27/08/2026
شہیید زندہ ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو ۔۔۔۔!!!میں نے اپنے کیرئیر میں 100 سے زائد پو۔سٹ۔ مار۔ٹم کیے ہیں ، ہوتا یہ ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو 4 گھنٹے میں اس مردہ شخص کا خون تہہ میں جامد ہوجاتا ہے چہرہ پیلا پڑ جاتا ہے ، اسفند یار کو اسکے ساتھیوں نے شہا۔دت کے 32 گھنٹے بعد وہاں سے نکالا تھا انہیں سی ایم ایچ لانے میں مزید کچھ گھنٹے لگ گئے ، جب ایک سینئر افسر نے اسفند یار کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو اسکا چہرہ تر وتازہ تھا اور زخموں سے خون رس رہا تھا سب لوگ حیران رہ گئے دیکھتے رہے روتے رہے اور سبحان اللہ کہتے رہے ، اسکے بعد اسفند کی باڈی کو صاف کیا گیا کفن پہنایا گیا اور گھر لے جایا گیا تھوڑی دیر بعد مجھے بیٹے نے بتایا کہ ابو بھائی کے زخموں سے اب بھی خون جاری ہے ۔ جنازے اور تدفین میں شریک ہر شخص نے دیکھا اس کا خون دنیا سے اوجھل ہوتے وقت جسم سے جاری رہا ۔۔۔ سبحان تیری قدرت ، کیپٹن اسفند یار شہیید کے والد کی باتیں