PML-N Federal Capital

PML-N Federal Capital This page is for Pakistan and NawazSharif lovers

03/09/2026
اے جے کے،کے وزیراعظم کے مسئلے پر دو دن میڈیا پر خوب رونق لگی رہی۔ مسلم لیگ ن میں بغاوت کی منجن فروشی ہوئی، یوٹیوبرز نے ب...
31/08/2026

اے جے کے،کے وزیراعظم کے مسئلے پر دو دن میڈیا پر خوب رونق لگی رہی۔ مسلم لیگ ن میں بغاوت کی منجن فروشی ہوئی، یوٹیوبرز نے بھی دو چار وی لاگ کھڑکا کر خوب مال دھر کیا، ایسے ایسے تجزیے پیش کیے گئے جیسے اے جے کے میں ن لیگ بس چند گھنٹوں کی مہمان ہو اور ابھی ارکان اسمبلی قطاریں توڑ کر بغاوت کرنے والے ہوں۔ مگر آخر میں نتیجہ وہی نکلا جس کے لیے غالب نے کہا تھا:

"تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا"

افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر جو اخلاقی اور جمہوری سوالات پیدا ہوئے، ہم نے بھی ان پر کھل کر تنقید کی۔ بعد میں اس فیصلے کے پیچھے جو ٹھوس وجوہات سامنے آئیں، ان کے بعد مزید کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ لیکن گزشتہ دو دن میں جس طرح تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور دوسرے مخالفین نے اس معاملے پر جمہوریت، اصول، اخلاقیات اور سیاسی جماعتوں کی داخلی خودمختاری کا ماتم کیا، اسے دیکھ کر سنجیدہ ہونے کے بجائے ہنسی ہی آتی رہی۔

سوال اٹھایا گیا کہ کیا سیاسی جماعتیں کسی ایک شخص کی ذاتی جاگیر ہوتی ہیں؟

بھائی، آپ کو اب بھی اس سوال کا جواب معلوم نہیں؟

پاکستان بنے 79 سال ہونے کو آئے ہیں۔ اگر اتنے عرصے میں بھی آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ ہماری سیاست میں سیاسی جماعتیں کس اصول پر چلتی ہیں، تو شاید مسئلہ سیاست میں نہیں، آپ کی یادداشت اور عقل میں ہے۔ اور اگر "جاگیر" کا لفظ کسی کو برا لگتا ہے تو اسے چھوڑ دیجیے، مگر یہ تو تسلیم کیجیے کہ اس ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہیں۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان جماعتوں کو شخصی جاگیر بنایا کس نے؟

آپ نے۔ اسی عوام نے۔

آپ نے بار بار شخصیت کو اصول پر، لیڈر کو ادارے پر اور وابستگی کو میرٹ پر ترجیح دی۔ پھر جب کوئی دوسرا لیڈر وہی کچھ کرتا ہے تو اچانک آپ کو جمہوریت، اخلاقیات اور میرٹ یاد آ جاتے ہیں۔

یوتھیے اس معاملے پر سب سے زیادہ شور مچا رہے ہیں۔ وہ جماعت جو کھلے عام یہ تصور پیش کرتی رہی کہ پی ٹی آئی دراصل عمران خان کا نام ہے، وہ یہ سوال اٹھاتے ہوئے ذرا سا بھی شرم محسوس نہیں کرتے کہ سیاسی جماعتیں شخصی جاگیریں کیوں بن جاتی ہیں؟

نیازی صاحب نے تو پنجاب پر باقاعدہ ایک ایسے گدھے کو مسلط کر دیا جس کی اہلیت اور کارکردگی پر خود تحریک انصاف کے اندر سے بھی سوال اٹھتے رہے، مگر یوتھیے قطار در قطار پونے چار سال کپتان کے فیصلے کا دفاع کرتے رہے۔ وہاں فیصلہ کپتان کا تھا تو وہ "لیڈر کا وژن" تھا، یہاں کسی اور نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا تو جمہوریت مر گئی!

یہ کیسا اصول ہے جو لیڈر کے ساتھ بدل جاتا ہے؟

پیپلز پارٹی کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔

یہ وہ جماعت ہے جو خود کو جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار قرار دیتی ہے۔ مگر 2018 میں سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے وقت رضا ربانی جیسے اپنے ہی سینئر اور جمہوری تشخص رکھنے والے رہنما کو نظرانداز کرکے اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوانے کا فیصلہ کس نے کیا تھا؟

اس وقت نواز شریف نے کھلے عام کہا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ نامزد کرے تو مسلم لیگ ن اپنا امیدوار ہی نہیں دے گی۔

مگر تب جمہوری اخلاقیات کہاں تھیں؟

تب کسی نے یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ پارٹی قیادت نے ایک جمہوریت پسند پر خاکی ٹاؤٹ کو ترجیح کیوں دی؟
تب پارٹی کا فیصلہ پارٹی کا فیصلہ تھا۔ آج کسی دوسری جماعت میں قیادت نے فیصلہ کیا تو جمہوریت کا جنازہ نکل گیا!

اور ذرا 2008 کی سیاست بھی یاد کر لیجیے۔ عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تو وزارت عظمیٰ کا فیصلہ آصف علی زرداری کو کرنا تھا۔ اس وقت مخدوم امین فہیم وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے، لیکن زرداری صاحب نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کر دیا جس کی وجہ دو سال بعد پتہ چلی جب گیلانی نے حض نمک ادا کیا۔

کیا پارٹی میں کوئی ایسی بغاوت ہوئی تھی کہ ارکان نے کہا ہو کہ ہمیں امین فہیم چاہیے؟ کیا پارٹی نے قیادت کے فیصلے کے خلاف کوئی تحریک چلائی؟ کیا جمہوریت کے نام پر آسمان سر پر اٹھایا گیا؟

نہیں!

کیونکہ تب فیصلہ قیادت نے کیا تھا اور قیادت کے فیصلے کو تسلیم کرنا "پارٹی ڈسپلن" تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کے لوگوں نے افتخار گیلانی کی نامزدگی پر دل کھول کر تنقید کی، اپنی ناراضی ظاہر کی اور اپنے تحفظات سامنے رکھا تو یہ انکا حق ہے کیونکہ انہوں نے پارٹی کو ووٹ سپورٹ سے سرفراز کیا ہے مگر جن کی آنکھ میں شہتیر ہیں وہ کسی کی آنکھ میں تنکے کے طعنے کیسے دے سکتے ہیں؟

پارٹی کے فیصلے پر تنقید کرنا اور پارٹی چھوڑ دینا دو الگ چیزیں ہیں۔

جس جماعت نے فیصلہ کیا ہے، اسے اس فیصلے کے سیاسی نتائج بھی خود بھگتنے ہیں۔ اگر پارٹی کے اندر کسی کو سمجھ آتا ہے کہ فیصلہ غلط ہے تو اسے اعتراض اور تنقید کا حق ہونا چاہیے۔ کم از کم مسلم لیگ ن میں یہ کلچر نظر تو آتا ہے کہ اپنے لوگوں کو اپنی قیادت کے فیصلوں پر اعتراض کرنے کی کچھ گنجائش حاصل ہے۔

لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب وہ لوگ اس پر اصولوں کے بھاشن دینا شروع کر دیں جو خود گردن تک ایسی ہی بے اصولیوں، مصلحتوں اور شرمناک سیاسی سودے بازیوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔

اور آخر میں اس پورے ڈرامے کی اصل حقیقت بھی سن لیجیے۔

اگر افتخار گیلانی کی نامزدگی اتنی ہی کمزور تھی، اگر ن لیگ میں واقعی بغاوت تھی، اگر ارکان قیادت کے فیصلے کے خلاف کھڑے تھے، تو پھر وزیراعظم منتخب کیسے ہو گیا؟

30 ارکان نے ووٹ دے کر اسے وزیراعظم منتخب کر دیا۔

مسلم لیگ ن کے 32 ارکان تھے۔ اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے بطور اسپیکر ووٹ نہیں ڈالا، جبکہ شاہ غلام قادر خود وزارت عظمیٰ کے امیدوار بننا چاہتے تھے، اس لیے وہ ناراض ہو کر ووٹنگ سے دور رہے۔

بس؟

یہ ہے طاقت کے کھیل کی اصل کہانی۔

باقی دو دن سے جو "بغاوت"، "فارورڈ بلاک"، "حکومت ختم"، "ن لیگ تقسیم" اور "قیادت کے خلاف بغاوت" کے قصے بیچے جا رہے تھے، وہ زیادہ تر یوٹیوب کے تھمب نیل اور ویوز کا سامان تھے۔

سیاست میں اصول یقیناً ہونے چاہئیں۔ اخلاقیات بھی ہونی چاہئیں۔ میرٹ بھی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سمجھ لینا کہ پاکستان کی سیاست انہی اصولوں پر چل رہی ہے، خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

ہم بھی کبھی بڑے بڑے ارفع اصولوں پر بھنگڑے ڈالا کرتے تھے۔ ہمیں بھی لگتا تھا کہ عوام ووٹ ڈالتے وقت جمہوریت، اخلاقیات، میرٹ اور اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں۔

مگر وقت نے ایک تلخ حقیقت سمجھا دی۔

یہ قوم عمومی طور پر اصولوں کے ساتھ نہیں، اپنے مفاد، اپنی وابستگی، اپنے تعصب اور اپنے پسندیدہ لیڈر کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

آپ کا لیڈر غلط کرے تو مصلحت ہے، دوسرا کرے تو کرپشن۔

آپ کا لیڈر کسی کو مسلط کرے تو وژن ہے، دوسرا کرے تو میرٹ کا قتل۔

آپ کی جماعت قیادت کا فیصلہ مانے تو ڈسپلن ہے، دوسری جماعت مانے تو شخصی آمریت۔

آپ اپنے مخالف کے لیے جو اصول بناتے ہیں، ذرا وہی اصول اپنے گریبان پر بھی رکھ کر دیکھیے، شاید بہت سی سیاسی دیانت داریاں وہیں دم توڑ دیں۔

میں چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس ملک کی اکثریت اپنے ووٹ کا فیصلہ ذاتی مفاد، علاقائی وابستگی، سیاسی تعصب، برادری، شخصیت پرستی اور اپنے پسندیدہ سیاسی خیمے کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اصول، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کی باتیں زیادہ تر بعد میں شروع ہوتی ہیں تاکہ اپنے فیصلے کو ایک خوبصورت نام دیا جا سکے۔

باقی سب کہانیاں ہیں۔

ہم بھی یہ کہانیاں سنتے رہے ہیں اور کبھی خود سناتے بھی رہے ہیں۔ اب حقیقت سمجھ آ چکی ہے۔

آپ کو بھی جتنی جلدی سمجھ آ جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔

کم از کم آپ کی ذندگی کا قیمتی وقت اس خوش فہمی میں برباد نہیں ہوگا کہ اس ملک کی سیاست میں سب لوگ اصولوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔

یہاں اصل جنگ اصولوں کی نہیں، طاقت کی ہے۔
باقی سب اسی جنگ کی تشریح ہے۔

وہ اپنا اثاثہ بچانے نکل آئے ہیں 👻😱👽👿یہ ایک دلچسپ اور مزاحیہ صورتحال تھی کہ سکائی سپورٹس جو کہ ایک یہودی سرمایہ کار برائن...
30/08/2026

وہ اپنا اثاثہ بچانے نکل آئے ہیں 👻😱👽👿

یہ ایک دلچسپ اور مزاحیہ صورتحال تھی کہ سکائی سپورٹس جو کہ ایک یہودی سرمایہ کار برائن رابرٹس کی ککمپنی ملکیت ہے، پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے پہلے 18 منٹ کا ائیر ٹائم خریدا گیا اور وہاں عمران خان کے ان بیٹوں کا سکرپٹڈ ڈرامہ یکطرفہ چلایا گیا جو تین برس کی قید میں ایک بار بھی اپنے باپ کو دیکھنے کے لئے نہیں آئے۔

یہ پروپیگنڈہ اس پروپیگنڈے کی ناکامی کے بعد کیا گیا کہ عمران خان کی صحت بہت خراب ہے۔ میڈیکل بورڈ نے اس ہٹا کٹا قرار دیا تو غبارے سے ہوا نکل گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا Sky Sports نے ایک بین الاقوامی کرکٹ میچ کی براہِ راست نشریات کے دوران ایک انتہائی متنازع سیاسی معاملے سے متعلق سنگین الزامات نشر کرتے ہوئے Ofcom Broadcasting Code کے تحت مطلوبہ due impartiality اور fairness کے تقاضے پورے کیے؟

آف کام برطانیہ کا میڈیا ریگولیٹر ادارہ ہے اور Ofcom کا Rule 5.12 کہتا ہے کہ جب پروگرام major political or industrial controversy یا بڑے عوامی پالیسی معاملے سے متعلق ہو تو: “an appropriately wide range of significant views must be included and given due weight” یعنی بڑے سیاسی تنازع میں اہم مؤقف کی مناسب وسیع رینج شامل ہونی چاہیے اور انہیں مناسب وزن دیا جانا چاہیے۔ پی سی بی اس پر باقاعدہ شکایت میں چلی گئی ہے۔

بہرحال جب اسرائیل کو فلسطین میں کامیابی نہیں ہوئی، اسے وہاں سے نکلنا پڑ رہا ہے، جب وہ ایران میں کامیابی نہیں حاصل کر سکا جب بھارت بھی معرکہ حق میں شکست کھا گیا تو کیا اسرائیل اور بھارت کا یہ مشترکہ اثاثہ کسی سپورٹس چینل پر انٹرویو سے بچایا جا سکے گا؟

دیکھیں پاکستان کے سعودیہ، ترکیہ، کویت سے دفاعی معاہدے تڑوانے کے لئے وہ کبھی نہیں آئے گا جس نے چین سے سعودی عرب تک ہر اچھے اور سچے دوست کو ناراض کر دیا تھا۔

بتائیں ذرا 🤗🤓😇😂😀😜😉

عمران نیازی وہ پہلے وزیراعظم نہیں جو جیل گئے ہیں اس سے پہلے بھٹو،نواز شریف جیل جا چکے ہیں بھٹو تو کئی دوست ممالک کی کوشش...
30/08/2026

عمران نیازی وہ پہلے وزیراعظم نہیں جو جیل گئے ہیں اس سے پہلے بھٹو،نواز شریف جیل جا چکے ہیں بھٹو تو کئی دوست ممالک کی کوششوں کے باوجود بچ نہ سکے مگر نواز شریف بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
آپ کو مگر یہ جان کے حیرت ہو گی کہ بھٹو ،نواز شریف اور عمران نیازی کی رہائی کے لیے کوشش کرنے والے ملک مختلف رہے ہیں۔
عمران نیازی کے برعکس بھٹو اور نواز شریف کی رہائی کے لیے کوشش کرنےوالے ممالک پاکستان کے دوست ممالک تھے۔بھٹو کو لیبیا،چین،سعودی عرب جیسے ممالک رہا کروانے کی کوششیں کرتے رہے جبکہ نواز شریف کی رہائی کے لیے تو سعودی عرب،ترکی نے کھل کے کوشش کی مگر عمران نیازی؟
عمران نیازی کے درد میں مرے جا رہے ممالک پر زرا غور کیجیے۔
انکی قید پر سب سے زیادہ تکلیف سسراعیل کو ہے جس نے پارلیمنٹ میں بھی اس مسلے پر بات کی۔
پھر انکے لیے بھرپور ہمدردی انڈیا سے آتی ہے جس کے کئی نامور لوگ نیازی سے ہمدردی کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں۔
پھر امریکہ میں ایک مخصوص لابی ہے جو عمران نیازی کے حق میں بولتی رہتی ہے۔
اور آخر میں انگلینڈ میں گولڈ سمتھ خاندان وقفے وقفے سے نیازی کی رہائی کا مدعا اٹھاتا رہتا ہے۔
یہ سب وہ ممالک ہیں جنہیں کہیں سے بھی پاکستان کا دوست نہیں کہا جا سکتا امریکہ انگلینڈ میں تو ایک خاص لابی ہے جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ عمران نیازی انکا پراجیکٹ ہے اور انڈیا والے تو کھل کے کہتے ہیں کہ عمران نیازی نے انڈیا کے لیے جو کیا وہ ہم اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی نہ کر سکے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیوں پاکستان کا کوئی دوست ملک عمران نیازی کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان سے کبھی بات نہیں کرتا؟
اور جو کرتے ہیں انکے پاکستان بارے عزائم سے سب آگاہ ہیں۔
چین،سعودی عرب،یو اے ای،قطر،کویت ،ترکی سمیت کسی دوست مسلم ملک نے پاکستان سے کبھی نیازی بارے پاکستان حکومت سے بات تک نہیں کی کیونکہ وہ اس فتنے کے مشن اور ہینڈلرز سے واقف ہیں۔
یوتھیے سکائی سپورٹس پر نیازی کے بیٹوں کے انٹرویو پر بہت تالیاں بجا رہے ہیں مگر حقیقت میں سکائی سپورٹس نے نیازی بارے حقیقت حال کو بالکل عیاں کر دیا ہے اور اب ہر کسی کو علم ہو گیا ہے کہ نیازی کے ہینڈلرز کون ہیں۔
انگلینڈ کھیل میں سیاست کو شامل کرنے کے شدید خلاف رہا ہے اور انگلش مبصرین بھارت کے ایشیاء کپ ڈرامے پر بھارتی رویے پر سخت تنقید کر چکے ہیں مگر اب ایسا کیا ہوا کہ انہیں خود کھیل میں سیاست کو گھسانا پڑا؟
یہ ہے وہ طاقتور لابی جس کا ایجنٹ عمران نیازی ہے اور اسکی گرفتاری کی انہیں سخت تکلیف ہے اور اسکی مدد کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
پاکستان کا کوئی دوست نیازی کی حمایت کر ہی نہیں سکتا یہ لکھی پڑھی بات ہے۔
میں ذاتی طور پر ایسی تھیوریز کا کبھی قائل نہیں رہا مگر عمران نیازی بارے جا بجا بکھرے ثبوتوں نے مجھے کم از کم نیازی بارے اس تھیوری کے درست ہونے پر قائل کر لیا ہے۔
ناصر بٹ

26/08/2026

آمد مصطفٰی(ص) مرحبا

یوتھیو خوش بھی ہو جایا کرو طلال چوہدری کی بات تو ٹھیک ہے🤣🤣🤣
25/08/2026

یوتھیو خوش بھی ہو جایا کرو طلال چوہدری کی بات تو ٹھیک ہے🤣🤣🤣

یوتھیے کہیں کا غصہ کہیں نکال رہے ہیںیونیورسٹی واقعہ بھی اسی کا شخسانہ ہےاصل میں دو دن پہلے ششٹم کا باپ اڈیالہ جیل سے شفا...
24/08/2026

یوتھیے کہیں کا غصہ کہیں نکال رہے ہیں
یونیورسٹی واقعہ بھی اسی کا شخسانہ ہے
اصل میں دو دن پہلے ششٹم کا باپ اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال ،شفاء سے بنی گالہ، بنی گالہ سے وزیراعظم ہاوس والے ڈائلاگ کی مانگ کا سندور پھیکا نہیں پڑا نا!

Address

Harley Street
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PML-N Federal Capital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PML-N Federal Capital:

Shortcuts

Share