہے تو مجھ سے ملا دے، اور اگر نہیں تو اسے اپنی جنت میں جگہ عطا فرما دے۔”
اور ، اس بوڑھے باپ کی دعا قبول ہو گئی۔ اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش کام آگی
ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

یہ کہانی ہے ایک ایسی بچی ارم کی جو اس کے والد کے مطابق مرحوم سمجھی جاتی تھی اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش سے پانچ سال بعد اپنے والد سے واپس مل گئی۔۔۔۔۔!

اللہ تعالیٰ نے ایک بوڑھے باپ کے دکھی دل کی دعا قبول کر لی اور اس کی پانچ سال پہلے گم ہونے والی بیٹی ارم کو اس سے ملا دیا۔ الحمدللہ رب العالمین تصویر میں نظر آنے والی بچی ارم ہے جو پانچ سال قبل لاہور سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ گھر کا پتہ بھول جانے کے باعث وہ اپنے خاندان تک واپس نہ پہنچ سکی۔ کسی شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا۔ ارم اور اس کے والدین چلاس سے محنت مزدوری کے لیے لاہور آئے تھے، اس لیے وہ شہر کے علاقوں سے زیادہ واقف نہیں تھی۔ اسے صرف گلبرگ کے قبرستان کا پتہ یاد تھا، نہ گھر کا پتہ، نہ گلی کا نام اور نہ ہی کوئی ایسی نشانی جس سے اس کے والدین تک پہنچا جا سکتا۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم بچی کو گلبرگ لے گئی۔ مغرب کی نماز کے وقت ایک مسجد کے باہر رکے تو نماز کے بعد ایک بزرگ نے بچی کو دیکھا اور حیرت سے بول اٹھے: “اس بچی کا تو سنا تھا کہ فوت ہو گئی تھی… یہ یہاں کیسے آئی؟” انہی بزرگ نے بتایا کہ ارم اور اس کا خاندان کبھی ان کے کرایہ دار تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ ارم کے والد شاہدرہ منتقل ہو چکے ہیں اور فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں۔
میرا پیارا ٹیم شاہدرہ پہنچی اور تلاش کرتے کرتے ایک بزرگ ریڑھی والے تک پہنچی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہی ظاہر شاہ ہیں… ارم کے برسوں سے منتظر والد۔ باپ نے بیٹی کو دیکھا تو ساکت رہ گئے، پھر اسے سینے سے لگایا، ریڑھی ڈھانپی اور فوراً ہمارے ساتھ گھر روانہ ہو گئے۔
گھر کے قریب پہنچے تو ایک ہمسائی دوڑتی ہوئی آئی اور چیخ اٹھی: “ارم! تم زندہ ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟” گھر پہنچتے ہی ماں بیٹی سے لپٹ گئی، روتی جاتی اور اللہ کا شکر ادا کرتی جاتی۔ بہن بھائیوں نے بھی ارم کو پہچان لیا اور گھر میں ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ جب ارم لاپتہ ہوئی تو گھر کے پیچھے پانی کی گزرگاہ تھی، انہیں یہی گمان ہوا کہ شاید بچی پانی میں بہہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس کا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کر دیا تھا۔ اللہ اکبر۔
آخر میں ایک پڑوسی نے بتایا کہ یہ باپ روز نماز میں دعا کرتا تھا: “یا اللہ! اگر میری بیٹی زندہ ہے تو مجھ سے ملا دے، اور اگر نہیں تو اسے اپنی جنت میں جگہ عطا فرما دے۔”
اور ، اس بوڑھے باپ کی دعا قبول ہو گئی۔ اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش کام آگی
ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

احتیاط ہی حفاظت ہے! مویشی منڈی میں خرید و فروخت کے دوران جیب کتروں، نوسربازوں اور مشکوک افراد سے ہوشیار رہیں۔ اپنی رقم، ...
24/05/2026

احتیاط ہی حفاظت ہے!
مویشی منڈی میں خرید و فروخت کے دوران جیب کتروں، نوسربازوں اور مشکوک افراد سے ہوشیار رہیں۔ اپنی رقم، موبائل اور قیمتی اشیاء محفوظ رکھیں اور غیر متعلقہ افراد پر بھروسہ نہ کریں۔
📞 کسی بھی ایمرجنسی یا مشکوک صورتحال کی صورت میں فوراً 15 پر کال کریں۔

Punjab Safe Cities Authority




23/05/2026

الحمدللہ! سات سال بعد عبدالغفار اپنی والدہ سے مل گیا!

کچھ خبریں صرف خوشی نہیں دیتیں، بلکہ دل کو سکون بھی دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خوشی کی خبر یہ ہے کہ دسمبر 2018 میں کراچی سے لاپتہ ہونے والا سپیشل بچہ عبدالغفار سات سال کی طویل جدائی کے بعد اپنی والدہ سے دوبارہ مل گیا۔

ذرا سوچیں، ایک سات سال کا معصوم بچہ، جو نہ ٹھیک سے بول سکتا ہو، نہ اپنے گھر کا پتا بتا سکتا ہو، نہ اپنے والدین تک پہنچنے کا راستہ جانتا ہو، اچانک اپنے خاندان سے بچھڑ جائے تو اس پر کیا گزری ہوگی؟ اور دوسری طرف ایک ماں، جس کا بچہ لاپتہ ہو جائے، وہ ہر دن کس اذیت، کس انتظار اور کس بے بسی کے ساتھ گزارتی ہوگی؟

سن 2018 میں یہی سانحہ عبدالغفار کے خاندان کے ساتھ پیش آیا۔ کراچی کا رہائشی عبدالغفار اپنے گھر والوں سے بچھڑ گیا۔ وہ سپیشل بچہ تھا، اس لیے اپنے بارے میں مکمل معلومات دینے سے قاصر تھا۔ کسی نیک دل شہری نے اسے لاوارث حالت میں دیکھا اور انسانی ہمدردی کے تحت ایدھی ہوم میں داخل کروا دیا، جہاں اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کا بندوبست کیا گیا۔

عبدالغفار محفوظ تو تھا، مگر اپنی ماں سے دور تھا۔ ایک طرف وہ بچہ تھا جو اپنی شناخت بتانے سے قاصر تھا، اور دوسری طرف اس کی ماں تھی جو سالوں تک اپنے بیٹے کی تلاش میں بے چین رہی۔ دن گزرتے گئے، مہینے سالوں میں بدلتے گئے، مگر عبدالغفار کے گھر والوں کو اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ایک ماں کی آنکھیں اپنے بچے کی راہ تکتی رہیں، مگر ہر بار انتظار مزید لمبا ہوتا گیا۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے میرا پیارا پروگرام کے تحت ٹیم نے اس مشن کو پورے پاکستان تک پھیلایا تاکہ ہر گمشدہ، لاوارث اور نامعلوم بچے کو اس کے گھر تک پہنچایا جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میرا پیارا ٹیم نے لاہور سے کراچی جا کر وہاں کے یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کا وزٹ کیا۔ کراچی کے اداروں میں موجود 1000 سے زائد ایسے بچوں کا ڈیٹا لیا گیا جو گمشدگی کی حالت میں وہاں پہنچے تھے اور کسی وجہ سے واپس اپنے گھروں تک نہ جا سکے۔

میرا پیارا ٹیم نے ہر بچے کا انٹرویو کیا، ان کی معلومات اکٹھی کیں، اور ہر ممکن کوشش کی کہ ان بچوں کی شناخت بحال ہو سکے۔ ان بچوں کے انٹرویوز میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کیے گئے، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی ماں، کوئی باپ، کوئی بہن، کوئی بھائی یا کوئی رشتہ دار ان چہروں میں اپنے بچھڑے ہوئے پیارے کو پہچان لے۔

انہی ویڈیوز میں عبدالغفار کا انٹرویو بھی شامل تھا۔ وہ معصوم بچہ جو نہ بول سکتا تھا، نہ اپنے گھر کا پتا بتا سکتا تھا، برسوں سے اپنی شناخت کے بغیر ایک ادارے میں زندگی گزار رہا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا پیارا ٹیم اس کے لیے امید کی ایک کرن بن گئی۔

جب عبدالغفار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تو یہ پیغام اس کے والدین تک پہنچا۔ والدین نے ویڈیو دیکھی اور فوراً اپنے بچے کو پہچان لیا۔ وہی بچہ جسے وہ سات سال سے ڈھونڈ رہے تھے، ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ اس لمحے ایک ماں کے دل کو جو سکون ملا، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر تصدیقی عمل شروع کیا۔ تمام ضروری معلومات، ریکارڈ اور شناختی پہلوؤں کی جانچ پڑتال کے بعد عبدالغفار کو اس کی والدہ سے ملوا دیا گیا۔ سات سال کی جدائی، انتظار، دکھ اور بے بسی کے بعد ایک ماں کا سینہ ٹھنڈا ہوا اور عبدالغفار اپنے گھر واپس پہنچ گیا۔

یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل، میرا پیارا ٹیم کی محنت، فلاحی اداروں کے تعاون اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی بدولت ممکن ہوئی۔ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو، کوشش مسلسل ہو اور عوام ساتھ دیں تو بچھڑے ہوئے بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

میرا پیارا ٹیم کا مقصد یہی ہے کہ کوئی بچہ لاوارث نہ رہے، کوئی خاندان اپنے پیارے سے ہمیشہ کے لیے جدا نہ رہے، اور ہر گمشدہ بچے کو اس کی شناخت، اس کا گھر اور اس کا خاندان واپس مل سکے۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ میرا پیارا کے پیغامات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کیونکہ آپ کا ایک شیئر کسی ماں کے انتظار کو ختم کر سکتا ہے اور کسی بچے کو اس کے گھر واپس پہنچا سکتا ہے۔

واللہ المستعان

13 سال بعد مریم کی اپنے خاندان تک واپسی!الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کا کروڑوں بار شکر ہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی مریم، ج...
23/05/2026

13 سال بعد مریم کی اپنے خاندان تک واپسی!
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کا کروڑوں بار شکر ہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی مریم، جو 13 سال قبل لاہور سے لاپتہ ہوئی تھی، اس کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا اور وہ 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔
یہ صرف ایک بچی کی واپسی نہیں، بلکہ 13 سال کے انتظار، تکلیف، تلاش اور امید کی مکمل ہوتی ہوئی کہانی ہے۔
سن 2012 میں مریم صرف چھ سال کی معصوم بچی تھی۔ وہ سرگودھا سے تعلق رکھتی تھی اور لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ایک گھر میں رہ رہی تھی، جہاں سنبل نامی خاتون کے بچے کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ ایک دن مریم گھر سے نکلی، راستہ بھول گئی اور پھر واپس نہ آ سکی۔
ذرا سوچیں، ایک چھ سال کی بچی ایک انجان شہر میں اکیلی ہو جائے، نہ اسے راستوں کی سمجھ ہو، نہ وہ اپنے گھر کا مکمل پتہ بتا سکے، نہ یہ جانتی ہو کہ واپس اپنوں تک کیسے پہنچنا ہے۔ اسی بے بسی میں مریم لاوارث حالت میں ملی، جس کے بعد کسی نیک دل شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر دیا، جہاں اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا بندوبست کیا گیا۔
مریم محفوظ تو ہو گئی، مگر اپنے گھر، اپنے والدین اور اپنے بہن بھائیوں سے دور ہو گئی۔ وقت گزرتا گیا، دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ مریم بڑی ہوتی گئی، مگر اس کے دل میں اپنے گھر کی دھندلی یادیں باقی رہیں۔ اسے اپنے والد کا نام اکبر یاد تھا، اپنے بھائیوں ناظم، اسامہ، ساجد، واجد اور عابد کے نام یاد تھے، اپنی بہن فروہ کا نام یاد تھا، اور یہ بھی یاد تھا کہ اس کا تعلق سرگودھا کے کسی مضافاتی علاقے سے ہے۔
یہ یادیں مریم کے لیے اپنے گھر تک پہنچنے کی واحد امید تھیں۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے میرا پیارا پروگرام کے تحت ٹیم نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں موجود لاوارث اور گمشدہ بچوں کے انٹرویوز شروع کیے، تاکہ ان بچوں کی شناخت بحال ہو سکے اور انہیں ان کے خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں مریم کے بھی متعدد انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے اور میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کیے گئے۔
مریم کی ویڈیوز کو خاص طور پر لاہور، سرگودھا اور ملحقہ اضلاع میں شیئر کیا گیا، تاکہ اگر کوئی شخص اسے جانتا ہو، اس کے خاندان کو پہچانتا ہو یا اس کے ماضی سے متعلق کوئی معلومات رکھتا ہو تو فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔
میرا پیارا ٹیم نے صرف سوشل میڈیا مہم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ فیلڈ میں جا کر بھی ہر ممکن کوشش کی۔ ٹیم مریم کو ساتھ لے کر سرگودھا، بھلوال، کوٹ مومن اور اُن علاقوں تک گئی جن کے بارے میں مریم نے اپنی یادداشت کے مطابق بتایا تھا۔ لاہور سبزہ زار کالونی میں گوگل میپ کے ذریعے بھی تلاش کی گئی اور فیلڈ وزٹ بھی کروائے گئے، تاکہ اس گھر یا علاقے کا سراغ مل سکے جہاں مریم کبھی رہتی تھی۔
کئی کوششوں کے باوجود ہر بار تلاش ایک نئے سوال پر آ کر رک جاتی تھی۔ مگر میرا پیارا ٹیم نے امید نہیں چھوڑی، کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا اشارہ بھی برسوں کی جدائی ختم کر دیتا ہے۔
اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیں، وہ لمحہ آ گیا جس کا انتظار 13 سال سے کیا جا رہا تھا۔ میرا پیارا ٹیم کی جانب سے شیئر کی گئی مریم کی ویڈیو اس کے بھائی تک پہنچی۔ بھائی نے ویڈیو دیکھی اور فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی مریم ہے، جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔
یہ لمحہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا لمحہ تھا۔ جس بچی کو 13 سال سے تلاش کیا جا رہا تھا، وہ زندہ سلامت موجود تھی۔ وہ مریم، جس کی یاد میں گھر والے برسوں تک بے چین رہے، آخرکار اپنے پیاروں تک پہنچنے والی تھی۔
میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر رابطہ کیا، معلومات حاصل کیں اور تصدیقی عمل شروع کیا۔ ضروری ویریفکیشن کے بعد مریم کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا، اور 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔
یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دعا ضائع نہیں جاتی، کوئی امید بے کار نہیں جاتی، اور کوئی کوشش رائیگاں نہیں جاتی۔ 13 سال کی جدائی کے بعد ایک بیٹی کو اپنا گھر واپس مل گیا، ایک باپ کو اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی مل گئی، بہن بھائیوں کو اپنی بہن واپس مل گئی، اور ایک خاندان دوبارہ مکمل ہو گیا۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کے خاص فضل، میرا پیارا ٹیم کی مسلسل محنت، فیلڈ ورک، سوشل میڈیا مہم، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تعاون اور عوام کی توجہ سے ممکن ہوا۔
میرا پیارا ٹیم کا مشن یہی ہے کہ کوئی بچہ لاوارث نہ رہے، کوئی خاندان اپنے پیارے سے ہمیشہ کے لیے جدا نہ رہے، اور ہر گمشدہ بچے کو اس کی شناخت، اس کا گھر اور اس کا خاندان واپس مل سکے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ میرا پیارا کی پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کیونکہ آپ کا ایک شیئر کسی مریم کو اس کے گھر واپس پہنچا سکتا ہے۔
ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

13 سال بعد مریم کی اپنے خاندان تک واپسی!

الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کا کروڑوں بار شکر ہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی مریم، جو 13 سال قبل لاہور سے لاپتہ ہوئی تھی، اس کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا اور وہ 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔

یہ صرف ایک بچی کی واپسی نہیں، بلکہ 13 سال کے انتظار، تکلیف، تلاش اور امید کی مکمل ہوتی ہوئی کہانی ہے۔

سن 2012 میں مریم صرف چھ سال کی معصوم بچی تھی۔ وہ سرگودھا سے تعلق رکھتی تھی اور لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ایک گھر میں رہ رہی تھی، جہاں سنبل نامی خاتون کے بچے کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ ایک دن مریم گھر سے نکلی، راستہ بھول گئی اور پھر واپس نہ آ سکی۔

ذرا سوچیں، ایک چھ سال کی بچی ایک انجان شہر میں اکیلی ہو جائے، نہ اسے راستوں کی سمجھ ہو، نہ وہ اپنے گھر کا مکمل پتہ بتا سکے، نہ یہ جانتی ہو کہ واپس اپنوں تک کیسے پہنچنا ہے۔ اسی بے بسی میں مریم لاوارث حالت میں ملی، جس کے بعد کسی نیک دل شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر دیا، جہاں اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا بندوبست کیا گیا۔

مریم محفوظ تو ہو گئی، مگر اپنے گھر، اپنے والدین اور اپنے بہن بھائیوں سے دور ہو گئی۔ وقت گزرتا گیا، دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ مریم بڑی ہوتی گئی، مگر اس کے دل میں اپنے گھر کی دھندلی یادیں باقی رہیں۔ اسے اپنے والد کا نام اکبر یاد تھا، اپنے بھائیوں ناظم، اسامہ، ساجد، واجد اور عابد کے نام یاد تھے، اپنی بہن فروہ کا نام یاد تھا، اور یہ بھی یاد تھا کہ اس کا تعلق سرگودھا کے کسی مضافاتی علاقے سے ہے۔

یہ یادیں مریم کے لیے اپنے گھر تک پہنچنے کی واحد امید تھیں۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے میرا پیارا پروگرام کے تحت ٹیم نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں موجود لاوارث اور گمشدہ بچوں کے انٹرویوز شروع کیے، تاکہ ان بچوں کی شناخت بحال ہو سکے اور انہیں ان کے خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں مریم کے بھی متعدد انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے اور میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کیے گئے۔

مریم کی ویڈیوز کو خاص طور پر لاہور، سرگودھا اور ملحقہ اضلاع میں شیئر کیا گیا، تاکہ اگر کوئی شخص اسے جانتا ہو، اس کے خاندان کو پہچانتا ہو یا اس کے ماضی سے متعلق کوئی معلومات رکھتا ہو تو فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔

میرا پیارا ٹیم نے صرف سوشل میڈیا مہم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ فیلڈ میں جا کر بھی ہر ممکن کوشش کی۔ ٹیم مریم کو ساتھ لے کر سرگودھا، بھلوال، کوٹ مومن اور اُن علاقوں تک گئی جن کے بارے میں مریم نے اپنی یادداشت کے مطابق بتایا تھا۔ لاہور سبزہ زار کالونی میں گوگل میپ کے ذریعے بھی تلاش کی گئی اور فیلڈ وزٹ بھی کروائے گئے، تاکہ اس گھر یا علاقے کا سراغ مل سکے جہاں مریم کبھی رہتی تھی۔

کئی کوششوں کے باوجود ہر بار تلاش ایک نئے سوال پر آ کر رک جاتی تھی۔ مگر میرا پیارا ٹیم نے امید نہیں چھوڑی، کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا اشارہ بھی برسوں کی جدائی ختم کر دیتا ہے۔

اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیں، وہ لمحہ آ گیا جس کا انتظار 13 سال سے کیا جا رہا تھا۔ میرا پیارا ٹیم کی جانب سے شیئر کی گئی مریم کی ویڈیو اس کے بھائی تک پہنچی۔ بھائی نے ویڈیو دیکھی اور فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی مریم ہے، جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔

یہ لمحہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا لمحہ تھا۔ جس بچی کو 13 سال سے تلاش کیا جا رہا تھا، وہ زندہ سلامت موجود تھی۔ وہ مریم، جس کی یاد میں گھر والے برسوں تک بے چین رہے، آخرکار اپنے پیاروں تک پہنچنے والی تھی۔

میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر رابطہ کیا، معلومات حاصل کیں اور تصدیقی عمل شروع کیا۔ ضروری ویریفکیشن کے بعد مریم کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا، اور 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔

یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دعا ضائع نہیں جاتی، کوئی امید بے کار نہیں جاتی، اور کوئی کوشش رائیگاں نہیں جاتی۔ 13 سال کی جدائی کے بعد ایک بیٹی کو اپنا گھر واپس مل گیا، ایک باپ کو اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی مل گئی، بہن بھائیوں کو اپنی بہن واپس مل گئی، اور ایک خاندان دوبارہ مکمل ہو گیا۔

یہ سب اللہ تعالیٰ کے خاص فضل، میرا پیارا ٹیم کی مسلسل محنت، فیلڈ ورک، سوشل میڈیا مہم، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تعاون اور عوام کی توجہ سے ممکن ہوا۔

میرا پیارا ٹیم کا مشن یہی ہے کہ کوئی بچہ لاوارث نہ رہے، کوئی خاندان اپنے پیارے سے ہمیشہ کے لیے جدا نہ رہے، اور ہر گمشدہ بچے کو اس کی شناخت، اس کا گھر اور اس کا خاندان واپس مل سکے۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ میرا پیارا کی پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کیونکہ آپ کا ایک شیئر کسی مریم کو اس کے گھر واپس پہنچا سکتا ہے۔

ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

22/05/2026

معصوم #عائشہ کی گیارہ سال بعد گھر واپسی ... ! جو صرف ایک گمشدہ بچی کی اپنے گھر پہنچنے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی ماں کی درد بھری داستان ہے جس نے گیارہ برس تک اپنی بیٹی کی واپسی کی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اس پوسٹ میں نظر آنے والی 2014 کی معصوم عائشہ کی تصویر اُس وقت کی ہے جب یہ ننھی بچی فیصل آباد میں ایک شہری کو لاوارث حالت میں ملی۔ شہری نے انسانیت کے جذبے کے تحت اُسے ایس او ایس ویلیج فیصل آباد پہنچا دیا، جہاں اس کی بہتر دیکھ بھال کی جاتی رہی، مگر دوسری طرف ایک ماں اپنی بیٹی کی جدائی میں ہر روز تڑپتی رہی۔ یہ گیارہ برسوں کی طویل جدائی صرف وقت کا فاصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا درد تھا جس میں ایک بچی اپنوں کے بغیر پروان چڑھی اور ایک ماں ہر رات اپنی بیٹی کی یاد میں آنسو بہاتی رہی۔ عائشہ نے اپنی معصوم عمر کے وہ قیمتی سال یتیم خانے میں گزارے جن میں بچوں کو سب سے زیادہ ماں کی گود، باپ کے سائے اور گھر کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت گزرتا گیا مگر اُس کی زندگی سے جڑی یادیں، چہرے اور رشتے دھندلے ہوتے چلے گئے۔ جب پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے #میراپیارا پروگرام کی ری یونفیکیشن ٹیم نے عائشہ کا انٹرویو کیا تو وہ صرف اپنا نام ہی بتا سکی۔ نہ اُسے اپنے گاؤں کا نام یاد تھا، نہ گھر کا راستہ اور نہ ہی اپنے خاندان کی کوئی واضح پہچان۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے اُس کے ماضی کو اپنی گرد میں چھپا لیا ہو۔ لیکن شاید اللہ تعالیٰ نے اس جدائی کے اختتام کا وقت مقرر کر دیا تھا۔ “میرا پیارا” ٹیم نے عائشہ کی ویڈیو اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی۔ یہ ویڈیو ہزاروں لوگوں تک پہنچی اور پھر اللہ کے فضل و کرم سے ایک معجزہ رونما ہوا۔ فیصل آباد کی ایک خاتون نے ویڈیو دیکھتے ہی فوراً پہچان لیا کہ یہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والی وہی گمشدہ بچی عائشہ ہے جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔ جیسے ہی رابطے مکمل ہوئے، ملاقات کا دن آ پہنچا اور وہ لمحہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ ماں نے جیسے ہی اپنی بیٹی کو دیکھا، اُس کی آنکھوں سے برسوں سے رکے آنسو بہنے لگے جبکہ عائشہ بھی چند لمحوں تک خاموشی سے اپنی ماں کو دیکھتی رہی جیسے وہ یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو کہ یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ پھر ماں نے سنبھال کر رکھی ہوئی پرانی تصویریں نکالیں، وہی تصویریں جو گیارہ برس تک اُس کی امید، صبر اور دعا کا سہارا بنی رہیں۔ بالآخر ماں اور بیٹی ایک دوسرے سے لپٹ کر زاروقطار رو پڑیں۔ یہ آنسو صرف خوشی کے نہیں تھے بلکہ برسوں کی جدائی، بے شمار دعاؤں، جاگتی راتوں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی گواہی تھے۔ “میرا پیارا” ٹیم کے لیے یہ صرف ایک کامیاب ری یونین نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا وہ جذبہ ہے جو ہر مشکل کو آسان بنا دیتا ہے۔ جب نیت خالص ہو اور مقصد بچھڑے ہوئے لوگوں کو اُن کے پیاروں سے ملانا ہو تو اللہ تعالیٰ راستے خود پیدا فرما دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا اگر مثبت مقصد کے لیے استعمال ہو تو وہ بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملا سکتا ہے، امید کے چراغ روشن کر سکتا ہے اور برسوں سے بچھڑی دعاؤں کو قبولیت کا راستہ دکھا سکتا ہے۔
واللہ المستعان۔
Case Id:132421056

یہ کہانی آج سے 18 سال قبل، یعنی 7 اگست 2008 کو لاہور میں ایف سی کالج کے قریب لاوارث حالت میں ملنے والی ننھی سی بچی  #ناد...
22/05/2026

یہ کہانی آج سے 18 سال قبل، یعنی 7 اگست 2008 کو لاہور میں ایف سی کالج کے قریب لاوارث حالت میں ملنے والی ننھی سی بچی #نادیہ دختر اشرف” کی ہے، جس کی عمر اب 22 سال ہو چکی ہے، مگر افسوس آج تک اُس کے ورثاء کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
جب نادیہ لاوارث حالت میں ملی تھی، اُس وقت اُس کی عمر صرف 4 برس تھی۔ اُس عمر میں ایک بچہ شاید اپنے والدین کے علاوہ کسی کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ نہ اُسے اپنے گھر کا پتہ یاد تھا، نہ اپنے ماں باپ کا مکمل نام۔ وقت گزرتا گیا، بچی بڑی ہو گئی، چہرہ بدل گیا، مگر ایک سوال آج بھی ویسا ہی ہے… آخر نادیہ کس کی بیٹی ہے؟
میرا پیارا ٹیم لاہور نے اس کی فیملی کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، مگر آج بھی اُس کی زندگی کا سب سے بڑا راز ادھورا ہے۔ شاید کہیں کوئی ماں آج بھی اپنی بیٹی کی راہ دیکھ رہی ہو، شاید کسی باپ کی دعائیں آج بھی اُس کی واپسی کی منتظر ہوں۔
آپ کا ایک شیئر کسی بچھڑے ہوئے خاندان کو دوبارہ ملا سکتا ہے۔ اگر آپ اس بچی یا اُس کے ورثاء کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو فوراً پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی “میرا پیارا” ٹیم سے 15 یا 03090000015 پر رابطہ کریں۔
جزاک اللہ
واللہ المستعان
259431646 : Case ID

انعم اور اویس: 21 سال بعد بہن بھائی کا رشتہ دوبارہ جڑ گیاکچھ کہانیاں ایک ہی دن میں مکمل نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات زندگی برسو...
22/05/2026

انعم اور اویس: 21 سال بعد بہن بھائی کا رشتہ دوبارہ جڑ گیا
کچھ کہانیاں ایک ہی دن میں مکمل نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات زندگی برسوں تک اپنے اندر خاموشی، انتظار اور ادھوری پہچان سمیٹے رکھتی ہے۔ انعم اور اویس کی کہانی بھی ایسی ہی ہے، دو بہن بھائی جو 21 سال سے زائد عرصہ اپنے خاندان سے جدا رہے، مختلف اداروں میں پرورش پاتے رہے، اور ایک دوسرے کے بارے میں بھی بے خبر رہے۔
انعم اور اویس گجرات کے رہائشی تھے۔ 21 سال سے زائد عرصہ قبل دونوں بچے اپنی والدہ کے ساتھ داتا دربار لاہور آئے تھے۔ دونوں بچے special تھے اور اپنے بارے میں مکمل معلومات دینے یا راستہ سمجھنے کے قابل نہیں تھے، اسی وجہ سے وہ اپنی والدہ سے بچھڑ کر لاپتہ ہو گئے۔
وقت کے ساتھ دونوں مختلف فلاحی اداروں میں پہنچے، جہاں ان کی دیکھ بھال ہوتی رہی، مگر ان کی اصل شناخت نامعلوم رہی۔ انعم کراچی کے ایدھی سینٹر میں مقیم تھی۔ وہ کئی سال سے وہاں رہ رہی تھی، مگر اپنے گھر، خاندان یا ماضی کے بارے میں واضح طور پر کچھ بتانے سے قاصر تھی۔ دوسری طرف اویس بھی اپنے خاندان سے جدا ہو کر چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی دیکھ بھال میں زندگی گزار رہا تھا۔ دونوں کی زندگیاں الگ الگ راستوں پر چلتی رہیں، مگر ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، یہ حقیقت برسوں تک سامنے نہ آ سکی۔
ان کے خاندان کے لیے یہ جدائی ایک مسلسل دکھ تھی۔ دو بچوں کا بچھڑ جانا کوئی معمولی نقصان نہیں ہوتا۔ وقت گزرتا رہا، مگر دل میں یہ امید باقی رہی کہ شاید کبھی کوئی خبر مل جائے، شاید کبھی کوئی پہچان لے، شاید کبھی یہ بچھڑے ہوئے بچے واپس گھر آ سکیں۔
17 ستمبر 2025 کو انعم کے کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی۔ میرا پیارا پلیٹ فارم کے ذریعے انعم کا انٹرویو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ مقصد یہی تھا کہ اگر کوئی اسے جانتا ہو یا اس کے خاندان کے بارے میں معلومات رکھتا ہو تو میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔
یہ کوشش کامیاب ثابت ہوئی۔ انعم کی ویڈیو اس کے بھائی عباس تک پہنچی، جس نے اسے پہچان لیا۔ کئی سال گزر چکے تھے، چہرے بدل چکے تھے، مگر رشتے کی پہچان باقی تھی۔ عباس نے فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد تصدیق کا مکمل عمل شروع کیا گیا، ضروری معلومات حاصل کی گئیں اور verification کے بعد یہ بات کنفرم ہوئی کہ انعم 22 ستمبر 2005 سے لاپتہ تھی۔
21 سال سے زائد عرصے بعد انعم اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئی۔ ایک بیٹی گھر واپس آئی، ایک بہن اپنے بھائیوں سے ملی، اور خاندان کے ایک بڑے دکھ کو کچھ سکون ملا۔
مگر یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
چند ماہ بعد، یکم دسمبر 2025 کو اویس کا کیس سامنے آیا۔ اویس کو کئی سال پہلے لاہور میں داتا دربار کے قریب لاوارث حالت میں پایا گیا تھا۔ وہ بھی ذہنی طور پر کمزور تھا اور اپنی شناخت واضح طور پر بیان نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا انٹرویو بھی میرا پیارا پلیٹ فارم کے ذریعے ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔
اس بار اویس کو اس کے کزن وسیم بٹ نے پہچانا۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد خاندان سے رابطہ ہوا، معلومات کو چیک کیا گیا اور verification کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اویس بھی اسی خاندان کا حصہ ہے جس کی بیٹی انعم چند ماہ پہلے واپس ملی تھی۔
یہ خاندان، جس نے 21 سال سے زائد عرصہ پہلے اپنے دو بچوں کو کھو دیا تھا، چند ماہ کے فرق سے دونوں بچوں تک پہنچ گیا۔ پہلے انعم کی شناخت ہوئی اور وہ اپنے گھر واپس آئی، پھر اویس بھی اپنے خاندان سے مل گیا۔
یہ کہانی امید، مسلسل کوشش اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ میرا پیارا ٹیم کی کوششوں، فلاحی اداروں کے تعاون اور عوام کی توجہ سے دو الگ الگ زندگیاں دوبارہ اپنے خاندان سے جڑ گئیں۔
انعم اور اویس کی واپسی صرف دو افراد کی reunion نہیں، بلکہ ایک خاندان کی تکمیل تھی۔ ایک بہن پہلے واپس آئی، پھر بھائی بھی اپنے گھر پہنچ گیا۔ برسوں کی جدائی کے بعد ایک رشتہ دوبارہ جڑ گیا، اور ایک خاندان کو وہ خوشی ملی جس کا انتظار وہ کئی سال سے کر رہا تھا۔

انعم اور اویس: 21 سال بعد بہن بھائی کا رشتہ دوبارہ جڑ گیا

کچھ کہانیاں ایک ہی دن میں مکمل نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات زندگی برسوں تک اپنے اندر خاموشی، انتظار اور ادھوری پہچان سمیٹے رکھتی ہے۔ انعم اور اویس کی کہانی بھی ایسی ہی ہے، دو بہن بھائی جو 21 سال سے زائد عرصہ اپنے خاندان سے جدا رہے، مختلف اداروں میں پرورش پاتے رہے، اور ایک دوسرے کے بارے میں بھی بے خبر رہے۔

انعم اور اویس گجرات کے رہائشی تھے۔ 21 سال سے زائد عرصہ قبل دونوں بچے اپنی والدہ کے ساتھ داتا دربار لاہور آئے تھے۔ دونوں بچے special تھے اور اپنے بارے میں مکمل معلومات دینے یا راستہ سمجھنے کے قابل نہیں تھے، اسی وجہ سے وہ اپنی والدہ سے بچھڑ کر لاپتہ ہو گئے۔

وقت کے ساتھ دونوں مختلف فلاحی اداروں میں پہنچے، جہاں ان کی دیکھ بھال ہوتی رہی، مگر ان کی اصل شناخت نامعلوم رہی۔ انعم کراچی کے ایدھی سینٹر میں مقیم تھی۔ وہ کئی سال سے وہاں رہ رہی تھی، مگر اپنے گھر، خاندان یا ماضی کے بارے میں واضح طور پر کچھ بتانے سے قاصر تھی۔ دوسری طرف اویس بھی اپنے خاندان سے جدا ہو کر چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی دیکھ بھال میں زندگی گزار رہا تھا۔ دونوں کی زندگیاں الگ الگ راستوں پر چلتی رہیں، مگر ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، یہ حقیقت برسوں تک سامنے نہ آ سکی۔

ان کے خاندان کے لیے یہ جدائی ایک مسلسل دکھ تھی۔ دو بچوں کا بچھڑ جانا کوئی معمولی نقصان نہیں ہوتا۔ وقت گزرتا رہا، مگر دل میں یہ امید باقی رہی کہ شاید کبھی کوئی خبر مل جائے، شاید کبھی کوئی پہچان لے، شاید کبھی یہ بچھڑے ہوئے بچے واپس گھر آ سکیں۔

17 ستمبر 2025 کو انعم کے کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی۔ میرا پیارا پلیٹ فارم کے ذریعے انعم کا انٹرویو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ مقصد یہی تھا کہ اگر کوئی اسے جانتا ہو یا اس کے خاندان کے بارے میں معلومات رکھتا ہو تو میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔

یہ کوشش کامیاب ثابت ہوئی۔ انعم کی ویڈیو اس کے بھائی عباس تک پہنچی، جس نے اسے پہچان لیا۔ کئی سال گزر چکے تھے، چہرے بدل چکے تھے، مگر رشتے کی پہچان باقی تھی۔ عباس نے فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد تصدیق کا مکمل عمل شروع کیا گیا، ضروری معلومات حاصل کی گئیں اور verification کے بعد یہ بات کنفرم ہوئی کہ انعم 22 ستمبر 2005 سے لاپتہ تھی۔

21 سال سے زائد عرصے بعد انعم اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئی۔ ایک بیٹی گھر واپس آئی، ایک بہن اپنے بھائیوں سے ملی، اور خاندان کے ایک بڑے دکھ کو کچھ سکون ملا۔

مگر یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔

چند ماہ بعد، یکم دسمبر 2025 کو اویس کا کیس سامنے آیا۔ اویس کو کئی سال پہلے لاہور میں داتا دربار کے قریب لاوارث حالت میں پایا گیا تھا۔ وہ بھی ذہنی طور پر کمزور تھا اور اپنی شناخت واضح طور پر بیان نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا انٹرویو بھی میرا پیارا پلیٹ فارم کے ذریعے ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

اس بار اویس کو اس کے کزن وسیم بٹ نے پہچانا۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد خاندان سے رابطہ ہوا، معلومات کو چیک کیا گیا اور verification کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اویس بھی اسی خاندان کا حصہ ہے جس کی بیٹی انعم چند ماہ پہلے واپس ملی تھی۔

یہ خاندان، جس نے 21 سال سے زائد عرصہ پہلے اپنے دو بچوں کو کھو دیا تھا، چند ماہ کے فرق سے دونوں بچوں تک پہنچ گیا۔ پہلے انعم کی شناخت ہوئی اور وہ اپنے گھر واپس آئی، پھر اویس بھی اپنے خاندان سے مل گیا۔

یہ کہانی امید، مسلسل کوشش اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ میرا پیارا ٹیم کی کوششوں، فلاحی اداروں کے تعاون اور عوام کی توجہ سے دو الگ الگ زندگیاں دوبارہ اپنے خاندان سے جڑ گئیں۔

انعم اور اویس کی واپسی صرف دو افراد کی reunion نہیں، بلکہ ایک خاندان کی تکمیل تھی۔ ایک بہن پہلے واپس آئی، پھر بھائی بھی اپنے گھر پہنچ گیا۔ برسوں کی جدائی کے بعد ایک رشتہ دوبارہ جڑ گیا، اور ایک خاندان کو وہ خوشی ملی جس کا انتظار وہ کئی سال سے کر رہا تھا۔

21/05/2026

Address

Near Rescue Office City Police Station Hassan Abdal
Hassan Abdal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safe City Hassan Abdal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share