03/09/2026
اعلامیہ
قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس کی وائس چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر سے ملاقات
قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس، وائس چیئرمین اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی نے مصطفیٰ نواز کھوکھر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مجموعی ملکی سیاسی صورتحال، مجوزہ آئینی ترمیم، نئے صوبوں کے قیام، اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، پنجاب حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں خفیہ ٹرائل اور سینیٹر مشتاق احمد خان کی ناحق قید سمیت اہم سیاسی و آئینی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں رہنماؤں نے واضح کیا کہ موجودہ اسمبلی عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، لہٰذا اسے کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم کرنے یا نئے صوبے بنانے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی اختیار حاصل نہیں۔ عوامی مینڈیٹ سے محروم اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی کوئی بھی ایسی آئینی ترمیم جو ریاستی ڈھانچے، عوام کے بنیادی حقوق یا آئین کی روح کو متاثر کرے، محض ایک سیاسی اقدام نہیں بلکہ پاکستان کے وجود، وحدت اور آئینی اساس پر حملہ تصور ہو گی۔
رہنماؤں نے کہا کہ آئین میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کسی متنازع اور عوامی مینڈیٹ سے محروم پارلیمان کے ذریعے نہیں کی جا سکتیں اور یہ پاکستان کے وجود پر حملہ ہو گا۔ ایسی کسی بھی کوشش کو اپوزیشن جماعتیں عوام، آئین اور جمہوریت کے خلاف اقدام سمجھتے ہوئے بھرپور مزاحمت کریں گی۔
ملاقات میں پنجاب حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں خفیہ ٹرائل کے معاملے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ شفاف عدالتی کارروائی، آئین و قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، کسی بھی شخص کو شفاف ٹرائل کے آئینی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کی ناحق قید اور ان کے خلاف جاری قانونی کارروائی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ رہنماؤں نے سینیٹر مشتاق احمد خان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قید اور عدالتی کارروائی کو سیاسی و جمہوری حقوق کے تناظر میں قابلِ تشویش قرار دیا۔
فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کی آئندہ تاریخِ پیشی پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت عدالت پہنچ کر ان کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کرے گی۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئین کی بالادستی، جمہوری آزادیوں، عوامی مینڈیٹ کے احترام، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ملک میں حقیقی جمہوری نظام کی بحالی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورت اور مشترکہ جدوجہد کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔