11/11/2018
مفتی عبدالقیوم نون
مفتی عبدالقیوم نون1922 مین ہزارہ کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوے آپ کا تعلق گوجر قبیلہ کاے نون خاندان سے تھا۔ آپکا گھرانہ کو ہری پور میں علم و ادب کے لیحاظ بہت عزت اور مرتبہ کے مقام حاصل تھا۔ آپ کا خاندان بہت خشعال اور معتبر مانا جاتا تھا۔ آپ کے والد کا نام ولی محمد خان اور دادا کا نام شاہ نواز خا ن تھا۔ جو علاقی کے معروف زمیندار تھے۔ آپ نے ابتدائ تعلیم مدارس سے حاصل کی۔ کچھ عرصہ چکوال اور کیمبلپور(اٹک) کی درس گاہوں میں بھی حصول علم کاے لیے مقیم رہے۔
1936 میں دہلی چلے گے جہاں مشہور درس گاہوں فتح پوری اور امینیہ میں دو سال تعلیم کے حصول کے لیے قیام کیا۔ ق 1937 ء میں ڈابھیل ضلع سورت چلے گے جہاں جامعہ اسلامیہ میں داخلہ لیا۔ وہاں ایک ہی سال تعلیم حاصل کی 1938 ء مین ایشیاء کی سب سے معروف دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند (ضلع سہارن پور، یو۔پی) میں دخلہ لیا اور 1942 ء تک دیوبند میں تحصیل علم کے لیے مقیم رہے۔ یہاں اپنے دور کے نامور اساتزہ سے کسب فیض کیا۔ جن میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا اعزاز علی، مولاناابراہیم بلیالوی، مولاناحفظ الرحمٰن سیوہاروی، اور مولانا شمس الحق افغانی شامل ہیں۔
دیوبند میں مولانا عبیداللہ سندھی کی قائم کردہ علمی و فکری تنظیم نظارۃالمعارفکے ساتھ منسلک رہے اور مولانا سندھی سے شاولی اللہ کی حجتہ البالغہ کا درس بھی حاصل کیا۔
محدث کبیر سید محمدانور شاہ کاشمیری کی بخاری کی شرح فیض الباری کاے مقدمہ میں آپ کا نام انور شہ کاشمیری کے بعض نامور تلامزہ میں درج ہے۔ اور اس کا تزکرہ عبدالرحمٰن کوندوے نے اپنی کتاب تقدس انور میں بھی کیاہے۔
دیوبند سے سند فراغت اعلیٰ درجہ میں حاصل کرنے کے بعد آپ کا تقرر سلطان پور لودھی ریاست کپور تھلہ ضلع جالندھر میں مسلم ہاٰئی سکول میں معلم دنیان کے طور پر ہوا اور ساتھ ہی جامع مسجد کی ذمہ داری سونیپی گئی۔
1944 ء میں ریاست کپور تھلہ ہی کے ایک شہر پھگوڑہ آ گئے جہاں مسلم ہائی سکول میں دینیات کی تدریس کی اور ساتھ ہی شہرکی جامعہ مسجد میں خطبہ دینے پر مامور ہوئے۔
مئی 1947ء اپنے علاقے منتقل ہو گئے اور ہری پور میں سکونت اختیار کی۔ اکست 1947ء میں پاکستان کی پہلی عیدالفطر کی نماز ہری پور شہر کی مرکزی عیدگاہ میں پڑھانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہری پور میں ہائٰ سکول میں دینیات کی تدریس پر مامور ہوئے۔ اور ساتھ ہی شہر کی مرکزی مسجد مین بازار میں خطابت اور افتاء پر بھی فائز کیے گئے۔
پھگورہ میں قیام کے سعران مولانا مودودی کے لیٹریچر کا مطالعہ کیااور جماعت اسلامی سے وابسطہ ہو گئے۔ ہری پور منتقل ہنے کے بعد یہاں جماعت اسلامی کی تنطیم قائم کی اور جماعت اسلامی ضلع ہزارہ کاے پہلے امیر مقرر ہوئے۔
50 دہائی میں کچھ بعض وجوہات کی بناء پر جماعت اسلامی سے مستعفی ہو گئے۔ لیکن مولانامودودی کے ساتھ احترام کا تعلق مولانا مودودی کی وفات تاک قائم رہا۔
1968 ء میں محکمہ اوقف قائم ہوا۔ آپ کو ضلع ہزاراہ کا نائب خطیب مقرر کیا گیا۔ اور 1962 ء میں محکمہ اوقاف پاکستان کی قائم کردہ علوم اسلامیہ کوئٹہ میں علمائ کے پہلے بینچ میں جدید علوم کی تعصیل لے لیے نامزد کیے گئے۔ جہاں سے امتیازی حثیت میں سند فراغت حاصل کی۔ اسی اکیدڈمی کو بعد میں جامعہ بہاولپور میں تبدیل کر دیا گیا۔
ہری پور کی مرکزی جامع مسجد، مرکزی عید گاہ کی توسیع و تعمیر آپ ہی کے ہاتھوں مکمل ہوئ۔ اس کے علاوہ دارالعلوم انوریہ، اور دارالعلوم معارف السلام کا قیام بھی آپ ہی کی کوششوں سے ممکن ہوا۔ دونوں مدارس میں بطور مدرس اور مہتمم بلا معاوضہ خدمات انجام دیتے رہے۔ دارالعلوم انواریہ بوجوہ بند ہو گیا۔ لیکن دارالعلوم معارف الاسلام دین اور جدید علوم کے متزاج کے ساتھ اب تاک جاری ہے۔
آپ نے قرآنی علوم کی اشاعت کے لئے ہری پور میں درس قران کا سلسلہ جاری کیا۔
جس کے تحت گورنمنٹ ٹیچر ٹرینیگ سکول میں روزانہ اور ٹی۔آئی۔پی ہری پور کے آفیسرز ایسوسی ایشن کے تحت ہفتہ وار درس قرآن کے حلقے قائم کیے۔ جن کی علمی شہرت دور و نزدیک پھیلی۔ یہ سلسلہ برسوں قائم رہا۔
آپ ملک میں قائم ہونے والی پہلی زکوۃ کونسل کا ممبر حکومت پاکستان نے نامزد کیا، اور تقرییبا دس سال تک اس کے رکن رہے۔ اس کاے علاوہ، متعدد ضلعی، صوبائی اور مرکزی کونسلوں اور کمیٹیو کے رکن نامزد ہوتے رہے۔ جن میں روئیت ہلال کمیٹی بھی شامل ہے۔
1980ء میں محکمہ اوقاف کی طرف سے آپ کوخطیب ہزارہ کے منصب پر فائز کی گیا اور مفتی ہزارہ کے طور پر آپ پیچیدہ شرعی مسائل کو حل کرنے میں انتظامیہ اور عدلیہ کی بطور مفتی معاونت کرتے رہے۔ اور اپنی وفات تک مرکزی جامع مسجد نایبٹ آباد میں خطبہ دیتے رہے۔ ایبٹ آباد کی خوبصور عید گاہ کی تعمیر جدید بھہ آپ ہہ کے ہاتھوں میں انجام پائی۔
امت کے اتاد اور جدید علوم کو حصل کرنے کی ترغیب دلانے میں آپ کی کوششیں علاق کی تاریخ کا حصہ ہیں۔
آپ نے بخاری اور مسلم کی شرح بھی اردو زبان میں لکھی جو تا ہنوز قلمی صورت ہی میں موجود ہے۔
آپکا انتقال 5 اگست 1991ء کو دل کا دورہ پڑنے سے ہو۔ ہری پور کی عیدگاہ میں معروف علم دین گوہرارحمٰن نے نمازہ جنازہ پڑھائی اور عیدگاہ کے پہلو میں سپرد خاک کئے گئے۔ آپ کاے جنازہ میں نہ صرف ہزارہ بلکہ دور دراز کے شہروں سے بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
برائے حوالہ:
1۔ علما ئے ہزارہ، ڈاکٹر قاری محمد فیوض ارحمٰن
2- تزکرہ علمائے ہزارہ، محمد خواص خان
3۔ تقدس انور۔ عبدالرحمٰن کوندو
4۔ فیضالباری شر ح بخاری، مقدمہ از احمد اضابجنوری