28/08/2026
پمز آتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی شہادت قومی سانحہ، ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر
وزیراعظم اور وفاقی وزیر صحت فوری مستعفی ہوں حکومت کی ناک کے نیچے پمزنرسری میں دلخراش سانحہ نظام صحت پر سوالیہ نشان ہے؟ جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے پمز اسلام آباد کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی شہادت کے دلخراش واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ قومی سطح کا سنگین سانحہ اور متعلقہ حکومتی و انتظامی اداروں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔جس پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کوفوری مستعفی ہو کر تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو نا چاہئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعہ کے ذمہ دار افراد کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور غیر جانبدارانہ، شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے ذریعے تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔ ذمہ داروں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے، کیونکہ معصوم اور بے زبان نومولود بچوں کی جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی پردہ پوشی یا مصلحت قبول نہیں کی جائے گی۔ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ حکومت کی ناک کے نیچے ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے نرسری وارڈ میں ایسا سانحہ ہونا انتہائی تشویشناک اور ناقابل برداشت ہے۔ اگر اس واقعہ میں غفلت، لاپرواہی، ناقص حفاظتی انتظامات یا انتظامی ناکامی ثابت ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف نچلے درجے کے عملے پر ڈال کر اصل ذمہ داروں کو نہیں بچایا جا سکتا۔ایسا لگتا ہے وزیر اعظم کی جانب سے فوری طور پر سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے نے اصل مجروموں کی پردہ پوشی کی ہے انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سانحہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور قوم کو بتایا جائے کہ ہسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات کیوں ناکام ہوئے، ایمرجنسی کے باوجود حفاظتی اقدامات مؤثر کیوں نہ تھے اور معصوم بچوں کو بچانے کے لیے بروقت کارروائی کیوں نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پُرمسرت موقع پر جب ہسپتالوں میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے، ڈاکٹر، نرسیں اور متعلقہ عملہ موجود ہوتا ہے، اس کے باوجود 14 نومولود بچوں کی جانوں کا ضائع ہونا پورے نظامِ صحت پر سنگین سوالیہ نشان ہے؟۔انہوں نے کہا کہ 14 معصوم نومولود بچوں کی شہادت کے ذمہ داروں کو محض معطل یا تبدیل کرنا کافی نہیں، بلکہ جن افراد، افسران یا انتظامی ذمہ داروں کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو انہیں گرفتار کرکے سخت قانونی سزا دی جائے۔ قوم اس سانحہ پر خاموش نہیں رہے گی اور متاثرہ خاندانوں کو ہر صورت انصاف ملنا چاہیے۔
جاری کردہ میڈیا سیل جمعیت علماء پاکستانو ملی یکجہتی کونسل پاکستان03453556611.03123015254.www.jupnoorani.org