31/08/2026
اے جے کے،کے وزیراعظم کے مسئلے پر دو دن میڈیا پر خوب رونق لگی رہی۔ مسلم لیگ ن میں بغاوت کی منجن فروشی ہوئی، یوٹیوبرز نے بھی دو چار وی لاگ کھڑکا کر خوب مال دھر کیا، ایسے ایسے تجزیے پیش کیے گئے جیسے اے جے کے میں ن لیگ بس چند گھنٹوں کی مہمان ہو اور ابھی ارکان اسمبلی قطاریں توڑ کر بغاوت کرنے والے ہوں۔ مگر آخر میں نتیجہ وہی نکلا جس کے لیے غالب نے کہا تھا:
"تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا"
افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر جو اخلاقی اور جمہوری سوالات پیدا ہوئے، ہم نے بھی ان پر کھل کر تنقید کی۔ بعد میں اس فیصلے کے پیچھے جو ٹھوس وجوہات سامنے آئیں، ان کے بعد مزید کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ لیکن گزشتہ دو دن میں جس طرح تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور دوسرے مخالفین نے اس معاملے پر جمہوریت، اصول، اخلاقیات اور سیاسی جماعتوں کی داخلی خودمختاری کا ماتم کیا، اسے دیکھ کر سنجیدہ ہونے کے بجائے ہنسی ہی آتی رہی۔
سوال اٹھایا گیا کہ کیا سیاسی جماعتیں کسی ایک شخص کی ذاتی جاگیر ہوتی ہیں؟
بھائی، آپ کو اب بھی اس سوال کا جواب معلوم نہیں؟
پاکستان بنے 79 سال ہونے کو آئے ہیں۔ اگر اتنے عرصے میں بھی آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ ہماری سیاست میں سیاسی جماعتیں کس اصول پر چلتی ہیں، تو شاید مسئلہ سیاست میں نہیں، آپ کی یادداشت اور عقل میں ہے۔ اور اگر "جاگیر" کا لفظ کسی کو برا لگتا ہے تو اسے چھوڑ دیجیے، مگر یہ تو تسلیم کیجیے کہ اس ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہیں۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان جماعتوں کو شخصی جاگیر بنایا کس نے؟
آپ نے۔ اسی عوام نے۔
آپ نے بار بار شخصیت کو اصول پر، لیڈر کو ادارے پر اور وابستگی کو میرٹ پر ترجیح دی۔ پھر جب کوئی دوسرا لیڈر وہی کچھ کرتا ہے تو اچانک آپ کو جمہوریت، اخلاقیات اور میرٹ یاد آ جاتے ہیں۔
یوتھیے اس معاملے پر سب سے زیادہ شور مچا رہے ہیں۔ وہ جماعت جو کھلے عام یہ تصور پیش کرتی رہی کہ پی ٹی آئی دراصل عمران خان کا نام ہے، وہ یہ سوال اٹھاتے ہوئے ذرا سا بھی شرم محسوس نہیں کرتے کہ سیاسی جماعتیں شخصی جاگیریں کیوں بن جاتی ہیں؟
نیازی صاحب نے تو پنجاب پر باقاعدہ ایک ایسے گدھے کو مسلط کر دیا جس کی اہلیت اور کارکردگی پر خود تحریک انصاف کے اندر سے بھی سوال اٹھتے رہے، مگر یوتھیے قطار در قطار پونے چار سال کپتان کے فیصلے کا دفاع کرتے رہے۔ وہاں فیصلہ کپتان کا تھا تو وہ "لیڈر کا وژن" تھا، یہاں کسی اور نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا تو جمہوریت مر گئی!
یہ کیسا اصول ہے جو لیڈر کے ساتھ بدل جاتا ہے؟
پیپلز پارٹی کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔
یہ وہ جماعت ہے جو خود کو جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار قرار دیتی ہے۔ مگر 2018 میں سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے وقت رضا ربانی جیسے اپنے ہی سینئر اور جمہوری تشخص رکھنے والے رہنما کو نظرانداز کرکے اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوانے کا فیصلہ کس نے کیا تھا؟
اس وقت نواز شریف نے کھلے عام کہا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ نامزد کرے تو مسلم لیگ ن اپنا امیدوار ہی نہیں دے گی۔
مگر تب جمہوری اخلاقیات کہاں تھیں؟
تب کسی نے یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ پارٹی قیادت نے ایک جمہوریت پسند پر خاکی ٹاؤٹ کو ترجیح کیوں دی؟
تب پارٹی کا فیصلہ پارٹی کا فیصلہ تھا۔ آج کسی دوسری جماعت میں قیادت نے فیصلہ کیا تو جمہوریت کا جنازہ نکل گیا!
اور ذرا 2008 کی سیاست بھی یاد کر لیجیے۔ عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تو وزارت عظمیٰ کا فیصلہ آصف علی زرداری کو کرنا تھا۔ اس وقت مخدوم امین فہیم وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے، لیکن زرداری صاحب نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کر دیا جس کی وجہ دو سال بعد پتہ چلی جب گیلانی نے حض نمک ادا کیا۔
کیا پارٹی میں کوئی ایسی بغاوت ہوئی تھی کہ ارکان نے کہا ہو کہ ہمیں امین فہیم چاہیے؟ کیا پارٹی نے قیادت کے فیصلے کے خلاف کوئی تحریک چلائی؟ کیا جمہوریت کے نام پر آسمان سر پر اٹھایا گیا؟
نہیں!
کیونکہ تب فیصلہ قیادت نے کیا تھا اور قیادت کے فیصلے کو تسلیم کرنا "پارٹی ڈسپلن" تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کے لوگوں نے افتخار گیلانی کی نامزدگی پر دل کھول کر تنقید کی، اپنی ناراضی ظاہر کی اور اپنے تحفظات سامنے رکھا تو یہ انکا حق ہے کیونکہ انہوں نے پارٹی کو ووٹ سپورٹ سے سرفراز کیا ہے مگر جن کی آنکھ میں شہتیر ہیں وہ کسی کی آنکھ میں تنکے کے طعنے کیسے دے سکتے ہیں؟
پارٹی کے فیصلے پر تنقید کرنا اور پارٹی چھوڑ دینا دو الگ چیزیں ہیں۔
جس جماعت نے فیصلہ کیا ہے، اسے اس فیصلے کے سیاسی نتائج بھی خود بھگتنے ہیں۔ اگر پارٹی کے اندر کسی کو سمجھ آتا ہے کہ فیصلہ غلط ہے تو اسے اعتراض اور تنقید کا حق ہونا چاہیے۔ کم از کم مسلم لیگ ن میں یہ کلچر نظر تو آتا ہے کہ اپنے لوگوں کو اپنی قیادت کے فیصلوں پر اعتراض کرنے کی کچھ گنجائش حاصل ہے۔
لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب وہ لوگ اس پر اصولوں کے بھاشن دینا شروع کر دیں جو خود گردن تک ایسی ہی بے اصولیوں، مصلحتوں اور شرمناک سیاسی سودے بازیوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔
اور آخر میں اس پورے ڈرامے کی اصل حقیقت بھی سن لیجیے۔
اگر افتخار گیلانی کی نامزدگی اتنی ہی کمزور تھی، اگر ن لیگ میں واقعی بغاوت تھی، اگر ارکان قیادت کے فیصلے کے خلاف کھڑے تھے، تو پھر وزیراعظم منتخب کیسے ہو گیا؟
30 ارکان نے ووٹ دے کر اسے وزیراعظم منتخب کر دیا۔
مسلم لیگ ن کے 32 ارکان تھے۔ اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے بطور اسپیکر ووٹ نہیں ڈالا، جبکہ شاہ غلام قادر خود وزارت عظمیٰ کے امیدوار بننا چاہتے تھے، اس لیے وہ ناراض ہو کر ووٹنگ سے دور رہے۔
بس؟
یہ ہے طاقت کے کھیل کی اصل کہانی۔
باقی دو دن سے جو "بغاوت"، "فارورڈ بلاک"، "حکومت ختم"، "ن لیگ تقسیم" اور "قیادت کے خلاف بغاوت" کے قصے بیچے جا رہے تھے، وہ زیادہ تر یوٹیوب کے تھمب نیل اور ویوز کا سامان تھے۔
سیاست میں اصول یقیناً ہونے چاہئیں۔ اخلاقیات بھی ہونی چاہئیں۔ میرٹ بھی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سمجھ لینا کہ پاکستان کی سیاست انہی اصولوں پر چل رہی ہے، خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
ہم بھی کبھی بڑے بڑے ارفع اصولوں پر بھنگڑے ڈالا کرتے تھے۔ ہمیں بھی لگتا تھا کہ عوام ووٹ ڈالتے وقت جمہوریت، اخلاقیات، میرٹ اور اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں۔
مگر وقت نے ایک تلخ حقیقت سمجھا دی۔
یہ قوم عمومی طور پر اصولوں کے ساتھ نہیں، اپنے مفاد، اپنی وابستگی، اپنے تعصب اور اپنے پسندیدہ لیڈر کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
آپ کا لیڈر غلط کرے تو مصلحت ہے، دوسرا کرے تو کرپشن۔
آپ کا لیڈر کسی کو مسلط کرے تو وژن ہے، دوسرا کرے تو میرٹ کا قتل۔
آپ کی جماعت قیادت کا فیصلہ مانے تو ڈسپلن ہے، دوسری جماعت مانے تو شخصی آمریت۔
آپ اپنے مخالف کے لیے جو اصول بناتے ہیں، ذرا وہی اصول اپنے گریبان پر بھی رکھ کر دیکھیے، شاید بہت سی سیاسی دیانت داریاں وہیں دم توڑ دیں۔
میں چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس ملک کی اکثریت اپنے ووٹ کا فیصلہ ذاتی مفاد، علاقائی وابستگی، سیاسی تعصب، برادری، شخصیت پرستی اور اپنے پسندیدہ سیاسی خیمے کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اصول، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کی باتیں زیادہ تر بعد میں شروع ہوتی ہیں تاکہ اپنے فیصلے کو ایک خوبصورت نام دیا جا سکے۔
باقی سب کہانیاں ہیں۔
ہم بھی یہ کہانیاں سنتے رہے ہیں اور کبھی خود سناتے بھی رہے ہیں۔ اب حقیقت سمجھ آ چکی ہے۔
آپ کو بھی جتنی جلدی سمجھ آ جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔
کم از کم آپ کی ذندگی کا قیمتی وقت اس خوش فہمی میں برباد نہیں ہوگا کہ اس ملک کی سیاست میں سب لوگ اصولوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔
یہاں اصل جنگ اصولوں کی نہیں، طاقت کی ہے۔
باقی سب اسی جنگ کی تشریح ہے۔