Military Land

Military Land A platform to support Sacred Armed forces of Pakistan

شہیید زندہ ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو ۔۔۔۔!!!میں نے اپنے کیرئیر میں 100 سے زائد پو۔سٹ۔ مار۔ٹم کیے ہیں ، ہوتا یہ ہے کہ جب...
27/08/2026

شہیید زندہ ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو ۔۔۔۔!!!میں نے اپنے کیرئیر میں 100 سے زائد پو۔سٹ۔ مار۔ٹم کیے ہیں ، ہوتا یہ ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو 4 گھنٹے میں اس مردہ شخص کا خون تہہ میں جامد ہوجاتا ہے چہرہ پیلا پڑ جاتا ہے ، اسفند یار کو اسکے ساتھیوں نے شہا۔دت کے 32 گھنٹے بعد وہاں سے نکالا تھا انہیں سی ایم ایچ لانے میں مزید کچھ گھنٹے لگ گئے ، جب ایک سینئر افسر نے اسفند یار کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو اسکا چہرہ تر وتازہ تھا اور زخموں سے خون رس رہا تھا سب لوگ حیران رہ گئے دیکھتے رہے روتے رہے اور سبحان اللہ کہتے رہے ، اسکے بعد اسفند کی باڈی کو صاف کیا گیا کفن پہنایا گیا اور گھر لے جایا گیا تھوڑی دیر بعد مجھے بیٹے نے بتایا کہ ابو بھائی کے زخموں سے اب بھی خون جاری ہے ۔ جنازے اور تدفین میں شریک ہر شخص نے دیکھا اس کا خون دنیا سے اوجھل ہوتے وقت جسم سے جاری رہا ۔۔۔ سبحان تیری قدرت ، کیپٹن اسفند یار شہیید کے والد کی باتیں

❤️
26/08/2026

❤️

Are we and our children human?? 🤔🤔
26/08/2026

Are we and our children human?? 🤔🤔

Koi hal ni ab hmary mulk ka🫠🫠
26/08/2026

Koi hal ni ab hmary mulk ka🫠🫠

14/08/2026

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کے جہاں
چلی ہے رسم کوئی نہ سر اٹھا کہ چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کہ چلے، جسم و جاں بچا کہ چلے
ہے اہل دل کیلے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ خشت مقید ہیں سنگ آزاد
بہت ہے ظلم کے دست بہانہ جو کیلے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہئیں
مگر گزارنے والوں کے دن گرتے ہیں
تیرے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں

Azaadi Ka Din Mubarak🤍💚الحمداللہ اللّہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ اس ذات نے اتنے خوبصورت وطن سے نوازا۔ 🤍💚Namaz parhen N...
14/08/2026

Azaadi Ka Din Mubarak🤍💚
الحمداللہ اللّہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ اس ذات نے اتنے خوبصورت وطن سے نوازا۔ 🤍💚
Namaz parhen Nawafil parhen or apny Mulk ki salamti k liye dua kren. Allh isko firouno se nijaat dilaye or apny pas se ik bahtareen Aadil or Bahadur Sarparast atta kry🤍
Qk we hate system not this country 😘

ہم اس نسل ہیں جنھیں وطن سے محبت دودھ میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ جن کے لیے پاکستان اتنا ہی معتبر اور عزیز تھا جتنے اپنے و...
13/08/2026

ہم اس نسل ہیں جنھیں وطن سے محبت دودھ میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ جن کے لیے پاکستان اتنا ہی معتبر اور عزیز تھا جتنے اپنے والدین۔
ہم اس نسل سے ہیں جو سڑک پہ فوجی ٹینک اور گاڑیاں دیکھ کر رک جاتے تھے اور ٹھک سے سیلیوٹ مارا کرتے تھے اور سیلیوٹ والے ہاتھ تب تک نیچے نہیں آتے تھے جب تک آخری ٹینک نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتا تھا۔

ہم اس نسل سے ہیں، جن کی شامیں کشمیری بہن بھائیوں پہ ہوتے ظلم کا سوچ کر غمگین ہو جایا کرتی تھیں۔ جو دعا کے لیے جب بھی ہاتھ اٹھاتے ، دعا میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی سربلندی کی پکار خود ہی چلی آتی تھی۔
ہم اس نسل سے ہیں جن کے بچگانہ ذہن میں پاکستان اور اسلام ایک ہی شے کے دو نام تھے۔ جن کے نزدیک شہادت سے بڑھ کر زندگی کا کوئی مقصد نہیں تھا اور شہادت یہی تھی کہ کشمیر کی آزادی یا پاکستان کی بقا کے لیے بھارت سے جنگ لڑتے ہوئے مر جائیں۔

ہم اس نسل سے ہیں جو پندرہ اگست کی صبح گلیوں میں گری ہوئی جھنڈیاں اٹھانے کے لیے نکلا کرتے تھے۔ ایک ایک جھنڈی کو زمین سے اٹھا کر چومتے اور کسی مقدس صحیفے کی طرح محفوظ کر لیتے۔
اگست کا مہینہ ہمارے سینے پہ پاکستانی پرچم کا بیج سجا رہتا تھا۔ ہمارے گھروں پہ پرچم لہراتا تھا۔ عیدوں کے علاوہ چودہ اگست جن کے لیے ایک تہوار کی حیثیت رکھتا تھا۔ سبز ہلالی پرچم لہراتا دیکھ کر جن کے سینے میں ٹھنڈ پڑ جاتی تھی۔ ملی نغمے سن کر جن کا خون ابلنے لگتا تھا۔

ہم اس نسل سے ہیں جنھوں نے پاکستان سے اندھی محبت کی ہے ، جن کے لیے پاکستان کسی معشوق جیسا تھا۔ جو پردیس جا کر بڑھاپے میں ٹھنڈے وجود کو اپنی مٹی کی گرمائش دینے کے لیے واپس نہیں آنا چاہتے تھے بلکہ اپنی جوانی اپنے وطن کے لیے نثار کرنا چاہتے تھے۔

مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نسل اس ملک سے فرار ہو رہی ہے۔ جس کا بس چل رہا ہے یہاں سے بھاگ رہا ہے۔ وہ اس وطن سے اتنے مایوس اتنے بیزار ہو گئے ہیں کہ ایک لمحہ یہاں رکنے کو تیار نہیں۔

اگست کا مہینہ آ چکا ہے ، تیرہ دن گزر چکے ہیں۔ جشنِ آزادی آنے میں فقط ایک دن رہ گیا ہے لیکن کہیں کوئی جوش و خروش نظر ہی نہیں آ رہا۔ نہ سینوں پہ لگے سبز ہلالی بیج نظر آ رہے ہیں۔ نہ ریڑھیوں پہ چاند ستارے والا پرچم لہراتا نظر آ رہا ہے۔ نہ ہی سپیکروں پہ ملی نغموں کی پکار سنائی دے رہی ہے۔ گلیاں جھنڈیوں سے خالی ہیں ، چھتیں سبز ہلالی پرچم سے محروم نظر آ رہی ہیں۔ لوگوں میں اپنے وطن سے محبت بڑی تیزی سے زوال کا شکار ہوئی ہے۔

آپ اسے میرے خراب ذہن کی پیداوار کہہ سکتے ہیں ، مجھ پہ غداری کے فتوے لگا سکتے ہیں۔ میرے وطن سے عشق کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں لیکن میں وہی کہہ رہا ہوں جو محسوس کر رہا ہوں۔ یہ محسوسات عمران خان کی گرفتاری کی وجہ سے نہیں ہیں نا ہی نواز شریف کی نا اہلی کی وجہ سے ہیں۔

مجھے لگتا ہے یہ سب عام انسان کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔ مہنگائی کے خوفناک طوفان کی وجہ سے ہوا ہی۔ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ، جس کی موجودگی میں عام انسان محفوظ اور اپنائیت محسوس کرتا ہے۔ لوگ یہاں اپنے آپ کو محفوظ ہی نہیں سمجھ رہے، ان کی بالکل بنیادی انسانی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں، انھیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ یہاں ہر روز اتنے المیے جنم لیتے ہیں کہ ان المیوں پہ دل نے دکھنا چھوڑ دیا ہے۔ حادثے عام سی خبر بن کر رہ گئے ہیں۔ لوگ اپنی جان، اپنا مال یہاں محفوظ ہی نہیں سمجھ رہے۔ انھیں معاشی طور پہ کوئی تحفظ حاصل ہے نا سماجی طور پہ۔

صرف زمین کا ٹکڑا وطن نہیں ہوتا، وہاں رائج نظام ، وہاں موجود لوگوں سے تعلق اسے ایک وطن بناتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہاں دہائیوں سے رائج تباہ کن نظام نے لوگوں کا ایک دوسرے سے تعلق چھین لیا ہے، اس زمین کے ٹکڑے سے تعلق چھین لیا ہے۔ وہ اس زمین کے ٹکڑے سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے اقدامات کی شدید ضرورت ہے جن میں ریاست عام انسان کو ، عام شہری کو اپنائے ، وہ عام شہری اس ریاست سے یہاں بسنے والے لوگوں سے دوبارہ کوئی تعلق محسوس کرنا شروع کر دے۔

اللہ کرے کہ پاکستان دوبارہ سربلندی کی طرف سفر شروع کرے ، اللہ کرے کہ ہمارے مردہ عشق میں دوبارہ سے جان پڑ جائے۔ اللہ کرے کہ یہاں موجود قبضہ گروپ کا جبر اپنے اختتام کو پہنچے ، ظلم انجام کو پہنچے۔ پاکستان دنیا پہ راج کرے ، ہم سبز ہلالی پرچم کو بلندیوں پہ لہراتا دیکھیں اور اسے دیکھ کے ہمارے سینے میں ٹھنڈ پڑے۔

( ڈاکٹر نویدؔ خالد تارڑ۔۔۔۔۔ نشر مکرر )

13/08/2026

Even the strongest men break here💔💔
Buddies 😭

تعفن زدہ، خود غرض اور بےحس معاشرے میں جبران جیسے لوگ امید کی کرن ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہیرو صرف فل...
09/08/2026

تعفن زدہ، خود غرض اور بےحس معاشرے میں جبران جیسے لوگ امید کی کرن ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہیرو صرف فلموں اور کہانیوں میں نہیں ہوتے، حقیقی زندگی میں بھی ایسے کردار موجود ہوتے ہیں جو اپنے اصولوں، ہمت اور انسانیت کے باعث دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔

اللہ کریم اس نوجوان وکیل کی حفاظت فرمائے اور اسے ثابت قدم رکھے۔ کیونکہ بدقسمتی سے بےحس معاشرے اور خود غرض لوگوں کی دنیا میں سچ، انصاف اور حق کے لیے کھڑے ہونے والے لوگ اکثر تنہا رہ جاتے ہیں، اور یہی معاشرہ ایسے لوگوں کو برداشت کرنے کے بجائے انہیں خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Military Land posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share