FACE OFF GB

FACE OFF GB this is official page

04/01/2025

2024 میں گلگت بلتستان میں 46 افراد نے اپنی جان لے لی۔ مرنے والوں میں 27 مرد اور 19 خواتین شامل ہیں۔ ضلع گلگت سے 6 مرد اور 3 خواتین، دیامر سے 2 مرد، سکردو سے 3 مرد اور 1 خاتون، غذر سے 13 مرد اور 13 خواتین، گھانچے سے 1 خاتون، ہنزہ سے 3 مرد اور 1 خاتون اور پہلی مرتبہ ضلع نگر سے ایک آدمی کی خودکشی رپورٹ ہوئی۔ (رپورٹ: تنویر عباس)

09/08/2024

بتھریت ضلع غذر میں غریب افراد پر دھاوا بول کر تین افراد کو اغواء کرنے سمیت کئ افراد کو زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ مال مویشی چرا کر لے جانے کا واقع قابل مذمت ہے۔ ہم پاکستان بنتے ہی فریادی رہے کہ بھتریت، سنگل، کارگاہ اور کھنبری کا سنگم ایک ہی جگہ ہے۔ اس جگہ پر گلگت بلتستان اسکاوٹس کو تعینات کیا جائے مگر ریاست پاکستان کے ادارے ٹس سے مس نہیں۔ ہم غذر سے دیامر کہی سے بھی روڈ یا راستے کی حمایت کھبی نہیں کرینگے کیونکہ یہ غذر کے لیئے خودکشی ثابت ہوگا۔
ہم مجبور ہونگے ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی انکی طرح جنگل کا قانون رائج کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوں۔
ہندرپ سے گاشو پہوڈ جگلوٹ نالے تک قتل و غارت گری، چوری ، خواتین کا اغواہ، مردوں کا اغواہ، جبردستی شادیاں، خواتین کو ورغلا کر لے جانا، پولیس کی شہادتیں یہ سب ایک جنگلستان میں ممکن ہے انسانوں کے دیس میں اسکی کنجائش باقی نہیں رہی۔ حکومت انکو لگام دیں انکو انسان بنائے۔ ہمارا مطالبہ سن دو ہزار سات سے تھا کہ ہورے جی بی کے بجٹ کو دو سالوں تک دیامر پر خرچ کیا جائے، تعلیم عام کرے لوگوں کو روزگار دیں۔ نئے راستے کھولے ریاست پاکستان اس خطے پر جو انوسٹ کرتا ہے اس میں ستر فیصد سرکاری نوکر کھا جاتے ہے باقی ماندہ رقم سیاست دان اور ٹھیکدار کھا جاتے ہیں۔ یہاں ہر جگہ طول غلام کی وجہ سے بدتریں بے روزگاری بدتریں لوڈشیڈنگ، بدتریں حکمرانی اور بدترین انتظامی و بدترین تعلیمی نظام ہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ حساب کتاب کا نہ ہونا یے یہاں نیب ، ایف آئی اے تمام محکمے موجود ہے مگر کام کرنا قانون میں نہیں کیونکہ متنازہ خطے کا نہ کوئی قانون ہے اور نہ کوئی قآنون اس بدقسمت خطے پر لاگو ہو سکتا ہے۔ انکا اپنا آئین معطل ہے۔
ہم مقتدر حلقوں کو انتباہ کرتے ہے اس سے ہہلے حالات بے قابوں ہوں اس مسلے کو جلد از جلد حل کرے۔ نالہ جات میں جی بی اسکاوٹس تعینات کرے۔

گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروجیکٹ جس کی لاگت دیکھ کر اندازہ ہوا تھا کہ یہ سڑک سی پیک کی طرح بنے گی۔لیکن اب ان ک...
19/07/2024

گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروجیکٹ جس کی لاگت دیکھ کر اندازہ ہوا تھا کہ یہ سڑک سی پیک کی طرح بنے گی۔
لیکن اب ان کا کام دیکھ کر اندازہ غلط ثابت ہو رہا ہے فرق دیکھو چترال اور غذر روڈ میں ۔۔۔

زمہدار کون ؟زمہدار اداروں کو بار بار بتانے کے باوجود کوئی ٹس سے مس نہی ہم پہلے بھی کئی بار اس سوکھے پایپ کو پل کے درمیان...
12/07/2024

زمہدار کون ؟

زمہدار اداروں کو بار بار بتانے کے باوجود کوئی ٹس سے مس نہی ہم پہلے بھی کئی بار اس سوکھے پایپ کو پل کے درمیان سے ہٹا کر سائیڈ سے گزارنے کی ریکوسٹ کر چکے لیکن زمہدار ادارے اور ان اداروں میں کام کرنے والے لوگ شاید کسی بڑے حادثے کے رونما ہونے کے انتظار میں تھے اور ہیں آج دوپہر کے وقت سلپی کراس کر کے گاہکوچ کی طرف جاتی یہ گاڑی اس پایپ کے ساتھ ٹکرا کے بال بال بچ گئ ۔۔۔اللّٰہ نہ کرے ایسا اگر یہ گاڑی دریا برد ہوتی تو اس کا زمدار کون ہوتا؟ DCGhizer /Acghizer اس گاڑی کے اندر ایک پوری فیملی سفر کر رہی تھی اللّٰہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حادثہ ہوتے ہوتے بچ گیا....اس پروجیکٹ کے زمہداران ادارے District Administration Ghizer فلفور اس کو پل کے درمیان سے ہٹا کر سائیڈ سے گزارے اور ساتھ ساتھ اس سکیم کو فنکشنل کر کے گاؤں سلپی کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنائیں اب عوام خاموش نہی رہنگے عوامی ردعمل آئے گا عوام سلپی عوام اشکومن پونیال کو سڑکوں پے آنے پے مجبور نہ کریں۔عوام کے جان ومال کا تحفظ حکومت نے ہی کرنا ہے یا پھر یہ بھی ہم سھمجائے حکومت کو ؟



12/07/2024

72000 مربع کلومیٹر GB میں پاکستانی صحافی منصور علی خان کو گٹر لائن کا سوراخ نظر آیا لیکن75 سالوں کی محرومی اور مسائل ,بیروزگاری ،بدعنوانی ,غربت کبھی نظر نہیں آئی !!

مہاراجہ گلاب سنگھ کی یہ تصویر جو 1846 میں پینٹ کی گئی تھی۔ گلاب سنگھ کا تعلق  جموں کے ہندو ڈوگرہ قبیلہ (راجپوت) سے تھا ،...
09/07/2024

مہاراجہ گلاب سنگھ کی یہ تصویر جو 1846 میں پینٹ کی گئی تھی۔ گلاب سنگھ کا تعلق جموں کے ہندو ڈوگرہ قبیلہ (راجپوت) سے تھا ، اپنے بھائی کے ساتھ سکھ فوج کے ساتھ تھا۔ مہاراجہ گلاب سنگھ نے انگریز نوآبادیاتی ایسٹ انڈیا کمپنی کو فرنٹیئر ریجن (لداخ بلتستان /گلگت کا خطہ 75 سکھا شاہی روپے میں بیچا تھا۔ جنرل زورآور سنگھ نے 1840 میں لداخ اور بلتستان پر قبضہ کیا اور 1841 میں سکھ فوج کے کرنل نتھے شاہ نے گلگت پر قبضہ کر کیا۔ بلتستان پر قبضے کے بعد جنرل زورآور سنگھ تبت پر قبضہ کرنے کے لیے آگے بڑھا لیکن مقدس پہاڑ کیلاش (سندھ کی ماں) کے نیچے مانسورور جھیل کے قریب تبتیوں کے اچانک حملے میں مارا گیا۔ تبت میں سکھوں کی شکست کے بعد لداخ بلتستان گلگت اور جموں پر ڈوگرہ قابض ہو گئے۔
پی سی: وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم، لندن

02/07/2024
01/07/2024

یقین کیجیے ہم گلگت بلتستان والے سیاحوں کے کثیر رقم والے پرس اور آئی فون 15 پرو میکس ایمانداری کیساتھ واپس کرتے ہیں مگر جوس کے ڈبے، پانی اور مسلمانوں والا کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلیں، بدبودار جرابیں، دھوپ میں رکھے عجیب منہ والے ایک پاوں کے جوتے، مختلف ساِئز کے پلاسٹک کے تھیلے، کینسر منہ والے سگریٹ کی خالی پیکٹ اور بچوں کے پیمپر کیسے واپس کریں۔
کوئی سیاح سوشل میڈیا پہ ایسی پوسٹ بھی نہیں کرتا کہ فلاں جھیل کنارے میرے بدبودار جراب رہ گئے ہیں۔ سگریٹ کا خالی پیکٹ رہ گیا ہے۔ کوئی خاتون کی پوسٹ بھی نظروں سے نہیں گزر رہی کہ" گلگت بلتستان کی دور دراز کسی وادی میں میرے بچے کا گندا پمپر رہ گیا ہے اگر کسی کو ملے تو میرے متعلقہ نمبر پہ رابطہ کریں"
آوارہ گرد کوئی نوجوان اگلی بار آئی فون کی گمشدگی کیساتھ جھیلوں کے کنارے پھٹے پرانے رنگ برنگے انڈر ویئر اور پتلون چھوڑ کے جائے تو پلیز سوشل میڈیا پر لازمی لکھیں تاکہ ہم گلگت بلتستان والے آئی فون اور دیگر قیمتی اشیاء سمیت آپ کا پھیلایا ہوا کچرا بھی واپس کر دیں
رضا گلگتی

Address

Gilgit Baltistan
Hunza
15100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FACE OFF GB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category