20/04/2026
رسول اللہ ﷺ کے مبارک دور میں مطاف (طواف کی جگہ) کی پیمائش آج کے دور کی طرح باقاعدہ حد بندیوں کے ساتھ موجود نہیں تھی، کیونکہ اس وقت بیت اللہ کے گرد کوئی دیوار یا باقاعدہ عمارت نہیں تھی۔ کعبہ کے گرد ایک کھلا میدان تھا جسے "مسجد الحرام" کہا جاتا تھا اور صحابہ کرام کے مکانات اس کھلے صحن کے گرد بنے ہوئے تھے۔
تاریخی اور علمی روایات کے مطابق، اس دور میں مطاف کی چوڑائی تقریباً **7.5 میٹر سے 10 میٹر** (تقریباً 15 سے 20 ہاتھ) کے لگ بھگ سمجھی جاتی تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زمین ہموار تھی اور لوگ طواف کرتے تھے۔ چونکہ اس وقت کعبہ کے ارد گرد کوئی مستقل رکاوٹ یا ستون نہیں تھے، اس لیے طواف کرنے والے ضرورت کے مطابق کھلے میدان میں دور تک بھی جا سکتے تھے، لیکن عام طور پر طواف اسی قریبی دائرے میں کیا جاتا تھا جو کعبہ کی دیواروں سے قریب تر تھا۔
مطاف کی پہلی باقاعدہ توسیع اور حد بندی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی جب انہوں نے کعبہ کے گرد موجود مکانات خرید کر انہیں گرا دیا اور ایک چھوٹی دیوار تعمیر کروائی تاکہ مطاف کی جگہ وسیع اور متعین ہو سکے۔ اس سے پہلے یہ محض ایک سادہ اور کھلا صحن تھا جس کی وسعت محدود تھی۔
مطاف کی چوڑائی اور قدیم مکہ کی حالت کے بارے میں یہ تفصیلات تاریخِ مکہ اور سیرت کی قدیم مستند کتابوں میں ملتی ہیں۔ خاص طور پر درج ذیل کتابوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے:
امام ازرقی کی کتاب "اخبار مکہ" (کتاب أخبار مكة وما جاء فيها من الآثار) اس موضوع پر سب سے قدیم اور بنیادی ماخذ مانی جاتی ہے۔ انہوں نے تفصیل سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کعبہ کے گرد کوئی دیوار نہیں تھی اور لوگ گھروں کے درمیان موجود کھلی جگہ میں طواف کرتے تھے۔
اس کے علاوہ امام فاسی کی "شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام" اور علامہ محب الدین طبری کی "القریٰ لقاصد ام القریٰ" میں بھی مطاف کی ابتدائی حالت اور بعد میں ہونے والی توسیعات کا ذکر ملتا ہے۔
ان کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ اس دور میں مطاف کی جگہ اتنی ہی تھی جتنی کعبہ اور اس کے گرد بنے ہوئے گھروں کے درمیان خالی جگہ دستیاب تھی۔ اس کا تخمینہ مختلف تاریخی روایات کی روشنی میں وہی نکلتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے، کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب پہلی بار گھروں کو خرید کر مسجد کو وسعت دی گئی تو اس وقت مطاف کی ایک باقاعدہ حد مقرر کی گئی تھی۔
اور آج کے دور میں الحمد اللہ مسجد الحرام دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے
بیت اللہ کے گرد طواف کے لیے مخصوص جگہ یعنی مطاف کی وسعت میں سعودی دورِ حکومت، خصوصاً شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ادوار میں تاریخی اضافہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں مطاف کی گنجائش اور رقبے کی تفصیل کچھ یوں ہے
مطاف کا موجودہ مجموعی رقبہ تمام منزلوں (صحنِ کعبہ، پہلی منزل، دوسری منزل اور چھت) کو ملا کر تقریباً 76,000 مربع میٹر سے زائد بنتا ہے۔ صرف کعبہ کے بالکل سامنے والا کھلا صحن (Ground Floor) تقریباً 18,000 سے 20,000 مربع میٹر پر محیط ہے، جہاں زائرین براہِ راست بیت اللہ کے سامنے طواف کرتے ہیں۔
زائرین کی گنجائش کے حوالے سے حالیہ توسیعات کے بعد مطاف کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
اب مطاف کی تمام منزلوں پر ایک گھنٹے میں تقریباً 1,07,000 افراد کے طواف کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر صرف صحنِ کعبہ (Ground Floor) کی بات کی جائے تو وہاں ایک گھنٹے میں تقریباً 30,000افراد طواف کر سکتے ہیں۔
یہ گنجائش اس لیے ممکن ہوئی ہے کیونکہ مطاف کو کئی منزلوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور جدید انجینئرنگ کے ذریعے ستونوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ طواف کرنے والوں کے راستے میں کم سے کم رکاوٹ آئے۔ اس توسیعی منصوبے کا مقصد حج اور رمضان جیسے بڑے سیزن میں لاکھوں افراد کو ایک ساتھ طواف کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ بھگدڑ یا اژدھام کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️