جمعیت علماءپاکستان Jamiat Ulma-e-Pakistan

جمعیت علماءپاکستان Jamiat Ulma-e-Pakistan نظام مصطفےٰ کا نفاذ مقام مصطفےٰ کا تحفظ

پمز آتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی شہادت قومی سانحہ، ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر وزیرا...
28/08/2026

پمز آتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی شہادت قومی سانحہ، ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر
وزیراعظم اور وفاقی وزیر صحت فوری مستعفی ہوں حکومت کی ناک کے نیچے پمزنرسری میں دلخراش سانحہ نظام صحت پر سوالیہ نشان ہے؟ جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے پمز اسلام آباد کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی شہادت کے دلخراش واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ قومی سطح کا سنگین سانحہ اور متعلقہ حکومتی و انتظامی اداروں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔جس پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کوفوری مستعفی ہو کر تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو نا چاہئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعہ کے ذمہ دار افراد کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور غیر جانبدارانہ، شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے ذریعے تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔ ذمہ داروں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے، کیونکہ معصوم اور بے زبان نومولود بچوں کی جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی پردہ پوشی یا مصلحت قبول نہیں کی جائے گی۔ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ حکومت کی ناک کے نیچے ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے نرسری وارڈ میں ایسا سانحہ ہونا انتہائی تشویشناک اور ناقابل برداشت ہے۔ اگر اس واقعہ میں غفلت، لاپرواہی، ناقص حفاظتی انتظامات یا انتظامی ناکامی ثابت ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف نچلے درجے کے عملے پر ڈال کر اصل ذمہ داروں کو نہیں بچایا جا سکتا۔ایسا لگتا ہے وزیر اعظم کی جانب سے فوری طور پر سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے نے اصل مجروموں کی پردہ پوشی کی ہے انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سانحہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور قوم کو بتایا جائے کہ ہسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات کیوں ناکام ہوئے، ایمرجنسی کے باوجود حفاظتی اقدامات مؤثر کیوں نہ تھے اور معصوم بچوں کو بچانے کے لیے بروقت کارروائی کیوں نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پُرمسرت موقع پر جب ہسپتالوں میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے، ڈاکٹر، نرسیں اور متعلقہ عملہ موجود ہوتا ہے، اس کے باوجود 14 نومولود بچوں کی جانوں کا ضائع ہونا پورے نظامِ صحت پر سنگین سوالیہ نشان ہے؟۔انہوں نے کہا کہ 14 معصوم نومولود بچوں کی شہادت کے ذمہ داروں کو محض معطل یا تبدیل کرنا کافی نہیں، بلکہ جن افراد، افسران یا انتظامی ذمہ داروں کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو انہیں گرفتار کرکے سخت قانونی سزا دی جائے۔ قوم اس سانحہ پر خاموش نہیں رہے گی اور متاثرہ خاندانوں کو ہر صورت انصاف ملنا چاہیے۔
جاری کردہ میڈیا سیل جمعیت علماء پاکستانو ملی یکجہتی کونسل پاکستان03453556611.03123015254.www.jupnoorani.org

نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، مذہبی جذبات سے کھیلنے والوں کو قانون کے مطابق لگام دی جائے ڈاکٹر...
27/08/2026

نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، مذہبی جذبات سے کھیلنے والوں کو قانون کے مطابق لگام دی جائے ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر
کشمیر، فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے امتِ مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے باہمی تعاون کو مزید وسیع کرتے ہوئے ایران، قطر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی مشترکہ اتحاد میں شامل کیا جائے۔
حیدرآباد: جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے میلادِ مصطفیٰ چوک، کوہ نور، حیدرآباد میں جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلے میں مرکزی جماعت اہل سنت کے زیر اہتمام منعقدہ میلادِ مصطفیٰ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اس لیے ملک کو دہشت گردی، بدامنی، کرپشن اور معاشی بحران سے نکالنے کا مستقل حل نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصولوں، عدل، دیانت اور انصاف کے نفاذ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت کے لیے رحمت، محبت اور امن کا پیغام لے کر آئے۔ آپ ﷺ کو اپنی امت کی تکلیف گوارا نہیں تھی، اس لیے آج مسلمانوں کو بھی مظلوم انسانوں اور پریشان حال مسلمانوں کی مدد کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ کشمیر، فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے امتِ مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے۔ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے باہمی تعاون کو مزید وسیع کرتے ہوئے ایران، قطر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی مشترکہ اتحاد میں شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور دیگر قومی مسائل کو طاقت کے بجائے مذاکرات، انصاف اور سیاسی حکمت عملی کے ذریعے حل کیا جائے۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں پاک فوج، پولیس اور بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، حکمران قومی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔انہوں نے اسلام آباد پریس کلب میں قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت کے بارے میں دیے گئے متنازع بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو مذہبی جذبات سے کھیلنے، مقدسات کے بارے میں اشتعال انگیزی پھیلانے اور ملک میں انتشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور بلاامتیاز کارروائی کرے اور قانون کی بالادستی یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسلمان امن چاہتے ہیں، لیکن اپنے اسلامی تشخص اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ حکمران ملک میں عدل، انصاف اور اسلامی اصولوں کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کریں۔آخر میں ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اصل پیغام محبت، امن، رحم، انصاف اور خدمتِ انسانیت ہے۔ اگر حکمران سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے اصولوں کو ریاستی نظام کا حصہ بنائیں تو ان شاء اللہ پاکستان دہشت گردی، کرپشن، معاشی بحران اور بدامنی سے نجات حاصل کرکے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ کانفرنس سے مرکزی نائب صدر ناظم علی آرائیں مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش،مرکزی نائب صدر قاری نیاز احمد نقشبندی،جے یو پی کے صوبائی رہنماء صاحبزادہ محمود احمد قادری،مرکزی جماعت اہلسنت ضلع حیدرآباد کے امیر سید عبدالغنی شاہ،جے یو پی ضلع حیدرآباد کے صدر قاری غلام سرورامینی،جنرل سیکریٹری محمد رضوان شیخ،عبدالروف الوانی،ارشاد حسین نقشبندی،ڈاکٹر عارف اللہ شاہ نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس سے قبل اکبری تکونہ مسجد احمد رضا چوک سے جمعیت علماء پاکستان کی مرکزی میلاد جلوس ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر، سابق ایم پی اے عبدالرحمن راجپوت،مولانا ایاز محمود رضوری،حافظ اشفاق حسین قادری،قاری شعیب امینی،مولانا محمد شریف،حافظ محمد زبیر کی قیادت میں نکالا گیا جواللہ والا چوک،پرنس علی روڈ،مارکیٹ ٹیکسی اسٹینڈ،تلک چاڑی پوسٹ آفس،نورانی چوک،اسٹیشن روڈ قادری مسجد سے ہوتا ہوا میلاد مصطفےٰ چوک کوہ نور پر مرکزی جماعت اہلسنت ضلع حیدرآباد کے زیر اہتمام بہت بڑے جلسے میں تبدیل ہو گیا جہاں جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر نے میلاد مصطفےٰ ﷺ کانفرنس سے خطاب کیا۔
جاری کردہ میڈیا سیل جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان034535566611.03123015254.www.jupnoorani.org

حیدرآباد: جشن عید میلادالنبی ﷺ کے انتظامات میں غفلت، جے یو پی کا سخت ردعمل سندھ حکومت فوری نوٹس لے، ذمہ دار افسران کے خل...
22/08/2026

حیدرآباد: جشن عید میلادالنبی ﷺ کے انتظامات میں غفلت، جے یو پی کا سخت ردعمل سندھ حکومت فوری نوٹس لے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے
حیدرآباد: جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش، مرکزی جماعت اہلسنت ضلع حیدرآباد کے امیر پیر سید عبدالغنی شاہ مجددی حسینی، جے یو پی ضلع حیدرآباد کے صدر قاری غلام سرور امینی، رحمانی مسجد کے خطیب و امام علامہ ہاشم رضا نورانی اور عثمانیہ مسجد کے خطیب و امام حافظ عامر نے جشن عید میلادالنبی ﷺ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے حیدرآباد شہر میں جلوسوں کی گزرگاہوں کا تفصیلی دورہ کیا۔وفد نے پھلیلی، ٹنڈو ٹھورو، حاجی امید علی روڈ، جامع غوثیہ مسجد، پریٹ آباد ٹاؤن، میمن ہسپتال، ٹمبر مارکیٹ روڈ، ہیرآباد، تکونہ پارک، گرونگر، پکا قلعہ، چہاڑی مارکیٹ، اسٹیشن روڈ اور میاں سرفراز ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور جشن عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں انتظامات اور شہری مسائل کا جائزہ لیا۔اس موقع پر رہنماؤں نے شہر کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش اور سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی سڑکیں تباہی و بربادی کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے موجود ہیں جن کے باعث روزانہ شہری حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی نالیاں اور ناقص نکاسی آب کے باعث گندا پانی سڑکوں پر جوہڑوں اور جھیلوں کی شکل اختیار کرچکا ہے، جبکہ کچرے کے ڈھیروں سے اٹھنے والا تعفن شہریوں کے لیے ناقابل برداشت صورتحال پیدا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ **سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی ناکامی نے شہر کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جبکہ واسا شہریوں کو پانی کی بوند بوند کے لیے ترسا رہا ہے۔** شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات کی مسلسل عدم فراہمی انتظامی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔رہنماؤں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے روز بروز بڑھتی ہوئی غیر اعلانیہ گیس لوڈشیڈنگ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہری پہلے ہی بجلی اور پانی کے بحران سے دوچار ہیں، ایسے میں گیس کی غیر اعلانیہ بندش نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعووں کے باوجود ”فالٹ“ کے نام پر کئی کئی گھنٹوں تک بجلی بند رکھنا عوام کے ساتھ مذاق ہے۔انہوں نے کہا کہ جشن عید میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں کے روٹس اور ٹائم ٹیبل کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی عدم دلچسپی بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ **جشنِ میلادالنبی ﷺ کوئی معمولی سرگرمی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے عقیدت و محبت کا عظیم مظہر ہے، اس کے انتظامات میں غفلت یا رکاوٹ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔**رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی، چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی اور ڈی آئی جی طارق رزاق دھاریجو سے مطالبہ کیا کہ جشن عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں، جلوسوں کی گزرگاہوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت، صفائی، سیوریج کے پانی کی نکاسی، کچرے کی صفائی، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی اور ٹریفک و سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ **جشن عید میلادالنبی ﷺ کے انتظامات کے لیے ہر سال کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہ فنڈز عملی اقدامات کے بجائے افسران کے اجلاسوں، نشست و گفت اور دعوؤں تک محدود رہ جاتے ہیں۔** اگر فنڈز مختص کیے گئے ہیں تو ان کا عملی اثر شہر کی سڑکوں، صفائی، نکاسی آب اور عوامی سہولیات میں نظر آنا چاہیے۔رہنماؤں نے کہا کہ اب جبکہ **12 ربیع الاول کو جشن عید میلادالنبی ﷺ میں صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، شہر کی سڑکیں تباہی اور بربادی کا ماتم کررہی ہیں۔** نکاسی آب کا تباہ حال نظام واسا کی ناقص کارکردگی اور مبینہ بدانتظامی کی تصویر پیش کررہا ہے، جبکہ بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور شہری علاقوں کو مسلسل نظرانداز کیے جانے سے عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پیدا ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو اس کے بنیادی شہری حقوق سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی اس صورتحال پر خاموشی **حیدرآباد کے شہریوں کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک کے مترادف ہے **، جس سے عوام میں احساسِ محرومی اور اشتعال مزید بڑھ رہا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر سڑکوں کی مرمت، صفائی، نکاسی آب، پانی، بجلی، گیس اور جشن میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں کے انتظامات بہتر نہ کیے گئے تو جمعیت علماء پاکستان اور مرکزی جماعت اہلسنت عوام کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز بلند کریں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ **جشن عید میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں کے راستوں میں کسی قسم کی رکاوٹ، انتظامی غفلت یا غیر ضروری پابندی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔** حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرکے حیدرآباد کے شہریوں کو عملی ریلیف فراہم کریں، بصورت دیگر پیدا ہونے والی تمام صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ اداروں اور انتظامی افسران پر عائد ہوگی۔
جاری کردہ میڈیا سیل جمعیت علماء پاکستان 03453556611.03123015254.www.jupnoorani.org

تہران میں ہونے والی 40ویں انٹرنیشنل وحدت کانفرنس کے سلسلے میں منعقد ہونے والی سائنٹیفک کمیٹی کا آن لائن اجلاساسلامی، بال...
19/08/2026

تہران میں ہونے والی 40ویں انٹرنیشنل وحدت کانفرنس کے سلسلے میں منعقد ہونے والی سائنٹیفک کمیٹی کا آن لائن اجلاس
اسلامی، بالخصوص عرب ممالک پر زور دیا جائے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈال کر ان سے اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد کرائیں ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر
تہران میں ہونے والی 40ویں انٹرنیشنل وحدت کانفرنس کے سلسلے میں منعقد ہونے والی سائنٹیفک کمیٹی کا آن لائن اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت تقریب بین المذاہب کے سیکریٹری جنرل جناب حمید شہریاری نے کی۔آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ تہران میں منعقد ہونے والی اس عظیم انٹرنیشنل وحدتِ امت کانفرنس کے ذریعے اسلامی، بالخصوص عرب ممالک پر زور دیا جائے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈال کر ان سے اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد کرائیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے بڑی محنت اور جانفشانی سے یہ معاہدہ کرایا تھا اور اس وقت عالمی امن کے قیام کے لیے اس معاہدے پر عمل درآمد کی سخت ضرورت ہے۔ اسرائیل اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ تمام اسلامی ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ امریکہ پر بھرپور دباؤ ڈالیں اور اس معاہدے پر عمل درآمد کرائیں۔
جاری کردہ میڈیا سیل جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان03453556611.03123015254.www.jupnoorani.org

17/08/2026
تمام نظام آزمائے جاچکے، اب نظامِ مصطفی ﷺٰ ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتا ہے: ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیروزیر داخلہ...
14/08/2026

تمام نظام آزمائے جاچکے، اب نظامِ مصطفی ﷺٰ ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتا ہے: ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس امر کی واضح نشاندہی ہے کہ ملک کو روایتی طرزِ حکمرانی سے نکالنے کی ضرورت ہے
پاکستان کا قیام لاکھوں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں شب قدر کی رات عمل میں آیایہ اللہ انعام ہے اس کی قدر کریں
حیدرآباد: جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے علامہ شاہ احمد نورانی چوک تلک چہاڑی میں جشنِ آزادی کے سلسلے میں منعقدہ جے یو پی کی پرچم کشائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ ملک میں تمام نظام آزمائے جاچکے ہیں، اب صرف اسلام کے عادلانہ نظام اور نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا نفاذ ہی پاکستان کو موجودہ مشکلات کے بھنور سے نکال سکتا ہے۔ کرپشن، بدعنوانی، لاقانونیت، ناانصافی، ظلم و جبر اور سودی نظام نے ملکی معیشت کو تباہ جبکہ اقتصادی، سیاسی، جمہوری، داخلی اور خارجی سمیت تمام شعبوں کوتباہ کردیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس امر کی واضح نشاندہی ہے کہ ملک کو روایتی طرزِ حکمرانی سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ حکمران اب ہوش کے ناخن لیں اور اسلام کے نظامِ عدل و انصاف کو نافذ کریں، کیونکہ یہی نظام ملک کی ترقی، خوشحالی، بقا اور سالمیت کا ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام لاکھوں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے مقصد کو محض ایک خطہ زمین کے حصول تک محدود نہیں رکھا بلکہ ایک ایسی ریاست کے تصور پر زور دیا جہاں مسلمان اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ حکمران قائداعظم کے فرمودات اور قیامِ پاکستان کے بنیادی مقاصد کو ملکی پالیسیوں اور حکمرانی کی منزل بنائیں۔ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ اگر ملک میں عدل و انصاف پر مبنی اسلامی نظام نافذ کردیا جائے تو غربت، بے روزگاری، مہنگائی، قرضوں کا بوجھ اور معاشی تباہی جیسے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور اس ملک میں اسلام کا آفاقی نظام نافذ ہوکر رہے گا۔ جمعیت علماء پاکستان نظامِ مصطفی ٰ ﷺ کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے اور آج جشنِ آزادی کے موقع پر ہم عہد کرتے ہیں کہ پاکستان میں نظامِ مصطفی ﷺ کے نفاذ کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ملک کی موجودہ سیاسی و امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے حالات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اور ناقص حکمرانی نے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام بیدار ہوں اورحکمران کرپشن، بدعنوانی اور لاقانونیت کا خاتمہ کریں اور ملک میں ایسا نظام قائم کیا جائے جو عوام کو حقیقی معنوں میں عدل، امن، روزگار، معاشی استحکام اور خوشحالی فراہم کرسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی یکجہتی، دیانت دار قیادت، قانون کی بالادستی اور عدل و انصاف پر مبنی نظام ناگزیر ہے۔ جشنِ آزادی کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار، خوشحال اور اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔تقریب سے مرکزی نائب صدر ناظم علی آرائیں مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش،حافظ اشفاق حسین قادری صاحبزادہ محمود احمد قادری،قاری غلام سرورامینی،ارشاد حسین نقشبندی،محمد رضوان شیخ،قاری محمد اعظم،ڈاکٹر عارف اللہ شاہ،چاند نبی صدیقی نے بھی خطاب کیا۔
جاری کردہ میڈیا سیل جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان 03453556611.03123015254.www.jupnoorani.org

ہفتہ کی چھٹی ختم کرنے اور جمعہ کو فل ٹائم تدریسی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ مسترد، 26 لاکھ روپے کے مینٹیننس فنڈز میں شفافیت...
11/08/2026

ہفتہ کی چھٹی ختم کرنے اور جمعہ کو فل ٹائم تدریسی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ مسترد، 26 لاکھ روپے کے مینٹیننس فنڈز میں شفافیت یقینی بنائی جائے: ڈاکٹر یونس دانش

تعلیمی اداروں میں نمازِ جمعہ کے اوقات میں تدریسی عمل جاری رکھنا ناقابلِ قبول، تعلیمی فنڈز کو سولر سسٹم، فرنیچر، صاف پانی، واش رومز اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے

حیدرآباد: جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش نے تعلیمی اداروں میں ہفتہ کی چھٹی ختم کرنے، جمعہ کے روز ہاف ڈے کو ختم کرکے فل ٹائم تدریسی عمل جاری رکھنے اور مینٹیننس کے نام پر 26 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے ایسے فیصلے کررہی ہے جن سے نہ صرف طلبہ، اساتذہ اور والدین مشکلات کا شکار ہوں گے بلکہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے مزید دروازے کھلنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، نمازِ جمعہ کے اوقات میں تدریسی عمل جاری رکھنا مذہبی جذبات کے منافی اور طلبہ و اساتذہ کو بنیادی مذہبی فریضے کی ادائیگی میں مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو تعلیمی پالیسی بناتے وقت ملک کی مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی اقدار کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ اگر تعلیمی اداروں میں ہفتہ کی چھٹی ختم کرنے اور جمعہ کو مکمل تدریسی دن بنانے کا مقصد تعلیمی معیار بہتر کرنا ہے تو پہلے حکومت یہ بتائے کہ موجودہ تعلیمی دنوں میں ہی اساتذہ کی کمی، خستہ حال عمارتیں، ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور ڈیسک، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، ناقص واش رومز، بجلی کی قلت، گرمی میں پنکھوں اور دیگر سہولیات کی کمی، سائنس و کمپیوٹر لیبارٹریوں کی زبوں حالی اور طلبہ کے لیے بنیادی تعلیمی سہولیات کا فقدان کیوں دور نہیں کیا جارہا؟

انہوں نے کہا کہ صرف تدریسی اوقات بڑھانے سے تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے اساتذہ کی حاضری، معیارِ تدریس، نصاب کی بہتری، جدید تعلیمی سہولیات، لائبریریوں، لیبارٹریوں، آئی ٹی کی سہولیات اور طلبہ کے لیے محفوظ و صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔

جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کے مینٹیننس کے نام پر مختص 26 لاکھ روپے کے فنڈز کا مکمل آڈٹ اور شفاف طریقے سے استعمال یقینی بنایا جائے اور اس رقم کو صرف کاغذی کارروائیوں اور غیر ضروری مرمت کے بجائے ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جن کا براہِ راست فائدہ طلبہ اور اساتذہ کو پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجلی کے بحران اور مہنگی بجلی کے تناظر میں تعلیمی اداروں کو سولر سسٹم سے آراستہ کرنا سب سے زیادہ ضروری اقدام ہے۔ اگر مینٹیننس فنڈز سے سولر پلیٹس اور دیگر توانائی کے متبادل ذرائع نصب کیے جائیں تو بجلی کے اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ طلبہ کو گرمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے بھی نجات مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں کے فنڈز کے استعمال میں شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کو یقینی بنائے، ہر ادارے میں ہونے والے ترقیاتی و مرمتی کاموں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور کسی بھی قسم کی کرپشن، کمیشن یا فرضی بلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اگر واقعی تعلیمی معیار بلند کرنا چاہتی ہے تو اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی خالی آسامیوں پر فوری بھرتی، طلبہ کے لیے جدید تعلیمی وسائل، صاف پانی، بہتر واش رومز، فرنیچر، لیبارٹریز، لائبریریاں، کمپیوٹر و آئی ٹی سہولیات، سولر انرجی اور محفوظ تعلیمی ماحول کو ترجیح دے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیم کے نام پر ایسے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے جو طلبہ، اساتذہ اور والدین پر اضافی بوجھ ڈالیں اور دوسری طرف تعلیمی فنڈز کے استعمال میں شفافیت کے بجائے کرپشن کے امکانات پیدا کریں۔ حکومت فوری طور پر ہفتہ کی چھٹی اور جمعہ کے فل ٹائم تدریسی عمل کے فیصلے پر نظرثانی کرے، نمازِ جمعہ کے اوقات میں تدریسی عمل بند کرنے کا واضح انتظام کرے اور 26 لاکھ روپے سمیت تمام تعلیمی فنڈز کو عوامی مفاد میں شفاف طریقے سے استعمال کرنے کا قابلِ عمل نظام وضع کرے۔

جمعیت علماء پاکستان ملک میں نئے صوبوں کی مخالف نہیں بلکہ ہمارے منشور میں نئے صوبوں کی تشکیل شامل ہے صاحبزادہ ابوالخیرمحم...
10/08/2026

جمعیت علماء پاکستان ملک میں نئے صوبوں کی مخالف نہیں بلکہ ہمارے منشور میں نئے صوبوں کی تشکیل شامل ہے صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر
بلدیاتی نظام کو بااختیار اور موثر بنا کر عوام کو بہت کم اخراجات میں ان سہولتوں سے فیضیاب کیا جاسکتا ہے
جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر نے کہا ہے کہ جمعیت علماء پاکستان ملک میں نئے صوبوں کی مخالف نہیں بلکہ ہمارے منشور میں نئے صوبوں کی تشکیل شامل ہے لیکن اس کیلئے شرط یہ ہے کہ نئے صوبے لسانی اور قومیتوں کی بنیاد پر نہ بنائے جائیں تاکہ لسانی اور قومیتوں کی عصبیتیں پروان نہ چڑھیں بلکہ انتظامی بنیاد پر اس کی تشکیل کی جائے اوراس سے بہتر ہے کہ بلدیاتی نظام کو مزید بااختیار،خود مختار اور مالی طور پر مضبوط و مستحکم کیا جائے تو یہ سب سے بہتر ہو گا کیونکہ نئے صوبے بنانے میں نئی اسمبلیاں نئے دفاتر،نئے محکمہ جات بنانے ہونگے جس پر اربوں روپے کے اخراجات ہوں گے جبکہ ملک کی آخری سانس لیتی ہوئی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی لہذا بلدیاتی نظام کو بااختیار اور موثر بنا کر عوام کو بہت کم اخراجات میں ان سہولتوں سے فیضیاب کیا جاسکتا ہے جو اربوں روپے خرچ کر کے صوبوں کی تشکیل کے ذریعہ حاصل کیا جانا ہے۔
جاری کردہ میڈیا سیل جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان03453556611?03123015254www.jupnoorani.org

Address

Off No 10 Alrahim Center Hyderabad
Hyderabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جمعیت علماءپاکستان Jamiat Ulma-e-Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share